×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہاری کمپیوٹر،نقص نگار اور کون بنے گا کروڑ پتی
Dated: 01-Mar-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کی پہلی برسی کے موقع پر میں بھی ساتھیوں کے ساتھ گڑھی خدا بخش گیا ہوا تھا قبر پر فاتحہ کے بعد پارٹی ایف سی ، سی ای سی اجلاس میں مدعو تھے۔ اس سے فارغ ہوئے تو سینیٹر صفدر عباسی نے مجھے اور عبدالقادر شاہین کو بی بی اور بھٹو شہیدکے آبائی گوٹھ چلنے کی دعوت دی ۔ مجھے بڑا تجسس تھا کہ ان لوگوں سے ملنے کا موقع ملے جو شہید بی بی سے ملے ہوں انہیں جانتے ہوں۔ ہم تین گاڑیوں کے قافلے کی صورت گوٹھ پہنچے ۔ ٹوٹی پھوٹی گلیوں ناپختہ سڑک گوٹھ کی خستہ حالی کا نقشہ پیش کر رہا تھا۔ صفدر عباسی صاحب کی گاڑی جس میں باجی ناہید خان اور عبدالقادر شاہین اور میںموجود تھے ایک نیم پختہ مکان کے سامنے جا کر رکی۔ گھر کے مکینوں نے ہمارا استقبال روایتی گرم جوشی سے کیا۔ ہماری تواضع چائے بسکٹ سے کی گئی۔ اس دوران سینیٹر صفدر عباسی نے ایک 30سالہ نوجوان کو آواز دی وہ ہمارے سامنے آ کر بیٹھ گیا۔ صفدر عباسی صاحب نے کہا مطلوب اس نوجوان سے پاکستان کی سیاست اور پی پی پی سے متعلق کوئی بھی سوال پوچھ سکتے ہو۔ گھنٹہ بھر اس سے اردو انگلش میں بات کی تاریخ پاکستان تاریخ پیپلزپارٹی کے حوالے سے وہ نوجوان میرے سوالات کا جواب فر فر دے رہا تھا مگر حیرت کی انتہا نہ رہی جب مجھے بتایا گیا کہ یہ نوجوان ہاری چِٹا اَن پڑھ ہے مجھے حیرت میں گم دیکھ کر وہ نوجوان ہاری بولا صاحب ایک دفعہ شہید محترمہ بے نظیر بھٹو ہمارے گوٹھ آئیں اپنی زمینوں کا وزٹ کیا پھر مجھ سے گویا ہوئی کہ آپ کے پاس روزگار ہے ہم آپ کو نوکری دے دیتے ہیں تو میں نے شہید محترمہ سے کہا مجھے نوکری سے بہتر یہ ہے کہ آپ اپنا ہاتھ ایک دفعہ میرے سر پر پھیر دیں۔ شہید محترمہ نے فوراً میرے سر پر ہاتھ پھیر دیا۔ اور وہ دن اور آج کا دن میرا حافظہ کمپیوٹر کی مانند ہو گیا ہے۔ مجھے سندھی کے علاوہ کوئی زبان نہ آتی تھی اب میں اردو اور انگلش بولتا ہوں۔ میں اپنے سامنے زندہ معجزے کو دیکھ کر ششدر رہ گیا کہ ایک اَن پڑھ انسان اتنا صاحب علم ہو سکتا ہے۔ مجھے واقعہ آج شدت سے اس لیے یاد آ رہا ہے کہ کچھ مہینوں سے مسلسل میرے ای میل پرایک مشترکہ میل وصول ہو رہی ہے جس میں راقم سمیت پاکستان کے ہر قابل ذکر کالمسٹ کے مضامین میں سے نقائص چن چن کر نکال لیتے ہیں اور پھر 2سو سے 3سو لکھاریوں کو مشترکہ ای میل کی جاتی ہے۔ جن میں ان لکھاریوں کو مفید اور مفت مشورے بھی دیئے جاتے ہیں۔ ان کالم نگاروں میں حسن نثار، عرفان صدیقی، اوریامقبول ،انصار عباسی، جاوید چوہدری، مبشر لقمان سے لے کر راقم تک شامل ہیں۔ موصوف کے کام سے لگتا ہے کہ وہ روزانہ درجنوں کالموں کا مطالعہ کرتے ہیں سینکڑوں اخباروں کی ورق گردانی کرتے ہیں۔ یہ کام خدائی خدمت گار، نقاد موصوف ’’شاہد کنور‘‘ صاحب نام کے کوئی صاحب ہیں ان کے ای میل سے لگتا ہے موصوف صرف ایک پوری ٹیم کے ساتھ یہی کام کرتے ہیں کیوں کہ اکیلے بندے کا یہ کام نہیں بلکہ اب تو انہوں نے لائیوٹاک شوز کے مدعوعین پر بھی طالع آزمائی شروع کر دی ہے۔ مجھے یقین ہے کہ ڈاکٹر اجمل نیازی ،جناب سعید آسی سمیت محترم قلم کاروں کے پاس ایسے نقادوں کو جواب دینے کے لیے وقت نہیں۔ موصوف شاہد کنور صاحب سال بھر365دن اسی کام میں لگے رہتے ہیں۔ اس پر مجھے ایک کہانی یاد آ رہی ہے کہ ایک دفعہ کا ذکر ہے ایک مشہور مصور نے ایک شاہکار تصویر بنائی اور اس کو شہر کے عین بیچ چوراہے پہ لٹکا دیا اور نیچے اک قلم رکھ دیا اور لکھا اگر آپ کو اس تصویر میں کوئی غلطی نظر آئے تو نشان لگا دیں۔ شام کو مصور واپس آیا تو شاہکار تصویر اوپر لگائے گئے بے شمار نشانات کے تلے گم ہو چکی تھی۔ مصور بڑا اداس غمگین گھرپہنچا اور رنجیدہ ہو کر بیوی سے اس کا ذکر کیا۔ سمجھدار بیوی نے مصور کو پھر ایک شاہکار تصویر بنانے کو کہا۔ جب تصویر بن گئی تو اس کو پھر چوراہے کے درمیان لٹکانے کا کہا اور نیچے رنگ اور برش رکھ دیا کہ اگر آپ کو تصویر میں کوئی نقص نظر آتی ہے تو براہ کرم بُرش پکڑ کر اس کو صحیح کر دیجئے۔ شام کو مصور واپس آیا تو دیکھ کر حیران رہ گیا کہ تصویر پر ایک بھی نشان نہیں تھا اور وہ بالکل صحیح پوزیشن میں تھی۔ سچ کہا کسی کی غلطی نکالنا آسان ہوتا ہے خود شاہکار بنانا مشکل کام ہے۔ میں یہ بات سمجھتا ہوں کہ آج بے شمار سہولیات کے باوجود پوری انوسٹی گیشن ٹیم اور ریسرچ ٹیم کی موجودگی میں بھی کالم نگاروں قلم کاروں سے کوئی بھول چوک رہ جاتی ہو گی یہ کوئی بعید نہیں ہے۔ کالم نگاری کرنا ایک صنف ہے یہ دریا کو کوزے میں بند کرنے کے مترادف ہے۔ آج سے چند دہایاں پہلے ایک دور تھا جب لوگوں کے پاس وقت تھا اور وہ نسیم حجازی ،محی الدین نواب کی کہانیاں اور اشفاق احمد اور فاطمہ ثریا بجیا کے ناولوں کامطالعہ کرتے تھے۔ خود میں نے بھی 20 سے زائد کتب تصانیف کیں مگر آج کے دور میں انسان کے پاس ٹائم نہیں ہے اسی لیے پاکستان سمیت دنیا بھر میں کالم نگاری کا رواج بڑھ گیا ہے یہی وجہ ہے میرے سمیت متعدد لکھاریوں نے کالم کار بننے کا فیصلہ کر لیا۔ موصوف شاہد کنور صاحب (اگر وہ واقع کہیں ہیں) سے درخواست ہے کہ تنقید کرنا آسان ہوتاہے آپ خود اس فیلڈ میں آ کر زور آزمائی کریں یقینا آپ کے چاروں طبق روشن ہو جائیں گے ۔ ایک کالم کار کا مقصد کرنٹ افیئرز کے معاملات کو اخبارات کے مختصر صفحات پر اپنے حصہ میں آنے والی جگہ پر لکھنا اور اطلاع بہم پہنچانا ہی نہیں بلکہ تجزیہ تبصرہ کے علاوہ مشورہ اور رائے دینا مقصود ہوتا ہے ۔میری موصوف نقاد بھائی سے عرض ہے کہ وہ میدان عمل میں کودیں اور خود لکھنا شروع کریں۔ یاد رکھیں جب آپ کسی کی طرف ایک انگلی اٹھا رہے ہوتے ہیں اس وقت تین انگلیاں آپ کی سمت اٹھ چکی ہوتی ہیں۔ آج کے اس مشکل دور معروضی حالات میں ایک طرف دہشت گرد طالبان سرمایہ دار حکمران پارٹی جاگیردار کارخانے دار سے ٹکرا کر کالم لکھنا دل گردے کا کام ہے محترم شاہد کنور صاحب کی انفرمیشن معلومات اگر اتنی ہی مکمل ہیں تو موصوف کو امیتابھ بچن کے پروگرام ’’کون بنے گا مہا کروڑ پتی ‘‘ میں حصہ لے کر خوشحالی کی جانب قدم بڑھانا چاہیے تاکہ علم اورمعلومات کا کچھ تو فائدہ ہو؟
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus