×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ذکاء اشرف۔ نجم سیٹھی کا 36واں پنکچر
Dated: 15-Feb-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مجھ سمیت کسی کے وہم گمان میں نہیں ہوگا کہ حالات اتنی تیزی سے بدلیں گے ابھی چند دن پہلے 8فروری کے دن ’’نوائے وقت‘‘ کے معزز قارئین نے میرا کرنٹ آفیئر پر کالم ’’نجم سیٹھی۔ پھٹا ٹائر اور پنکچر ٹیوب‘‘ پڑھا ہوگا اور میرے کالم کی تحریر کی سیاہی بھی خشک نہ ہوئی تھی کہ میرے خدشے کے بالکل عین مطابق ذکاء اشرف چیئرمین کرکٹ بورڈ کو بڑے بھونڈے طریقے سے فارغ کر دیا گیا۔ بقول محترم مجیب الرحمن شامی ’’جو سلوک مشرف نے نوازشریف کے ساتھ کیا تھا آج نوازشریف نے کرکٹ کے ساتھ کر دکھایا‘‘ میں نے اپنے گذشتہ کالم میں لکھا تھ اکہ 35پنکچر لگانے کے بعد نجم سیٹھی کو چیئرمین کرکٹ بورڈ بنا دیا گیا جب ذکاء اشرف نے ’’دال نہ گلنے دی‘‘تو نجم سیٹھی کو محسوس ہوا کہ کہیں ان کے ساتھ ہاتھ تو نہیں ہو گیا؟ جس پر موصوف نے اپنی ’’چڑیا‘‘ کے ذریعے مارکیٹ میں یہ خبر بھجوائی یعنی 35پنکچر والی جس پر یقینا میاں برادران کو جھٹکا لگا کہ نجم سیٹھی کے اپنا حق نمک آسانی سے نہ چھوڑے گا۔ اب آتے ہیں اس ڈرامے کے مختلف زاویوں کو دیکھتے ہیں مثلاً نجم سیٹھی کے لیے یہ جنگ کس نے شروع کی یقینا نجم سیٹھی صاحب کے پیچھے ایک مضبوط میڈیا گروپ کا ہاتھ ہے اور اپنے مفاد کے لیے وہ میڈیا گروپ کچھ بھی کرگزرنے کا ارادہ رکھتا ہے۔ اسی لیے اس میڈیا گروپ کے روح رواںخود کو ’’کنگ میکر‘‘ سمجھتے ہیں اور کہلوانا پسند کرتے ہیں۔ نجم سیٹھی کے چیئرمین بننے سے اسی میڈیا گروپ کو کرکٹ بورڈ کے زیر اہتمام ہونے والے ٹیسٹ میچز اور ٹی ٹونٹی میچوں کے حقوق تفویض کیے گئے جبکہ پی ٹی وی جو سٹیٹ ان چینل ہے اس کو ایک سازش کے تحت اس پراسس سے دور رکھا گیا بلکہ پہلی دفعہ پی ٹی وی نے اس بولی میں حصہ نہ لیا۔ اسی دوران بگ تھری کا خطرناک پلان سامنے آیا مگر پاکستان کرکٹ بورڈ نے قوم کو اس کی بھنگ تک نہ پڑنے دی۔ دنیا ترقی کی منزل طے کرتی ہوئی آگے بڑھ رہی ہے جبکہ آئی سی سی 100سال پہلے والے رولز کی طرف چلی گئی ہے ۔ جب سامراج کو کرکٹ پر اجارہ داری تھی جب کتے اور ہندوستانی کا ہندوستان کی سرزمین پر قائم گوروں کے کلب میں داخلہ ممنوع تھا اور یہی حال کھیلوں کے میدان میں خصوصی طور پر کرکٹ میں تھا۔ بھارت کے بالی ووڈ میں عامر خان کی فلم ’’لگان‘‘ اس سلسلے کا منہ بولتا ثبوت ہے فرق صرف یہ ہے کہ آج 140کروڑ بھارتی بنیے نے انگریزی سامراج انگلینڈ اور آسٹریلیا کے ساتھ مل کر ورلڈ کرکٹ کو یرغمال بنانے کی سازش کی ہے اور بورڈ کے 10ممبران میں سے پانچ ممالک کو لالچ اور خرید کر اپنے مقصد میں کامیاب ہو گئے ہیں۔ نجم سیٹھی جو اس پلان میں بگ تھری کی نمائندگی کر رہے تھے کو اچانک کورٹ نے روک دیا اور یوں دوبئی میں ہونے والے اجلاس میں ذکاء اشرف نے پاکستان کرکٹ بورڈ نمائندگی کی۔ جب بگ تھری کا بشمول بھارت نے اپنی دال گلتی نہ دیکھی تو سازش کرکے پاکستان کرکٹ بورڈ کے سرپرست اعلیٰ وزیراعظم پاکستان کواپروچ کیا اور جیسے ہی سنگاپور کے اجلاس سے ذکاء اشرف واپس آئے انہیں فارغ کر دیا گیا حالانکہ ذکاء اشرف نے سنگاپور جانے سے پہلے وزیراعظم جو کہ کرکٹ بورڈکے سرپرست اعلیٰ ہیںکو متعدد دفعہ درخواست کی کہ سنگاپور اجلاس سے پہلے ان سے ملاقات کر لی جائے تاکہ وہ سنگاپور میں حکومتی پالیسی کو پیش کریں مگر ذکاء اشرف کی درخواست کو درخود اعتناء نہ سمجھا گیا اس طرح ایک مخصوص میڈیا گروپ نے جو اپنے کاروبار کی خاطر ملکی مفادات کو ہمیشہ دائو پر لگاتا آیا ہے نے اپنی کارروائیاں جاری رکھی۔اور اب آئندہ برس اور رواں برس کرکٹ کے 2بڑے ایونٹ ہوں گے جن میں ڈیرھ ارب ڈالرسے زیادہ کے کمرشل حقوق میڈیا کو دیئے جائیں گے اور اب بگ تھری کی آشیرباد سے یقینا اسی میڈیا گروپ کو ملتے نظر آتے ہیں جس میں سے نجم سیٹھی 35پنکچر لگانے کا اپنا حصہ وصول کریں گے۔ قارئین۔ ذکاء اشرف سے میری دوستی اور ذاتی تعلقات شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے مرہون منت ہیں۔ 2008ء کے الیکشن کے بعد جب سابق صدر زرداری صاحب نے ذکاء اشرف کو زرعی بینک پاکستان کا چیئرمین بنایا اور بعدازاں چیئرمین کرکٹ بورڈ بنایا تو ان چھ سالوں میں ایک بھی دفعہ میں ان کے سرکاری آفس میں نہ گیا۔ مگر ہمارے تعلقات برقرار رہے اور نجی تقریبات اور محفلوں میں شرکت ہوتی رہی۔ ذکاء اشرف کو بحیثیت ایک انسان میں نے دیکھا ہے کہ وہ چھوٹی موٹی ’’چول‘‘ نہیں مارتا اور وہ ذہنی ’’رَجّا‘‘ ہوا شخص ہے جو نجم سیٹھی کی طرح کاروباری برادری بھی سے نہیں ہے۔ چیلیاں والا کے اس گجر نے ہمیشہ اپنی انا کو مقدم رکھا۔ سنٹرل ایگزیکٹو کونسل اور فیڈرل کونسل کے اجلاس میں شہید بی بی نے ذکاء اشرف کے کمنٹس کو توجہ بخشی۔ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پارٹی قیادت سے میرے اختلافات گویا اصولی تھے مگر پچھلے 6سالوں میں جب کبھی میرے صبر کا امتحان آیا ذکاء اشرف نے ہر موقع پر مجھے سمجھایا اور تھامے رکھا۔ میں آج بھی پیپلزپارٹی کا حصہ ہوں اس میں اس دلیر گجر کا بڑا ہاتھ ہے۔ یہی وجہ ہے کہ نجم سیٹھی کو عدالت نے جب عہدے سے ہٹایا تو وہ گھبرا گئے ایک تو ان کو پتہ تھا کہ مسلم لیگ ن کے وفاق میں نائب صدر سابق سپیکر قومی اسمبلی اور موجودہ سینیٹر جعفر اقبال بہنوئی ہیں۔ ذکاء اشرف کی ہمشیرہ بھی ایم این اے ہیں جبکہ ان کی بھانجی صوبائی اسمبلی کی رکن ہیں جبکہ تحریک انصاف کے مرکزی راہنما اور ایم این اے چوہدری شفقت محمود کزن اور عزیز ہیں۔ اسی مضبوط لابی کے خوف نے نجم سیٹھی کو حواس باختہ کر دیا اور انہوں نے 35پنکچر کا کارنامہ خود ہی اپنے ڈپلومیٹ بڑوں کے ذریعے پبلک تک پہنچا دیا ۔ دراصل یہ ایک پیغام تھا شریف برادران کے لیے کہ اگر مجھے دیا گیا عہدہ چھینا گیا تو میں اپنا 36واں پنکچر میاں برادران کو لگا دوں گا۔ اس لیے میاں برادران نے چھری کے نیچے سے اپنی گردن نکال کر ذکاء اشرف کا ’’بلیدان قربانی‘‘ دے دی ہے۔ مگر اس سازش کے پیچھے خفیہ ہاتھ اسی میڈیا گروپ کا ہے جنہوںنے بھارت کے مفادات کے تحفظ کی پاکستان میں قسم کھائی ہے۔ نجم سیٹھی کی صورت میں پاکستان کرکٹ بورڈ پر حکمرانی کا خواب پورا ہو گیا ہے۔ پاکستان کرکٹ کو ہمیشہ کے لیے بگ تھری کا طفیلی بنا دیا ہے چند ٹکوں کی خاطر ملکی مفادات کا سودا کرنے والے سازش کرکے کرکٹ کو پاکستان سے متحدہ عرب امارات منتقل کرنے والی قوتیں بھلا کب گوارہ کرتی ہیں کہ ان کے مفادات کو چھیڑا جائے۔بگ تھری اور بھارت کی سازش کا یہ حال ہے کہ گذشتہ آئی سی سی کے اجلاس میں آسٹریلوی چیئرمین کرکٹ بورڈ نے ذکا اشرف کو کہا کہ پاکستان کرکٹ کا کیا معیار اور کریبلٹی ہے ، ہو سکتا ہے کہ تم اگلے اجلاس میں شریک ہی نہ ہو۔ ان سب واقعات سے اندازہ لگایا جا سکتا ہے کہ کچھ اندرونی اور بیرونی قوتوں نے پاکستان کرکٹ بورڈ کو اپنے حصار میں یرغمال بنایا ہوا ہے۔ چوہدری ذکاء اشرف جو کہ ایک جہد مسلسل کا نام ہے وہ یہ سب کچھ اپنی آنکھوں کے سامنے ہوتا ہوا نہ دیکھے گا ۔ ذکاء اشرف نے ان مشکل حالات میں انصاف کا دروازہ کھٹکھٹادیا ہے۔جہاں سے یقینا انصاف ملے گا۔ ذکاء اشرف کو زندہ رہنے کے لیے کسی چیئرمینی اور صدارت کی ضرورت نہیں اتنا بڑا کامیاب بزنس مین اور انڈسٹریل پرسن اور زمیندار ہونے کی وجہ سے اسے نجم سیٹھی جیسی ’’چولیں‘‘ مارنے کی ضرورت نہیں وہ باز رکھنے کا عادی ہے جو چڑیا کا شکارنہیں کرتا۔ اس وقت کرکٹ کی بحالی کے لیے قوم ذکاء اشرف کے ساتھ کھڑی ہے یقینا حق کا بول بالا ہوگا اور ضمیر کا سودا کرنے والی قوتوں کو شکست ہو گی۔ بقول شاعر: نہیں تیرا نشیمن قصرِ شاہی کے گنبد پر تو شاہین ہے بسیرا کر پہاڑوں کی چٹانوں پر یقینا ذکاء اشرف نجم سیٹھی کا 36واں شکار ہے اور اللہ کرے آئندہ وہ شکار کرنے کے قابل نہ رہیں!
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus