×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو
Dated: 16-Feb-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پاکستان کے بااثر طبقات نے اپنی حیثیت کے مطابق اپنے ہموطنوں کی سوچ کو یرغمال اور ملکی وسائل پر ہاتھ صاف کرنے کی کوشش ضرور کی۔یہ سب کچھ آمریت اور جمہوریت، دونوں ادوار میں برابر ہوتا رہا۔ البتہ تمام تر رسوائیاں سیاستدانوں کے حصے میں آئیں اور بجا طور پر آئیں لیکن دیگر طبقات بھی سیاستدانوں سے کچھ پیچھے نہ رہے۔ آج کل ان میں پراپرٹی مافیا اور جرنلسٹ ٹائی کون اہم ہیں۔ پراپرٹی مافیا کا اثرونفوذ تو گورنر ،وزرائے اعلیٰ ،بائوسز اور وزیراعظم ہائوس و ایوانِ صدر تک سرایت کر چکا ہے۔ صحافی کوئی پیچھے نہیں رہے۔ پراپرٹی مافیا تو کچھ لگا کر یعنی انویسٹ کرکے کماتا ہے۔ جرنلسٹ ٹائیکون صرف کمائی کمائی اور کمائی کیے جا رہے ہیں۔ صحافیوں میں بھی تخصیص ہے۔ پاکستان میں ہزاروں دیانتدار صحافی ہینڈ ٹو مائوتھ ہیں اور بے شمار آپ کو ایسے ورکنگ جرنلسٹ جو بیچارے وہ کنٹریکٹ جاب کر رہے ہیں (کے اپنا کمائو اور ہمارے لیے لے کے آئو)اورایسے صحافی حضرات کی بھی کمی نہیں جنہوں پچھلے عشروں میں اپنی بیٹی، بہن کی شادیوں کے لیے مجبوری میں خودکشیوں جیسے اقدامات بھی کیے۔ایسے ورکنگ جرنلسٹ کی عظمت کو ہم سلام پیش کرتے ہیں۔ ہم بات ان کی کر رہے ہیں جن کی تعداد ڈیڑھ دو سو سے زیادہ نہیں۔ یہ قطعاً صحافی برادری کی نمائندگی نہیں کرتے البتہ صحافی برادری ان کے کردار، اعمال اور افعال کے باعث بدنام ضرور ہو رہی ہے۔ یہ ٹو اِن ون ہیں اینکر بھی اور کالم نگار بھی۔ جس طرح سیاستدان کے لیے یہ پابندی ہے کہ وہ بیک وقت صدر اور کسی پارٹی کا سربراہ نہیں ہو سکتا اسی طرح صحافیوں کے لیے بھی پابندی ہونی چاہیے مگر یہ صحافی حضرات دو دو تین تین طرح کے جاب انجوائے کر رہے ہیں۔ان کا ضمیر، زبان اور قلم برائے فروخت ہے۔ ان کی ایلیٹ کلاس بن چکی ہے۔ ان کے اپنے مفادات ہیں۔ ان کو اپنی برادری کی بھی کوئی پروا نہیں۔ بعض اوقات تو اپنی برادری کو بھی اپنے مفادات کے حصول کی خاطر بیچ دیتے یا قربان کر دیتے ہیں۔ میں ایک ٹاپ اینکر کو جانتا ہوں جو چند سال قبل ٹپے کا دھاری دار پاجامہ اور شرٹ زیب تن کرکے اکثر پنکچر سائیکل کو گھسیٹتا نظر آتا تھا، اب وہ اسلام آباد میں قلعہ نما گھر، آدھی درجن گاڑیوں اور پرائیویٹ لمیٹڈ کمپنی کا ملک ہے۔ اس کے علاوہ بھی کئی کاروبار کر رکھے ہیں۔ جس طرح سیاستدان فلورکراسنگ کرتے ہیں اسی طرح آج کے صحافی حضرات بھی صبح ایک چینل پر اور بہتر ریٹ لگتے ہی شام کو دوسرے میڈیا گروپ کے چینل پر ہوتے ہیں۔ میں کم از کم سو ایسے صحافیوں کو جانتا ہوں جن کے بچے امریکہ، کینیڈ ااور یورپ کی اعلیٰ یونیورسٹیوں میں تعلیم حاصل کر رہے ہیں۔ یہ صحافی والدین سال میں کم از کم دو دفعہ سیر کرتے اور بچوں کو ملنے جاتے ہیں۔ان خاندانوں کے پاس مستقل رہائشی کارڈ اور دہری شہریت ہے۔ پاکستان کے ہر بڑے شہر میں ان کے فارم ہائوس ،محل نما گھر، پلازے ،مہنگی گاڑیاں ،مرسڈیز اور بی ایم ڈبلیو کارپورچ میں نظر آتی ہیں۔ پاکستان کے عوام جتنے دکھی آج ہیں اتنے سانحہ مشرقی پاکستان کے وقت بھی نہ تھے لیکن 30ارب روپے جو زرد صحافت کے علمبرداروں کے درمیان بانٹنے گئے ہیں یہ اس امرکی نشاندہی کرتے ہیں کہ آج ان اینکر کے لب خاموش اور قلم ٹوٹ چکے ہیں۔ پاکستان میں کوئی بھی کاروبار چلانا یا کوئی ہائوسنگ سکیم جاری کرنا مقصود ہو تو ان کالمسٹ اور اینکرز کی شراکت کے بغیر ممکن نہیں یہ کسی بھی بزنس کو ٹاپ یا فلاپ کرا دیتے ہیں۔ حکومت کی طرف سے ایسے لوگوں کی زبان ضمیر اور قلم خریدنے کے لیے تیس ارب روپے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام میں سے مختص کیے گئے پلاٹ، گاڑیوں اور کاروباری پرمٹوں کی صورت میں دیگر مراعات کے علاوہ ہیں۔ لاہور کے اردگرد ان کو ایکڑوں کے حساب سے کمرشل پلاٹ الاٹ کیے گئے جن پر فارم ہائوسز بن چکے ہیں، یہ سب گذشتہ ادوار اور اس کا تسلسل موجودہ دور میں بھی جاری رہا۔دنیا کا وہ کونسا ملک ہے جہاں صحافیوں میں پلاٹ برائے رشوت بانٹے جاتے ہیں۔پاکستان وہ واحد ملک ہے جہاں ہر میٹروپولیٹن شہر کے اندر صحافیوں کے لیے ایک فری کالونی بنائی گئی ہے۔ایک ضرورت مند ورکنگ جرنلسٹ کی حد تک تو اسے کسی طور پر قبول کیاجا سکتا ہے مگر ایک کروڑوں اور اربوں پتی زرد صحافت کے علمبردار بھی اس میں سے اپنا حصہ وصول کرتے ہوئے نظر آتے ہیں۔ پہلے کہا جاتا تھا مقدمہ جیتنا ہو تو وکیل کی بجائے جج کر لو۔ آج سیاستدان اپنا مافی الضمیر بیان کرنے کے لیے جلسے کرنے، کارنر میٹنگز کرنے، عوام کے پاس جانے کے بجائے چند اینکرز اور کالمسٹوں کو خرید لیتے ہیں۔ آپ ایک پروگرام دیکھ لیں ، ایک کالم پڑھ لیں آپ کو ان کی اصلیت کا اندازہ ہو جائے گا۔ ایک بار پھر واضح کر دیں کہ ہر صحافی بکائومال نہیں ہے۔ اکثر دیانتدار، ایماندار او رشرافت کا دامن تھامے ہوئے ہیں۔ کالی بھیڑوں کی تعداد گنتی کی ہے۔ میڈیا کا دامن وسیع ہوا تو ان کے بھی وارے نیارے ہو گئے۔ یہ خود کو ملک و قوم کے لیے ناگزیر سمجھتے ہیں۔ ٹی وی مذاکرے کراتے اور کالم بھی لکھتے ہیں۔ بیک وقت الیکٹرانک اور پرنٹ میڈیا میں اجارہ داری اور تھانیداری کا خبط ہے۔ اس زعم میں مبتلا ہیں کہ وہی پالیسی ساز اور کنگ میکر ہیں۔ وہ اپنا کالم پڑھنا اور پروگرام سننا ہر پاکستانی کے لیے فرض سمجھتے ہیں۔ بعض نے اتنی دولت بنا لی ہے کہ اپنے ٹی وی چینل اور جریدے کے مالک کے اثاثوں کو بھی مات دے رہے ہیں۔ یہ بڑے سیاستدانوں کی ضرورت اور بڑے سیاستدان ان کی ضرورت بن چکے ہیں۔ پاکستان کے امیر ترین افراد کی فہرست میں شامل سیاستدانوں نے پندرہ پندرہ بیس بیس ہرکارے رکھے ہوئے ہیں جو ان کی دیانت، شرافت اور اہلیت و قابلیت کا ڈھول پیٹتے رہتے ہیں۔ آج انتخابات کی دہلیز پر تو ان کو اپنے مربیوں کی خوشامد کے زیادہ ہی دورے پڑ رہے ہیں۔ سیاستدانوں کی طرف سے ان کو پالنا ،یوں مشکل نہیں کہ اگر اقتدار میں رہ کر 100ڈیڑھ سو کھرب کا قومی خزانے کو ٹیکہ لگا کر دس بارہ ارب بھی جرنلٹس پر لگا دیا تو اس سے ان کی جیبوں پر ہلکا سا بھی اثر نہیں پڑتا۔ آپ دیکھیں گذشتہ پانچ سال میں پاکستان پر کیا کیا آفتیں نازل نہ ہوئیںبجلی، پانی، گیس ،ادویات ،تیل ،پٹرول حتی کہ صاف ستھری سانس لینا بھی دشوار ہے۔اور صحافیوں کا یہ طبقہ موجودہ حکومت کے خلاف بڑھ چڑھ کر ڈھول پیٹتے اور چنگاڑتے رہے لیکن نتیجہ کیا نکلا اس چیخنے چلانے کا مقصد صرف اپنی قیمتیں اور ریٹ بڑھانا تھا اس وہ کامیاب ہوئے ہیں۔آپ پاکستان کے بیشتر ٹی وی چینل اور پرنٹ میڈیا کو گذشتہ دو ماہ سے دیکھ لیں عجیب سی کہانیاں سنا کر چلے جاتے ہیں۔مگر بیس کروڑ عوام کے دکھو ں کا ذکر کہیں بھی موجود نہیں ہوتا۔ گذشتہ دنوں لاہور کے نئے بلاول ہائوس کے دروازے پر وقت نیوز کے ایک صحافی کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا۔ اس کے بارے میں ’’نوائے وقت‘‘ ’’نیشن ‘‘اور ’’وقت نیوز‘‘ نے خبر دی جبکہ ڈپٹی ایڈیٹر جناب سعید آسی نے خوب خبر لی۔ افسوس صد افسوس کہ دیگر تمام میڈیا خاموش رہا اور جس ایلیٹ کلاس کی میں بات کر رہا ہوں، اس کو تو سانپ ہی سونگھ گیا۔ اس کی زبان کو تالا اور قلم کو بریک اس لیے لگ گئی کہ اس سے ان کا مفاد وابستہ نہیں تھا۔دولت کمانے اور اس کے انبار لگانے میں کوئی قدغن او رمخالفت نہیں ہے بشرطیکہ یہ جائز ذرائع سے حاصل کی ہو۔ ضمیر، قلم اور زبان بیچ کے اثاثے بنانا صحافت کی کونسی خدمت ہے۔ یہ لوگ تو اتنے طاقتور ہو گئے ہیں کہ اپنے مالکان کو بھی بلیک میل کر لیتے ہیں۔ صحافت ایک کاز اور مشن ہے۔ صحافی مولانا ظفر علی خان، حمید نظامی اور مجید نظامی کی طرح شفاف کردار کا حامل، نڈر بے باک بااصول اور جابر سلطان کے سامنے کلمہ حق کہنے والا ہونا چاہیے۔ ضمیر فروش ،قلم فروش اور وطن فروش نہیں۔ صحافی برادری کا فرض ہے کہ وہ اپنے اندر کی کالی بھیڑوں کو بے نقاب کرتے ہوئے ان کو اپنی صفوں سے اٹھا کر باہر پھینک دے۔ یہ ناممکن نہیں۔ میں آج اپنی بات اس شعر پر ختم کرتا ہوں: جب بھی کبھی ضمیر کا سودا ہو دوستو ڈٹے رہو حسینؓ کے انکار کی طرح
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus