×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ایکتماشا اُدھر ایک کھیل اِدھر
Dated: 24-Nov-2012
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان ہی نہیں عالمِ اسلام اس وقت کئی حوالوں سے گھمبیر صورت حال کا شکار ہے۔ گذشتہ دو ہفتوں سے سرزمین غزہ لہو لہو ہے۔ انسانی جان کی اس قدر بے قدری تو شاید کبھی ہلاکو اور چنگیز خان کے ادوار میں بھی نہیں تھی۔ کچھ دوست تجزیہ نگار صدر باراک اوباما کے دوبارہ منتخب ہونے پریہودیوں کی طرف سے ایسے ہی کسی ردعمل کی توقع کر رہے تھے۔ یہودی میڈیا لابی اور وال سٹریٹ جنرل اور موجودہ اسرائیلی وزیراعظم نتین یاہو اور ان کی کنزرویٹو پارٹی نے حتی الامکان کوشش کی کہ انتخابات میں ڈیموکریٹک کی شکست اور ری پبلکن کی فتح کو یقینی بنایا جا سکے، اسی مقصد کے لیے نیتن یاہو نے عین امریکی الیکشن کے درمیان امریکہ کا دورہ بھی کیا اور امریکہ میں موجود یہودی لابی کو اس مشن کے لیے سرگرم کیا۔ لیکن دوسری طرف امریکہ میں بسنے والی تمام اقلیتی اقوام نے مل کر یہودی لابی کے منصوبے کو پاش پاش کر دی اور اس طرح یہودیوں کا یہ خواب شرمندہ تعبیر نہ ہو سکا کہ وہ ایران اور پاکستان پر امریکی حملہ کروا سکیں۔شاید اسی بوکھلاہٹ کے نتیجے میں اسرائیل نے غریب اور کمزور فلسطین پر وحشت اور بربریت کا بازار گرم کر دیا۔ سینکڑوں تباہ حال عمارات کھنڈرات کا نقشہ پیش کر رہی ہیں اور 150فلسطینی مسلمان شہید کر دیئے گئے۔اسرائیلی وزیراعظم کے اس بہیمانہ اقدام کو پنجابی کی اس مثال کے مصداق ’’کہ گِرا گدھے سے اور غصہ کمہار پر‘‘ اس یک طرفہ جنگ کے دوران اسلامی ممالک کی تنظیم او آئی سی سمیت عرب ممالک کا کردار مجرمانہ خاموشی کے ساتھ کسی سے پوشیدہ نہیں کیونکہ اسرائیل اپنے حواری امریکہ سے مل کر فلسطین کی امداد کرنے والے ممالک مثلاً عراق، لیبیا، مصر، شام کو اتنا کمزور کر چکا ہے کہ اب ان ممالک میں اتنی سکت نہیں کہ اسرائیلی بربریت کی مزاحمت کر سکے اور ایران پر معاشی اقتصادی اور دفاعی پابندیاں لگا کر کمزور کرنے کی کوشش کی گئی ہے۔ اچھی طرح اپنا غصہ نکال لینے کے بعد اسرائیل نے جنگ پر مشروط آمدگی ظاہر کر دی ہے لیکن یہ نقطہ میرے سمیت ہر ذی ہوش کے ذہن میں کھٹکتا ہے کہ اسرائیل نے جنگ بندی کا معاہدہ فلسطینی حکومت اور ان کے صدر محمد عباس سے کرنے کی بجائے یہ معاہدہ حماس سے کیا ہے اس سے ایک بات واضح ہو جاتی ہے کہ اسرائیل اور امریکہ حماس کو پہلی دفعہ ایک طاقت، قوت اور پارٹی تسلیم کر لیا ہے لیکن چونکنے کی بات ابھی اپنی جگہ موجود ہے کہ امریکہ اور اسرائیل نے ایک عسکری تنظیم کے ساتھ معاہدہ کو کیوں ترجیح دی؟یہ پاکستان اور ایران سمیت خطے کے ممالک کے لیے ایک ’’چتائونی‘‘ ہے کہ کل کلاں کو امریکہ دہشت گردی کے خلاف سب سے زیادہ قربانی دینے والے پاکستان کو درمیان سے آئوٹ کرکے تحریکِ طالبان پاکستان اور افغان طالبان گروپس کے ساتھ بھی کچھ ایسے معاہدے استوار کر لے گا اور ایسا بھی ممکن ہے کہ ان معاہدوں کے لیے تقریب کا اہتمام نیو دہلی میں ہو اور پاکستان منہ دیکھتا رہ جائے۔ بہرحال یہ اپنے طریقے کی امریکہ کی پہلی کاوش ہے جس کے اثرات اور مضمرات کا پتہ آگے چل کر ہی لگے گا۔ یوں تو کئی عشروں سے محرم الحرام کے دوران فضا مکدر کر دی جاتی ہے خصوصاً پہلے بارہ سالوں کے دوران اس میں شدت آئی ہے اور پاکستان مخالف قوتوں کو موقع میسر آئے ہیں کہ وہ مسلک کی بنیاد پر بکھرے ہوئے پاکستانی عوام کو شتر بے مہار کی طرح ہانک سکیں۔ گذشتہ روز ڈی جی ایٹ ممالک کی تنظیم کا اسلام آباد میںسربراہی اجلاس ہوا جس میں بنگلہ دیش کی سربراہ حسینہ واجد کا شریک نہ ہونا چہ معنی خیز ہے جب کہ پاکستان نے تو اس ٹوٹے ہوئے بازو کو ہمیشہ جوڑے کی بات کی ہے لیکن شیخ مجیب الرحمن مرحوم اور ان کی بیٹی حسینہ واجد کی پارٹی عوامی لیگ نے ہمیشہ دو بھائیوں کے درمیان نفرت اور بیگانگی کی دیوار کو بلند کیا ہے۔ یہ پاکستان ہی تھا جس نے ورلڈ کپ کرکٹ میں جان بوجھ کر بنگلہ دیش کے ہاتھوں شکست کھائی تاکہ بنگلہ دیش عالمی کرکٹ کلب کا رکن بن سکے جبکہ بنگلہ دیش نے جب پاکستان کرکٹ پر بُرا وقت تھامتعدد بار پاکستانی دعوتوں کو ٹھکرایا۔ جی ایٹ کانفرنس میں شاید ایرانی صدر احمدی نژاد کی شرکت ہی وجہ بنی کہ مصر کے نومنتخب صدر محمد مرسی نے جی ایٹ کانفرنس میں شرکت کا فیصلہ بدل دیا۔ اس طرح اس فلاپ کانفرنس کے ثمرات سے رکن ممالک استفادہ نہ کر سکے۔ یہ عجیب بات ہے کہ ایرانی صدر جس دن پاکستان کے دورے پر آرہے تھے اور ان کا طیارہ فضا میں تھا تو کراچی میں دو ، کوئٹہ میں ایک بم دھماکہ ہوا جبکہ ڈھوک سیداں راولپنڈی میں عین اس وقت دھماکہ ہوا جس وقت صرف چند کلومیٹر دور ایرانی سفارت خانے اور صدر احمدی نژاد کی طرف سے عشائیہ جاری تھا۔ ان واقعات سے ایک بات تو طے ہے۔ ان بم دھماکوں کی صدر احمدی نژاد کو سلامی دے کر اسرائیلی اور امریکی اور پاکستان مخالف قوتوں نے ثابت کیا ہے کہ وہ ایرانی کے ساتھ بڑھتے ہوئے پاکستان سے اقتصادی مراسم کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور ہر قیمت پر پاکستان مخالف قوتیں ایران اور پاکستان کے درمیان گیس پائپ لائن اور بجلی کی فراہمی کے معاہدوں کو سبوتاژ کرنا چاہتے ہیں۔ موجودہ حکومت کے ساڑھے چار سالہ دور میں پاکستان اور عرب ممالک کے درمیان بڑھتی ہوئی خلیج نے ثابت کیا ہے کہ پاکستان کی داخلہ ہی نہیں خارجہ پالیسی بھی مکمل طور پر ناکام ہو چکی ہے۔ حیران و ششدر اٹھارہ کروڑ عوام پاکستان میں کسی معجزے کے منتظر ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus