×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شہیدوں کا لہو اور پاک فوج سے انتقام؟
Dated: 17-Sep-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com سابق وزیر داخلہ رحمن ملک اپنی وزارت کے آخری دن تک اس بات پر قائم رہے کہ دہشت گردی کے خاتمے تک دہشت گردوں سے جنگ جاری رہے گی۔ مذاکرات اسی صورت میں ہو سکتے ہیں کہ وہ حکومت کی رٹ اور پاکستان کے آئین کو تسلیم کریں اور ہتھیار پھینک دیں۔ پاک فوج کا بھی یہی موقف ہے۔ مسلم لیگ ن اور تحریک انصاف شدت پسندوں کے ساتھ مذاکرات کی حامی ہیں یہ اپنی انتخابی مہم کے دوران اس کا برملا اظہار بھی کرتی رہیں۔ یہی وجہ ہے کہ مسلم لیگ ن کی پوری انتخابی مہم بغیر کسی بڑے اپ سیٹ کے بخیر وخوبی انجام کو پہنچی۔19اگست کو قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم نوازشریف نے شدت پسندی کے خاتمے کے لیے مذاکرات اور آپریشن دونوں آپشنز کا ذکر کیا۔ دہشتگردوں نے میاں نوازشریف کے اس بیان کو اعلان جنگ قرار دیا۔ حالانکہ معاملہ اعلان جنگ سے کہیں آگے جا چکا ہے۔ وزیراعظم کے خطاب کے دو دن بعد 22اگست کو کابینی کی دفاعی کمیٹی کا اجلاس ہوا جس کی صدارت وزیراعظم نوازشریف نے کی۔ اجلاس میں ان کے چند پیاروں کے ساتھ افواج کے سربراہان بھی شریک تھے۔ اس اجلاس میں فیصلہ کیا گیا کہ دہشت گرد ہتھیار ڈال دیں ان کے ساتھ مذاکرات ہو سکتے ہیں۔ کمیٹی کے فیصلے پر اس کی روح کے مطابق عمل ہونا چاہیے تھا۔ وزیراعظم صاحب کو شاید یہ فیصلہ پسند نہیں آیا کہ انہوں نے آل پارٹیز کانفرنس بلا لی اس میں آرمی چیف اور ڈی جی آئی ایس آئی بھی شریک ہوئے۔ اس کانفرنس نے شدت پسندوں کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات پر اتفاق کیا۔ ڈیفنس کمیٹی کی میٹنگ کے بعد اے پی سی کی ضرورت نہیں تھی۔ شدت پسندوں کے ساتھ غیر مشروط مذاکرات سے حکومت کی کمزوری ظاہر ہوئی۔ اس سے قبل ایسی ہی کمزوری نوازلیگ حکومت دہشتگردوں کی دھمکی پر ان کے ساتھیوں کی سزائے موت پر عملدرآمد معطل کرکے دکھا چکی تھی۔ حکومت یک طرفہ طور پر دہشتگردوں کے لیے اعتماد سازی کے اقدامات کر رہی ہے۔ سوات اور مالاکنڈ ڈویژن سے فوج کی واپسی کا اعلان کیا جا رہا ہے دوسری طرف دہشتگردوں نے مذاکرات کے لیے فاٹا سے فوج واپس بلانے اور اپنے ساتھی قیدیوں کی رہائی کی شرط رکھی ہے۔ اس کے ساتھ ساتھ وہ اپنی کاروائیاں بھی جاری رکھے ہوئے ہیں۔ گذشتہ روز ایک اندوہناک واقعہ میں میجر جنرل ثناء اللہ ، کرنل توصیف اور ایک نائیک شہید ہو گئے۔جنرل ثناء اللہ خان نیازی پاک افغان سرحد سے چیک پوسٹ کے دورے سے دیر بالا آ رہے تھے کہ دہشتگردوں کی بچھائی بارودی سرنگ کا شکار ہو گئے۔ دہشتگردی کے خلاف جنگ میں یہ تیسرے جنرل شہادت کے رتبے پر پہنچے ہیں۔ یہ نامراد جنگ درجن بھر بریگیڈیئرز کی جان لے چکی ہے۔ دیگر شہید ہونے والے افسروں اور جوانوں کی تعداد حکومتی اعدادوشمار کے مطابق دس گیارہ ہزار ہے جب کہ پچاس ہزار سویلین شہدا اس کے علاوہ ہیں ۔شہادتوں کی تعداد پاکستان بھارت جنگوں میں مجموعی طور پر شہید ہونے والوں کی تعداد سے کئی گناہ زیادہ ہے۔ کچھ لوگ اب بھی اسے پاکستان کی جنگ نہیں سمجھتے۔ کیا پوری فوج یہ جنگ لڑتے لڑتے ماری جائے گی تو پھر اسے پاکستان کی جنگ تسلیم کیا جائے گا؟کیا یہ پھر کسی پلٹن میدان ڈھاکہ کا انتظار کر رہے ہیں ؟ جنرل ثناء اللہ اور ان کے ساتھیوں پر حملے کی ذمہ داری کالعدم تحریک طالبان نے قبول کر لی ہے۔ یہ ان کے چہرے پر زوردار طمانچہ ہے جو دہشتگردوں کے ساتھ مذاکرات کی ضد کر رہے ہیں۔ ایسے سفاک لوگوں سے مذاکرات وہ بھی ان کی شرائط پر، کیا پاکستان اور پاک فوج کے لیے سودمند ہو سکتے ہیں؟ حکومت کیوں دہشتگردوں کو اتنی اہمیت دے رہی ہے۔ میاں نوازشریف کی سیاسی پرورش فوج کے گملے میں ہوئی اس کے تو احسان مند نظر نہیں آتے البتہ ان کی حکومت کا دو مرتبہ خاتمہ ہوا۔1999ء میں فوج براہِ راست ملوث تھی اور 93ء میں بالواسطہ نوازحکومت کے خاتمے میں فوج کا کردار تھا۔ نوازشریف جس طرح فوج کے ہاتھ پیچھے باندھ کر دہشتگردوں کے سامنے پھینکنے کا اقدامات کر رہے ہیں اس سے لگتا ہے کہ فوج سے انتقام لے رہے ہیں۔ ایسا کرکے کیا وہ پاکستان کو دہشتگردوں کے حوالے کرنا چاہتے ہیں۔ ڈیفنس کمیٹی میٹنگ میں دہشتگردوں کے ساتھ مشروط مذاکرات کا فیصلہ بالکل درست تھا۔ اسی پر عمل ہونا چاہیے۔ دہشتگردوں اور شدت پسندوں کی تعداد ایک فیصد بھی نہیں ہے۔ وہ پورے ملک کے سسٹم کو یرغمال بنا کر اپنے طرز کا نظام لانا چاہتے ہیں جو 99فیصد آبادی کے لیے کیسے قابل قبول ہو گا؟اور پھر وہ دہشت گرد جن کی زنجیر امریکہ،اسرائیل اور بھارت کے ہاتھوں میں ہے اس سے مذاکرات کیسے کیے جا سکتے ہیں۔ اگر مذاکرات ضروری ہی ہیں تو دہشت گردوں کے آقائوں سے کیے جائیں ۔حکمرانوں کی بزدلی اور ان کے فوج سے انتقام لینے کے جذبے تسکین کا خمیازہ قوم بھگتے؟ اگر حکومت آئوٹ آف دا وے جا کر دہشتگردوں کی پشت پناہی چند مذہبی جماعتوں کی طرح کرنے سے باز نہ آئی تو جمہوریت ڈی ریل ہو سکتی ہے اب ایسا ہوا تو بہت سے سر بھی جائیں گے جس کی ذمہ داری کسی اور پر نہیں جمہوری عمل کے ذریعے اقتدار میں آ کر غیر جمہوری رویے اپنانے والوں پر ہو گی۔ گذشتہ روز کے اندوہناک واقعہ کے بعد میں نے قارئین نوائے وقت کے لیے ایک سروے کا اہتمام کیا ۔دنیا بھر میں موجود میرے دوستوں ،چاہنے والوں ،احباب اور کارکنان جو کہ اندرون ملک اور اوورسیز بھر میں بستے ہیں۔ ان کو ای میل ،فیس بک اور ٹیلی فون پر رابطہ کیا اور ان کو ایک سوالنامہ بھجوایا کہ آپ کی نظر میں دہشت گردوں سے مذاکرات ہونے چاہئیں کہ نہیں۔ اور اب تک کے موصول ہونے والے سینکڑوں جوابات کے مطابق 95فیصد لوگوں کا خیال ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی کو فوری طور پر استعفیٰ دے دینا چاہیے کیونکہ وہ فوج کے مورال کو 71کی جنگ کے بعد ہونے والی شکست کے مقام پر لے گئے ہیں ۔بہت سے دوستوں کا یہ خیال ہے کہ جس شیخ رشید کہتے ہیں کہ فوج کی موجودہ قیادت نے ’’ستو‘‘ پی رکھے ہیں۔اور بہت سے دوستوں کا یہ بھی خیال ہے کہ جنرل اشفاق پرویز کیانی اور موجودہ حکومت دونوں ہی اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے عوام اور فوج دونوں کے جذبات سے کھیل رہے ہیں۔سری لنکا نے ملک کے اندر اٹھنے والی تامل باغیوں کی بغاوت پر 30سال کی مسلسل جدوجہد کے بعد قابو پا لیا۔کیا پاک فوج کے حوصلے اتنے پست ہو چکے ہیں کہ وہ پاکستان کے آئین کو پامال کرنے والوں کے ہاتھوں یرغمال بنی ہوئی ہے ؟کیا حکومت وقت ہزاروں شہیدوں کا لہو بیچ کر اپنے اقتدار کے پانچ سال پورے کرنا چاہتی ہے؟لیکن پاکستان کے غیور عوام یہ جانتے ہیں : یاروں کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus