×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اندرونی سیاسی خلا اور بیرونی دبائو
Dated: 01-Apr-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com وطن عزیز پچھلے 67 سال سے مختلف انواع کے تجربات کرتے ہوئے ایک ایسی لیبارٹریز کی شکل اختیار کر چکا ہے جو کسی بھی وقت خطرناک صورتحال اختیار کر سکتا ہے اب تک تو ہم نے اپنی ذاتی خواہشات کی تسکین کیلئے اسے تختہ مشق بنائے رکھا ہے۔ قائداعظم کی بے وقت رحلت نے جیسے ہمارے پائوں اکھاڑ دئیے ہیں۔ خاص طور پر پچھلے 34 سالوں میں سیاسی قیادت نے بھی بالغ نظری کا ثبوت نہیں دیا۔ ملک کے ایک مستقل حکمران طبقے نے بار بار الیکشن میں دھاندلی کے ریکارڈ توڑ کر ایک ایسی سیاسی انوائرمنٹ کی بنیاد رکھی ہے کہ اب شاید ہی کوئی مداریوں کے کرتوتوں پر اعتبار کرے؟ خاص طور پر 11 مئی 2013ء کو ہونے والے انتخابات جس سے پہلے اس وقت کے چیف جسٹس افتخار احمد چوہدری نے ایسی فضا قائم کی آئین کے آرٹیکل 62 اور 63 کا ایسا ڈھنڈورا پیٹا گیا۔ سینکڑوں امیدواران کو ڈس کوالیفائی دھمکیاں دی گئیں مگر 11 مئی کو ہونے والے الیکشن میں مشرف کے علاوہ سبھی چور اْچکے عادی مجرم قومی مجرم اقتصادی لوٹ مار کرنے والے کرپشن کے ریکارڈ قائم کرنے والے ملکی خزانے اور ابا جی کی تجوری سمجھنے والوں کو ایک دفعہ پھر دن کے اْجالے میں پاکستان لوٹنے کی اجازت دے دی گئی۔ اس طرح عوام جو سیاستدانوں، فوجی آمروں، اسٹیبلشمنٹ کے ہاتھوں ڈسے ہوئے تھے ایک عدلیہ رہ گئی تھی اس پر سے بھی عوام کا اعتبار اب اْٹھ گیا ہے۔ 11 مئی کے انتخابات سے پہلے ڈاکٹر طاہر القادری نے قوم کو جگانے کی کوشش کی مگر افیون کھا کر سوئی ہوئی اس قوم کو خوابِ غفلت سے جگایا نہ جا سکا۔ الیکشن کے بعد جواں ہمت عمران خان نے ابھی سیاست کو 180 کے زاویہ پر تبدیل کر لیا، تبدیلی کے نام پر ووٹ لیکر موصوف وطن عزیز کو سٹون ایج میں واپس لے جانے چاہتے ہیں۔ 60 فیصد تحریک انصاف کی قیادت اپنے لیڈر کے فیصلے سے خوش نہیں۔ شاہ محمود قریشی، جاوید ہاشمی اور قصوری صاحب جانتے ہیں کہ اب اگلے الیکشن کیلئے ان کے پاس کوئی سلوگن نہیں بچا۔ تبدیلی قدامت پسندی میں تبدیلی ہو چکی ہے نواز شریف اور دیگر قوتوں نے تحریک انصاف کو خیبر پی کے کا اقتدار دلا کر کچھ اس محاورہ کی ایسی صورتحال پیدا کر دی ہے کہ ’’کھاواں تے ہوواں کوڑھی چھڈاں تے لاج لگے‘‘۔ پیپلز پارٹی کی سیاسی چھاننی میں اتنے چھید ہو چکے ہیں کہ اب برسوں تک جس کی بہتری کی امید نہیں پنجاب کی صورتحال اور جیالے کی زبانی یوں ہے کہ آئندہ بلدیاتی الیکشن کیلئے پارٹی کے پاس 95 فیصد امیدواران کی کمی ہے صرف لاہور میں پیپلز پارٹی کسی مقامی این جی او کے مقابلے میں بھی امیدوار کھڑا کرنے کی استطاعت نہیں رکھتی۔ مسلم لیگ (ن) اور میاں برادران سے یہ توقع تھی کہ جلاوطنی کی اذیت سہہ کر شاید سیاسی تدبر حاصل کیا ہو مگر گزشتہ انتخاب کے بعد وسیع دھاندلی کے رکیک الزامام جو کچھ پلیٹ فارم پر ثابت بھی ہو چکے ہیں کے بعد یماں صاحبان کی حکومت کی کریڈیبلٹی نقطہ انجماد سے بھی گر چکی ہے اور اوپر سے وہی گھسی پٹی مشاورتی ٹیم اور وہی فیملی کے وزراء۔ دراصل میاں صاحبان نے ایک پِٹ چکی فلم کو کاسنٹیکس کر کے پھر سے چلانے یک کوشش کی ہے اور ہمیشہ طرح یہ تجربہ بھی کانام رہا ہے۔ مسلم لیگ قائداعظم چودھری پرویز الٰہی، شجاعت حسین ہر روز پارٹی لیڈر شپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔ چوہدری برادران پیپلز پارٹی کے ساتھ الحاق کر کے ڈیڑھ دو سال کی نائب وزارتِ عظمیٰ کا لولی پاپ لیکر اپنے سیاست کے پائوں پر کلہاڑی مار چکے ہیں۔ ایم کیو ایم اندرونی خلفشار اور اپنے قائد کے متعلق گومگو کی صورتحال سے پریشلان ہے جبکہ اے این پی، جمعیت علمائے اسلام، جماعت اسلامی سمیت سیاسی پریشر گروپس بھی اپنی سروائیول کی جنگ لڑ رہے ہیں۔ سیاسی افراتفری کے اس عالم میں میڈیا میں انوسٹمنٹ اتنی بڑھ گئی ہے کہ رئیل اسٹیٹ سمیت ہر سرمایہ دار اپنا ٹی وی چینل چلانے کا خواہاں ہے اور اسی میں ہی وہ خود کو محفوظ سمجھتا ہے۔ مذہبی سیاسی جماعتیں کھل کر سامنے آ چکی ہیں۔ پچھلے 13 سال سے مسلسل لیگ رہ کر اب جماعت اسلامی اور مولانا سمیع الحق کی پارٹی طالبان کے سیاسی ڈھڑوں کی حیثیت سے سامنے آئے ہیں اور آج عالمی سطح پر حالات یہ ہیں وطن عزیز شدید تنہائی کا شکار ہے۔ روس، شام، ایران سے ہزیمت اٹھانے کے بعد سعودی عرب کو امریکی دوستی کا بھی ایسا دھچکا لگا کہ بے بس مجبور سعودی عرب اور گلف حکمرانوں نے پاکستان کی طرف دیکھنا شروع کر دیا ہے۔ چونکہ القاعدہ کڑیاں عربوں سے ملتی ہیں اس لئے طالبان اْن کے زیر اثر ہیں یہی وجہ لگیتی ہے کہ سعودی عرب نے چند ارب ڈالرز دیکر اور طالبان سے پاکستان کی جانا چھڑانے کا لالچ دیکر پاکستان کی مسلمہ خارجہ پالیسی کا کنٹرول اپنے ہاتھ میں لینے کی خواہش کی ہے۔ اگر عربوں کا وار کارگر ہو گیا تو پاکستان کو اپنی خارجہ حکمتِ عملی میں بڑی بنیادوں پر اکھاڑ بچھاڑ کرنی پڑے گی۔ آج کے دوست کل کے دشمن بن جائیں گے اور آسمان سے گرا کھجور پہ اٹکا کے مصداق طالبان سے جان تو شاید چھوٹ جائے گی مگر مملکتِ عزیز پاکستان ایک نئی جنگ میں پانی عوام کو جھونک دے گا اور یہ جنگ ہمارے گلی کوچوں میں لڑی جائے گی مسلک اور فرقوں کی بنیاد پر لڑی جانے والی اس خانہ جنگی کے اثرات اتنے شدید ہو جائیں گے کہ ان کی تپش سے ملکی سالمیت شدید خطرات کا شکار ہو جائے گی۔ گزشتہ دنوں ایران کے وزیر خارجہ کی طرف سے دھمکی آمیز بیانات اس سلسلہ کی قبیح ہے اور یوکرائن کو زیر کر کے کریمیا کو آزاد ریاست بنا کر روس نے اپنے کم بیک کا اعلان کر دیا ہے۔ ان حالات میں ملک کے اندر سیاسی انتشار اور ایک بڑے سیاسی خلا کے واضح علامات ہیں اور خارجہ محاذ پر ہم سعودی اور ایران چپقلس کے بیچ پھنس کر رہ جائیں گے اور خارجی دبائو کو برداشت کرنے کی ہم میں سکت نہیں ہے۔ اس لئے جب تک اندرونی سیاسی خلا پْر نہیں ہو گا محبِ وطن قوتیں تماشہ دیکھنے کی بجائے ملکی معاملات میں اپنی دلچسپی ظاہر نہیں کرتیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری برادران اور ایم کیو ایم کی متوقع نئی قیادت کسی بھی حالت میں نئی صورتحال کو سنبھالنے کا ادراک رکھتے ہیں جبکہ موجودہ صوبائی و وفاقی حکمرانوں پر عوام ایک دفعہ پر اعتبار کرنے کو تیار نہیں۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus