×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تمام راستے مسدود۔۔۔
Dated: 21-May-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج ایک ہی موضوع پرتین خبریں میرے سامنے ہیں۔ (1)وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے کہا ہے کہ عوامی طاقت سے اقتدار میں آئے ہیں غیر آئینی طریقے سے نہیں ہٹایا جا سکتا۔وہ نہیں چاہتے کہ ہم اپنے پروگرام پر عمل کریں۔ (2) وزیراعظم گیلانی نے عدلیہ کا فیصلہ نہ مانا تو عوام کو اپنا فیصلہ بنوانا آتا ہے۔(3) راولپنڈی میں ہونے والے وکلا کے نمائندہ کنونشن کے متفقہ اعلامیہ میں کہا گیا ہے کہ گیلانی وزیراعظم نہیں رہے۔وہ اپنے منصب سے الگ ہو جائیں ورنہ تحریک چلائیں گے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پاکستان پیپلزپارٹی عوامی طاقت سے اقتدار میں آئی۔ اس میں بھی شبہ نہیں کہ عوامی طاقت نے پیپلزپارٹی کے پلڑے میں اپنا وزن بھٹوخاندان کی قربانیوں اور شہادتوں کے باعث ہی ڈالا۔ سب سے بڑھ کر محترمہ بے نظیر بھٹو کے خون کے صدقے لوگوں نے بڑھ چڑھ کر ان کے ساتھیوں کو کامیابی کی سیڑھی پر چڑھا دیا۔ اقتدار پر تصرف حاصل کرنے کے بعد پارٹی کا عظیم الشان کارنامہ یہ رہا کہ اپنی لیڈر کے خون کے ساتھ بے وفائی کرتے ہوئے ان کے قاتلوں کا سراغ لگانے کی کوئی کوشش نہ کی گئی۔ بلکہ پارٹی کی اصل قیادت کی انگلیاں پارٹی کے اندر موجود رہنمائوں کی طرف اٹھ رہی ہیں جو محترمہ کو زندگی موت کی کشمکش میں لبِ سڑک لاوارث چھوڑ کر بھاگ گئے۔ جن کو بعدازاں اعلیٰ مناصب سے نوازا گیا اور وہ اب بھی یہ عہدے انجوائے کر رہے ہیں۔ پارٹی کے اندر سے جب بھی محترمہ کے قتل اور قاتلوں کی گرفتاری کے لیے آواز اٹھی ہے اس کو دبا دیا جاتا ہے۔ جس سے پیپلزپارٹی کی قیادت بے نظیر بھٹو شہید کے خون سے بے وفائی کر رہی ہے۔ اسی طرح وہ عوام کا مینڈیٹ بھی کھو چکی ہے۔ اندرونی اور بیرونی گیلپ سروے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت کو 80فیصد سے زائد عوام سخت ناپسند کرتے ہیں۔ سڑکوں پر آ کر مظاہرے بھی اس بات کا ثبوت ہیں کہ عوام اس پر اعتماد کرنے پر تیار نہیں۔ گذشتہ دنوں عوامی نمائندوں کے گھروں پر حملے کیا عوام میں ان کی مقبولیت کو ظاہر کرتے ہیں۔ لوگ جس طرح حکومت کی پالیسیوں سے نالاں ہیں مجھے نظر آتا ہے کہ اب کا اگلا اقدام ان کا ہاتھ عوامی نمائندوں کے گریبان پر ہوگا۔ اس سب کے باوجود بھی کوئی حکومت کو غیر آئینی طو رپر نہیں ہٹانا چاہتا۔ وزیراعظم گیلانی توہین عددالت کے مجرم ثابت ہوئے ان کو سزا ملی جس کی پاداش میں وہ ایم این اے رہے اور نہ وزیراعظم کے عہدے کے اہل رہے۔ ان کو وزارت عظمیٰ سے الگ ہو کر فیصلے کے خلاف نظرثانی کی اپیل کرنی چاہیے تھی۔ جو اب تک نہیں کی، اس کی وجہ یہ ہو سکتی ہے کہ ان کو اور ان کے وکلا کو خوف ہو سکتا ہے کہ نظرثانی کی اپیل کے دوران سزا میں اضافہ ہی نہ کر دیا جائے۔ پاکستان میں کوئی بھی طبقہ اس حکومت کے خاتمے کی بات نہیں کرتا جو بقول وزیراعظم گیلانی عوامی طاقت سے اقتدا رمیں آنے کی بات صرف اور صرف یوسف رضا گیلانی کی آئین، قانون اور اصول کے مطابق اپنے عہدے سے الگ ہونے کی ہو رہی ۔ پیپلزپارٹی تو بدستور حکومت میں رہے گی۔ گیلانی صاحب پیپلزپارٹی کے وزیراعظم ہیں وہ پیپلزپارٹی نہیں ہیں۔ وہ تو ویسے بھی سیاسی مسافر ہیں کل جنرل ضیاء کے قدموں میں بیٹھے تھے آئندہ کسی اور ک ہات پر بیت کر سکتے ہیں۔ نوازشریف عدالتی فیصلہ عوامی قوت سے منوانے کی بات کرتے ہیں جس کے لیے وہ ملک بھر میں جلسے جلوسوں کا اہتمام کر رہے ہیں اور لانگ مارچ کی کال کے لیے بھی تیار ہیں۔ عوامی نمائندوں کے پاس عوام کے پاس جانے کے سوا اور کوئی چارہ کار بھی نہیں ہوتا۔ مسلم لیگ ن نے عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کا درست طریقہ اتیار کیا ہے۔ بالآخر ملتانی پیر کو عوامی قوت کے سامنے سر جھکانا پڑے گا۔ یہی جمہوریت کا حسن ہے۔ وزیراعظم گیلانی ہر معاملے میں پارلیمنٹ کو بالادست قرار دیتے ہیں۔ اس کے ساتھ ہی وہ اپنے سمیت پارلیمنٹرین کو نہ صرف آئین بلکہ عدالتی فیصلوں کی تشریح کا اختیار بھی دیتے ہیں۔ اور آج کل وہ عدالتی تشریح کے سب سے بڑے چیمپئن بنے ہوئے ہیں۔ ججوں اور آئینی او قانونی ماہرین سے بھی بڑے۔ ایک طرف وہ عدالتی فیصلوں کے احترام کی بات کرتے ہیں تو دوسری طرف کہتے ہیں عدالت جو بھی فیصلہ کرے وہ صرف سپیکر کا حکم مانیں گے جو ان کی پارٹی کی منتخب کردہ اور پارٹی کی وفادار بھی ہیں بلکہ وزیراعظم گیلانی کے آصف زرداری کا وفادار ہونے کی طرح۔۔۔حقیقت یہ ہے کہ بنچ اور بار سے زیادہ قانونی و آئینی معاملات پر کسی کو دسترس نہیں ہے۔ بنچ نے فیصلہ سنا دیا۔ اب بار اس فیصلے پر عملدرآمد کے لیے میدان میں آیا چاہتی ہے۔ عدلیہ کی آزادی کا پرچم بھی وکلا نے بلند کیا اور اپنے مقصد کی بجاآوری تک لہراتے رہے۔ اس وقت بھی یہاں نوازشریف وکلا کے شانہ بشانہ ہوئے تو وزیراعظم گیلانی ججوں کی بحالی کے لیے تیار ہو گئے تھے۔ اب پھر یوں ہی نظر آٹا ہے کہ نوازشریف کی قیادت میں وکلا عدالتی فیصلے پر عملدرآمد کرانے میں ضرور کامیاب ہو جائیں گے۔ بہتر یہی ہے کہ وزیراعظم گیلانی بڑے وقار کے ساتھ عدالتی فیصلے کے سامنے سر جھکا دیں۔ وزیراعظم کے منصب سے استعفیٰ دینا ان کے لیے شاید آخری اور باعزت راستہ ہے کیونکہ اب ان کے لیے تمام راستے مسدود ہو گئے ہیں۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت چیئرمین جناب بلاول بھٹو زارداری اور شریک چیئرمین صدرمملکت جناب آصف علی زرداری کو اب طے کرنا ہوگا کہ شہیدوں کی جماعت جو کہ ملک کے کروڑوں جیالوں کی آخری امید ہے کو بچانا ہے یا دریا برد کرنا ہے؟ مایوس اور پریشان لاکھوں جیالے جو بھٹوازم پر یقین رکھتے ہیں مجھے ڈر ہے کہ پارٹی قیادت کے خلاف بغاوت پر نہ اتر آئیں؟ اس لیے پیپلزپارٹی کی قیادت فرض کو بچانے کی بجائے فلسفے، نظریئے اور ازم اور مشن کو بچآنے میں اپنا کردار ادا کرے تو آج بھی جیالوں کی بانہیں اپنے چیئرمین سے بغل گیر ہونے کو تیار ہے۔ راستے ابھی بند نہیں ہوئے تمام راستے بے شک مسدود ہو چکے ہیں مگر امید کا ایک آخری راستہ ضروری کھلا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus