×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بِلّا، دودھ ،لوٹا کریسی اور ڈریکولے!
Dated: 31-Dec-2013
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com پنجابی کی ایک مشہور کہاوت ہے کہ ’’سپاں دے پُت کدی مِت نئیں ہندے بھانویں چولاں دُودھ پیایئے‘‘ اور یہی بدنصیبی گذشتہ 67 سال سے پاکستان کے غریب عوام کا پیچھا نہیں چھوڑ رہی۔ وطن عزیز میں پچھلے 5 مارشل لائوں نے تقریباً 40سال ملک کو اپنے آہنی ہاتھوں میں جکڑے رکھا اور باقی کے 30سال جمہوریت کے نام پر جو گھنائونا کھیل ہمارے ساتھ کھیلا گیا۔ اس ریاست اور عوام کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ کبھی سنا کرتے تھے کہ 22سرمایہ دار، جاگیردار ملک کی قسمت پر قابض ہیں، فرق صرف یہ پڑا ہے کہ وقت گزرنے کے ساتھ ان کی تعداد 22سے 200ہو گئی ہے جبکہ ملک میں200ملین غریب عوام خطِ غربت سے نیچے زندگی گزارنے پر مجبور ہیں۔ قیام پاکستان کے فوراً بعد ہی بانیٔ پاکستان قائداعظم محمد علی جناح کی رحلت اور پھر لیاقت علی خاں کی شہادت اس نوزائیدہ مملکت کی بنیادیں ہلا کر رکھ دیں اور انہیں ایام میں ہمارے ازلی مکار دشمن نے ہم پر جنگ تھوپ دی ۔کچھ بھی ہو یہ بات تو طے ہے کہ بھارت نے انگریزوں سے آزادی کے بعد اپنے حصے میں آنے والی مملکت میں دوربینی کا مظاہرہ کرتے ہوئے کچھ ایسی اصلاحات نافذ کیں کہ جن کے ثمرات آج اس کے 1200کروڑ عوام سمیٹ رہے ہیں۔ مثلاً تقسیم ہند کے بعد بھارت نے زرعی اصلاحات کا نفاذ کرتے ہوئے حدِ ملکیت 12ایکڑ مقرر کر دی اس قانون کی زد میں سینکڑوں راجے مہاراجے اور ہزاروں زمیندار و جاگیردار آ گئے جنہوں نے وقتی طور پر بھارت کی حکومت کے لیے کچھ مسائل کھڑے کیے مگر آہستہ آہستہ نا چاہتے ہوئے بھی صابر و شاکر ہو کر اس نئے قانون کو قبو کر لیا ۔ دوسرا بڑا کام اس وقت کی بھارتی قیادت نے یہ کیا کہ فوج کو غیر ضروری ڈھیل دینے سے احتراز کیا گیا اور آج بھی بھارت کی تمام فوجی چھائونیاں ریاستی پبلک علاقے سے باہر ہیں حتی کہ ایک فوجی ویکل کو چاہے وہ منڈی سے سامان خریدنے کی غرض سے آنا چاہے شہری حدود میں داخل ہونے کے لیے اسے متعلقہ ڈی سی او سے اجازت نامہ درکار ہوتا ہے۔ جب آنجہانی نہرو وزیراعظم تھے ،کابینہ کا اجلاس جاری تھا تو انہیں بتایا گیا کہ سر بھارتی چیف آف آرمی سٹاف کی آپ سے ملاقات طے ہے اوروہ پہنچ چکے ہیں تونہرو نے کہا کہ اسے ویٹنگ روم میں بٹھائو تاکہ اسے پتہ چل سکے کہ گھر کے مالک اور چوکیدار میں کیا فرق ہے ۔ تقسیم ہند کے فوراًبعد بھارت کو ایک ایسی انقلابی قیادت میسر آ گئی جن کے پاس وژن، حوصلہ اور عزم تھا یقینا پاکستان کے حصے میں بھی قائداعظم سمیت ایسے رہنما آئے مگر ان کی تعداد آٹے میں نمک کے برابر تھی۔ اس سیاسی کھیپ میں بھارت کی سیاسی آبیاری اور تربیت کی ۔ یقینا بھارت میں آج بھی سینکڑوں کرپٹ سیاست دان، عسکری افسران، بیوروکریٹس، سرمایہ دار موجود ہیں مگر پاکستان میں کہیں خاد ہی کوئی محب وطن اور صاف ستھرا رہنما ملتا ہے ۔جنرل ایوب کے گیارہ سالہ مارشل لاء کے دوران نہ صرف اس وقت کی موجودہ سیاسی قیادت کو اپنے ساتھ ملانے کے لیے کرپٹ کیا گیا اور جو ساتھ نہ لگے ان کو ایبڈو کے قانون کے تحت نااہل قرار دے کر ملکی سیاست سے باہر کر دیا گیا۔ اس طرح ایک عشرے سے زائد عرصے پر محیط اس دو رمیں پاکستان کی سیاسی نرسری کو تباہ و برباد کر دیا گیا۔ اسی مارشل لاء کے تسلسل کا نتیجہ یحییٰ خان کا دور حکومت بنا ،جس کے نتیجے میں پاکستان دو لخت ہوا اور ہم ایک دفعہ پھر 1947ء سے ایک ہزار سال پیچھے جا گرے۔ 1971ء سے لے کر 5جولائی 1977ء تک ذوالفقار علی بھٹو کا دور آیا جس کے شروعات میں سول مارشل لائی نسخہ بھی آزمایا گیا۔ 90ہزار فوجی جنگی قیدیوں کو دشمن کی قید سے آزاد کرانے والے بھٹو کو اسی فوج کے ہاتھوں تختہ دار پر جھولنا پڑا لیکن تاریخ گواہ ہے کہ ضیا الحق سمیت بھٹو کے بدترین دشمن بھی بھٹو کی ذات پر ایک پیسے کی کرپشن کا الزام نہ لگا سکے اور شاید یہی وہ ایک دور تھا جس میں کرپشن رواج نہ پا سکی۔ بعد میں ضیاء الحق کے ساڑھے گیارہ سالہ دور میں جمہوریت، آمریت، مُلائی نظام کا ایسا مکسچر تیار کرکے قوم کو اس پل صراط سے گزارا گیا کہ پاکستان کے عوام اپنے ہدف ے ہزاروں میل دور کر دیئے گئے اور آج تک ہم پھر پٹڑی پر نہ چڑھ سکے یقینا اسی دور میں نام نہاد جہاد افغانستان نے بھی پاکستان کی نظریاتی اور زمینی اساس کو کھوکھلا کرنے میں اپنا بھیانک کردار ادا کیا ا،یک دفعہ پھر اسلام کے نام پر جمہوریت کشی کی گئی اور سیاسی نرسری کے بیج کو ہی تباہ کر دیا گیا۔ 1988ء میں ضیاء الحق کی حادثاتی موت کے بعد محترمہ بے نظیر بھٹو، میاں نوازشریف، عسکری قیادت اور بیوروکریسی کے درمیان ایک ایسا بلی چوہے کا کھیل شروع ہوا جس نے اس گھر کے درودیوار کو ہلا کے رکھ دیا ۔ چھانگا مانگا کے جنگلوں سے شروع ہونے والی کرپشن آج اس انتہا تک پہنچ چکی ہے کہ 20،50کرپشن کرنے والے کو کہا جاتا ہے کہ اس نے تو بس ’’چَول‘‘ ہی ماری ۔ پھر 12اکتوبر1999ء کو مشرف نے اقتدار پر قبضہ کرکے کرپٹ سیاست دانوں کے خلاف احتساب کا اعلان کیا تو یار لوگ سمجھے کہ شاید خد انے کوئی نجات دہندہ بھیجا ہے مگر پیپلزپارٹی اور نوازشریف کے دور حکومت کے سبھی کرپٹ سیاست دان، بیوروکریٹ، مشرف کے ساتھ مل گئے یہ وہ جنگلی بِلے تھے جن کے منہ کو غریب عوام کا خون لگ چکا تھا۔ شاید کمانڈو جو جذبہ لے کر آئے تھے وہ چوہوں کے ڈھیر کے نیچے دب گیا۔ اسی دوران بے نظیر بھٹو کی شہادت کا سانحۂ رونما ہوا جس کے نتیجے میں ہونے والے الیکشن کے نتائج کے بعد پیپلزپارٹی کی حکومت مرکز میں برسراقتدار آئی جبکہ پاکستان کے 62فیصد حصے پر مشتمل پنجاب پر میاں شہباز شریف کی حکومت برسراقتدار آئی اور چاروں صوبوں سمیت مرکز میں کھالو، پی لو، لوٹ لو کا ایک ایسا کھیل شروع ہوا جس سے ڈالر کے مقابلے میں روپیہ آدھا رہ گیا۔ قرضوں کا بوجھ اتنا بڑھ گیا کہ آئی ایم ایف کی غلامی کے سوا چارہ نہ رہا اور موقع کی نزاکت سے فائدہ اٹھاتے ہوئے بھارت نے ہمارے پانیوں پر قبضہ کرنا شروع کر دیا ۔ پور املک تاریکیوں میں ڈوب گیا کارخانے بند ہونے لگے، زمین پر بم دھماکے اور آسمان سے ڈرون برسنے لگے۔ اس دور کے دوران ایک محتاط اندازے کے مطابق ملک میں 80ارب ڈالر کی کرپشن ہوئی، جس کے ایک بڑے حصے سے حکمران فیضیاب ہوئے۔ قارئین کرام ان بیان کیے گئے تمام واقعات و حالات کو ایک بار پڑھ لینے کے بعد یہ اندازہ ہو جاتا ہے کہ کون بِلاّ تھا اور کون چوہے اور 20کروڑ عوام کا خون دودھ سمجھ کر پینے والے یہ ڈریکولا کون تھے؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus