×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بکرے کی ماں آخر کب تک خیر منائے گی
Dated: 28-Jul-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com راجہ پرویز اشرف کا شمار پیپلزپارٹی کے دیانت دار اور ڈیسنٹ لوگوںمیں ہوتا تھا، یہ کوئی ماضی بعید کی بات نہیں، ان کے وزیر پانی و بجلی بننے تک ان کی یہی شہر ت تھی۔ ان کو پانی اور بجلی کا وزیر بنایا گیا تو انہوںنے پہلاکام کالاباغ ڈیم منصوبے کو دریائے سندھ میں ڈبونے کا اعلان کرکے اپنا شمار ان لوگوں میں کروا لیا جن کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ ذاتی مفادات کی خاطر کالاباغ ڈیم کی تعمیر کی مخالفت کر رہے ہیں۔ کالاباغ کے مخالفین کے بارے میں یہ بھی کہا جاتا ہے کہ ان کو بھارت 6ارب روپے سالانہ مالی مدد کرتا ہے۔ ہم یہ تو نہیں کہتے کہ راجہ صاحب بھی ایسی مراعات سے مستفید ہوئے ہوں گے لیکن ان کا بطور وزیر پانی و بجلی کالاباغ ڈیم کی شدت سے مخالفت سمجھ میں نہ آنے والا ایک معمہ تھا۔ لوگ ان کی روش پر ششد ر رہ گئے۔ دوسرا انہوں نے بجلی کی چند گھنٹے کی لوڈشیڈنگ کے خاتمے کی ایک ڈیڈلائن دی، پھر دوسری اور تیسری۔ لیکن ان کی وزارت کے دوران بجلی کی لوڈشیڈنگ کم ہونے یا پہلی سطح پر برقرار رہنے کی بجائے طول پکڑتی گئی۔ گذشتہ سال کابینہ کا سائز کم کیا گیا تو راجہ صاحب سے یہ وزارت واپس لے لی گئی۔ اس دوران گذشتہ حکومت کے رینٹل پاور منصوبوں کی تکمیل ہوئی۔ یہ 200ارب روپے کے منصوبے تھے ان میں سے آدھی سے بھی زیادہ رقم چند لوگوں کے پیٹ کے دوزخ میں اتر گئی۔ سپریم کورٹ نے جن لوگوں کو موردِ الزام ٹھہرایا ان میں سے ایک نام راجہ صاحب کا بھی تھا۔ یوسف رضا گیلانی کو سپریم کورٹ نے توہین عدالت پر نااہل قرار دیا تو راجہ پرویز اشرف کو ان کا جاں نشین مقرر کر دیا گیا۔ ایسا وزیراعظم جس کی وزیر پانی و بجلی بننے سے دیانتدار اور ڈیسنٹ مین کی شہرت بری طرح داغدار ہوئی تھی۔ ان کا وزیراعظم بننا نہ صرف قوم بلکہ پیپلزپارٹی کے حلقوں کے لیے بھی سوالیہ نشان تھا۔ وہ وزیراعظم بنے تو سوئس حکام کو خط لکھنے کے حوالے سے وہی موقف اپنایا جس پر یوسف رضا گیلانی کی وزارت عظمیٰ گئی تھی۔ سپریم کورٹ نے خط لکھنے کے حوالے سے پوچھا پھر خط لکھنے کا حکم دیا تواٹارنی جنرل عرفان قادر سپریم کورٹ میں شاہ سے زیادہ شاہ کے وفادار بنتے نظر آئے۔ وہ نہ گیلانی کی نااہلی کے فیصلے کو مان رہے ہیں نہ عدلیہ اور ججوں کے احترام کو خاطر میں لاتے ہیں۔ وہ سپریم کورٹ کے بنچ کے سربراہ مسٹر جسٹس آصف سعید کھوسہ سے مطالبہ کرتے ہیں کہ چونکہ انہوں نے کسی دور میں این آر او کیس کے حوالے سے ان سے کچھ معلومات لی تھیں جس سے ان کا تعصب ظاہر ہوتا ہے اس لیے بنچ سے الگ ہو جائیں۔ کھوسہ صاحب نے عدالت میں بتایا کہ ایسی معلومات انٹرنیٹ پر بھی دستیاب ہیں۔ البتہ کھوسہ صاحب نے یہ کہا تھا کہ زرداری صاحب کو ہونے والی سزا اگلی عدالت بھی برقرار رکھے گی۔اس کا عرفان قادر نے عدالت میں جواب دیا نہ سماعت کے بعد اپنی پریس کانفرنس میں،میں عینی شاہد ہوں کہ محترم کو سوئس عدالت نے جو بھی سزا سنائی تھی اس میں سب سے بڑا کردار موصوف کا ہی تھا۔ کل پیپلزپارٹی پر بُرا وقت آتا ہے تو یقینا ایسے لوگ زرداری صاحب کو سزا دلانے کے لیے اپنا پورا زور لگا دیں گے۔ گذشتہ روز کی سماعت میں عرفان قادر نے یہ بھی کہا کہ ہاتھی اور چوہے کے ساتھ یکساں سلوک ہونا چاہیے۔ نہ جانے کس کو ہاتھی قرار دے کر اپنے لیے بھی ایسا ہی استحقاق مانگ رہے ہیں۔ بہرحال وہ مقدمہ لٹکانے میں کسی حد تک کامیاب ضرور ہوئے ہیں۔ سپریم کورٹ اپنے احکامات پر خوش اسلوبی سے عمل کرانا چاہتی ہے۔ خط لکھوانے سے کم کسی فیصلے کاامکان ہی نہیں ہے۔ یہ فیصلہ سپریم کورٹ کے 17ججوں نے دیا تھا۔ جس پر نظرثانی 17سے زیادہ ججوں پر مشتمل بنچ ہی کر سکتا ہے ایسا فی الحال ممکن اس لیے نہیں کہ سپریم کورٹ میں ججوں کی تعداد ہی 17ہے۔ گویا وزیراعظم کو خط لکھنا ہی ہوگا۔8اگست سے قبل چند دن یا چند ہفتے بعد آخر بکرے کی مان کب تک خیر منائے گی۔ آج ملک و قوم بجلی کی شدید لوڈشیڈنگ کے عذاب میں مبتلا ہے۔ پاکستان میں بجلی پیدا کرنے کی صلاحیت ضرورت سے کچھ زیادہ ہے۔ مسئلہ صرف بدنظمی کا ہے سرکاری تھرمل پاور پلانٹس کو تیل فراہم نہیں کیا جاتا، نجی پاور پلانٹس کو بروقت ادائیگیاں نہیں کی جاتیں۔ اس وجہ سے پاور پلانٹس بند پڑے ہیں۔ جو خراب ہوئے ان کی مرمت نہیں کی جاتی۔ 200ارب روپے کے رینٹل پاور پلانٹس سکریپ کا ڈھیر بن گئے۔ تھرمل پاور پلانٹس سے 18روپے یونٹ تک لاگت آتی ہے۔ پانی سے بننے والی بجلی ڈیڑھ روپے یونٹ پڑتی ہے۔ نیت درست ہو تو سرکاری اور نجی پاور پلانٹس چلا کر بجلی کی ضرورت پوری کی جا سکتی ہیں۔ سستی بجلی چاہیے تو کالاباغ اور بھاشا ڈیم بنا دیئے جائیں۔ راجہ پرویز اشرف کو قدرت نے ایک بار پھر خود کو کلین اور ڈیسنٹ ثابت کرنے کا پہلے سے بڑھ کر موقع دیا ہے وہ اس سے فائدہ اٹھائیں۔اس کے لیے ضروری ہے کہ سوئس حکام کو خط لکھ دیں۔ کالاباغ ڈیم کی فوری تعمیر کا اعلان کریں اور پاکستان کی بجلی پیداکرنے کی صلاحیت کو استعمال کرکے لوڈشیڈنگ کا خاتمہ کر دیں۔ یہ تمام کام مشکل نہیں ان کے لیے ایک عزم اور ارادے کی ضرورت ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ یہ سب گوجر خان کے راجہ کے اندر موجود ہے۔ وہ ایسا کر گزرتے ہیں تو اپنے علاقے اور وطن میں سر اٹھا کر جئیں گے۔ دوسری صورت میں خود گوشہ گمنامی میں چلے جائیں گے اور ان کی اولاد جنرل یحییٰ، جنرل نیازی اور سکندر مرزا کی اولاد کی طرح پشیمان رہے گی۔ راجہ صاحب مجھے چھوٹا بھائی سمجھتے ہیں میری آج تمام جیالوں کی طرف سے ان سے درخواست ہے کہ وہ مصلحتوں کو بالائے طاق رکھ کے کوئی بڑا کام کر جائیں جس کا ان کو ایک سنہری موقع ملا ہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus