×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
نیٹو سپلائی، اب امریکہ دوستی کا حق ادا کرے
Dated: 10-Jul-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com نیٹو سپلائی کی بحالی کوئی آسان فیصلہ نہیں تھا۔ بحالی کے بعد اس پر احتجاج کا سلسلہ جاری ہے۔ پاکستان دفاع کونسل تو باقاعدہ ایک تحریک چلا رہی ہے۔ عمران خان اور نوازشریف کی پارٹیوں نے بھی نیٹو سپلائی کی مخالفت کی ہے۔ مولانا فضل الرحمن حسب سابق تیل کی دھار دیکھ رہے ہیں۔ حکومت پاکستان کی طرف سے مشکل حالات میں مشکل فیصلہ آسانی سے اس لیے ہو گیا کہ سیاسی اور فوجی قیادتیں نیٹو سپلائی کی بندش اور بحالی کے فیصلوں میں شروع سے آخر تک ایک پیج پر تھیں اور ہنوز ہیں۔ خارجہ پالیسی کی ترتیب و تشکیل سیاسی قیادت کی ذمہ داری ہوتی ہے۔ اگر اس میں فوج کو اعتماد میں لیا جاتا ہے تو یہ خوش آئند ہے۔ موجودہ حکومت نے دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاک فوج پر اعتماد کرتے ہوئے کچھ فیصلے اس کی صوابدید پر چھوڑ دیئے ہیں۔ شمالی وزیرستان میں امریکہ بار بار آپریشن کا مطالبہ کرتا رہا ہے۔ یہ محاذ حکومت نے فوج کے سپرد کیا ہوا ہے۔ فوج نے اس حوالے سے امریکہ کے دبائو کو خاطر میں نہ لاتے ہوئے یہی جواب دیا کہ وہ اپنے حالات اور معاملات کی جانچ پرکھ کے بعد فیصلہ کرے گی کہ کہاں آپریشن کی ضرورت ہے۔ امریکہ پاک فوج کو کسی بھی طریقے سے آپریشن پر قائل کرنے کی کوشش کر رہا تھا کہ سلالہ چیک پوسٹ پر حملوںمیں پاک فوج کے 24سپوت شہید کر دیئے گئے۔ جس پر پارلیمنٹ کی دفاعی کمیٹی جس کا حصہ فوجی قیادت بھی ہے نے فوری طور پر نیٹو سپلائی بند کی۔ایک وارننگ کے بعد شمسی ایئربیس خالی کرا لیا جہاں سے ڈارون اڑ کر پاکستانیوں کو اپنا نشانہ بناتے تھے۔ سلالہ حملوں اور اس کے بعد پاکستان کے سخت اقدامات کے بعد امریکیوں کا شمالی وزیرستان میں حقانی نیٹ ورک کے خلاف آپریشن کا تقاضا پس منظر میں چلا گیا جبکہ امریکہ کو نیٹو سپلائی کی بحالی کی پڑ گئی۔ اس کے لیے امریکہ اور اس کے اتحادی 48نیٹو ممالک نے بڑے جتن کیے۔ پاکستان اور امریکہ کے دوست ممالک بھی درمیان آئے۔ لیکن پاکستان کسی صورت سپلائی کی بحالی پر آمادہ نہیں ہو رہا تھا۔ امریکہ کی طرف سے امداد بند کی گئی اور حملے تک کی دھمکی بھی دی گئی اس پر بھی پاکستان نے کسی لچک کا مظاہرہ نہ کیا۔ حکومت پر زیادہ پریشر آیا تو معاملہ پارلیمنٹ کے حوالے کر دیا گیا جس نے متعدد شرائط اور سفارشات کے ساتھ بحالی کا عندیہ دے دیا۔ اس کا یہی مطلب لیا گیا کہ پاکستان کی سیاسی و عسکری قیادتیں بالآخر نیٹو سپلائی کی بحالی پر آمادہ ہو گئی تھیں۔ حکومت کا سب سے بڑا مطالبہ سلالہ حملوں پر معافی کا تھا۔ جو امریکہ نے کسی حد تک اپنی غلطی تسلیم کرتے ہوئے پورا کر دیا۔ امریکہ کنٹینرز کی فیس پر آمدہ ہو چکا تھا یہ شرط خود پاکستان نے واپس لے لی۔ ڈارون حملوں کی بندش پر بھی زور نہ دیا گیا۔ پارلیمانی کمیٹی کی سفارشات پر مکمل طور پر عملدرآمد کرنے کے مطالبے میں پاکستان نے اس لیے لچک دیکھائی کہ امریکہ اسے خیرسگالی کا پیغام سمجھتے ہوئے پاکستان کو درپیش مسائل کا ادراک کرے گا۔امریکہ نے پاکستان کے اس قدام کا خیر مقدم کیا۔ پاکستان میں امریکہ کے سفیر کیمرون منٹر نے پاکستان کو یوں خراج تحسین پیش کیا کہ اس اقدام سے پاکستان کا دنیا بھر میں سافٹ امیج سامنے آیا ہے انہوں نے مزید کہا کہ پاکستانی اقدام کی قدر کرتے ہیں۔ منٹر کا بیان امریکہ کی مجموعی سوچ کا آئینہ دار ہے۔لیکن منٹر نے ساتھ یہ بھی کہاکہ ان کو پاک ایران گیس پائپ لائن پر خدشات ہیں۔ امریکہ کو خدشات اس لیے ہیں کہ ایران امریکہ اور اس کے اتحادیوں کی طرف سے لگائی گئی پابندیوں کے باوجود اپنا نیوکلیئر پروگرام جاری رکھے ہوئے ہے۔ دوسری طرف اسرائیلی نیوکلیئرپروگرام ایران کے مقابلے میں کئی گنا آگے ہے۔ اس پر امریکہ خاموش ہے ۔کل ایران کے ساتھ اس کے تعلقات بہتر ہوئے تو امریکہ ایران دوستی پھر سے ہو سکتی ہے۔ پاکستان اور ایران نہ صرف پڑوسی ہیں بلکہ برادر اسلامی ممالک بھی ہیں۔ انہوں نے ہمیشہ پڑوسی اور ہم مذہب تو رہنا ہی ہے۔ بوجوہ امریکہ اپنے براعظم تک محدود ہو سکتا ہے۔ امریکہ نے توانائی بحران کے خاتمے کی بات ضرور کی ہے۔ کیا وہ اسی طرح توانائی بحران کے خاتمے کے لیے پاکستان کی مدد کر سکتا ہے۔ جس طرح ایران ایسا کرنے کو تیار ہے۔ پاکستان ایک آزاد اور خودمختار ملک ہے۔ امریکہ اس کا احساس کرے۔ پاکستان کی خارجہ پالیسی میں مداخلت نہ کرے۔ اسے اپنے مفادات تک محدود رہنا چاہیے۔ پاکستان کو اپنے مفادات کے فیصلے خود کرنے میں کسی قسم کی رکاوٹ نہیں ڈالنی چاہیے۔ پاکستان کو بہت سے مسائل علاقائی ممالک کے ساتھ طے کرنا ہوں گے۔ ایران،چین اور افغانستان اس حوالے سے اہم ترین ہیں۔ پاکستان کو امریکہ اپنا فرنٹ لائن اتحادی قرار دیتا ہے۔ پاکستان نے یہ ثابت بھی کیا ہے لیکن اب جبکہ افغان جنگ اپنے خاتمے کی طرف بڑھ رہی تو امریکہ افغانستان میں بھارت کا عمل دخل بڑھانے کے اقدامات کر رہا ہے حالانکہ عملی، فطری، جغرافیائی اور مذہبی حوالے سے بھی پاکستان کا کردار اہم ہے۔ پاکستان نے نیٹوسپلائی بحال کرکے امریکہ کی طرف ایک بار پھر دوستی کا ہاتھ بڑھایا ہے۔ امریکہ اس کو بڑے احترام کے ساتھ دوستوں کی طرح تھامے اور پاکستان کو درپیش مسائل حل کرنے میں اس کاساتھ دے۔ وہ اسی صورت ممکن ہے جب پاکستان کی خودمختاری کا بھی احترام کیا جائے اور اس کے اندرونی معاملات اور خارجہ پالیسی کی تشکیل میں کوئی رکاوٹ کھڑی نہ کی جائے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus