×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
چیف جسٹس پاکستان کیا نوائے وقت پڑھتے ہیں؟
Dated: 28-Aug-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مجھے آج بھی وہ منظر یاد ہے جب چیف جسٹس آف پاکستان مسٹر جسٹس افتخار احمد چوہدری مشرف کے 9،10مارچ 2007ء کے برطرفی کے غیر قانونی اقدام کے بعد 5مئی 2007ء کو لاہور آئے۔ ان کا لاہور آنے تک جگہ جگہ والہانہ استقبال ہوا۔ اس استقبال میں پیپلزپارٹی نے بڑھ چڑھ کر حصہ لیا۔ لاہور میں استقبال کرنے والوں میں خاکسار پیش پیش تھا جس نے پورے شہر کو تہنیتی بینروں سے سجا دیا تھا۔ قوم کو یاد ہے کہ محترمہ بے نظیر بھٹو نے ایک موقع پر خود محصور چیف جسٹس کے گھر کے سامنے تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ ہمارے چیف جسٹس آج بھی افتخار احمد چوہدری ہیں۔ اس دوران میرا قیام یورپ میں تھا۔ میں نے یورپی یونین ممالک کے ممبران پارلیمنٹ اوراعلیٰ حکام تک جسٹس افتخار کے ساتھ فوجی آمر کی طرف سے کی گئی زیادتی اور ان کی نظربندی سے آگا ہ کیا جو سراسر غیر قانونی اور غیر آئینی تھی۔ یورپی ممالک نے جنرل مشرف پر عدلیہ کی بحالی کے لیے زور ڈالا اس میں میری جدوجہد بھی شامل تھی۔ بالآخر ججز مشرف کی قید سے آزاد اور بعدازاں بحال ہوئے جس سے ایک آزاد فعال اور غیر جانبدار عدلیہ کا قیام وجود میں آ گیا۔ جس پر قوم نے سکھ کا سانس لیا۔ سیاسی میدان میں بھی میری جدوجہد ریکارڈ پر ہے۔ میں خوش نصیب ہوں کہ میری وفائوں اور جمہوریت کی بحالی کے لیے میری جدوجہد کا اعتراف خود تمام پارٹیوں کے سیاسی قائدین کرتے ہیں۔ میری جمہوریت کی بحالی کی خدمات کو پیش نظر رکھتے ہوئے محترمہ شہید نے مجھے ممبرفیڈرل کونسل بنایا ۔جمہوریت کی بحالی کے لیے جدوجہد کے باعث مجھے صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری، سابق وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور موجودہ وزیراعظم راجہ پرویز اشرف کے ساتھ جیل کی صعوبتیں برداشت کرنا پڑیں۔ اے آر ڈی کی تشکیل میں میں نوابزادہ نصراللہ خان کے شانہ بشانہ تھا۔ انہوں نے بطور سربراہ اے آر ڈی مجھے اے آرڈی عالمی امورکا صدر نامزد کیا تھا۔ میثاقِ جمہوریت کے لیے نوابزادہ نصراللہ خان کی کوششوں میں بھی ان کے ساتھ تھا۔ میثاقِ جمہوریت کو میاں نوازشریف اور بے نظیر بھٹو نے حتمی شکل دی ۔ جمہوریت کی بحالی کی جدوجہد اور آمریت کو جڑ سے اکھاڑنے کی جدوجہد کے لیے میں امریکن پنٹاگان اور سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور اقوام متحدہ کے دوروں کے مواقع پر محترمہ بے نظیربھٹوکے ساتھ تھا۔ پھر میں راجہ پرویز اشرف کو بھی ان اہم مقامات پر اعلیٰ امریکن حکام سے ملاقات کے لیے لے گیا۔ اے آر ڈی کی تشکیل ہو، آصف علی زرداری کی اپریل 2005میں پاکستان آمد پر لاہور ایئرپورٹ پر آمریت کے دو رمیں استقبال کا لائحہ عمل ہو یا محترمہ بے نظیر کی 2007ء میں انتخابی تیاریوں کی حکمت عملی جیسے منصوبے یہ میرے گھر پر تشکیل اور ترتیب پاتے رہے۔پارٹی رہنمائوں کے لیے میرا گھر ریسٹ ہائوس کی حیثیت رکھتا تھا۔ مخدوم امین فہیم، راجہ پرویز اشرف اور دیگر رہنما میرے گھر قیام کرتے رہے ہیں۔ اگر میں کہوں تویہ غلط نہ ہو گاکہ پیپلزپارٹی کی اور اے آر ڈی کی اکثر تحریکیں اسی گھر سے جنم لیتی رہی ہیںلیکن بدقسمتی سے آج یہ گھر قبضہ مافیا کی دستبرد میں ہے۔ قارئین آگاہ ہیں کہ دو سال قبل مجھے شدت پسند تنظیموں کی طرف سے دھمکایا گیا جس کا میں نے کوئی اثر نہیں لیا لیکن ان تنظیموں کے دبائو پر سکولوں کی انتظامیہ نے میرے بچوں کو تعلیم دینے سے انکار کر دیا تو مجھے مجبوراً فیملی کو بیرون ملک منتقل کرنا پڑا۔ گذشتہ سال اور 2012ء کے شروع میں میں اپنی فیملی کے پاس گیا ہوا تھا تو پاکستان سے میرے ایک دوست نے کہا کہ اس کے مالک مکان نے اسے فوری طور پر گھر خالی کرنے کا نوٹس دیا ہے۔میرے دوست نے درخواست کی کہ میں اپنا گھر اسے کرائے پر دے دوں جب بھی اسے کہا جائے گا وہ خالی کر دے گا۔ اس نے یہ بھی کہا کہ آپ چونکہ اکیلے پاکستان میں ہوتے ہیں اس لیے آپ ہمارے ساتھ ہی رہ سکتے ہیں۔ میں نے ان کی مجبوری کو بھانپتے ہوئے اس بات سے اتفاق کیا۔ انہوں نے 80ہزار ماہانہ کرایہ خود طے کر دیا۔ یہ کرایہ انہوں نے کبھی دیا نہ میں نے دوستی کے باعث کبھی تقاضا کیا اور فل لوڈڈ گھر ان کے حوالے کر دیا گیا۔ بلاشبہ گھر میں موجود سامان بھی کروڑوں کا ہے۔گذشتہ ماہ میں لاہور آیا تو 142 بلاک ای ٹو جوہر ٹائون میں جہاں میں 10سال سے رہ رہا ہوں اپنے کرایہ داروں کے ساتھ رہنے لگا۔چوتھے رمضان کو میں نے اپنے احباب و اقربا اوراپنی ہمشیرہ کو افطاری پر بلایا۔افطاری کے بعد یک دم گھر میں پولیس داخل ہو گئی اور وہ کہنے لگے کہ آپ گھر پر قبضہ کر رہے ہیں۔میرا گھر اور مجھ پر قبضے کا الزام یہ ایک ایسا شاک تھا جو میرے لیے شدید صدمے کا باعث بنا ۔ پولیس نے پولیس گردی کرتے ہوئے گھر میں موجود خواتین سے بدتمیزی کی اور مجھ سمیت مہمانوں کو حراست میں لے لیا اور تھانے میں بند کر دیا۔ اور گھر کا قبضہ ایس ایچ او نے میرے کرایہ داروں کو دے دیا ۔ قانون کے اندھا ہونے کے بارے میں سنا تھا انسانیت کو پہلی دفعہ اندھا ہوتے میں نے اس دن دیکھا۔ میں مالک مکان ہوں میرے خلاف اپنے ہی گھر پر قبضہ کرنے کی ایف آئی آر پہلے ہی سے تیار تھی۔ جس میں بس میرے مہمانوں کے نام درج کرکے پولیس نے پرچہ کاٹ دیا۔ پولیس جو کہ اس وقت کے ایک ڈی آئی جی اور ایک اعلیٰ سابقہ عدالتی شخصیت اور سیاستدان کے ایما پر یہ سب کچھ کر رہی تھی اسے پورا محلہ دیکھ رہا تھا اور دم بخود تھا اور پھر دس دن تک ہماری ضمانت کو مختلف ہتھ کنڈوں سے روکا گیا ۔ دو ججوں نے تین تین دن تک سماعت کرکے فیصلہ دینے سے انکار کیا۔ اس پر سینئر عدالت نے حکم دیا کہ ضمانت کا آج ہی فیصلہ دیا جائے جس بنا پر میں اور میرے 9 احباب کی ضمانت ہوئی۔ یہ دس دن میں نے جس دُکھ و درد اور کرب و الم میں گزارے وہ میں ہی جانتا ہوں یا میرا خدا جانتا ہے۔ جسمانی اذیت اور ذہنی اذیت ہر لمحہ ڈستی رہی۔ میں ایک سیاستدان ہوں لیکن اس کیس کو سیاسی رنگ دینے کی کوشش نہ کی۔ میں نے اپنے گھر پر قبضے کو خوامخواہ سیاسی حمایت لینے کے لیے استعمال نہ کیا اور نہ ہی مسلم لیگ ن اور کسی جماعت کے خلاف بیان دیا۔ میرے گھر پر ہی قبضہ ہوا اور میرے ہی خلاف مقدمہ درج کرا کے مجھے گرفتار کرا دیا گیا اور پھر اخبارات میں میرے خلاف خبریں شائع کروا دی گئیں۔ میں نے اثر رسوخ رکھتے ہوئے بھی ایک سنگل کالم خبر بھی جاری نہ کی۔میرے کرایہ داروں نے میرے خلاف ایف آئی آر کٹوائی تو اس میں یہ لکھا کہ ہم نے مطلوب وڑائچ سے یہ گھر ڈیڑھ کروڑ میں خریدا ہے مگر ہمارے پاس رقم کے لین دین یا مکان خریدنے کا کوئی لکھت پڑھت یا ثبوت نہیں ہے۔اس ایف آئی آر سے ہی ثابت ہوتا کہ یہ آیف آئی آر نہ صرف بوگس بلکہ غیرقانونی تھی۔کیا پاکستان میں رجسٹری والے گھر یا املاک بغیر لکھت پڑھت کے بیچے اور خریدے جاتے ہیں؟اس معاملہ کو میڈیا میں غلط طریقے سے پیش کرنے پر میری جو عزت نفس مجروح ہوئی اس کا کوئی مداوا نہیں۔ پانچ سال سے میں نوائے وقت میں کالم لکھ رہا ہوں ۔ 20کتابوں کا مصنف ہوں۔ میری سیاسی،صحافتی ،ادبی اور سماجی خدمات کھلی کتاب کی طرح ہیں۔ مکان کے قبضہ کے حوالے سے میرے ساتھ جو ہوا یہ ہمارے قانون نافذ کرنے والے اداروں اور لوئر عدلیہ میں پائی جانے والی بے قاعدگیوں، بے ضابطگیوں اور ان کے ذمہ داروں کے روئیں روئیں میں رشوت کے سرائیت کرنے کا کھلا ثبوت ہے۔ مجھ جیسا شہرت یافتہ سیاستدان، ادیب اور صحافی بھی اگر پولیس اور ماتحت عدلیہ کی کالی بھیڑوں سے محفوظ نہیں تو آپ عام پاکستانی کو درپیش مشکلات اور مصائب کا آسانی سے اندازہ لگا سکتے ہیں۔ معاشرے میں پائی جانے والی بے چینی، اضطراب اور روزانہ قتل اور تشدد کے سینکڑوں واقعات بھی ان کی دو اداروں کے کرپٹ افراد کی کارستانیوں کا شاخسانہ ہے۔میں نے اپنی سیاسی جدوجہد، قربانیوں، صحافتی ،ادبی،سماجی اور عدلیہ کی بحالی کے لیے خدمات کا تذکر کیا ہے۔ میری یہ جدوجہد قربانیاں اور خدمات برائے فروخت نہیں ہیںاور نہ ہی میں ان کا صِلہ مانگتا ہوں ۔ مجھے کسی کی حمایت کی نہیں مجھے صرف اور صرف انصاف کی ضرورت ہے،بے لاگ انصاف کی۔ گھر چونکہ میرا ہے میرے نام رجسٹری ہے انشاء وہ مجھے مل کر رہے گا لیکن اس میں موجود سالوں سے بنے گھر میں موجود سامان کی جو درگت بنے گی وہ بھی مجھے معلوم ہے۔ میں نے اپنے ساتھ ہونے والے بہیمانہ ناروا سلوک کرنے اور قانون کی دھجیاں بکھیرنے والوں کا قانون اور انصاف کے مطابق محاسبہ چاہتا ہوں۔ میری چیف جسٹس پاکستان سے درخواست ہے کہ وہ اس معاملے میں بھی سوموٹوایکشن لیں۔ یہ صرف میری ذات کا مسئلہ نہیں بلکہ یہ اپنی نوعیت کا واحد کیس ہے کہ جس میں مالک مکان کو اپنے ہی گھر پر قبضہ کرنے کے الزامات میں گرفتار کرکے مقدمہ درج کر لیا جاتا ہے اور ایسا کرنے والے دندناتے پھر رہے ہیں ۔چیف جسٹس آف پاکستان اس واقعہ کی تفتیش کرا لیں کہ لوئر کورٹ کے ججوں نے آخر کس قانون کے تحت دس دن تک میری ضمانت نہ لی؟ اگر ججوں نے کسی دبائو یا رشوت کے باعث ایسا کیا تو ایسے لوگوں کا جو مقام اور انجام ہے ان کو وہیں ہونا چاہیے ۔ پولیس کے رویے کا بھی چیف جسٹس نوٹس لیں اور خادمِ اعلیٰ پنجاب کو بھی سوچنا چاہیے کہ سفارش اور رشوت کی بنا پر کسی بھی مالک مکان کو اپنے ہی گھر سے اٹھا کر بے دخل کر دیا جاتا ہے اور اتنے بڑے واقعہ کی خادمِ اعلیٰ کو خبر تک نہیں ہوتی؟میں چیف جسٹس پاکستان کو انصاف ،آئی جی پولیس کو علاقے کے ایس ایچ او ، ڈی آئی جی سمیت اس واقعے میں ملوث پولیس اہلکاروں کے خلاف کارروائی کرنے کی استدعا کرتا ہوں ۔ میں خادمِ اعلیٰ پنجاب کو حکومت کا سلطان سمجھتا ہوں۔ ان کی موجودگی میں میرے ساتھ یہ ظلم اور اندھیر ہوا ہے تو بے ساختہ میری زبان پر یہ شعر آ جاتا ہے: جس دور میں لُٹ جائے غریبوں کی کمائی اس دور کے سلطان سے کوئی بھول ہوئی ہے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus