×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سسکتا بلوچستان
Dated: 18-Jun-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com دو روز قبل جلتے بلوچستان پر تیل چھڑک کر جہاں لگی آگ کو مزید بھڑکا دیا گیا۔قائد اعظم ریذیڈنسی کو راکٹوں اور بموں سے اڑا کر دہشتگردوں نے ہر پاکستانی کا کلیجہ چھلنی کردیا ۔اس پر مستزادکوئٹہ میں ایک ہی روز ایک دوسرے سے متصل دو واقعات میں دہشتگردوں نے 17طالبات سمیت 25 افراد کو بم حملوں اور اندھادھند فائرنگ سے جلا اور اُڑا کے رکھ دیا۔مرنے والوں میںڈپٹی کمشنر کوئٹہ ، ایم ایس بولان میڈیکل کمپلیکس بھی شامل ہیں۔سردار بہادر خان ویمن یونیورسٹی میں بس چھٹی کے وقت طالبات کو ان کے گھروں میں پہنچانے کیلئے یونیورسٹی سے جانے کی تیاری میں تھی زور دار دھماکہ سے بس کے پرخچے اڑ گئے جس سے 14طالبات جل کر راکھ ہو گئیں،ان کی شناخت بھی ممکن نہیں رہی ۔ زخمی طالبات اور ان کی نعشوں کو بولان میڈیکل کمپلکس لایا گیا، اس دوران حکام شعبہ حادثات آئے ایک شخص نے خود کو دھماکہ سے اڑا دیا جس کے بعد فائرنگ شروع ہوگئی۔اس کے ساتھ ہی دہشتگردوں ہسپتال کی پہلی اور دوسری منزل پر قبضہ کرکے فائرنگ کرنے کے ساتھ ساتھ دستی بم بھی پھینکتے رہے۔ قبل ازیں زیارت میں واقع قائداعظم ریذیڈنسی دہشتگردوں کے راکٹ اور بموں کے حملے سے مکمل طور پر تباہ ہو گئی ہے۔ قائداعظم ریزیڈنسی کا تاریخی حیثیت کا فرنیچر بھی جل کر خاکستر ہو گیا۔ حملہ آوروں نے ریذیڈنسی سے قومی پرچم اتار کر بی ایل اے کا پرچم لہرایا۔ یہ وہی عمارت ہے جس میں بابائے قوم قائد اعظم کی زندگی کے آخری ایام گزرے۔زیارت کوئٹہ سے ایک سو بائیس کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے اور سطح سمندر سے 2453 میٹر بلند ہے۔ اس کا مقامی نام شکی تھا تاہم یہ مقام حضرت ملا طاہر رحمت اللہ بابا خرواری کے مزار کی نسبت سے زیارت کے نام سے مشہور ہوگیاتھا۔یہ مزار زیارت سے آٹھ کلو میٹر کے فاصلے پر واقع ہے۔ قائد اعظم ریذیڈنسی اسی وادی زیارت کے خوبصورت اور پر فضامقام پر واقع ہے۔ لکڑی سے تعمیر کی گئی یہ خوبصورت رہائش گاہ اپنے بنانے والے کے اعلیٰ فن کی عکاس ہے۔ یہ رہائش گاہ 1892میں تعمیر کی گئی تھی۔ اس سے نوسال قبل1883 میں انگریز پولیٹیکل ایجنٹ نے زیارت کو اپنا گرمائی مرکز قرار دیا تھا۔ اوریہاں ایک سینی ٹوریم بنانے کے احکامات جاری کیے تھے۔قیام پاکستان کے بعد اس رہائش گاہ کی تاریخی اہمیت میں اس وقت اضافہ ہوا جب14جولائی1948کو بانی پاکستان قائد اعظم محمد علی جناح ناسازئی طبع کے باعث یہاں تشریف لائے۔ قائد اعظم نے13 اگست 1948 تک اسی ریذیڈنسی میں قیام کیا۔ ریذیڈنسی میں موجود کمروں میں سے ایک کمرا محترمہ فاطمہ جناح اورایک قائد اعظم کے ذاتی معالج کرنل الہی بخش کے لیے تھا، جبکہ ایک کمرا قائد اعظم کے ذاتی معتمد کے لئے مختص کیا گیا تھا۔ یہ عمارت آج بھی قائد اعظم کی بارعب شخصیت کا احساس دلاتی ہے۔اس تاریخی عمارت کی تصویر پاکستان کے سو روپے کے بینک نوٹ کے عقبی رخ پر بھی موجود ہے۔سات جنوری 1977 کو سینٹ آف پاکستان نے زیارت ریزیڈنسی کو قومی ورثہ قرار دینے اور اس کانام قائد اعظم ریزیڈنسی رکھنے کی منظوری دی تھی۔ 30 جولائی 1978 کو حکومت پاکستان نے اس فیصلے پر عمل درآمد کرنے کا اعلان کردیا۔ نہتی طالبات کو مارنے والے انسان نہیں حیوان ہیں ان کا اسلام تو کیا کسی بھی مذہب سے تعلق نہیں ہو سکتا۔قائد کی ریزیڈنسی کو نشانہ بنانے والے سوائے قائد سے محبت کرنے والوں کو دکھی کرنے کے کچھ حاصل نہیں کر سکتے۔یہ وارداتیں جس نے بھی کی ہیں ان کے پیچھے یقینا غیر ملکی قوتیں موجود ہیں۔ آج ملک کے طول و عرض میں ہونے والے بم دھماکے اور دہشت گردی کی نہ رکنے والی لہر یقینا بھارتی را، موساد،سی آئی اے کی مشترکہ سازش کا حصہ ہے جبکہ بلوچستان میں گذشتہ چند سالوں سے جو شورش جاری ہے اس کے تانے بانے بھی بھارت سے جا کر ملتے ہیں اور اس حقیقت پر رتی بھر شک نہیں کیا جا سکتا کہ بھارت نے پاکستان کے دشمنوں سے مل کر پاکستان کے خدانخواستہ حصے بخرے کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے۔اب تک سینکڑوں نہیں ہزاروں پنجابیوں کی لاشیں کوئٹہ، تربت، تفتان اور لورالائی سے پنجاب کے مختلف شہروں کو بھیجی جا چکی ہیں۔ سقوطِ مشرقی پاکستان کی طرز پر بلوچستان میں غیر بلوچی ڈاکٹروں، انجینئروں ،پروفیسروں اور کوالیفائیڈ تربیت یافتہ محب وطن افراد کو چن چن کر قتل کیا جا رہا ہے۔مگر ہمارے گذشتہ اور موجودہ حکمرانوں کے کان پر جوں تک رینگتی محسوس نہیں ہوتی۔ہمارے حکمرانوں کو تو بس اپنی باریوں کی فکر ہے کہ وہ جمہوریت کے ثمرات کے صدقے پانچ پانچ سال کی اپنی باریاں پوری کریں۔جبکہ اس کے نتائج میں مملکت خداداد پاکستان کی ایک ایک اینٹ بھی ہل جاتی ہے تو انہیں اس بات سے غرض نہیں۔تاریخ گواہ ہے کہ وہ قومیں جو اپنی اقدار اور روایات کو بھول جاتی ہیں وہ قومیں مٹ جایا کرتی ہیں۔ہم نے اپنی دفاعی ضروریات کو نظرانداز کرکے نام نہاد جمہوریت کا لبادہ اوڑھ کر ایک ایسی خودفریبی کا شکار ہیںکہ جس کا انجام یہ ہوگا کہ انڈیا ’’ناریندر مودی ‘‘اگلا وزیراعظم ہوگا اور بھارت کے تیس کروڑ مسلمان تہ وتیغ کر دیئے جائیں گے۔اور بنگلہ دیش کے سترہ کروڑ مسلمان اور بیس کروڑ پاکستانیوں کا بھی حشر اس مختلف نہیں ہوگا۔اس میں کوئی شک نہیں کہ پانی پت سے لے کر آج تک لڑی جانے والی ہر جنگ کا فیصلہ مذاکرات کی میز پر ہوا ہے۔لیکن مذاکرات کی میز پر لانے کے لیے جو جنگ لڑی جاتی ہے اس سے پہلو تہی کرکے یا نظرانداز کرنا ہمیں مذاکرات کی میز پر جکڑ کر بٹھانے کے مترادف ہے ۔میری سمجھ میں نہیں آتا کہ وہ کون سا احساس کمتری ہے جو ہمارے حکمرانوں کو ہر وقت بھارت کے مقابلے میں لاحق رہتا ہے۔ایک چھوٹا سا کرکٹ یا ہاکی میچ بھی بھار ت کے ساتھ ہم اپنے ذہنوں پر سوار کر لیتے ہیں۔اور پوری قوم سب کام کاج چھوڑ کر اس پر لگ جاتی ہے۔ اپنے دورِ حکومت میں مشرف نے اپنی جگہ سے اٹھ کر بھارتی وزیراعظم سے مصافحہ کیا جبکہ میاں صاحب انتہائی بھاری مینڈیٹ لینے کے بعد بھی اس بات پر بضد تھے کہ ان کی رسم تاجپوشی پر منموہن کو مدعو کیا جائے۔میاں صاحب کبھی آپ نے پاکستان کے بیس کروڑ عوام سے بھی پوچھا ہے کہ وہ کیا چاہتے ہیں؟آپ بھارت سے جتنی چاہیں پیار محبت کی پینگیں بڑھائیں مگر اس سے پہلے اس مسئلہ پر ایک ریفرنڈم کرا لیا جائے کہ کیا ہمیں اپنی خودداری کے مقابلے میں بھارت کی اطاعت قبول ہے ؟اگر عوام کا فیصلہ نہیں میں آتا ہے تو میاں صاحب اٹھیے شیر بنیئے اور اپنے دشمن کی آنکھوں میں آنکھیں ڈال کر عزت اور وقار سے جینا سیکھئے۔بلوچستان میں دشمن کی لگائی آگ کو بجھانے اور بلوچستان کے باسیوں کے زخموں پر مرہم رکھنے کا یہی واحد طریقہ ہے ۔ مردِصحافت جناب ڈاکٹر مجید نظامی صاحب تو انڈیا ٹینک پر بیٹھ کر جانے کا عزم رکھتے ہیں۔ میاں صاحب آپ ان کے کیسے فالور (Follower)ہیں جو بھارت سے پیار کی پینگیں بڑھانے کا سوچ رہے ہیں؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus