×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کرپشن کا خاتمہ۔۔ناگزیر!
Dated: 23-Oct-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں جنرل اسلم بیگ، جنرل اسد درانی اور یونس حبیب کے خلاف کارروائی کا حکم دیا ہے۔ یہ بھی کہا کہ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے سیاستدانوں میں رقمیں تقسیم کرنے سے فوج کی بدنامی ہوئی۔ یہ کام فوج نے بطور ادارہ نہیں کیا۔ یہ جرنیلوں نے انفرادی طور پر کیا۔ مرحوم صدر غلام اسحق خان کو بھی جنرل درانی اور جنرل اسلم بیگ کی طرح آئین کی خلاف ورزی کا مرتکب قرار دیا گیا۔ سپریم کورٹ نے رقمیں وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائی کا بھی حکم دیا او ران سے سود سمیت رقوم کی ریکوری کرنے کی ہدایت کی گئی۔ اس دور کے 6کروڑ روپے آج کے تین ارب 80کروڑ بنتے ہیں۔ یہ شاید تاریخ کا پہلا فیصلہ ہے جس میں رقمیں تقسیم کرنے والے توموجود ہیں۔ رقمیں لینے والوں کی طرف سے اعتراف سامنے نہیں آیا۔ جن کے نام سامنے آئے تھے وہ بھی چورپکڑا چور پکڑا کا واویلا کر رہے ہیں۔ فیصلے پر وزیراعظم پرویز اشرف نے کہا کہ پیسے لینے والے معافی مانگیں تاریخ نے 22سال بعد سچ اگل دیا۔ گتھی سلجھ گئی۔ جمہوریت کا قتل کیا گیا اور عوامی مینڈیٹ چرایا گیا۔ مسلم لیگ ن اور پیپلزپارٹی کی دوسرے اور تیسرے درجے کی قیادت جنرل بیگ اور جنرل درانی کے خلاف آرٹیکل 6کے تحت کارروائی کا مطالبہ کر رہی ہے۔ کئی طرف سے ان جرنیلوں کے کورٹ مارشل کی باتیں ہو رہی ہیں۔ عوامی مینڈیٹ صرف 90میں ہی نہیں 93ء،97اور 2002میں بھی چرایا گیا تھا۔ کیا یہ مینڈیٹ چرانے والے بھی جنرل درانی اور جنرل اسلم بیگ کی طرح کے ہی مجرم نہیں ہیں؟ ان کو کیوں معاف کر دیا جائے؟ جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کے خلاف جس بھی آئین کے تحت کارروائی کریں ان کا کورٹ مارشل بھی ضرور کریں لیکن ان سے بڑے بلکہ بہت ہی بڑے مجرم کیوں محفوظ رہیں؟ جنرل ایوب خان، جنرل یحییٰ خان، جنرل ضیاء الحق اور جنرل پرویز مشرف نے تو قوم کے 65میں سے 33سال نگل لیے۔ جمہوریت کا بیڑا غرق کر دیا۔ کیا جنرل بیگ کا جرم بڑا ہے جنہوں نے عوامی مینڈیٹ چرایا یا ملک پر آمریت مسلط کرکے سرے سے مینڈیٹ کا ہی ’’کریا کرم‘‘ کر دیا، جمہوریت کا پودا ہی اکھاڑ پھینکا ان کا جرم بڑا ہے۔پھر یہی نہیں جرنیلوں کی اولادوں کو دیکھئے گوہر ایوب کی گندھارا موٹرز کھربوں کی سلطنت کا روپ دھار چکی ،اعجاز الحق ، ہمایوں اختر اور بلال مشرف کھربوں کے کاروبار کرتے ہیں۔ ان کے پاس یہ کاروبار اور بڑی بڑی رقمیں کہاں سے آئیں؟ اگر ایوب خان کو آمریت مسلط کرنے کے جرم پر لٹکا دیا جاتا تو یحییٰ، ضیاء الحق اور مشرف اقتدار میں آتے اور نہ ہی جنرل اسلم بیگ اور جنرل اسد درانی کو انتخابات میں مداخلت کی جرأت ہوتی۔ جرنیلوں نے بار بار جمہوریت کا تختہ الٹا تو ان کی اولادوں نے جی بھر کر ملک کو لوٹا۔ سیاستدانوں نے بھی کوئی کسر نہیں چھوڑی۔ پاکستان میں سیاست سرمائے کا کھیل بن چکی ہے۔ جس میں جرنیلوں اور سیاستدانوں کی اولادیں ہی لوٹ مار کے پیسے سے موج مستی کر سکتے ہیں۔ ہمارے جیسے سفید پوش اور ہماری اولادیں پاکستان کی مروجہ سیاست میں آگے بڑھنے کا سوچ بھی نہیں سکتے۔یہ اب لغاری، مزاری، وٹو، مخدوم، چٹھوں، چودھریوں اور نوابوں اور دولتانوں کے گھر کی دولت کے زور پر باندی بن کے رہ گئی ہے۔ لوٹ مار کرنے والے اگر آج ایماندار ہو جائیں تو بھی ان کی سات نسالوں کے لیے جمع پونجی ہر قسم کی عیاشی اور انتخابات جیتنے کے لیے کافی ہے۔ ان لوگوں کی ہر بڑے شہر میں کوٹھی اور وہ ہر کلب کے ممبر ہیں۔ امیر ہونا، بڑی گاڑی رکھنا اور محلات تعمیر کرنا قطعاً جرم نہیں اگریہ جائز کمائی سے ہوں۔ عوام کا خون چوس کر اور ملکی وسائل لوٹ کر جائیدادیں بنانا نہ صرف جرم بلکہ ظلم بھی ہے اس کا نہ صرف خاتمہ ہونا چاہیے بلکہ قوم کی لوٹی گئی پائی پائی اگلوائی جانی چاہیے۔چور کے ساتھ ساتھ چور کی ماں کو بھی مارنے کی ضرورت ہے تاکہ چور پیدا ہی نہ ہوں۔ کرپشن کی جڑ کاٹنے کی ضرورت ہے تاکہ کرپشن کا پودا پنپ ہی نہ سکے۔ آج احتساب بل کی بات ہو رہی ہے۔ کوئی کہتا ہے 99کے بعد احتساب کیا جائے کوئی 80کے بعد سے احتساب کی دہائی دیتاہے۔ شہید بھٹوز کی پارٹی کی لیڈرشپ کہتی ہے جس روز احتساب بل پاس ہو اس کے بعد سے احتساب ہو۔ساتھ یہ بھی کہا جاتاہے کہ کرپشن کی حد پانچ کروڑ سے زائد کر دی جائے۔گویا پہلا کھایا پیا ہضم اور پانچ پانچ کروڑ کرکے اربوں مزید بھی سمیٹ لو۔ کرپشن کا دروازہ بند کرکے کئی کھڑکیاں کھول دو۔ میری ایماندارانہ رائے ہے کہ احتساب 47 سے شروع نہ کیا گیا تو ہمارا ملک کبھی مستحکم نہیں ہو سکتا۔ نہ صرف کرپشن اور بدعنوانی سے بنائے گئے اثاثوں کا 1947ء سے احتساب ہونا چاہیے بلکہ آج تک جس نے بھی آئین شکنی کی ،جمہوریت کو داغدار کیا، وطن سے غداری کی سب کو کٹہرے میں لایا جانا چاہیے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus