×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہماری سیاست ’’سیاسی مُنڈے‘‘ اور ان کی کرپشن
Dated: 12-Jun-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com چیف جسٹس آف پاکستا ن مسٹر جسٹس افتخار محمد چوہدری کا صاحبزادہ ڈاکٹر ارسلان افتخار چند روز الزامات کی زد میں رہا۔ آج اس کا کیس پاکستان کی سب سے بڑی عدالت میں ہے۔رشوت دینے والوں کے کیا مقاصد تھے یہ عدالتی فیصلے کے بعد واضح ہو جائے گا۔ لیکن ایک سوال جو ہر طرف سے میرے کانوں سے ٹکرا رہا ہے کہ رشوت دینے والے کیا ویڈیو بناتے اور دستاویزی ثبوت مرتب کرتے ہیں؟ بہرحال جو بھی ہے ڈاکٹر ارسلان نے شوت لی یا نہیں لی، اس کا جسٹس افتخار محمد چوہدری کی دیانت پر کوئی فرق نہیں پڑے گا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری کویہ کریڈٹ جاتا ہے کہ الزامات کی ابھی دھول اٹھی ہی تھی کہ انہوں نے اسے بگولا بننے سے قبل ہی پانی ڈال کر بٹھا دیا۔ دو تین ہفتے یونہی گزر جاتے تو لوگ الزامات کو برحق سمجھنے لگتے۔ آج ڈاکٹر ارسلان پر الزامات اور عدالتی کارروائی ہاٹ ایشو ہے۔ اخبارات اور ٹی وی چینل پر یہی موضوع نشر اور شائع ہو رہا ہے۔ ایسے میں میرے سامنے ماضی ایک سوال بن کر کھڑا ہو گیا۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری نے تو عدالت میں ،جہاں ان کے سامنے پیش ہونے والے قسم اٹھا کر بات کرتے ہیں۔ جسٹس افتخار محمد چوہدری جہاں بیٹھ کر پیش ہونے والوں کی قسم سنتے تھے گذشتہ روز اسی جگہ پر بیٹھ کر قسم کھائی کہ ان کو پتہ نہیں کہ ان کا بیٹا ارسلان کاروبار کیا کرتا ہے۔ ایک یہ باپ ایک وہ باپ جو اپنی اولاد کو اقتدار کے ثمرات سے فیض یاب کرنے میں بھی ممدومعاون بنے۔ صرف اولاد پر ہی نہیں کئی صاحبان اقتدار نے تو دیگر عزیزواقارب پر بھی نوازشات کیں۔ فیلڈ مارشل ایوب سے شروع کریں تو کسی دوست نے ان کو مشورہ دیا کہ آپ کے بیٹے میں بڑی صلاحیت ہے اسے کاروبار کرا دیں۔ ایوب خان نے ایسا ہی کیاگندھارا انڈسٹری دنوں میں پھلی پھولی تو ایوب خان نے کہا کہ واقعی گوہر ایوب بڑی صلاحیتوں کا مالک ہے۔ اس نے ترقی کے زینے بڑی تیزی سے طے کیے ہیں۔ یہ ترقی گوہر ایوب کی صلاحیت اور محنت سے نہیں اپنے باپ کے اقتدار کے باعث ہوئی تھی۔ایک مرتبہ ایڈیٹروں کی میٹنگ میں ایوب خان نے طنزیہ کہا تھا کہ اخبار نکالنا منافع بخش کاروبار ہے اس پر جناب مجید نظامی نے کہا کہ آپ ایک اخبار اپنے بیٹے کو بھی نکال دیجئے جلد پتا چل جائے گا کہ یہ کتنا منافع بخش کاروبار ہے۔ ایوب کے بعد جنرل ضیاء الحق اور جنرل اختر عبدالرحمن کے بیٹوں نے جرنیلی اقدار سے پورا پورا فائدہ اٹھایا آج آخرالذکر جرنیل کے بیٹے پاکستان کے چند گنے چنے بڑے صنعتکاروں میں شامل ہیں۔مشرف کا بیٹا بلال مشرف بوسٹن میں ایک صنعتی ریاست بنائے بیٹھا ہے۔ چوہدری برادران کے برخوردار مونس الٰہی کرپشن کے کچھ مقدمات سے نکلے اور کچھ میں پھنسے ہوئے ہیں۔میاں نوازشریف کے صاحبزادگان کے لندن اور سعودی عرب میں کاروبار چمک رہے ہیں۔ حمزہ شہباز کا پولٹری کی صنعت میں سکہ رائج الوقت ہے۔ سردار ذوالفقار علی خان کھوسہ خود سینیٹر ایک بیٹا ایم این اے، ایک ایم پی اے جو چند ماہ وزیراعلیٰ بھی رہا۔ اس پر اداکارہ سپنا کو غائب کا الزام ہے۔ فاروق لغاری کے صاحبزادے اویس لغاری کمیونیکشن کے وزیر تھے تو ان پر بھی کرپشن کے الزامات تھے۔ آج آصف علی زرداری کی اولاد یقینا کسی بھی کرپشن کے الزام سے پاک ہے البتہ اپنی اہلیہ کے وزارتِ عظمی کے دور میں آصف علی زرداری کو مسٹر ٹن پرسنٹ کے نام سے شہرت ملی تھی۔ آج وزیراعظم یوسف رضا گیلانی کے صاحبزادے بھی کرپشن میں کسی سے پیچھے نہیں۔ کوئی حج کرپشن کیس اور کوئی ایفیڈرین کے کوٹے کی غلط تقسیم میں ملوث ہے۔ یاد رہے موسیٰ گیلانی پر الزام ہے کہ انہوں نے ایفیڈرین کی درآمد کے ہزاروں کے جی کے لائسنس دوستوں کو دلا دیئے جبکہ اجازت صرف 5سو کلو کی درآمد کی ہے۔ ایک گرام ایفیڈرین کی قیمت 14ہزار تک ہے۔ ہمارے اکثر سیاستدان اقتدار میں آ کر اپنے کاربار کو تو سیع دیتے ہوئے بدنامیاں مول لیتے ہیں۔ کیا ہی اچھا ہو کہ سیاستدان اقتدار کے ایوان میں قدم رکھتے ہی اپنے کاروبار سے الگ ہو جایا کریں۔ اولاد کو اگر سیاست میں لانا ہی ہے تو اس کا دامن بھی کرپشن سے بچانے کی کوشش کریں۔ ان کو دیانت داری اور ایمان داری کی سیاست سکھائیں اور جس طرح قائداعظم نے اپنی ہمشیرہ فاطمہ جناح کی تربیت کی اور اپنا معاون بنایا۔ ہمارے سیاستدان بھی قائداعظم کی تقلید کرتے ہوئے اپنی اولاد کی اسی نہج پر تربیت کریں اور اپنا معاون بنائیں۔ پارلیمنٹ صاحب اقتدار لوگوں کے کاروبار پر تو پابندی لگا سکتی ہے ان کی اولاد کی تربیت تو پارلیمنٹ نہیں کر سکتی ہے۔ یہ فریضہ خود سیاستدانوں نے ہی اپنی نیک نامی اور اس سے بھی بڑھ کر اپنی عاقبت و آخرت کے لیے انجام دینا ہے۔ برصغیر کی تاریخی دیکھی جائے تو ہندوستان میں بھی آزادی کے بعد نہرو خاندان اور اندرا گاندھی کی اولاد نے بھی کرپشن میں بڑا نام پیدا کیا خاص کرراجیو گاندھی کابو فورس توپوں کا سکینڈل ۔اسی طرح اقتدار کے بھوکے ہمارے سیاستدان یا لالچی اسٹیبلشمنٹ ہر کسی نے اپنی اولاد کے ذریعے اس بہتی گنگا میں ہاتھ ڈالے۔یہ کیا ستم ظریفی ہے کہ انسان خدا سے اولاد مانگتا ہے اور پھر اپنے ہی ہاتھوں اس کے اور اپنے لیے دوزخ کے سامان کا انتظام کرتا ہے۔ہماری سیاست کے یہ اقتدار زدہ ’’مُنڈے‘‘وطن پاکستان کو لوٹ لوٹ کر پوری دنیا میں جائیدادیں بنا چکے ہیں۔اب وقت آیا ہے کہ پاکستان کا میڈیا ،عدلیہ اورفوج اپنا بھرپور کردار ادا کریںاور ان ’’مُنڈوں‘‘ سے قوم کو نجات دلائیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus