×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
الوداع! مائی ڈیئر مسٹر پریذیڈنٹ
Dated: 20-Jul-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اس میں کوئی شک نہیں ہے کہ صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری نے 2008ء کے صدارتی الیکشن میں ریکارڈ ووٹ حاصل کیے۔ اور یہ بات بھی حقیقت ہے کہ وہ ہر طریقہ واردات کے ذریعے پانچ سال مسندِ اقتدار پر براجمان رہنے میں کامیاب ہوئے ہیں۔ اور گذشتہ روز الیکشن کمیشن آف پاکستان نے نئی صدارتی الیکشن کے شیڈول کا اعلان کر دیا ہے جس کے مطابق اگست پہلے ہفتے میں صدارتی الیکشن کا انعقاد ہوگا ۔لیکن ایک اطلاع کے مطابق قومی و صوبائی اسمبلیوں کے جو حلقہ جات فری ہوئے تھے ان میں ضمنی الیکشن ہونا ابھی باقی ہیں ۔اگر صدارتی الیکشن الیکشن کمیشن کے شیڈول کیمطابق ہوئے تو کم از کم 70منتخب ممبران اسمبلی جو کہ ٹوٹل تعداد کا ایک بڑا حصہ بنتی ہے وہ ووٹ کے حق سے یکسر محروم کر دی جائے گی۔اور نئے منتخب صدر کو یقینا ان ممبران کا مینڈیٹ حاصل نہیں ہوگا۔گذشتہ پانچ سالوں کے دوران پاکستانی سیاست میں کئی ایسے تغیرات آئے اور یہ افواہیں گردش کرتی ر ہیں کہ فوج اقتدار پر بس قبضہ کرنے ہی والی ہے۔ خاص طور پر ہر نجی و سرکاری دورہ متحدہ عرب امارات شروع ہوتے ہی ناقدین کو ہفتہ بھر کے لیے گرم گرم خبروں کا مواد مہیا کرتا رہا۔خاص طور پر شاہین صہبائی ،انصارعباسی جیسے قلم کار اور کامران خان جیسے اینکر پرسن شاید اسی موضوع کو ہدف بنا کر صحافت کرتے رہے ۔ گذشتہ 5سالہ صدارتی دور پر ایک تقابلی نظر ڈالیں تو پتہ چلتا ہے کہ ایک مکمل خودمختار عدلیہ وجود میں آئی، ایک آزاد اور غیرجانبدار میڈیا پروان چڑھا، پاکستان کی جیلوں میں جو گذشتہ ادوار میں سیاسی قیدیوں سے اتنی بھرجاتی تھیں اور آمروں کو پرانے قلعے اور تاریخی عمارات کو جیل ڈیکلیئر کرنا پڑتا تھا جبکہ گذشتہ 5سال کے دوران پورے پاکستان میں ایک بھی سیاسی کارکن پابندِ سلاسل نہیں تھا۔ صدر مملکت اور ان کی ٹیم کی جانب سے مسلسل یہ احتجاج کیا جاتا رہاہے کہ ہماری عدلیہ Biased ہے اور گذشتہ 5سالوں کے درمیان صرف حکمران جماعت کے ہی کیسوں کو رِی اوپن کیا گیا ہے اور این آر او جس کی وجہ سے پیپلزپارٹی اور مسلم لیگ ن کی منگنی ہوئی اور میثاقِ جمہوریت کے بندھن میں بندھی۔ این آر او کی کرامات کی وجہ سے صرف پیپلزپارٹی ہی فیضیاب نہیں ہوئی بلکہ مسلم لیگ ن کی اے گریڈ قیادت اور مسلم لیگ ق کی قیادت اور سابق وزراء کے سینکڑوں کیسز، متحدہ قومی موومنٹ کے ہزاروں فوجداری کیس نہ صرف بند ہوئے بلکہ ان سب کو ختم کر دیا گیا۔ جبکہ پیپلزپارٹی کی قیادت اور صدارتی ٹیم کو گلہ ہے کہ پیپلزپارٹی کو این آر او سے رتی بھر بھی فائدہ نہیں ہوا اور پیپلزپارٹی کی مرکزی قیادت بشمول صدر اور دونوں وزرائے اعظم کو مسلسل 5سال تک سوموٹو ایکشن لے کر عدالتوں میں گھسیٹا جاتا رہا جبکہ شریف برادران کے اوپر قائم کیے گئے مقدمات کی فائلیں تک نہ کھولی گئیں۔ جن میں کئی ایسے مقدمات بھی تھے کہ جن کے صرف کھلنے سے پنجاب میں مسلم لیگ ن کی قیادت معطل یا نااہل قرار پا سکتی تھی جبکہ آزاد میڈیا کے ہاتھوں پیپلزپارٹی کی کابینہ کی ایسی درگت بنی رہی اور 5سال تک صرف پیپلزپارٹی کا ہی میڈیا ٹرائل ہوتا رہا۔ میڈیا پر ایک الزام یہ بھی لگایا جاتا ہے کہ ہمارے سینکڑوں صحافی امریکہ، بھارت، اسرائیل، سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات کی نوازشوں سے فیضیاب ہوتے رہے۔ ان سب الزامات کے باوجود میں یہ سمجھتا ہوں کہ پیپلزپارٹی کی قیادت گذشتہ 5سال میں ہر لحاظ سے بدانتظامی، کرپشن، لوٹ مار، سیاسی ناپختگی کا شکار رہی ہے۔ حج سکینڈل، ایفیڈرین ،سٹیل مل، پی آئی اے، مواصلات، ریلوے کے محکموں کو اس حد تک لوٹا گیا کہ ان محکموں کے دفاتر پر اب صرف آویزاں بورڈ ہی ہیں لیکن ان محکموں کے پاس کچھ نہیں بچا۔ جبکہ واپڈا، رینٹل پاور اور صوابدیدی فنڈز کی سازشوں میں پی پی پی کی حکومت نے عالمی شہرت حاصل کی اور آج ہم دنیا کے سامنے ایک انتہائی کرپٹ قوم کا درجہ رکھتے ہیں مگر ان سب حقائق کے باوجود صدرِ مملکت اور ان کی جیالی ٹیم کے ماتھے پر جوں تک رینگتی نہیں نظر آئی اور پٹی ہوئی قیادت ٹی وی مباحثوں میں حصہ لیتے ہوئے کمال ڈھٹائی سے یہ کہتے ہیں کہ ہمارے منتخب پارلیمینٹرین ،حکومت اور صدر صاحب نے 5سال پورے کر لیے ہیں بس یہی جمہوریت کی فتح ہے۔ میرے سمیت 18کروڑ پاکستانی یہ پوچھنے پر حق بجانب ہیں کہ یہ کیسی فتح ہے کہ جس کے نتائج سے شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی جس کے لیے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو نے بھی خون دیا وہ جمہوریت کے پانچ سال پورے کرنے کے بعد شکست و ریخت سے اس قدر دوچار ہوئی کہ اب دوربین سے کہیں اِکا دُکا نظر آتی ہے اور پارٹی پالیسیوں کی وجہ سے مستقبل قریب یا بعید میں کہیں پائوں پر کھڑا ہوتی نظر نہیں آتی۔ یقینا صدر صاحب اور ان کے گرد گھیرا ڈالے یہ مخصوص ٹولہ ایوانِ صدر خالی کرتے ہی ایسے غائب ہوں گے جیسے گدھے کے سر سے سینگ اور میرے جیسے جیالے اور شہدائے بھٹوز کے جانثار ساتھی یہ پوچھنے میں حق بجانب ہیںکہ خود تو ڈوبے ہیں صنم ،ہم کو بھی لے ڈوبے ہیں۔گذشتہ کئی روز سے صدرِ مملکت اچانک متحدہ عرب امارات اور برطانیہ کے غیر طے شدہ دورے پر ہیں لیکن اب جلد ہی انہیں واپس آ کر رخت سفر باندھنا ہے ۔جب کہ معتزل حلقوں میں یہ افواہ بھی گردش کر رہی ہے کہ صدر مملکت اب کبھی واپس نہیں آئیں گے لیکن میں اس تھیوری سے شاید اتفاق نہیں کرتا ۔آصف علی زرداری اپنی مدت پوری کرنے پر ایوانِ صدر سے کوچ کررہے لیکن اپنی کارکردگی اور عوام کُش پالیسیوں سے پیپلزپارٹی پر طویل مدت تک ایوانِ صدر اور وزیر اعظم ہائوس کے دروازے پیپلزپارٹی پر بند کر کے جارہے ہیں۔ اور جس ٹولے نے پانچ سال تک کرپشن کی اودھم مچائے رکھی وہ اب ایک ایک کرکے پنچھی کی طرح اڑ جائیں گے لیکن اب مار کھانے اور اذیتیں سہنے والے مجنوں بہت یاد آئیں گے۔الوداع مائی ڈیئر مسٹر پریذیڈنٹ۔ انسان وہی کاٹتا ہے جو اس نے بویا ہو۔ویسے تو آپ قسمت کے دھنی ہیں آپ کو ہمیشہ وہ کچھ ملا جس کے لیے شاید آپ ڈیزرو(Deserve) نہیں کرتے تھے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus