×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عزت نفس کے لیے کاسۂ توڑو!
Dated: 21-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بچپن سے بزرگوں سے سنتے آئے ہیں کہ اپنے بچوں کو آپ اپنے گھر سے ہی چوہدری کہہ کر پکارو گے تو باہر بھی سب ان کو چوہدری ہی بولیں گے اگر گھروالے ہی نام بگاڑ کر بلائیں گے تو باہر والے لوگ عزت سے نہ پکاریں گے۔ یعنی یہ مسلمہ اصول ہے کہ جس کی گھر عزت نہیں اس کی باہر عزت نہیں۔ اسی طرح آج کے معاشرہ میں وہ ملک جہاں کے عوام اپنے آئین کی پاسداری کرتے ہیں، قانون کا احترام کرتے ہیں، وہاں کی مملکت اور قانون ان کا احترام کرتا ہے۔ آج وہی معاشرے مہذب اور صاحب عزت کہلواتے ہیں۔ آج مملکت عزیز میں جو افراتفری اور انارکی ہے اس کی وجہ سے ملک دہشت گردی کا شکار ہے۔ پاکستان کے شہری اپنے جسموں سے بم باندھ کر اپنے ہی ہم وطنوں کو بارود سے اڑا رہے ہیں۔ ازلی دشمن بھارت سے پانچ جنگوں میں 5ہزار سے بھی کم ہلاکتیں ہوئیں مگر ملک کے اندر گذشتہ 10سالوں کے دوران 60ہزار سویلین اور 12ہزار عسکری جوان اپنوں کے ہی بے رحم جنون کا شکار بنے۔ اسی طرح کم از کم 5بار مارشل لاء ملک میں نافذ ہوا جو ہر مرتبہ سالوں تک ہم پہ مسلط رہا۔ ملک کے اندر قانون توڑنا حتیٰ کہ ٹریفک کے اشارے کو بھی ثواب سمجھ کر توڑا جاتا ہے۔ لائن میں کھڑے ہونے کا رواج نہیں کسی سینما گھر کی ٹکٹ سے لے کر یوٹیلٹی بل بینک میں جمع کرواتے وقت ہماری انا اڑے آ جاتی ہے۔ احساس سے عاری عوام کا یہ عالم ہے کہ سڑک پہ ایکسڈنٹ سے پڑے شخص کو تڑپتا چھوڑ کر سب آگے بڑھ جاتے ہیں۔ بے حسی کا یہ عالم ہے کہ ہم ہلاک شدگان کے زیور ،گھڑیاں اورموبائل اڑانے کے چکرمیں لاشوں کی بے حرمتی کرتے ہیں۔مملکت عزیز کی آبادی 20کروڑ سے تجاوز کر گئی ہے مگر ٹیکس ادا کرنے والوں کی تعداد صرف چند لاکھ ہے پھر ہم ٹیکس نہ دینے کی بے شمار ذہنی تاویل خود ہی اختیار کر لیتے ہیں اور ڈھٹائی سے مملکت سے یہ توقع کرتے ہیں کہ وہ ہمیں سڑکیں، ہسپتال کھیلوں کے میدان سکول اور کمیونٹی سنٹرز بنا کر دے۔ ہمارے لیے ملازمتوں کا بندوبست کرے اور ہم ہر مہینے گھر بیٹھے تنخواہ وصول کریں۔ملازمت سرکاری ہوتا کہ ہمیں جاب پر بھی نہ جانا پڑے۔ پورا سال چھٹیاں ہوں ہم لوگ بس تھروں پہ بیٹھ کر گپ شپ اور سیاست اور فرقہ واریت پر لاحاصل گفتگو کرتے رہیں اور ہماری یہ شدید خواہش ہوتی ہے کہ کہیں ’’من و سلویٰ‘‘آسمانوں سے ہمارے لیے نازل ہوتا رہے ہر شخص کی انگلی دوسرے کی طرف اٹھی رہے ہم غیرت کے نام پر اپنے خون کو خاک آلود کرتے رہیں ۔ ڈاکہ چوری، جھوٹ ،فریب اور دھوکہ فراڈ ہمارے قومی کھیل بن چکے ہوں۔اپنی قومی و اخلاقی ذمہ داریوں کو یکسر بھلا کر سکولوں اور کالجوں کے باہر طالبات کا پیچھا کرتے ہوئے انہیں گھر تک پہنچا کر آناہمارا فرض اولین بن چکا ہو۔ کرپشن کی لت میں مبتلا معاشرہ اس حد تک کرپشن کی دلدل میں پھنس چکا ہو کہ کرپشن جرم نہیں کوئی نیکی کا کام لگنے لگے۔ چوکیدار سے لے کر وزیراعظم اور صدر تک ہاتھ کرپشن کی بہتی گنگا میں رنگے ہوں۔ رشوت لینا اور رشوت دین اروایات اختیار کر چکے ہوں۔ شریف النفس کہلوانا ایک گالی کا درجہ اختیار کر چکا ہو اور پھر ان حالات میں ہم یہ توقع کریں کہ ہماری مملکت ہمیں زندہ وجاوید قوموںجیسا تحفظ اور احترام مہیا کرے؟ یاد رکھیے خدا تعالیٰ جیسی قوم ہو اس پر ویسے ہی حکمران مسلط کرتا ہے ہم گھاس کاشت کرکے گندم کے اگنے کا انتظار کیوں کرتے ہیں؟ اور پھر ہم حکومتوں سے حکمرانوں سے کس بھلائی کی توقع کرتے ہیں۔ جس ملک میں چوری کرنے والے کو حاجی اور ڈاکہ ڈالنے والے کو الحاج کہا جانے لگے، جس قوم کے حکمران بھی اپنے عوام کے ٹیکس چوری کرتے ہوں، بینکوں سے اربوں کھربوں کے قرضے لے کر ہڑپ کر جاتے ہوں، عوام کی خدمت کے نام پر عوام کو بے وقوف بنایا جاتا ہو اور لوٹا جاتا ہو، سیاست اور اقتدار چند گھرانوں کی لونڈی بن کر رہ گیا ہو، جہاں چوہدری اور سائیں کا بیٹا قتل کرکے قانون کا مذاق اڑا رہا ہو جہاں کے حکمران قومی دولت لوٹ کر غیر ملکی بینکوں کو امیر کرتے ہوں، ملک کو لوٹ کر غیر ممالک میں اپنی جائیدادیں بناتے ہوں۔ جس ملک میں شکیل آفریدی جیسے ضمیر فروش وطن فروش موجود ہوں اور حکمران ریمنڈڈیوس کو گاڑ آف آنر کیساتھ ملک سے رخصت کرے اور پھر ہم ایمل کانسی ،خالد شیخ اور عافیہ صدیقی کو خود پکڑ کر امریکہ کو دیں کہ وہ انہیں گوانتا نامے کے عقوبت خانوں میں ڈال دیں اور اپنے شہریوں کی حوالگی کے بدلے ڈالر ووصول کریں اور پھر یہ توقع کریں گے دیارِ غیر میں ہمارے شہریوں کی عزت ہو ، آج حالات یہ ہیں کہ بین الاقوامی ایئرپورٹس پر پاکستانی شہریوں کی جو تذلیل کی جاتی ہے اس سے دل خون کے آنسو روتا ہے۔ عمران خان ،شیخ رشید سمیت متعدد سیاست دانوں کو امریکی ایئرپورٹس پر مجرموں کا سا سلوک ہوتا ہے۔ ہمارے سفارت کاروں اور حاضر سروس باوردی جرنیلوں کے سات منشیات کے سمگلروں جیسا سلوک ہوتا ہے۔ ایک دفعہ جب راجہ پرویز اشرف جب وہ ایم این اے تھے ہم دونوں امریکن پینٹاگون کی دعوت اور اقوام متحدہ کے سیکرٹری کی دعوت پر نیویارک کے ائرپورٹس پر اترے تو ہم دونوں کو روک کر نہ صرف غیر ضروری پوچھ کچھ کی گئی بلکہ ہماری شرمناک جامہ تلاشی بھی لی گئی جب ہماری جان امیگریشن سٹاف نے چھوڑی تو راجہ پرویز اشرف نے مجھے کہا کہ یار مطلوب پاکستان میں کسی کو یہ پتہ نہ چلے ورنہ بڑی بے عزتی ہو گی۔ اس کے مقابلہ میں بھارت کے ایک اداکار شاہ رخ کو ایک دفعہ امریکن ایئرپورٹس پر روک کر پوچھ گچھ کی گئی تو حکومت امریکہ کو بھارت سے معافی مانگنا پڑی اور گذشتہ روز ایک بھارتی سفارت کار خاتون کو گرفتار کیا گیا تو بھارت نے امریکہ کے ساتھ تعلقات توڑنے کی دھمکی دے دی۔ دلی میں امریکی سفارت خانے کے سامنے سے بیریئر ہٹا لیے گئے اور حکومتی سیکورٹی واپس لے لی گئی اس دوران ایک امریکن وزارتی وفد بھارت کے دورے پر تھا۔ بھارت کے حکام نے ان سے ملنے سے انکار کر دیا اور امریکی وزیر خارجہ جان کیری اپنے بھارتی ہم منصب کو فون کرکے معافیاں مانگ رہا ہے جبکہ بھارت نے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات توڑنے کی دھمکی دی ہے۔ آپ سوچتے ہوں گے کہ پاکستان کی سرکار ایسا کیوں نہیں کرتی؟ تو عرض ہے کہ جن قوموں کا وقار زندہ ہو، قومی حمیت وغیرت باقی ہو، جن ملکوں کے شہریوں کی اپنے ملک کے اندر عزت ہو، باہر والے بھی ان کی عزت کرتے ہیں۔ پچھلے 67سال میں بھارت میں ایک بھی مارشل لاء تھا؟ ایک دفعہ بھی عوام کے حقوق پر ڈاکہ مار کے جمہوریت ڈی ریل کی گئی۔اندرا گاندھی کے دو رمیں ہونے والے ایک جنرل الیکشن میں ایک پولنگ اسٹیشن پر بھارتی وفاقی وزیر نے گڑبڑ کرنا چاہی تو پولنگ آفیسر نے وفاقی وزیر کو تھپڑ رسید کر دیا اور وہ وزیر گرفتار ہوا۔ کیا پاکستان میں ایسا ممکن ہے؟ یہاں 340کے اراکین پارلیمنٹ کے ایوان کو چلانے والے اسپیکر قومی اسمبلی پر گذشتہ الیکشن میں دھاندلی کے شدید الزامات موجود ہیں۔ مگر مجال ہے کہ کوئی ٹس سے مس ہوا ہو؟ جب ہمارے ملک کے حکمران کاسہ توڑ نے کی بات کریں اور پھر چند ہی دنوں بعد آئی ایم ایف سے اسی کاسہ میں اربوں ڈالر بھر کر قرض لے آئیں تو اغیار کی نظر میں ہماری وقعت کیا ہو گی؟ ہم مغرب اور امریکہ سے قرضے لے کر اپنا ملک چلاتے ہوں ہمارا ہر شہری لاکھوں روپے اوسطاًکا مقروض ہو اگر امریکہ امداد روک لے تو ہم ایک ماہ کی تنخواہ اپنی افواج کو اور اداروں کو ادا نہیں کر سکتے مگر پھر ہم بات ڈرون حملوں کو روکنے کی کرتے ہیں۔ نیٹو سپلائی کے کنٹینر روکنے کی بات کرتے ہیں؟ یاد رکھیے اگر ہم چاہتے ہیں کہ ہماری اور ہمارے شہریوں کی دیارِ غیر میں عزت و توقیر ہو تو ہم کو خود کو بہتر کرنا ہوگا ہم کو خود کو سنوارنا ہوگا اپنی عادات بدلنا ہو گی ۔ ذمہ دار شہری کا کردار ادا کرنا ہوگا۔ ٹیکس دینا ہوگا اپنی ملی اور قومی ذمہ داریوں کا ادراک کرنا ہوگا۔ قانون و آئین کی پاسداری کرنا ہو گی ملکی و قومی معاملات میں اجتماعی سوچ اپنانا ہو گی۔ جس دن ہم نے ایسا کر لیا تو پھر ساری دنیا ہمارا احترام کرے گی۔ سبز ہلالی پرچم اور سبز پاسپورٹ کو اغیار بھی سیلوٹ کریں گے اور اگر ہم اپنی روش بھی نہ بدلیں اور اغیار سے یہ توقع رکھیں کے وہ ہمیں بھارت جیسا پروٹوکول دیں اور ہمارے شہریوں کا احترام کریں تو ایک دیوانے کا خواب تو ہو سکتا ہے مگر حقیقی زندگی میں ایسا ممکن نہیں کیوں کہ سیانے کہتے ہیں: جنا دے گھر دانے۔ اونہاں دے کملے وی سیانے
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus