×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کیا آج بھی بھٹو زندہ ہے؟
Dated: 20-Apr-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد2008ء میں ہونے والے گذشتہ الیکشن کے نتائج آنے کے صرف دو دن بعد ہی پیپلزپارٹی کی سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی اور فیڈرل کونسل کا مشترکہ اجلاس بلوایا گیا جس میں نئے منتخب ایم این ایز حضرت بھی مدعو تھے۔اجلاس کی کاروائی شروع ہونے کے بعد مجھے افتتاحی تقریر کرنے کا موقع ملا چونکہ بی بی کی شہادت کے بعد یہ میرا پہلا اجلاس تھا،اس لیے میں نے شریک چیئرمین اور اراکین کی توجہ اس جانب مبذول کروائی کی ہمیں اقتدار سے زیادہ بی بی کے قتل کا معمہ حل کرنا چاہیے۔اگر ہم نے اقتدار لے لیا لیکن بی بی کے قاتل نہ پکڑ سکے تو پھر چند سالوں کے اقتدار کے مزے تو لوٹ لیں گے مگر پیپلزپارٹی ہمیشہ کے لیے تاریک کے اوراق تک محدود ہو جائے گی اور اس اجلاس کی کارروائی کے ’’منٹس ‘‘اس بات کے گواہ ہیں کہ میں نے شریک چیئرمین کو مخاطب کرتے ہوئے کہا کہ جناب ہوش کے ناخن لیجئے کہ عوام تو یہ تک بھی کہتے ہیں کہ بی بی کے خون کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر بھی پڑے نظر آتے ہیں۔ میری تقریر کے بعد ملک مشتاق اعوان نے اسی موضوع کو جاری رکھنا چاہا لیکن اسے زبردستی چپ کرا کر بٹھا دیا گیا اور بعد میں جتنی تقریریں ہوئیں وہ نئے بادشاہ سلامت کی تعریف و ثنا اور خوشامد پر مشتمل تھیں۔اس دن کے بعد نئے بادشاہ سلامت کے حواریوں نے یہ طے کر لیا تھا کہ مطلوب وڑائچ کو اقتدار کی چاردیواری سے ہی نہیں بلکہ پاکستان سے بھی دور کرنا بہت ضروری ہے لیکن میں نے مصمم ارادہ کر لیا تھا کہ میں کسی بھی دستیاب پلیٹ فارم سے بی بی کے خون کی قسم اس معاملے کو دبنے نہ دوں گا اور پھر جناب مردِ صحافت ڈاکٹر محمد مجید نظامی صاحب نے میری قوتِ اظہار کی تشنگی کو جِلا بخشی اور مجھے ’’نوائے وقت‘‘ کے پلیٹ فارم سے اپنے دل کا غبار الفاظ کی شکل میں کہنے اور لکھنے کے مواقعے مسلسل پچھلے پانچ سال سے فراہم کیے۔ ان پانچ سالوں میں پاکستان پیپلزپارٹی کی تقریباً ساری قیادت نہ صرف کرپشن کی دلدل میں پھنس چکی ہے بلکہ نااہل بھی قرار پا کر جگ ہنسائی کا موجب بنی ہے۔پارٹی کے نامزد کردہ دونوں وزرائے اعظم کرپشن کی دلدل اپنے خاندانوں سمیت اس بُری طرح پھنس گئے ہیں کہ آج پیپلزپارٹی کے پاس قیادت کا فقدان ہی نہیں بلکہ قیادت میسر نہیں ہے۔اور پیپلزپارٹی پارلیمنٹرین کے چیئرمین مخدوم امین فہیم صاحب بھی کرپشن کے کیسوں کی وجہ سے منہ چھپاتے پھر رہے ہیں اور نیب کی لٹکتی تلوار ان پر بھی مسلط ہے ۔صدر مملکت جنہوں پانچ سال تک ایوان صدر کو پیپلزپارٹی کا مرکزی سیکریٹریٹ بنائے رکھا اب حالتِ مجبوری ان کو پارٹی عہدہ چھوڑا پڑا ہے جبکہ بلاول زرداری بھٹو عمر پوری نہ ہونے کی وجہ سے خود الیکشن نہیں لڑ سکتے ۔ اس طرح پارٹی کے پاس کوئی آپشن ہی موجود نہیں کہ آئندہ انتخابات میں کون پارٹی کی انتخابی مہم کی قیادت کرے گا ۔مشہور کہاوت ہے کہ ’’لومڑی کو شیر کی کھال پہنا دینے سے لومڑی شیر نہیں بن جاتی‘‘اسی طرح کوئی اپنا نام ازراہِ تخلص تو ’’بھٹو ‘‘رکھ سکتا ہے مگر بھٹو ہونا جان جوکھوں کا کام ہے۔اور بھٹو ہونے کے لیے بھٹو خاندان میں پیدا ہونا ضروری ہے۔جس طرح بے نظیر ،صنم ،مرتضیٰ، شاہ نوازیہ سب بھٹو کی اولاد ہیںاور ذوالفقار جونیئر و فاطمہ بھٹو بھی اسی خاندان کی نسل ہیں ۔جبکہ ہمارے ایشین معاشرے میں اور دنیا بھر میں یہ قانون موجود ہے کہ بیٹیوں سے ہونے والی اولاد نانا کا خاندانی نام لینے کی مجاز نہیں ہوتی ہاں اگر بیٹی خود چاہے تووہ اپنے شوہر کی طرف سے ملنے والے نام کے ساتھ اپنے باپ کا نام استعمال کر سکتی ہے۔تو ان حالات و واقعات کے شواہد میں یہ بات قرین قیاس ہے کہ بھٹو کے اصل وارث اس کے پوتے ،پوتیاں ہیں ۔(یہ سارے خیالات و جذبات پاکستان پیپلزپارٹی کے کارکنان اور عوام الناس کے ہیں ۔ میں تو یہ سمجھتا ہوں کہ جس کو بھی پارٹی کی کرسی صدارت پر بٹھا دیاجائے بطور رکن پارٹی اس کو تسلیم کرنا ہمارا فرض ہے) مجھے بڑی حیرت ہوتی ہے جب آج میں ٹی وی پر یہ سنتا اور دیکھتا ہوں کہ کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے اور جس کو ہمارے سامنے بھٹو بنا کر پیش کیا جاتا ہے ہم اس کو کیسے بھٹو مان لیں ۔ ہم اس کو پارٹی کا چیئرمین ماننے کو تو تیار ہیںمگر بھٹو ماننے کو تیار نہیں۔بھٹو تو کل اسٹیبلشمنٹ اور سامراج کے ہاتھوں مرا تھا اور رہتی دنیا تک زندہ و جاوید ٹھہرا ۔لیکن ذوالفقار علی بھٹو کے بعد مرنے والے سارے بھٹوز کے قاتل اسٹیبلشمنٹ اور سامراج نہیں تھے اور ان کی شہادت کن کے ہاتھوں ہوئی یہ ابھی تک ایک معمہ بنا ہوا ہے۔اور قاتلوں نے اپنے چہروں پر خوبصورت نقاب پہن رکھے ہیں اور ان کے ہاتھوں پر خون کے چھینٹے بھی نہیں کیونکہ انہوں نے وراثت کے دستانے پہن رکھتے ہیں۔ ذوالفقار علی بھٹو نے تو عوام کو روٹی ،کپڑا اور مکان دیا ،پاکستان کو ٹیکسلا ہیوی کمپلیکس دیا، سٹیل مل، 90ہزار فوجی قیدیوں کی رہائی اور سارے پاکستانیوں کو پہلی دفعہ پاسپورٹ کا حق اور پہلا متفقہ آئین دیا۔دنیا کے نقشے پہ موجودہ پاکستان کو پہلا ایٹمی ملک بنانے کا اعزاز حاصل کیا۔اس ذوالفقار علی بھٹو کی خدمات گنواتے گنواتے اور اس کے احسانات کو یاد کرتے کرتے تو یہ عمر بیت جائے گی مگر اس کے جعلی وارثوں (عوام کے مطابق)نے اس کے نام پر اس حد تک ادھم مچائی کہ آج ڈالر 62 سے 100روپے ،کھاد کی پوری 900سے 4500روپے کی،پیٹرول 28 سے 103 روپے جبکہ چینی 20روپے سے 60 روپے، اسی طرح سبزیاں ،دالیں اورگھی کی قیمتیں بھی پانچ سو گنابڑھ چکی ہیں۔بجلی اور گیس میسر ہی نہیں بلکہ ان کی قیمتیں پانچ سو گناہ بڑھا دی گئی ہیں۔روشنیوں میں جگمگاتا یہ پاکستان گذشتہ پانچ سالوں میں اندھیروں میں ڈوب گیا ہے۔ملک کی سلامتی دائو پر لگا دی گئی ہے اور ملک کی خارجہ پالیسی ایک نوعمر لڑکی کے ہاتھ میں دے کر آج صورت حال یہ ہے کہ ڈارون حملے بڑے تواتر سے ہو رہے ہیں۔ بلوچستان میں مکمل طور پر بھارت کی شرانگیزیاں جاری ہیں۔خیبرپختواہ عام انسان تو کیا وی آئی پیز کا بھی باہر نکلنا محال ہے۔پاکستان کی عسکری قوت کو پچھلے پانچ سالوں میں انتہائی کمزور و لاغر بنا دیا گیا ہے ۔یہی وجہ ہے کہ آج عسکری قیادت اس پاکستان کو خدانخواستہ ٹوٹتے ہوئے دیکھ رہی ہے مگر کچھ کرنے کی ہمت نہیں کر پا رہی ۔رینٹل پاور اور دوسرے ترقیاتی منصوبوں کے نام پر ملک کو کنگال بنا دیا گیا اور کتنی بے شرمی سے اخبارات اور الیکٹرونک میڈیا پہ یہ اشتہار چلائے جا رہے ہیں کہ سٹاک ایکسچینج آج 18000انڈیکس کی حدوں کو چھو رہا ہے جبکہ حقیقت یہ ہے زرمبادلہ کے ذخائر 18000سے کم ہو کر صرف6ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔ جبکہ قومی ایئر لائن کسی بھی وقت زمین بوس اور دیوالیہ ہونے کے لیے تیار کھڑی ہے ۔نگران حکومت کے جانے ہی کی دیر ہے کہ ہمارے پاس سرکاری ملازمین کو تنخواہیں دینے کے لیے بھی رقم دستیاب نہ ہوگی۔کسی دانشور نے کیا خوب کہا ہے’’کہ سورج مشرق سے طلوع ہوتا ہے مگر ہماری کرتوتیں دیکھ کر واپس نہیں آتا اور مغرب میں غروب ہو جاتا ہے‘‘اس لیے میں نہیں سارا پاکستان کہہ رہا ہے کہ اگر آج ’’بھٹو ز‘‘ زندہ بھی ہوتے تو اپنے جعلی وارثوں(عوام کے مطابق) کی کرتوتیں دیکھ کر ان کو منہ چھپانے کے لیے بھی کوئی جگہ نہ ملتی اوروہ شہادت کی بجائے خودکشی کر لیتے۔ ان سب حالات و واقعات کی موجودگی میں ہمیں پھر بھی شرم نہیں آتی اور ہم نعرے لگاتے ہیں کہ’’کل بھی بھٹو زندہ تھا اور آج بھی بھٹو زندہ ہے۔‘‘ ہماری پارٹی کی قیادت نے پارٹی ورکروں کو یکسر نظرانداز کرکے صرف اور صرف آصف علی زرداری صاحب کے کیسوں کے وکیلوں کو مراعات دیں۔سردار لطیف کھوسہ،بابر اعوان،فاروق ایچ نائیک، کے کے آغاان سب میں سیاسی اور سرکاری عہدے بے دردی سے بانٹے گئے جس سے یقینا شہید بھٹوز کی روح تڑپتی ہو گی ۔کل ہی کسی دوست نے مجھے ایک قطعہ بھیجا ہے جو ہماری پارٹی کے لیے لمحہ فکریہ ہے : تم پیٹ پہ لات تو مار چکے اب کتنے گھر اجاڑوں گے تم روٹی کپڑا کیا دو گے اب کفن بھی تم اتاروں گے یہ بازی بھوک کی بازی ہے یہ بازی تم ہی ہارو گے ہر گھر سے بھوکا نکلے گا تم کتنے بھوکے ماروں گے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus