×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عید،فلسفہ قربانی۔آج کے حالات اور قائدکا پیغام
Dated: 16-Oct-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بچپن ،لڑکپن اور جوانی میں عید کی خوشیاں بڑی دھوم دھام سے منائی جاتی تھیں۔ عید الفطر اور عیدالضحیٰ پر ہر طرف خوشیوں کا سماں ہوتا۔ شہر تو شہر دیہات اور قصبوں میں بھی روشنیاں اپنا نور بکھیرتی نظرآتیں۔ گو ان دنوں پورے ملک میں آج کی طرح بجلی کی سہولت موجود نہیں تھی لیکن بجلی جہاں جہاں بھی تھی ایسی لوڈشیڈنگ اور شدید قلت سے محفوظ تھی۔ اگر کبھی بند بھی ہوتی تو گھنٹے ڈیڑھ کے لیے بند ہوتی تھی۔ گو پاکستان پیپلزپارٹی کی حکومت نے آئی پی پیز سے مہنگی بجلی خریدنے کے معاہدے کیے تھے لیکن ان پر عملدرآمد سے بجلی ملک کے کونے کونے میں پہنچنا شروع ہو گئی۔ 1997ء میں پیپلزپارٹی کے معاہدوں سے مسلم لیگ ن کی حکومت مستفید ہوئی جو ایک موقع پر وافر بجلی بھارت کو برآمد کرنے کے لیے پر تول رہی تھی۔ مستقبل ناشناس مسلم لیگ ن کی اس حکومت نے اپنی پیشرو حکومت کے کئی بجلی کے معاہدے ان کو مہنگا قرار دے کر منسوخ کر دیئے لیکن ان کا کوئی متبادل پیش نہ کیا۔ اس کے بعد آنے والی حکومتیں بھی ناعاقبت اندیش ثابت ہوئیں۔ انہوں نے بھی توانائی کی پروڈکشن پر کوئی توجہ نہ دی جس کا خمیازہ آج بدترین لوڈشیڈنگ کی صورت میں پوری قوم بھگت رہی ہے۔ اس میں 1997ء کے بعد آنے والی کوئی بھی حکومت بے قصور نہیں تاہم بنیادی طور پر ذمہ دارمسلم لیگ ن کی حکومت ہی ہے جس نے 1997 میں اپنے دورِ میں انرجی کی پروڈکشن میں اضافے سے غفلت سے کام لیا۔ گو کہ بجلی کی قلت اور وافر مقدار میں فراہمی کا عید کی خوشیوں سے براہ راست زیادہ تعلق نہیں ہے لیکن اتنا تو ہے کہ بجلی کی شدید قلت کے باعث ملکی معیشت زبوں حالی کا شکار ہوئی، ہزاروں کارخانے بند اور لاکھوں مزدور بے روزگار ہوئے۔ بلاشبہ لاکھوں مزدوروں کے خاندانوں کے افراد کی تعداد کروڑوں میں ہے۔ کل کے سفید پوش آج مہنگائی کے طوفانی ریلوں کی بدولت خطِ غربت سے بھی نیچے چلے گئے ہیں۔ ان میں ایسے لوگوں کی تعداد بھی بلاشبہ ہزاروں میں ہو گی جو ماضی میں قربانی کا جانور خریدنے یا گائے میں حصہ ڈالنے کی استطاعت رکھتے تھے آج اس سے محروم ہو چکے ہیں۔ خطِ غربت سے نیچے جانے والے لوگوں کی تعداد میں اضافہ ہوتا جا رہا ہے۔ مجھے خدشہ ہے کہ موجودہ حکومت کی پالیسیاں اپنے پیشروئوں جیسی رہیں تو صرف مراعات یافتہ طبقہ ہی عیدوں کی خوشیاں منانے کے لیے باقی بچے گا۔ اگر یہی پالیسیاں جاری رہیں تو ہو سکتا ہے کہ مسلم لیگ ن کی حکومت کو اپنی مدت پوری کرنے کی مہلت نہ مل سکے اور اس کی قیادت کو ایک بار پھرجیلوں اور جلاوطنی کا سامنا کرنا پڑے۔ جس کی ایک بھی پالیسی عوام کے مفاد میں ہے نہ ملک کے۔ جن لوگوں نے ملک کو جہنم زار بنا کے رکھ دیا ان کو نوازشریف حکومت اپنی گود میں بٹھانے کے لیے بضد ہے۔ آج ہم عید ان حالات میں منا رہے ہیں کہ دہشتگردوں کی دست برد سے ملک کا کوئی کونا اور حصہ محفوظ نہیں۔ گذشتہ حکومت دہشتگردوں کے خلاف کارروائیاں کرتی تھی انتقاماً دہشتگردوں نے ان کو انتخابی مہم ہی چلانے نہیں دی۔ آج کی حکومت ان سے مذاکرات کے لیے زیادہ ہی بے چین نظر آتی ہے۔ اس کے باوجود کہ دہشتگرد اپنی بہیمانہ کارروائیاں جاری رکھے ہوئے ہیں۔ یہ لوگ جی ایچ کیو پر حملہ کر چکے ہیں۔حساس فوجی تنصیبات کواڑایا گیا۔ کامرہ،سرگودھااور مہران بیسز پر اٹیک کیے۔ آئی ایس آئی او رکمانڈوز کی بسوں اور دفاتر کو بھی نہ بخشا گیا۔ تین جرنیلوں اور درجنوں کرنلوں سمیت فوج کے دس ہزار افسران اور جوانوں کو شہید کیا گیا۔ ان کے ہاتھوں ملک میں کوئی مسجد محفوظ نہ گرجا اور نہ کوئی کسی دوسرے مذہب کی عبادت گاہ۔ ہزاروں مزاروں اور قبروں کا نام و نشان مٹا دیا گیا، سکول تباہ کیے گئے۔ دو روز قبل لاہور، پشاور،کوئٹہ اور کراچی میں بیک وقت یلغار کرکے اپنے طاقت ور ہونے کا پیغام حکومت کو دیا گیا اور مزید کارروائیوں کی دھمکی بھی دی گئی۔ آج کی عید ایک خوف اور دہشت کی کیفیت میں منائی جا رہی ہے۔مسجدوں کے باہر پہرے دار کھڑے ہیں۔ ایک طرف ہم دہشتگردی کے خوف میں مبتلا ہیں تو دوسری طرف بھارتی فوج لائن آف کنٹرول پر اشتعال انگیزی میں مصروف ہے۔ ملک میں لاقانونیت اس پر مستزاد ہے۔ جرائم پیشہ افراد نے ملک میں اودھم مچا کر عوام کا رہا سہا سکون بھی غارت کر دیا ہے۔ گویا ہم آج بدترین حالات میں عید قربان منا رہے ہیں۔عید کا فلسفہ ہی قربانی ہے۔ دوسروں کے لیے قربانی، نیک اور اعلیٰ مقاصد کے لیے قربانی، بطور قوم ہم میں قربانی کے جذبے کا فقدان ہے۔ اگر یہ جذبہ پیدا ہو جائے تو ہم بدترین حالات کا مقابلہ کرتے ہوئے ان سے نکل سکتے ہیں۔فوج دہشتگردوں کے خاتمے کے لیے قربانیاں دے رہی ہے۔ ایسا ہی ایثار سیاسی قیادت اور عوامی سطح پر بھی نظر آنا چاہیے۔ بانی پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کاعید کے موقع پر قوم کے نام پیغام میرے سامنے ہے۔ جو آج 66سال بعد بھی 1947ء کی طرح مطبق ہوتا ہے۔ موجودہ حالات میں یہ پیغام ہمارے لیے مشعل راہ ہے۔ ’’ اللہ تبارک و تعالیٰ اکثر ان لوگوں کا امتحان لیتا ہے اور انہیں آزمائش میں ڈالتا ہے جن سے وہ محبت فرماتا ہے۔ اللہ جل شانہ نے اپنے جلیل القدر پیغمبر حضرت ابراہیم علیہ السلام کو حکم دیا کہ وہ اس شے کی قربانی دیں جو انہیں سب سے زیادہ عزیز ہو۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اس حکم پر لبیک کہا اور اپنے لخت کوجگر قربانی کیلئے پیش کیا۔ آج پھر خدا ئے عزو جل کو پاکستان ہندوستان کے مسلمانوں کے امتحان اور ان کی آزمائش مقصود ہے۔حق تعالیٰ نے ہم سے عظیم قربانیوں کا تقاضا کیا ہے۔ ہماری نوزائیدہ مملکت ان زخموں سے چور ہے جو دشمنوں نے اس کے جسد پر لگائے ہیں۔ ہندوستان میں ہمارے مسلمان بھائیوں کو صرف اس لئے انتقام اور ظلم کا نشانہ بنایا جارہا ہے کہ انہوں نے قیام پاکستان کے لئے اعانت اور ہمددری کا اظہار کیا۔اس وقت ہر طرف استبداد کے سیاہ بادل منڈلا رہے ہیں مگر ہمارے پائے ثبات میں لغزش نہیں آئے گی کیونکہ مجھے یقین ہے کہ اگرہم قربانی کے اسی جذبے کا اظہار کریں گے جس کامظاہرہ حضرت ابراہیم علیہ السلام نے کیا تھا تو قادر مطلق ان سیاہ بادلوں کو ہٹادیگا اور ہم پر اپنی رحمتیں اور برکتیں نازل فرمائے گا جیسے کہ اس نے حضرت ابراہیم علیہ السلام پر نازل فرمائی تھیں لہٰذا آئیے ہم عیدالاضحی کے مبارک دن جو اسلام کے جذبہ و ایثار و قربانی کا مظہر ہے عہد کریں کہ ہم اپنی تخلیق کے مطابق مملکت قائم کرنے اپنے مقصد سے ہرگز منہ نہ موڑیں گے خواہ اس کے لئے ہمیں کتنی ہی قربانیوں امتحانوں اور آزماشوں سے گزرنا پڑے اور اپنے مقصد کے حصول کی خاطر اپنی تمام صلاحیتوں اور وسائل کو بروئے کار لائیں گے۔مجھے اعتماد ہے کہ ہم اس زبردست بحران پر اس کی وسعت و شدت کے باوجود اسطرح قابوپائیں گے جس طرح ہم نے اپنی طویل تاریخ میں اپنے دشمنوں کی کوششوں کے باوجود بہت سی دشواریوں پر قابو پالیا۔ ہم مصائب و ابتلاکی تاریک رات سے فاتحانہ و توانا نکل آئیں گے اور دنیا پر ظاہر کر دیں گے کہ اس مملکت کا وجود نہ صرف زندگی گزارنے کی بلکہ اچھی بہتر زندگی کی بھی ضمانت دیتا ہے۔۔۔اب دنیا کی کوئی طاقت پاکستان کے وجود کو ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوسکتی۔ ہمیں جس قدر عظیم قربانیاں دینی ہونگی ہم اس قدر باصفا اور پاکیزہ تر ہو جائیں گے جیسے سونا بھٹی سے نکلتا ہے تو کندن بن جاتا ہے۔پس آپ کے لئے میرا پیغام امید ، حوصلہ اور اعتماد کا پیغام ہے۔ آئیے ہم باقاعدہ منظم طریقے سے اپنے تمام وسائل مجتمع کرلیں اور درپیش سنگین مسائل کا ایسے عزم بالجزم اور نظم و ضبط سے مقابلہ کریں جو ایک عظیم ملک کا سرمایہ ہوتا ہے۔ (24اکتوبر 1947 عیدالاضحی پر قائد کا قوم کے نام پیغام)
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus