×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بڑے مجرموں کی نئی پناگاہیں اور کرپشن کا فروغ
Dated: 15-Sep-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پورے ملک میں چھوٹے موٹے مجرموں کو تو علاقے کے وڈیرے پناہ دیتے ہیں۔ بعض کو پولیس کی پشت پناہی کے ساتھ ساتھ پناہ بھی حاصل ہو سکتی ہے۔ بڑے جرائم کو چھپانے اور بڑے مجرموں کو بچانے کے لیے جاگیرداروں، رہ گیروں، وڈیروں نے فول پروف انتظامات کر رکھے ہیں۔ اب تو یہ کاروبار صنعت کا درجہ اختیار کر چکا ہے۔۔ بڑے جرم کرکے کچھ لوگ بیرون ملک چلے جاتے ہیں۔ کچھ علاقہ غیر میں پناہ لے لیتے ہیں اور کچھ اپنے علاقوں کے قریب خصوصی مقامات پر روپوش ہو جاتے ہیں۔ ان مقامات میں پنجاب کا دریائے چناب کے ’’بیلے‘‘ کا حصہ شام ہے۔ سندھ میںمجرموں کے لیے ایسے کئی ’’بیلے اور جنگلات‘‘ موجود ہیں۔ جب خودبڑے لوگ بڑے جرائم میں ماخوذ ہوں عدالتیں ان کو پیش ہونے کا حکم دیں توہ بڑے ایوانوں میں گوشہ عافیت ڈھونڈ لیتے ہیں۔ امریکہ میں پاکستانی سفیر حسین حقانی کو میمو سکینڈل کے سلسلے میں پاکستان آنا پڑا۔ تین بڑوں صدر آصف علی زرداری، وزیراعظم یوسف رضا گیلانی اور آرمی چیف جنرل اشفاق پرویز کی موجودگی میں حسین حقانی، ڈی جی آئی ایس جنرل شجاع پاشا کے میموسکینڈل کے حوالے کوئی تسلی بخش جواب نہ دے سکے تو ان سے استعفیٰ لے لیا گیا۔ وہ دعویٰ کرتے ہیں کہ استعفیٰ میں نے خود دیا تھا ۔استعفیٰ دینے کے بعد وہ پہلے وزیراعظم ہائوس میں پناہ گزین ہو گئے حالانکہ وہ پاکستانی ہیں ان کا پاکستان میں جنم ہوا اور کوئی ٹھکانہ بھی ہوگا لیکن وہ شاید ان کی حفاظت کے لیے ناکافی تھا۔ وہ بڑے ایوانوں میں چھپے رہے عدالت کی جانب سے متعدد بار طلبی کے باوجود پیش نہیں ہوئے۔ ویسے تو ان ایوانوں میں موجود کئی لوگ عدالتوں کو مطلوب ہیں لیکن باقاعدہ پناہ لینے والوں کچھ بڑوں کا نام بھی سامنا آیا ہے۔ وفاقی وزیر مخدوم شہاب الدین اور سابق وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بیٹے موسیٰ گیلانی ایفیڈرین کیس میں ملوث ہیں۔ مخدوم شہاب الدین کے ساتھ تو یوں ہاتھ ہوا کہ گیلانی کی نااہلی کے بعد صدر آصف علی زرداری نے ان کے لیے وزیراعظم کی نامزدگی کا پروانہ جاری کیا۔ ادھر ان کا نام فائنل ہوااُدھر اے این ایف نے ان کے وارنٹ گرفتاری جاری کر دیئے۔ یوں مخدوم کے ہاتھ سے وزارت عظمیٰ پھسل گئی اور ان کو لینے کے دینے پڑ گئے۔ اس کے بعد مخدوم شہاب اور موسیٰ گیلانی ضمانتیں کراتے رہے۔ چند روز قبل دونوں کی ضمانتیں منسوخ ہوئی تو دونوں عدالت میں موجود نہیں تھے۔ اس پر دونوں کو مفرور قرار دے دیا گیا۔ اسی روز سید یوسف رضا گیلانی کی نااہلی کے بعد خالی ہونے والی نشست سے کامیابی کے بعد ان کے فرزند ارجمند عبدالقادر گیلانی نے قومی اسمبلی میں اپنی رکنیت کا حلف اٹھایا۔ خوشی کے اس موقع پر دونوں ’’عدالتی مفرور‘‘اسمبلی میں موجود تھے۔ حلف برداری کے بعد عبدالقادر گیلانی نے کہا کہ میرے باپ کی حکومت ہوتی تو آج ان کے بھائی کی ضمانت منسوخ نہ ہوتی۔ عبدالقادر گیلانی کی یہ بات سمجھنے کے لیے واقعی عقل سقراط کی ضرورت ہے۔ وہ عدالتوں کو غیرجانبدار رہنے دیں باپ کی عدالت بنانے کی خواہش اور حسرت دل میں نہ پالیں۔ آج عدلیہ آزاد ہے۔ کسی کے باپ کی نہیں لیکن جس حکومت کے دوران عدلیہ کی توہین ہو رہی ہے اس کے فیصلوں پر عمل درآمد نہیں ہو رہااور جو حکومت مفروروں کو پناہ دے دیتی ہے وہ یقینا عبدالقادر گیلانی کے باپ کے زیر اثر ضرور ہے۔ عدالت نے جن دو بڑوں کو مفرور قرار دیا وہ کہاں چھپے رہے تھے کہ اے این ایف کی وہاں تک رسائی نہ ہو سکی، یہ کوئی معمہ نہیں ہے۔کئی روز کی مفروری کے بعد دوبارہ ضمانتیں کرانے میں کامیاب ہوئے۔ایسے دوہرے معیارات ہی معاشرے کی بربادی کا سبب بنتے ہیں۔جب خواص کے لیے قانون کا معیار اور عوام کے لیے اور ہو۔قانون کے بلاامتیاز اور بے لاگ نفاذ کے بغیر معاشرے کا بگاڑ ختم نہیں ہو سکتا۔قانون کی دوعملی جنگل کے قانون کا باعث بنتی ہے۔جس کا پوری قوم مشاہدہ کر رہی ہے۔جس کے باعث ملک بھر میں کسی کی جان اور مال محفوظ نہیں۔ہم نے کراچی اور لاہور کی آتشزدگی سوا تین سو افراد کو بھسم ہوتے ہوئے بڑے درد اور کرب کے ساتھ دیکھاہے۔ اس میں بھی قانون کی عملداری کافقدان نظر آتا ہے۔ ملک ہر طرف اس وقت ایک جنگل کا قانون نظر آتا ہے ۔ ’’جس کی لاٹھی اس کی بھینس‘‘ کے مصداق بڑی مچھلی چھوٹی مچھلی کو کھا رہی ہے۔اور پاکستان کے محکوم عوام جیتی جاگتی آنکھوں سے اپنے اوپر ہونے والے یہ ظلم سہہ رہے ہیں۔اور مجھے یقین ہے کہ ایک دن ضرور آئے گا کہ جب خدا کی بے آواز لاٹھی انصاف بن کر ان چوروں اور ڈاکوئوں سے ہماری جان چھڑائی گی اورکوئی جابر حکمران یا صاحب اقتدار ان کو پناہ دینے والا نہ ہوگا۔ مشرف کی آمریت کے بعد جمہوریت کی فرمانروائی سے عوام کو بڑی توقعات تھیں۔گذشتہ دور سے بھی بڑھ کرآج کے عوامی مسائل کی اصل جڑ کرپشن ہے جو اوپر سے شروع ہو کر نیچے تک سرایت کر چکی ہے۔میری پارٹی کی قیادت نے شروع سے احتساب بل لانے کا قصد کیا ،ساڑھے چارل سل تک وہ نہ جانے کہاں پوشیدہ رہا آج باہر آیا ہے تو وزیر قانون فاروق ایچ نائیک نے فرمایا کہ نیا احتساب بل ماضی کی کرپشن پر لاگو نہیں ہوگا۔ اس کی مزید تفصیلات یہ بھی سامنے آئی ہیں کہ نیک نیتی سے کی گئی کرپشن جرم نہیں ہو گی۔مزید برآں جو سرکاری ملازم اپنی ملازمت کے سات سال بعداپنی کرپشن کے اثاثے اور رقوم سامنے لائے گا وہ جائز سمجھی جائے گی۔ اب بھلا کوئی کیا کہے کہ نیک نیتی سے کی جانے والی کرپشن کیا ہوتا ہے؟اب کوئی شراب نوشی کرے، خواتین کی عصمت دری کرے،قتل و ڈکیتی کرے تو وہ بھی اس میں اپنی نیک نیتی ظاہر کر دے گا۔کرپشن تو ایک پائی کی ہو ،ایک لاکھ یا اربوں اور کھربوں کی وہ کسی بھی دور میں کی گئی ہووہ کرپٹ شخص کوکڑی سزا کے ساتھ ریکور ہونی چاہیے۔یہی ہمارا قانون کہتا ہے اور یہی آئین فطرت بھی ہے۔احتساب بل ابھی تیاری کے مرحلے میں ہے ۔ اس میں شاید مزید دو چار ماہ لگ جائیں۔ اس روز سے کرپشن پر نیا احتساب بل لاگو ہونے کا مطلب پونے پانچ سال میں جس نے قومی خزانے کو جس طرح بھی لوٹا،اس کو تار تار کیاوہ سب معاف ہے اور ہضم کرنے کی اجازت ہے۔احتساب بل کی مجوزہ یہ شرط پڑھ کر احتساب کے خوف سے جوصاحبانِ اقتدار اورحکام کرپشن اور رشوت سے گریز کر رہے تھے وہ بھی شیر ہو جائیں گے۔گویا حکومت خود کرپشن ،لوٹ مار اور قومی خزانے کو نقب لگانے کی ترغیب دے رہی ہے۔بڑے قومی مجرموں کوتو بڑے ایوانوں میں پہلے ہی پناہ دیتی ہے۔ میں صدر آصف علی زرداری اور پارٹی چیئرمین بلاول بھٹی زرداری سے درخواست کروں گا کہ وہ ایسا احتساب بل پیش نہ ہونے دیں جس سے بھٹوز کی پارٹی کی بدنامی ہو۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus