×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
خدارا۔ ایک نئے سقوط سے پہلے سکوت توڑیئے!
Dated: 25-Jan-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مشہور کہاوت ہے کہ سانپ گزر جائے تو لکیر پیٹنے کا کیا فائدہ۔ پاکستان کے موجودہ اندرونی خطرات اس حد تک بڑھ چکے ہیں کہ ہمیں علم ہی نہیں کہ کہاں سے شروع کریں ۔دہشت گردی کے آسیب نے پورے معاشرے اور پورے ملک کو اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اقوامِ عالم میں ان جیسے مصائب سے قومیں نبردآزما ہوتی آئی ہیں مگر ان قوموں نے وقت اور حالات سے نہ صرف بہت کچھ سیکھا ہے بلکہ اس کا تدارک اور سدِ باب بھی تلاش کیاہے ۔میں ماضی قریب کی تاریخ کے حوالے سے دیکھوں تو فلسطین اور اسرائیل کے درمیان پیدا ہونے والی کشیدگی نے پورے مشرقِ وسطیٰ کوہی اپنی لپیٹ میں لیا ہوا ہے۔ بیت المقدس پر اسرائیل کے جارحانہ قبضہ کے بعد فلسطینی مسلمانوںنے الفتح کے نام سے ایک تنظیم کی بنیاد رکھی جس کا مقصد ارضِ فلسطین کو یہودیوں سے آزاد کرانا تھا۔ اس کے لیے فدائین کا ایک لشکر ترتیب دیا گیا جس کا مقصد اسرائیلی مفادات کو ٹارگٹ کرکے فلسطین کاز کی حمایت حاصل کرنا تھا اور ابتدا میں فلسطینی فدائین نے میونخ اولمپک ولیج کو یرغمال بنا لیا۔ بعدازاں متعدد اسرائیلی ایئرلائنز کے طیاروں کو ہائی جیک کیا جاتا رہا۔ اس فدائی (خودکش) تنظیم کو کچلنے کے لیے اسرائیلی وزیراعظم ایرل شیرون نے فلسطینی پناہ گزین کیمپ جو کہ لبنان کی سرزمین پر صابرہ، شتیلہ کے نام سے تھے، پر حملہ کرکے ایک ہی دن میں ہزاروں فلسطینیوں کو شہید کیا مگر وہ فلسطینیوں کی تحریک کو دبا نہ سکا اور اس دوران فلسطینی خودکش فدائین نے روزانہ کی بنیاد پر حملے شروع کر دیئے اور نقصان کی شدت سے گھبرا کر اسرائیل جیسی پاور بوکھلا گئی۔ ایک 20سالہ نوجوان اسرائیلی جیسن گروسمین جس کا باپ، ماں اور 2بہن بھائی ایک فدائی حملے میں مارے گئے تھے نے ایک پلان تیار کرکے اسرائیلی حکومت کو دیا کہ ہر خودکش فلسطینی جس جس نے بھی اسرائیل کی سرزمین پر خودکش حملے کیے ہیں ان کی تفصیل مرتب کی جائیں کیونکہ یہ بات اب خفیہ نہیں رہی تھی کہ ہر خودکش فلسطینی کو حکومتِ سعودی عرب کی طرف سے 16ہزار ڈالر ملتے تھے۔ جیسن گروسمین نے اسرائیلی حکومت کو اپنی تجاویز میں بتایا کہ جو خودکش بمبار ایسا کر چکے ہیں ان کے گھروں کو بلڈوز اور مسمار کر دیا جائے حکومت اسرائیل نے جیسن گروسمین کے پلان پر کماحقہ عمل کیا اور آج اسرائیل کی سرزمین پر کوئی بھی خودکش حملہ ہوئے سالوں بیت گئے ہیں۔ ہیروشن ایک سینگلس سری لنکن نوجوان ہے اس کا باپ ایئرلنکا میں کوپائیلٹ تھا۔24جولائی 2001ء کے دن تامل علیحدگی پسند تنظیم تامل ٹائیگرز نے کولمبو ایئرپورٹ پر دھاوا بول دیا جس میں درجنوں افراد ہلاک ہوئے اور درجنوں طیارے بھی جل کر تباہ ہوئے۔ ہیروشن کا باپ بھی اس دہشت گردی میں مارا گیا۔ ہیروشن نے وزیراعظم سری لنکا کو ملنے کی درخواست کی جس پر وزیراعظم نے اسے ملاقات کا وقت دیا۔ ہیروشن نے وزیراعظم کو ایک ایسا پلان دیا جس سے 33سالہ تامل ٹائیگر جدوجہد اپنے منطقی انجام کو پہنچی اور تامل ٹائیگر تنظیم کا سربراہ پربھارکر مارا گیا اور سری لنکن آرمی نے پاک فوج کی مدد سے تامل ٹائیگر کا قلع قمع کر دیا وہ پلان تھا کہ دنیا بھر میں سری لنکن تامل اپنے گھروں اور تامل ٹائیگر تنظیم کو جو عطیات اور چندے بھیجتے تھے(ہنڈی) کے ذریعے اس ترسیل کو کنٹرول کیا جائے اور جن تامل نوجوانوں پر شبہ ہو کہ وہ تامل ٹائیگر کے رکن ہیں ان کے گھر مسمار کر دیئے جائیں ۔ یقینا ہیروشن کے بتائے ہوئے پلان پر عمل کرتے ہوئے کچھ ناپسندیدہ اور انسانی حقوق کے خلاف واقعات بھی ہوئے مگر 33سالہ شورش جو ملک کی سب سے بڑی سیاحتی انڈسٹری کو ختم کرکے ملک کو لاغر کر چکی تھی اس کا خاتمہ ہوا۔ایران میں دہشتگردی کے عفریت نے پھن پھیلانے کی کوشش کی ، دہشتگردوں نے ایرانی محافظوں کو قتل کیا تو دوسرے دن ایران نے مالک ریگی کی سزائے موت پر عمل کرتے ہوئے دہشتگردی کو جڑ سے اکھاڑ پھینکا ۔پاکستان کی جیلوں میں تو ساڑھے چار سو دہشتگرد حکمرانوں نے دامادوں کی طرح رکھے ہوئے ہیں۔ قارئین کرام! ایسے بے شمار واقعات سے تاریخ بھری پڑی ہے۔ 80ء کے عشرہ میں عروج پکڑنے والی سکھوں کی علیحدگی پسند خالصتان تحریک کو اندراگاندھی نے بزور قوت جس طرح دبایا اور آزاد جموں کشمیر میں جاری علیحدگی کی تحریک کو انڈین آرمی نے اپنی حکومت کی پالیسیوں کی بدولت نہ صرف فی الحال روک دیا ہے بلکہ ان علیحدگی پسند قوتوں کی توپوں کا رخ پاکستان کی طرف موڑ دیا ہے۔نائن الیون 2001میں امریکہ کے چار ایئرپورٹس پر طیارے ہائی جیک کر لیے گئے اور دنیا کی بلند ترین عمارت ورلڈ ٹریڈ سنٹر اور امریکی پینٹاگون کو نشانہ بنایا گیا۔ ایک دفعہ تو امریکہ دہل کے رہ گیا جب ذرا ان کو ہوش آیا تو مملکت نے اپنے تھینک ٹینکس کو کہا کہ وہ سرجوڑ کر بیٹھیں اور اپنے اس مردہ مورال گھوڑے کو پھر سے زندہ کریں۔ جس کے بعد امریکی تھینک ٹینکس نے حکومت کو ہوم لینڈ سکیورٹی کے نام سے ایک پلان بنا کر دیا جس کے بعد دہشت گردی کا کوئی قابل ذکر واقعہ رونما نہیںہوا۔ قارئین کرام! پاکستان کے موجودہ حالات آج اس نہج پر ہیں کہ جس کے بدلے میں ہمیں اپنے جسم کے حصے کو جدا کرنا پڑا ہم نے اس کا بہت ماتم کیا، روئے بھی اور چیخے چلائے بھی، گریہ زاری بھی کی، نوحے اور قصیدے بھی لکھے۔ سقوطِ ڈھاکہ اور میں نے ڈھاکہ ڈوبتے دیکھا جیسی کتابیں بھی لکھی گئیں لیکن یہ سب بعداز وقت تھا۔ سانحہ تو رونما ہو چکا تھا جب روم جل رہا تھا مگر ’’نیرو بیٹھا بانسری بجا رہا تھا‘‘ کے مترادف ہم نے ہوش کے ناخن نہ لیے۔ ہم نے اپنی آئینی،اخلاقی، معاشرتی اور قومی ذمہ داریاں پوری نہ کیں ہم نے اپنے سیاست دانوں ،بیوروکریٹس، جاگیرداروں، سرمایہ داروں کو محب وطن بنانے کی بجائے چور سے لٹیرا بنا دیا۔ ہم نے 71ء کے بعد پھر 3 مارشل لائوں کو خوش آمدید کہا ،جمہوری ڈاکوئوں کے روپ میں اس ملک کے منتخب ڈاکو سرزمین پاکستان کو لوٹتے رہے اور جس کا جتنا جی چاہا اس نے اس ملک کو اتنا ہی لوٹااور آج پھر ملک میں طبقاتی تفریق اس حد تک بڑھ گئی ہے کہ امیر امیر تر ہوتا گیا اور غریب نے یا تو خودکشی کر لی یا خودکش حملوں میں مارا گیا۔71ء کے سانحہ کو نہ سمجھنے کا شاخسانہ ہے کہ ہماری ناقص پالیسیوں کی وجہ سے آج مملکت کے چاروں اطراف ہماری سرحدیں محفوظ نہیں۔ گذشتہ گیارہ سال میں 70ہزار سویلین 12 ہزار عسکری جوان شہادت نوش کر چکے ہیں۔ ملک کا انفراسٹرکچر مکمل تباہ ہو چکا ہے، ایک فیصد سے بھی کم لوگوں نے مسلک کی بنیاد پر ملکی سالمیت کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ قوم بظاہر تقسیم نظر آتی ہے، ڈاکو کو شہید اور شہید کو ظالم کہنے کا رواج فروغ پا رہا ہے۔ حکمران ابھی ہنی مون کے سحر سے آزاد نہیں ہوئے، قوم اور سیاسی لیڈروں کا حال یہ ہے کہ بم دھماکوں سے بھی بیدا رنہیں ہو پا رہے۔ کل ایک سقوطِ ڈھاکہ ہوا تھا آج ہم کو سقوطِ لاہور، سقوطِ کراچی، سقوطِ کوئٹہ، سقوطِ پشاور اور سقوطِ اسلام آباد کے لیے تیار کیا جا رہا ہے۔ قوم کی بے حسی کا یہ عالم ہے کہ اپنے حقوق اور مفادات بھول کر نہ جانے کس طلسم میں گرفتار ہے۔ لیڈروں کا یہ عالم ہے کہ ہر کوئی اپنی ڈیڑھ اینٹ کی مسجد بنائے بیٹھا ہے۔ وفاق اور فیڈریشن کا فقدان ہے، جذبۂ حب الوطنی اور سب سے پہلے پاکستان کا فلسفہ بحیرہ بنگال میں غوطہ زن ہے۔ آج کسی نئے سقوط سے پہلے قوم نے سکوت نہ توڑا تو یاد رکھے ہمارا ذکر کہیں کتابوں میں بھی نہ ملے گا اور ایک بات یاد رکھیے کہ دہشت گردوں سے مذاکرات کی بھیک مانگ کر ہم جو زندگی حاصل کرنا چاہتے ہیں اس گیدڑ کی سوسالہ زندگی سے شیر کی ایک دن کی زندگی بہتر ہے: یارو کسی قاتل سے کبھی پیار نہ مانگو اپنے ہی گلے کے لیے تلوار نہ مانگو قوم کو متحد ہو کر مِلّی جذبے سے فوج کے شانہ بشانہ کھڑا ہونا ہوگا ورنہ ہماری حالت ڈربے میں بند مرغیوں جیسی ہو گی جو صرف اپنی باری کا انتظار کرتی ہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus