×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تقسیم پنجاب کی سازش کا انکشاف
Dated: 29-Jan-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ہماری نئی نسل پنجاب کامطلب پوچھتی ہے تو پانچ دریائوں کی دھرتی کے جواب پر اس کا سوال ہوتا ہے’’ہمیں تو دو دریا جہلم اور چناب ہی بہتے دکھائی دیتے ہیں، باقی تین کہاں ہیں؟ اس پر ہم ان کو کیا جواب دیں؟ کیا اب پنجاب کا نام دوآب رکھ دیاجائے۔ کچھ لوگ اب اس مختصر پنجاب کو بھی تقسیم کرنے پر تلے ہوئے ہیں جس کی سرحدیں افغانستان کے ساتھ جا ملتی تھیں۔ اپنی سیاست چمکانے کے لیے پنجاب کو قربانی کا بکرا بنایا جا رہا ہے۔ ایک پارٹی نے قومی اسمبلی میں دھینگا مشتی کے دوران جنوبی صوبہ کے قیام کی قرارداد پاس کی تو پنجاب اسمبلی میں بھی طوفان اٹھ کھڑا ہوا۔ اس میں متفقہ طور پر قومی اسمبلی سے بھی ایک قدم آگے بڑھاتے ہوئے نہ صرف جنوبی صوبہ کے قیام کی قرارداد پیش اور پاس ہوئی بلکہ بہاولپور کی بحالی کی بھی منظوری دے دی گئی۔ ’’یک نہ شد دو شک‘‘۔ مرکز والوں کو کیا چاہیے تھا ’’اندھے کو دو آنکھیں‘‘ ۔ انہوں نے آئو دیکھا نہ تائو۔ ان صوبوں کے خدوخال طے کرنے کے لیے ایک کمیشن تشکیل دے دیا۔ مسلم لیگ ن کو شاید اپنی غلطی کا ادراک ہو گیا تھا اس نے کمیشن کا مسلسل بائیکاٹ کیا۔ کمیشن نے اپنی رپورٹ پیش کی تو اس پٹاری سے ایک نیا سانپ نمودار ہوا ایک ہی نیا صوبہ بنانے کی نوید سنائی گئی۔ ’’بہاولپور جنوبی پنجاب‘‘ جس کے ایک نہیں دو دارالحکومت ہوں گے۔ گورنر صاحب بہاولپور میں بیٹھیں گے وزیراعلیٰ ملتان میں۔ مقصد کسی بھی صورت میں پنجاب کی تقسیم ہے۔ بہانہ کیا ہے؟ اس خطے کے لوگ پسماندہ اور محرومیوں کا شکار ہیں۔ لوگوں کو اپنے کاموں کے سلسلے میں سینکڑوں دور لاہور، صوبائی دارالحکومت آنا پڑتا ہے۔ محرومیوں کا ذمہ دار لاہور سے دوری نہیں وہاں سے تعلق رکھنے والے بادشاہ ہیں۔ ان کی اولادیں لندن ،امریکہ اور لاہور میں جا کر پڑھتی ہیں۔ خود بھی اپنے علاقوں میں رہنا پسند نہیں کرتے سوائے الیکشن میں حصہ لینے کے لیے اپنے علاقوں میں جاتے اور پنجاب کے خلاف لوگوں کے جذبات کو ابھارتے اور پسماندگی و محرومی کی داستانیں سناتے ہیں۔ گذشتہ ماہ رحیم یار سے لاہور کے گورنر ہائوس میں براجمان ہونے والے گورنر مخدوم احمد محمود نے اعتراف کیا کہ ان کے آبائی علاقے میں تعلیم کی عدم سہولتوں کے باعث ان کی اولاد کو لاہور میں پڑھنا پڑتاہے۔ ایسا اس لیے ہوا کہ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے صدور، وزرائے اعظم، گورنروں اور وزیروں مشیروں نے اپنے علاقے کی پسماندگی دور کرنے کی مطلق کوشش نہیں کی۔ اعلیٰ تعلیمی ادارے وہاں کیوں قائم نہیں کیے گئے، ہسپتال اور دیگر ادارے کیوں وہاں نہیں بنائے گئے، سڑکوں کے جال بچھانے اور صنعتیں قائم کرنے سے کس نے روکا تھا؟سیالکوٹ کے صنعت کاروں نے اپنی مدد آپ کے تحت اپنے ہاں ایئرپورٹ تک بنا لیا۔ جنوبی پنجاب والے وسائل اپنی ذات پر استعمال کرتے رہے۔ عوام نے تو پسماندہ رہنا ہی تھا۔ آئی ٹی کی ترقی نے پوری دنیا کو گلوبل ویلج بنا دیا۔ آج آپ کو ہوائی جہاز، ریل اور گاڑیوں کی سہولت حاصل ہے۔ فون کے ذریعے پوری دنیا سے رابطہ ہے۔ آپ نے گدھے اور گھوڑے پر بیٹھ کر رحیم یار خان اور ملتان سے لاہور نہیں جانا۔ پنجاب کی سرحدیں اگر پشاور سے اٹک تک سکیڑی گئیں تو اس کی وجہ دارالحکومت سے دوری نہیں تھی اگر دارالحکومت سے دوری کی بنا پر صوبے بننے لگیں تو بلوچستان کے تو دس بنانے پڑیں گے۔بہاولپور کو ریاست کی حیثیت سے ختم کرکے اسے پنجاب میں ضم کیا گیا۔ اب اس کو بحال کرنے کا نعرہ لگایا جا رہا ہے۔ ایسا ہوا تو دیگر ریاستوں، خیرپور، قلات اور سوات کا کیا قصور؟ ان کو صوبے کا درجہ کیوں نہ دیا جائے۔ ذرا اور پیچھے چلے جائیں پنجاب کی وہ سرحدیں کیوں نہ بحال کر دی جائیں جو پشاور تک جاتی تھیں۔ کیا اے این پی اس کو قبول کر لے گی؟ بہاولپور صوبہ کی بحالی کی بات کرنے والے ملک وقوم کی ترقی کو کیوں ریورس گیئر لگانا چاہتے ہیں؟ کراچی والے اسی انتظار میں بیٹھے ہیں کہ ادھر پنجاب تقسیم ہو ادھر وہ سندھ کی تقسیم کے لیے طوفان مچا دیں۔ جب قومی اسمبلی میں جنوبی پنجاب صوبہ کے قیام کی قرارداد منظور ہوئی تو امریکہ میں موجود ایم کیو ایم اور اس کی رابطہ کمیٹی کے سابق ارکان کی طرف سے سندھ میں بھی نئے صوبے کی تشکیل کا مطالبہ سامنے آ گیا تھا جس کی متحدہ نے کھل کر حمایت کی۔ صوبوں کا پنڈورابکس کھلا تو اس جن کو بوتل میں بند کرنا ناممکن ہو جائے گا۔ کراچی والوں کو ایک اور صوبے کی ضرورت ہے تو وہ بنا لیں وہ اپنے صوبے کے قیام کی راہ ہموار کرنے کے لیے پنجاب کی تقسیم کا کیوں انتظار کر رہے ہیں۔ موجودہ حکومت اپنی مدت پوری کر چکی اس کے پاس ویسے بھی نئے صوبوں کے قیام کا مینڈیٹ نہیں ہے۔ وہ یہ کام آئندہ حکومت پر چھوڑ دیں۔ انتخابات میں قوم سے نئے صوبوں کامینڈیٹ لینے کی کوشش کریں تو لگ پتہ جائے گا۔ سرائیکی صوبہ کے حسین تا ج محمد لنگاہ کو پیپلزپارٹی نے ضمنی الیکشن میں ٹکٹ دیا یہ سیٹ اعتزاز احسن نے چھوڑی تھی جو انہوں نے 72ہزار ووٹ لے کر جیتی تھی۔ لنگاہ صاحب کوا س محفوظ سیٹ سے صرف اڑھائی ہزار ووٹ ملے تھے۔ مسلم لیگ ن کو اپنی غلطی کا احساس ہو گیا۔ اس نے پنجاب اسمبلی میں قرارداد تو ضرور منظور کی لیکن کمیشن کا حصہ بننے سے انکار کر دیا۔ کمیشن کی سفارشات کے مطابق اب ایک صوبے کی تشکیل کی سفارش کی گئی ہے۔ گویا پنجاب اسمبلی کی قرارداد سے انحراف کیا گیا ہے۔ اب معاملہ ایک بار پھر پنجاب اسمبلی میں آئے گا۔ پنجاب کے حکمران شاید ووٹر کے ردعمل سے بچنے کی کوشش کریں گے اور پنجاب کی تقسیم کی ڈٹ کر شاید مخالفت نہ کریں۔ جنوبی پنجاب سے تعلق رکھنے والے بھی شاید تقسیم کرنے والی قوتوں کے ساتھ نہیں۔ایسا ہوتا تو تاج محمد لنگاہ کو شکست نہ ہوتی۔ وہ بھاری اکثریت سے جیت جاتے۔ ن لیگ معمولی فائدے کے پیش نظر پنجاب کی تقسیم پر خاموش نہ رہے پنجاب کی تقسیم کی سازش کو پوری قوت کے ساتھ ناکام بنا دے یہی پنجاب اور پاکستان کے بہترین مفاد میں ہے۔ گذشتہ چند سالوں سے پنجاب کے حالات اس قدر گمبھیر کر دیئے گئے کہ گوجرانوالہ،سیالکوٹ، گجرات ، لاہور اور فیصل آباد کی سمال انڈسٹری اسٹیٹ کے چھوٹے بڑے مالکان اس قدر مجبور ہو گئے بلکہ انہیں ترغیب دی گئی کہ وہ پاکستان چھوڑ کر بنگلہ دیش، ملائیشیا اور دبئی سرمایہ کاری کریں۔ ان چھوٹے اور درمیانے سرمایہ کاروں کے کوچ کر جانے سے پنجاب ہی کی نہیں پورے پاکستان کی ریڑی کی ہڈی توڑنے کی کوشش کی گئی اور دوسری طرف پنجاب کے کسان کو بجلی، گیس، کھاد، زرعی ادویات اور بیج مہنگا کرکے مجبور کیا گیا کہ وہ صرف اتنا کاش کریں جس سے وہ بمشکل زندہ رہ سکیں۔ اور یہ سب کچھ ایک گھنائونی اور ناپاک سازش کے تحت کیا گیا۔ ہم پنجابی ان سیاسی پارٹیوں کو اور ان کے لیڈروں کو خبردار کرتے ہیں کہ وہ پنجاب کو تقسیم کرنے سے باز رہیں اگر پنجا ب تقسیم ہوا تو سندھ بھی تقسیم ہوگا، ہزارہ صوبہ بھی بنے گااور بلوچستان میں بھی لسانی بنیادوں پر تین صوبے بنیں گے جس سے نہ صرف دشمن اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہوں گے بلکہ یہ پاکستان کی سالمیت اور اکائی کے لیے بھی شدید دھچکا ہوگا جو ان حالات میں پاکستان برداشت کرنے کے شاید قابل نہیں ہے؟ پنجاب کے غیور عوام اپنے سینے پر چھریاں چلانے والے سیاستدانوں کو ہرگز آئندہ الیکشن میں ووٹ نہیں دیں گے اور پنجاب سے ایسی سیاسی پارٹیوں کو جڑوں سے ختم کر دیں گے جو پنجاب کی تقسیم کا باعث بنیں گی۔ پنجاب کے عوام جو حضرت سلطان باہوؒ، بابا بلھے شاہؒ،بابا فرید شکر گنجؒ ،داتا علی ہجویریؒاور حضرت امام بری سرکار جیسے صوفیاء اور اولیاء اللہ پر یقین رکھتے ہیں مگر جب پنجاب کے مفادات کو چھیڑا جائے تو اس کے گھبرو دُلا بھٹی، نظام ،ملنگی ا ور غازی علم الدین بھی بن جاتے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus