×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
زرداری صاحب صدارت سے الوداع۔۔۔ کیاسیاست سے بھی؟
Dated: 07-Sep-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com آج پیپلزپارٹی کی قیادت منتظر ہے کہ اسے دادِتحسین سے نوازا جائے کہ پہلے جمہوری صدر نے پانچ سالہ دورِ اقتدار مکمل کیالیکن یہ بھول رہی ہے کہ ان کے اقتدار کی بنیادوں میں ملک کی پہلی خاتون وزیراعظم کی شہادت ،سینکڑوں جیالوں کا خون اور کم از کم ایک وفاقی وزیر اور ایک گورنر کی قربانیاں بھی شامل ہیں ۔دراصل پانچ سال مکمل کرلینا کوئی معرکہ نہیں کیونکہ پانچ سال سے زیادہ تو اس ملک میں عوامی حمایت کے بغیر کئی آمروں نے مکمل کیے مگر پیپلزپارٹی نے جتنا خون اور شہادتیں دیکھ کر یہ پانچ سال پورے کرنے کا اعزاز حاصل کیا ہے اس تناظر میں یہ دیکھا جائے تو سودا کچھ مہنگا سا لگتا ہے کہ ان پانچ سالہ اقتدار میں عوام کو کیا ملا ؟کیااسکے نتیجے میں آج ملک میں دودھ اور شہد کی نہریں بہہ رہی ہیں؟کیا ہر طرف امن وشانتی ہے ؟کیا ملک کی مائوں ،بہنوں کی چادریں اور عزتیں محفوظ ہیں؟کیا چادر و چاردیواری کے تحفظ کا احساس عوام کو ملا؟کیا غریب کو ایک لقمہ و نوالہ نصیب ہوتاہے ؟ کیا ملک کے ہر غریب کے تن پر کپڑے موجود ہیں؟کیا اس دہرے معیار کے فرسودہ نظام میں لوگوں کو انصاف مل رہا ہے ؟کیا ہم نے ستر ارب ڈالر سے زائدعالمی قرضے ادا کر دیئے ہیں؟کیا یہ صحیح نہیں ہے کہ ملک میں جنم لینے والا ہر بچہ پیدا ہوتے ہی لاکھوں روپے کا مقروض ہوتا ہے؟کیا ہمارے پانیوں پرگذشتہ پانچ سالہ دور میں دشمن نے غاصبانہ قبضہ مزید مضبوط نہیں کیا؟کیا ملک کے ہسپتال فائیوسٹار ہوٹلوں کا سا نقشہ پیش کر رہے ہیں؟کیا ملک کے لاکھوں مریضوں کو ایسپرین کی ایک اصلی ٹکیہ تک میسر ہے ؟اگر یہ سب ایسے نہیں ہے تو پاکستان پیپلزپارٹی کی قیادت نے ملک میں اپنے ووٹروں اور جیالوں کو خوش کیا؟کیا جیالے حکومت کی گذشتہ پانچ سالہ کارکردگی سے مطمئن ہیں؟پیپلزپارٹی کی فیڈرل کونسل اور سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کوگذشتہ پانچ سال میں عضوِ معطل بنا کر رکھ دیا گیا۔کیا قربانیاں دینے والے جیالوں کو اقتدار میں شامل کرکے شہدائے بھٹو کے عزم اِزم پر عمل کیا گیا ؟کیا پارٹی کے سینئررہنمائوں سے رہنمائی لی گئی؟ اگر یہ سب کچھ کیا ہوتا تو 11مئی کے نتائج اس طرح تو نہ نکلتے۔ جناب صدران سب چیزوں کے علاوہ کیا آپ کے دنیا بھر میں موجود دوست آپ سے خوش ہیں ؟کیا جن دوستوں کے کندھوں پر سوار ہو کر اور بے شمار قربانیوں کے عوض آپ مسند اقتدار تک پہنچے ،کیا آج وہ سبھی دوست آپ کے ساتھ ہیں (قارئین نوائے وقت کچھ عرصہ پہلے لکھا گیا میرا کالم ’’عالمی احسان فراموش ‘‘پڑھ چکے ہیں)جناب صدرآج آپ ایوانِ صدر سے رخصت ہو رہے ہیں تو آپ کے ساتھ ایک بھی وفاشعار ساتھی اور دوست نہیں ہوگا ۔ جن چند لوگوں کو آپ نے اپنی کابینہ میں شامل کیا اور احباب کو نوازا وہ لوگ خزاں کے پتوں کی طرح اگلے چند دنوں تک اس شجرِ دوستی سے جھڑ جائیںگے ۔ اگر آپ کے دوستوں نے عوام اور جیالوں کا خیال رکھا ہوتا تو کیا خصوصاً پنجاب کے عوام احسان فراموش نہیںتھے کہ وہ اپنے محسنوں کو کامیاب نہ کراتے؟ فردوس عاشق اعوان ،احمد مختار،قمرالزمان کائرہ، یوسف رضا گیلانی ،راجہ پرویز اشرف ،نذر گوندل، ندیم افضل چن سمیت وزراء نے اربوں روپے کی دیہاڑی لگائی ، ان کو ملنے والے ووٹ ’’شرمناک‘‘حد تک کم تھے۔صدر مملکت آپ اور آپ کا خاندان تو گِن گِن کر پانچ سال پورے کرنے کی خواہش میں دن پورے کر رہا تھا۔انہیں اس بات سے کیا غرض تھی کہ خون اور لاشوں کے بدلے ملنے والی اس حکمرانی کا انجام کیا ہوگا۔مجھے یقین ہے جب آپ ایوانِ صدر چھوڑ کر رخت سفر باندھیں گے تو کچھ اب بھی آپ کے ساتھ شاید چل رہے ہوں گے مگر یاد رکھیے یہ اُن لوگوں کا ہجوم ہوگا جو آپ کے چھلکتے ہوئے خزانوں کوللچائی نظروں سے دیکھ رہے ہوں گے۔کئی لوگوں کے نام آپ نے اندرونِ و بیرون ملک جائیدادیں، بلڈنگیں، پلازے کروا رکھے ہو ں گے۔کئی دوستوں کے نام اربوں روپے ملک اور دنیا بھر کے بینکوں میں اکائونٹس میں پڑے ہوں گے۔لیکن یقین جانیے صدر مملکت !ان میں سے ایک بھی آپ کا بہی خواہ نہیں ہوگا۔وہ سب آپ کی آنکھیں اور نبض قدرتی یا حادثاتی دونوں صورتوں میں بند ہونے کا انتظار کر رہے ہوں گے۔میں جانتا ہوں میرے الفاظ ترش اور تلخ ہیں مگر آج پوری پیپلزپارٹی میں وہ واحد آپ کا دوست ہوں جو دورِ اقتدار میں ایک دفعہ بھی آپ کے ایوانِ صدر نہیں گیا اور ماسوائے چند میٹنگز کے کبھی وزیراعظم ہائوس کا رخ بھی نہیں کیا۔ گذشتہ کابینہ کے 90فیصد وزراء بھی میرے ذاتی دوستوں میں شمار کیے جا سکتے ہیںجبکہ ایک سابق وزیراعظم تو میرے ذاتی دوستوں میں شامل تھے۔ یہ لوگ گواہ ہیںکہ میں گذشتہ پانچ سال میں ان کے دفاتر یا گھروں میں کبھی نہیں گیا۔ صدر مملکت آپ کے اقتدار کے ساتھی دوستوں نے تو اربوں ڈالر بنائے جب کہ میں نے جس نے جمہوریت کے لیے ایک لازوال قربانیوں کی داستان رقم کی اور جسے شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اپنا معتبر اور قابل اعتماد ساتھی سمجھتی تھیں۔پاکستان میں آپ کے دورِ حکومت میں اس کے گھر اور املاک پر قبضہ کر لیا گیا مگرمیرا ضمیر آج مطمئن ہے ۔برین ہیمبرج کے شدید ترین اٹیک کے بعد بھی خدا تعالیٰ مجھے صحت مندی سے نواز رہا ہے ۔میری اہلیہ اور بچے خوش ہیں کہ میرے ہاتھ اس کرپشن کے گند سے نہیں رنگے۔میں خوش ہوں کہ میں اس پیپلزپارٹی کے زوال کا باعث نہیں بنا بلکہ اپنے ساتھیوں کی حتی المقدور کوشش کی کہ ان کی اصلاح ہو ۔یہی وجہ تھی کہ میں آپ سے مانگنے والوں کی قطار سے نکل کر تن تنہا آپ کو سمجھانے میںلگا رہا ۔پیپلزپارٹی کے سیاسی حالات تو اس حد تک خراب ہو چکے ہیں کہ شہید ذوالفقار علی بھٹو ،شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھی تو کہیں ڈھونڈنے سے بھی نہیں ملتے ۔ حتیٰ کہ خیبرپختونخواہ اور پنجاب کے پارٹی صدور پیپلزپارٹی کی ماضی کی حریف جماعتوں سے درآمد کیے گئے۔پوری پارٹی میں ڈسپلن نام کی کوئی چیز نہیںاور پارٹی کے بیشتر ڈویژنل رہنما گذشتہ الیکشن میں اپنی ضمانتیں ضبط کروا بیٹھے۔جناب صدریہ جلی ہوئی رسی کی مانند ہے جدھر سے پکڑیں گے ٹوٹ کر گِر جائے گی۔اگر اب بھی اصلاح و احوال کا کچھ پروگرام ہے تو سب سے پہلے اپنے نزدیک ان سیاسی جونکوں کو علیحدہ کرنا بہت ضروری ہے اور دل کو کشادہ کرکے ماضی کی تلخیاں بھلا کر شہید محترمہ بے نظیر بھٹو اور شہید ذوالفقار علی بھٹو کی پارٹی کو ایک دفعہ پھر وفاق کی علامت ،چاروں صوبوں کی زنجیر بنانے کے لیے بھٹو خاندان کے بچے کھچے بچوں کو اور پارٹی کے اندر ناراض دوستوں کو اکٹھا کیجئے اور پھر شاید یہ امید لگائی جا سکتی ہے کہ عوام کی یہ پارٹی پھر ایک دفعہ عوام کی خدمت کرنے کے لیے موجود ہو۔ آج پاکستان کے وفاق کو جو انتہائی شدید خطرات لاحق ہیں اگر پیپلزپارٹی ان حالات میں اپنے پائوں پر کھڑی اور مضبوط ہوتی تو پاکستان کے وفاق کو پھر شدید خطرات لاحق نہ ہوتے۔پیپلزپارٹی میں موجود کچھ لوگ جنہوں نے اربوں روپے بنا ئے ہیں وہ حکومت کے پانچ سال اور آپ کی صدارت کے پانچ سال پورے کرنے پر جو بغلیں بجا رہے ہیں وہ ایک نظر پیچھے مڑ کر اپنی کارکردگی پر نظر دوڑائیںتو شاید انہیں اپنے اعمال کے سوائے کچھ نظر نہیں آئے گا۔جناب آصف علی زرداری صاحب صدارت سے الوداع۔۔۔ کیاسیاست سے بھی؟ گذشتہ روز وزیراعظم میاں محمد نواز شریف صاحب کی جانب سے اب تک صدرِ مملکت جناب آصف علی زرداری کو الوداعی ظہرانہ دیا گیا جس میں سٹوری رائٹر نے ایک ایسی فلم چلائی کہ ہالی ووڈ،لالی ووڈ، بولی ووڈکے کئی سکرپٹ رائٹر بھی دنگ رہ گئے ہوں گے ۔ نوراکشی پر مبنی اس فلم پر پھر کبھی بات ہو گی۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus