×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
راجہ کی وزیراعظم ہائوس میں آخری رات
Dated: 16-Mar-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اگر حکمرانوں نے کوئی چال نہ چلی اور وہ کامیاب نہ ہوئی تو آج 16مارچ کی رات گوجر خان کے راجہ کے لیے وزیراعظم ہائوس میں بطو ر وزیراعظم آخری رات ہو گی۔ وزیراعظم ہائوس میں پارلیمنٹ کی مدت کے ختم ہونے پر آخری رات وزیراعظم ہائوس میں گزارنے کی خواہش کو سید یوسف رضا گیلانی نے بھی پالی تھی لیکن یہ خواہش پارٹی کوچیئرمین کے استثنیٰ پر قربان کر دی۔ گیلانی نے سوئس حکام کو جو خط نہ لکھنے کا عزم ظاہر کیا تھا راجہ پرویز اشرف نے ایسے عزم سے گریز کیا۔ اور گیلانی کی نااہلی پر وزارتِ عظمیٰ کا بقیہ حصہ اپنے نام کر لیا۔ میرے کالم گواہ ہیں میں نے بالکل واضح کر دیا تھا کہ سوئس مقدمات میں کچھ بھی ایسا نہیں کہ صدر پاکستان پر کوئی حر ف آئے(جس پر میری پارٹی قیادت مجھ پر اکثر اوقات خفا ہوئی اور ایکشن لینے کی بھی دھمکیاں دی گئیں)۔ گیلانی سوئس حکام کوخط لکھ دیتے تو آج کی وزیراعظم ہائوس میں آخری رات ان کے نام ہوتی۔ اصل مسئلہ خط کا نہیںگیلانی اور ان کے خاندان سے جان چھڑانے کا تھا ،جو ہر ادارے کو لپیٹ کر ان کی چولیں ہلا رہے تھے۔زرداری صاحب کو یہی ایک حربہ نظر آیا گیلانی خاندان کو اقتدار سے دور رکھنے کا۔ راجہ صاحب کا اداروں پر ہاتھ صاف کرنا بھی کچھ کم نہیں۔ دو دامادوں کو آئو ٹ آف ٹرن ترقیاں دے دیں۔ صرف 7ماہ میں 37ارب روپے کے صوابدیدی فنڈز کا کوئی حساب کتاب نہیں، رینٹل پاور منصوبوں سے اربوں اس کے علاوہ ہیں۔ گیلانی اور راجہ میں فرق یہ ہے گیلانی صاحب کا پورا خاندان اپنے جوہر دکھا رہا تھا۔ راجہ صاحب بھی کچھ کم نہ تھے، ان کے عزیزوں کو کم وقت میں جتنا سمیٹنا تھا اس سے کہیں زیادہ سمیٹ چکے ۔مجھے آج شدید حیرت ہوئی جب مجھے اطلاع ملی کہ سپیکر قومی اسمبلی اور ان کے شوہر نامدار دونوں جو کہ ایک موذی مرض میں مبتلا ہیں اور حکومت کے خرچے پر کروڑوں کا علاج8ماہ بیرون ملک کرواتے رہے ہیں انہیں بھی اتنی ہوسِ زر نکلی کہ وہ پانچ سو ملین کا بینک سے قرضہ لینے اور پچاس کروڑ روپیہ معاف کروانے اور دیگر کئی معاملات میں پھنستے ہوئے نظر آتے ہیں۔پوری دنیا میں ایسا نہیں ہوتا کہ اپنے جرائم کی پاداش میں وزیراعظم کا نام ای سی ایل میں ہو۔ ایسا بھی صرف پاکستان میں ہی ہو سکتا ہے کہ سپریم کورٹ جس کو کرپٹ قرار دے اس کو وزیراعظم بنا کر سپریم کورٹ کا منہ چڑایا جائے اور قوم کو کہا جائے کر لو جو کرنا ہے۔ راجہ پرویز اشرف ہو سکتا ہے آج شب قدِ آدم شیشے کے سامنے کھڑے قہقہے لگائیں اور اپنے سوا ہر پاکستانی کو بیوقوف قرار دیتے ہوئے صوفے اور بیڈ پر چھلانگیں لگاتے رہیں اور یہ مصرع دہراتے رہیں: بار عیش کوش اقتدارکا نشہ ہو سکتا ہے آدھی رات گزرنے کے بعد اترے اور ان کو اپنے ساتھی اور جیالے یاد آئیں جنہوں نے ان کو وزیراعظم ہائوس تک پہنچنے کے لیے اپنا کندھا دیا۔بدلے میں راجہ نے ان کو بھلا دیا۔ اب چونکہ انتخابات ہونے والے ہیں اور ان کو پھر دوستوں اور جیالوں کی شدت سے ضرورت محسوس ہو گی لیکن ان کی حالت اب تپتے صحرا کے اس درخت کی سی ہو گئی ہے جو شدتِ حدت سے مرجھا رہا ہے اور بارش کا دور دور تک کوئی چانس نہیں، یوں اس کے مقدر میں سوکھ کر گر جانا لکھا ہے جو آگ جلانے کے کام بھی نہیں آتا ،بالآخر اس کو موسم کی شدت ریزہ ریزہ کر دیتی ہے۔ ان کی آخری تقریر بھی دوستوں جیالوں اور عوام کو گمراہ نہیں کر سکتی۔ اب سمجھئے پاکستان پیپلزپارٹی کا جہاز منجھدار بھی ہے اور ڈوبنے کو ہے، اس کو کوئی بھی نہیں بچا سکتا، راجہ نہ زرداری صاحب اور باقیوں کی تو کوئی حیثیت ہی نہیں ہے۔ پانچ سال میں مرکزی حکومت نے کیا کیا؟ بجلی و گیس کا شدید بحران، ڈالر 60سے100اور تیل فی لیٹر 110 روپے۔ پانچ سال میں بعض اشیا کی قیمتوں میں پانچ سو فیصد اضافہ ہوا۔ معیشت ڈوبی اور دہشتگردی کی جڑیں مضبوط ہوئیں۔ امن و امان کا کہیں کوئی نشان نہیں۔ بلوچستان کے وزیراعلیٰ اسلم رئیسانی کو ہزارہ کمیونٹی کی قبروں پر اپنی حکومت کی بحالی کا محل کھڑا کرنے کی اجازت دے دی گئی۔ یہ منافقت کی سی کوئی منافقت ہے؟ سی این جی کی تلاش میں رکشہ والوں کو رات رات بھر سٹیشنوں پر گزارنی پڑتی ہے۔ مجھے اعتراف کرنا پڑتا ہے کہ وزیراعلیٰ پنجاب میاں محمد شہباز شریف کے کریڈٹ پر بہت سے کارنامے ہیں۔پیپلزپارٹی کے کھاتے میں ایک بھی ایسا نہیں ہے۔ میری پارٹی کے کرتا دھرتائوں نے عوامی مفاد میں پالیسیاں بنائی ہوتیں ، عوام کو ریلیف دیا ہوتا تو میں پارٹی کا پرچم بڑے فخر سے لہراتے ہوئے اس کے لیے عوام کے پاس ووٹ لینے اور کمپین کرنے جاتا۔جیالے میری معیت میں ہوتے لیکن افسوس حکمرانوں نے شہید بھٹوز کی قربانیوں پر پانی پھیر دیا۔ اب ان کو وہ کام بھی یاد آ رہے ہیں جو 2008ء کے شروع میں ہو جانے چاہیے تھے جب یہ حکومت میں آئے تھے لیکن لیڈرشپ کا پورا دھیان اداروں اور قومی وسائل کی لوٹ کھسوٹ پر تھا جس میں وہ کامیاب ہوئے لیکن مقبولیت کے محاذ پر ناکام بلکہ مکمل ناکام ہو گئے۔ جس کا خمیازہ عوام کی نظروں میں گر کر انہیں بھگتنا پڑ رہا ہے۔ اب ان کا کوئی منصوبہ اور حکمتِ عملی سنبھلنے نہیں دے گی۔ گوادر پورٹ چین کے حوالے کرنے کا اچھا فیصلہ ہے لیکن اس کے نتائج کا سامنا نئی حکومت کو کرنا پڑے گا جو بہرحال پاکستان پیپلزپارٹی کی نہیں ہو گی۔ ایران سے گیس معاہدہ بھی نئی حکومت کے راہ میں کانٹے بچھانے کی کوشش ہے۔ امریکہ کو نئی حکومت پر پابندیاں لگانے کا جواز مل جائے گا۔ پیپلزپارٹی والے دور کھڑے نئی حکومت کی کارکردگی اور امریکہ کے ساتھ اس کی مڈبھیڑ سے انجوائے کریں گے۔ گیس منصوبہ پانچ سال قبل کیوں شروع نہیں کیا گیا۔ اب حکمران بل پر بل لا رہے ہیں، قانون سازی کر رہے ہیں۔نئے صوبوں کا ڈھنڈورہ پیٹتے رہے ،بچوں پر تشدد کے خلاف بل لے آئے یہ تو ایسے ہی ہے ’’گھر آئی جنج تے وِنو کڑی دے کَن‘‘اب بڑی تیزی سے حکمران جو کر رہے ہیں ان پر وہ مقولہ صادق آتا ہے’’ویلے دی نماز تے کو یلے دیا ٹکراں‘‘اب ان کو عوام ووٹ کی خیرات نہیں دیں گے۔موت کو سامنے دیکھ کرتوبہ قبول نہیں۔ فرعون نے بھی موت کو دیکھ کر توبہ کی تھی، انجام سامنے ہے۔آج پیپلزپارٹی کی حکومت کا آخری دن ہے۔ زرداری صاحب اگست کے آخر تک صدر ضرور رہیں گے لیکن ان کے پاس اپنی مرضی سے کچھ بھی کرنے کا اختیار نہیں۔ لوگوں کو حکومتی پارٹی کی آخری لمحوں میں بھاگ دوڑ نظر آ رہی ہے لیکن مسائل اور مشکلات کے الائو میں پانچ سال سے جلنے والے لوگ ان کو معاف کرنے پر تیار نہیں۔ پانچ سال میں جو بیجا وہ اب کاٹنے کا وقت آ پہنچا ہے اور یقینا انہوں نے کانٹے ہی بوئے ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus