×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کون جیتا، کون ہارااور پرچم کی کہانی
Dated: 22-Mar-2009
احتساب عدالت راولپنڈی میں سابق سپیکر قومی اسمبلی جناب سید یوسف رضا گیلانی کو پیش ہونے کی آواز پڑی تو جناب صدر مملکت آصف علی زرداری،راجہ پرویز اشرف،سینیٹر جہانگیر بدر اور میں ان کے ساتھ کمرہ عدالت میں جو کہ احتساب عدالت کے صحن سے ملحقہ تھی جہاں پر ہم بیٹھے ہوئے تھے سے اُٹھ کر کمرہ عدالت کی طرف چل دیئے۔ ہر شخص کے چہرہ پر ایک عجیب سی سنجیدگی طاری تھی۔ جناب یوسف رضا گیلانی صاحب جو کے ان دنوں ضمانت پر تھے قوی یقین تھا کہ آج ان کا فیصلہ سنا دیا جائے گا۔جناب آصف علی زرداری جو کہ ان دنوں ناکردہ گناہوں کی پاداش میں زیر حراست تھے ان کو پمزہسپتال سے عدالتی سماعت کے لیے انہیں لایا جاتا تھا۔ جج صاحب نے فیصلہ سنانے سے قبل فردِ جرم پڑھ کر سنائی اس وقت عدالت میں سناٹا چھایا ہوا تھا۔ ملزم پر سینکڑوں بے روزگاروں کو روزگار مہیا کرنے اور ان کے گھروں کے بجھے ہوئے چولہے جلانے کا جرم ثابت ہو چکا تھا۔میں سینیٹر جہانگیر بدر،راجہ پرویز اشرف، صدر مملکت آصف علی زرداری،وزیراعظم پاکستان سید یوسف رضا گیلانی کے ہمراہ جج صاحب کے سامنے بیٹھے ہوئے تھے،فیصلہ سنانے کا وقت آیا تو میں نے جناب سید یوسف رضا گیلانی صاحب کا بایاں ہاتھ اور صدر مملکت نے دایاں ہاتھ مضبوطی سے تھام لیا۔احتساب عدالت کے جج نے 5 سال قید کا حکم سنا دیا۔ جج کے منہ سے سزا کے الفاظ ادا ہوتے ہی جناب آصف علی زرداری صاحب نے تاریخی کلمات ادا کیے۔ ’’جج صاحب آپ آج جس شخص کو سزا سنا رہے ہیں کل وہ پاکستان کا سربراہ ہوگا۔‘‘ اور پھر تاریخ نے الفاظ کو عملی جامہ پہنے بھی دیکھ لیا۔ جن مقدمات میں وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی نے 5سال اور صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے 8سال قید کاٹی وہ مشرف دور میں نہیں وہ 12اکتوبر 1999 سے پہلے والی حکومت نے قائم کیے تھے۔ آج جو لوگ سید یوسف رضا گیلانی کو ’’پوتر‘‘ اور آصف علی زرداری کو ’’میکاولی‘‘ ثابت کرنے کی کوشش کر رہے ہیں وہ سید یوسف رضا گیلانی کے وزیراعظم بننے کے بعد ان کے اور ان کے خاندان کے بارے میں تضحیک آمیز میڈیا مہم چلاتے رہے ہیں۔وہ دراصل وزیراعظم کو ایسے وقت میں بلیک میل کرنے کی کوشش تھی جب وہ اہم پوسٹوں پر تعیناتیاں کر رہے تھے۔ آج ان لوگوں کو وزیراعظم پر پیار آ رہا ہے۔ سید یوسف رضا گیلانی کی خوبیوں کا اعتراف کرنا قابل تحسین اور اطمینان بخش ہے لیکن اس سے ایوانِ صدر اور وزیراعظم ہائوس کے درمیان اختلافات پیدا کرنے کی ’’بو‘‘ آ رہی ہے جو نہ سیاست کے مفاد میں ہے نہ سیاستدانوں کے اور نہ ہی جمہوریت کے مفاد میں ہے۔ سیات کو ذاتی مفادات کی بھینٹ چڑھانے والوں کو یاد رکھنا چاہیے کہ پنجاب کے شہر راولپنڈی میں سندھ سے تعلق رکھنے والے تین وزرائے اعظم کو شہید کیا گیا اور پنجاب سے تین لاشیں سندھ بھجوائی جا چکی ہیں۔ اب توپوں کا رخ وزیراعظم سید یوسف رضا گیلانی کے بجائے صدر مملکت جناب آصف علی زرداری کی طرف کر دیا گیا ہے۔ ان حالات میں ہر محب وطن پاکستانی یہ سوچنے پر مجبور ہے کہ کل مائنس بے نظیر بھٹو اور آج مائنس آصف علی زرداری کی باتیں کرنے والوں کے آخر مقاصد کیا ہے؟ ایسی باتوں سے وفاق کو کمزور کرنے کے سوا کوئی مقصد نہیں ہو سکتا۔ ایسی سوچ سے وفا ق کا ڈھانچہ نفرت کی شدید آندھی اور طوفانِ بادوباراں کی لپیٹ میں آ سکتا ہے۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی خواہش کے مطابق تمام معزول ججوں کو 2نومبر 2007ء کی پوزیشن پر بحال کر دیا گیا یہ وکلا کی تحریک کا خوبصورت انجام ہے۔ اب جج اور وکیل اپنے اپنے چیمبروں میں واپس چلے گئے ہیں۔ یہ کسی ایک فریق کی جیت یا ہار کا سوال نہیں یہ قومی اصولوں اور محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کی خواہش کی جیت ہے۔ یہ صبح نو کی نوید اور بادِ صبا کا خوبصورت نظارہ ہے۔ اب ہم سب کو تعمیر پاکستان کے لئے اپنے اپنے حصے کا کردار ادا کرنا ہے۔ صدر مملکت جناب آصف علی زرداری نے 18فروری 2007ء سے قبل اور اس کے بعد جس سیاسی مفاہمت کا آغاز کیا ججوں کی بحالی کو اس کا نقطہ عروج کہا جا سکتا ہے اس کو برقرار رہنا چاہیے۔ اگر مفاہمت کی دیواروں کو گرانے کی کوشش کی گئی تو یہ ایک شخص، ایک گروہ، ایک گروپ یا ایک پارٹی کی شکست نہیں پوری قوم کی شکست ہو گی۔ اور شکست خوردہ قوموں کو سنبھلنے میں صدیاں لگ جاتی ہیں۔ ہماری سیاسی قیادتیں ماشاء اللہ بالغ النظر اور پختہ کار ہیں یقینا ان کے ہر اقدام کے پیچھے قومی سوچ اور قومی مفاد وابستہ ہوگا۔ پاکستان بھر کے وکلا دوست اس وقت کامیابی سے سرشار دکھائی دے رہے ہیں لیکن وہ یاد رکھیں کہ گذشتہ تحریک کے دوران جو 9مارچ2007سے لے کر16 مارچ 2009 ء تک جاری رہی میں پاکستان پیپلز پارٹی نے اوسطاً تقریباً ہر روز ایک جان کا نذرانہ د ے کر اس تحریک میں اپنے لہو سے رنگ بھرا اور پارٹی کے چیئرمین جناب بلاول بھٹو زرداری صاحب جن کی عظیم ماں نے اس تحریک کے دوران جام شہادت نوش فرمایا ان کی قربانی ہماری تاریخ میں درخشاں باب کی طرح زندہ رہے گی۔جناب اعتزاز احسن ہمارے لئے بہت ہی قابلِ احترام اور انتہائی محترم ہیں۔ آج وہ چیف جسٹس کے گھر پر وہ جھنڈا لہرانے جا رہے ہیں جس کی کہ خواہش اور اعلان شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے کیا تھا اور جس کو تحریک کے آخری دنوں میں پاکستان کے الیکٹرانک میڈیا نے کچھ اتنی دفعہ پیش کیا کہ وہ منظر پاکستان کے اٹھارہ کروڑ عوام کے ذہنوں میں نقش ہو گیا ہے۔جناب اعتزاز احسن نے اعلان کیا کہ ان کے ساتھ جھنڈالہرانے کی رسم میں ناہید خان صاحبہ اور صفدر عباسی ہوں گے مجھے اس سے کوئی اختلاف کرنے کا حق تو نہیں مگر جب انصاف کی بات ہو اور بات قربانی کی ہو تو کیا ہی بہتر ہوتا کہ اعتزاز احسن صاحب اس جھنڈا لہرانے کی تقریب کو جناب بلاول بھٹو زرداری کے ہاتھوں سرانجام دلواتے۔اس طرح ایک تو معصوم آصفہ بھٹو،بختاور بھٹواور جناب بلاول بھٹو زرداری کو کس قدر خوشی ملتی کہ ان کی عظیم ماں کا خواب آج چیف جسٹس کے گھر پر جھنڈا لہرا کر شرمندہ تعبیر ہونے چلا ہے۔جناب اعتزاز احسن کو یہ بھی یاد ہوگا کہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے آخری ایام میں ناہید خان صاحبہ نے محترمہ کا دیا ہوا قومی اسمبلی کی مخصوص نشستوں کا ٹکٹ واپس کر دیا تھا جس کا کہ محترمہ شہید بے نظیر بھٹو نے پروا نہ کرتے ہوئے اپنے انتخابی عمل کو جاری رکھا۔اس طرح بے شمار واقعات جو محترمہ شہید بے نظیر بھٹو کے آخری ایام میں رونما ہوئے اور ان میں ناہید خان صاحبہ کے محترمہ سے اختلافات کوئی ڈھکی چھپی بات اب نہیں رہ گئی اور اس لیے ہمیں کسی ایسے عمل سے اجتناب کی ضرورت ہے جس سے ہماری عظیم قائد کی زندہ روح کو دکھ پہنچے۔ ہمیں اپنی سیاست چمکانے کے لیے شہیدوں کے خون کا کم از کم احترام کرنا چاہیے۔مجھے قوی یقین ہے کہ جناب اعتزاز احسن،ناہیدخان، صفدر عباسی اور وہ سب ساتھی جو کسی وجہ سے پارٹی کی موجودہ قیادت سے ناراض ہیں اس وقت میں جب کہ پارٹی حالتِ جنگ میں ہے پارٹی کو اپنی اپنی خدمات بلاشرائط پیش کریں کیونکہ جب تک پارٹی ہے ہم سب کی شناخت اسی جماعت کے حوالے سے ہے۔اور جب تک پاکستان ہے جو کہ اللہ کرے ہمیشہ زندہ اور تابندہ رہے تب تک ہماری بین الاقوامی پہچان رہے گی۔ تو ذرا سی بات پر برسوں کے یارانے گئے پر اتنا تو ہوا کچھ لوگ پہچانے گئے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus