×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پاک فوج بمقابلہ موروثی سیاست اور ردِ انقلاب
Dated: 19-Apr-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قیامِ پاکستان کے دن سے ہی وطن عزیز کو مفاداتی، استحصالی طبقے نے اپنے پنجوں میں جکڑنا شروع کر دیا۔ دراصل دو قومی نظریہ کی بنیاد پر معرضِ وجود میں آنے والی نوزائیدہ مملکت کو ابتدا میں ہی حضرت قائداعظم اور قائدِ ملت کی رحلت جیسے سانحات نے اپنی گرفت میں لے لیا اور برصغیر کے ان مفاد پرست طبقات کو جن کو تقسیم ہند کے بعد اپنی مراعات چھن جانے کا ڈر تھا۔ ان سرمایہ داروں، جاگیرداروں، نوابوں، مخدوموں، لغاریوں اور مزاریوں،چودھریوں اور قبائلی سرداروں نے پاکستان کی اساس کو پنپنے کا موقع ہی نہ دیا جبکہ بھارت میں تقسیم کے بعد زرعی اور معاشی اصلاحات کے نفاذ کا اعلان کرکے تقسیم ہند کے تقریباً مقاصد حاصل کر لیے اور انہیں موقع مل گیا کہ وہ اپنے ہمسایہ کو سیاسی اور معاشی طور پر اتنا کمزور کر دیں کہ جسے وہ جب چاہے آسانی سے ہڑپ کر لے۔ سانحہ مشرقی پاکستان اور سقوطِ ڈھاکہ اس سلسلے کی پہلی کڑی تھی ۔ میں حیران ہوں کہ تقسیم ہند کے نتیجے میں یہ سارے استحصالی طبقات ہمارے حصے میں ہی کیوں آئے؟ آپ 1947ء کی پارلیمنٹ اور 2013ء میں منتخب ہونے والی پارلیمنٹ کا اگر موازنہ کریں تو آپ پر یہ حقیقت واضح ہونے میں دیر نہیں لگے گی کہ کل جو مفادات دادا اور نانا لے رہے تھے وہی آج پوتا اور نواسہ لے رہے ہیں۔ 60ء کے عشرے کے آغاز میں ذوالفقار علی بھٹو کے سیاست میں قدم رکھنے اور ان کی شہادت تک جو واقعات و حادثات رونما ہوئے اور اس کے شدید تر ردعمل کے جواب میں عوام نے ان کی بیٹی کو اپنا لیڈر مان کر اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا، بات یہیں پر ختم نہیں ہوئی ،شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد ان کے شوہر نے ایک جعلی وصیت کے ذریعے ایک دفعہ پھر عوامی جذبات سے کھیل کر خود کو منصب صدارت پر براجمان کر لیا اور اب موصوف مستقبل میں اپنے جواں عمر بیٹے کو وزیراعظم بنانے کے خواب دیکھ رہے ہیں۔ پارلیمانی سیاست میں یہی حال پاکستان کے ہر حلقہ انتخاب میں پایا جاتا ہے جہاں ممدوٹ، دولتانے، قریشی، مخدوم 66سال سے اسی حلقۂ انتخاب پر قابض چلے آ رہے ہیں کہیں پوتا ہے تو کہیں نواسہ ہے گذشتہ دنوں ملکی سیاست میں مدوجزر رونما ہوئے گذشتہ انتخابات کے دوران ملکی تاریخ کے دھاندلی سب سے سنگین واقعات وقوع پذیر ہوئے ۔ قوم اسے الیکشن میں ایک تیسری قوت کو موقع فراہم کرنا چاہتی تھی تاکہ ان کے ساتھ ہونے والی زیادتیوں کا سدباب اور احتساب ہو سکے۔ پی ٹی آئی کی قیادت کی ناتجربہ کاریوں اور نااہلیوں کے باوجود عوام کی طرف سے انہیں بھرپور پذیرائی ملی مگر یہ عوام کے بس میں نہ تھا کہ وہ انتخابی نتائج بدلنے والوں کے ہاتھ روک سکتے۔ تاریخ کے اس بدترین دھاندلی زدہ الیکشن کے ردعمل کے طور پر پی ٹی آئی کی قیادت کو جو قدم اٹھانا چاہیے تھا وہ اپنی نا تجربہ کاری اور سیاسی بزدلی کی وجہ سے نہ اٹھا سکے اس کا نتیجہ یہ نکلا کہ چوروں، راہزنوں، لٹیروں اور قومی خزانے کے ڈاکوئوں کو سڑکوں پر گھسیٹنے کے انتخابی نعرے مشترکہ سیاسی مفادات کے نیچے دب کر رہ گئے۔ پی ٹی آئی کو ایک شورش زدہ صوبہ خیبرپختونخواہ کی وزارتِ اعلیٰ دے کر اقتدار کے کیک میں سے ایک چھوٹا سا ٹکڑا دے دیا گیا۔آج میرے بہت سے دوست اس بات پر متفق ہیں کہ اگر عمران خان کو پی سی بی کا چیئرمین بنا دیا جاتا تو موصوف پی ٹی آئی کے سارے مینڈیٹ کو نوازشریف کی جھولی میں ڈالنے کی دیر نہ کرتے۔ عمران خان کے سیاسی نابالغ پن کا اس سے بڑا ثبوت کیا ہو سکتا ہے کہ موصوف نے الیکشن 2013ء سے صرف دو ماہ پہلے ایک بیان میں اس خواہش کا اظہار کیا تھا کہ ’’مجھے کے پی کے کا گورنر بنا دیا جائے تو میں کے پی کے کے حالات ٹھیک کر سکتا ہوں‘‘ عمران خان کا دھاندلی اور کرپشن کے خلاف احتجاجی ریلیاں اور جلوس نکالنے کا وعدہ نہ جانے کب پورا ہوگا اور تو اور وہ اپنی کے پی کے کی حکومت کو ابھی تک پی پی پی کی اتحادی اے این پی جو کہ گذشتہ 5سال کے پی کے میں کرپشن کے پہاڑ لگا چکی ہے اس کے خلاف ایک بھی مقدمہ کے پی کے میں درج نہیں کروا سکی۔ جس سے یہ ثابت ہوتا ہے کہ عمران خان کا کرپشن کے خلاف نعرہ محض ایک انتخابی چال و نعرہ تھا۔ گذشتہ چند مہینوں سے پاکستان مسلم لیگ ن کی بشمول قیادت اور جماعتِ اسلامی، جمعیت علماء اسلام و دیگر مذہبی نیم سیاسی پارٹیاں پاک فوج کو سبق سکھانے کے لیے مسلسل کوشاں ہیں اور اپنے اسی مقصد کے حصول کے لیے مسلم لیگ ن کے اتحادی دوستوں نے شہادت جیسے عظیم فلسفہ کو بھی متنازعہ بنانے کے لیے اپنی سعی کاوشیں کیں جس کے نتیجے میں ہونے والے عوامی ردعمل کی وجہ سے بچی کھچی جماعت اسلامی نے مولانا سید منور حسن کو دوسری مرتبہ امیر منتخب نہ کیا جبکہ مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں کی مسئلے پر فکرانگیز خاموشی اپنے اندر کئی معنی پنہاں رکھتی ہے جبکہ مسلم لیگ ن کی قیادت کی طرف سے پراسرار خاموشی دیکھنے میں آئی۔3نومبر2007ء کے اقدام کے نتیجے میں مشرف کو سزا دینے کی خواہش البتہ مسلم لیگ ن کی قیادت کے دلوں میں مچلتی رہی ۔ سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری جو کہ سموسے مہنگے ہونے پر سوموٹو نوٹس لینے میں اپنا ثانی نہیں رکھتے تھے اور جنہوں نے گذشتہ 6سال کے دوران پیپلزپارٹی کے ایک وزیراعظم کو سبکدوش کیا اور دوسرے وزیراعظم کو بھی مسلسل تلوار کی نوک پر رکھا جبکہ ایک سفیر برائے امریکہ ارشاد حقانی کو مستعفی ہونے پر مجبور کیا۔ گذشتہ 6سالوں کے دوران پیپلزپارٹی درجہ چہارم کے ملازمین کو بھی اپوائنٹ کرنے سے اعلیٰ عدلیہ کے سوموٹو سے ڈرتی رہی تو کیا سابق چیف جسٹس کو ایک دفعہ بھی خیال نہ آیا کہ وہ اس وقت کی حکومت کو جنرل مشرف کی قانون شکنی سے متعلق کیس تیار کرنے کا حکم صادر فرماتے۔ آخر اس کے لیے انہیں نوازشریف کے ہی دورِ حکومت کا انتظار کیوں کرنا پڑا؟ دراصل امریکہ، اسرائیل، بھارت اور سعودی عرب سمیت گلف ریاستیں ایک مضبوط پاکستان اور مضبوط پاک آرمی کو برداشت نہیں کرتیں چونکہ میاں نوازشریف اپنے جعلی مینڈیٹ والا اقتدار سعودی عرب اور امریکہ کے مرہونِ منت سمجھتے ہیں اس لیے وہ اپنے اقتدار کو بچانے کے لیے کسی بھی حد تک جانے کے لیے تیار ہو سکتے ہیں۔ یاد رکھیے! یہ امریکہ اور مغرب کی شدید ترین خواہش ہے کہ پاک فوج کو ان کے اپنے ہی گھر میں متنازعہ بنا دیا جائے۔ سامراجی قوتیں یقینا یہ سمجھتی ہیں کہ ’’سی آئی اے‘‘،’’موساد‘‘، ’’کے جی بی‘‘ اور’’ را‘‘ کو شکست دینے والی آئی ایس آئی اور پاک فوج کو فیئرپلے کے ذریعے ہرانا ممکن نہیں یہی وجہ ہے گذشتہ دنوں میاں نوازشریف اور سابق صدر زرداری ایک بار پھر سرجوڑ کر بیٹھے اور یہ طے پایا کہ ’’دودھ پی جانے والے بلے‘‘ کو اب کی بار ایسے ہی نہ جانے دیا جائے گا جبکہ پی پی پی پنجاب میں آئندہ الیکشن کے لیے اپنا رستہ ہموار کرنا چاہتی یہ اور مسلم لیگ ن کی حکومت پنجاب میں بلاول بھٹو کے دورے کو فول پروف انتظامات کے ذریعے محفوظ ترین بنانا چاہتی ہے تاکہ اس تیسری قوت جس کا نام تحریک انصاف ہے اس کی متوقع آمد کو روکا جا سکے اور تھوڑے بہت فیئر پلے کے ذریعے اقتدار پھر میاں برادران اور زرداری خاندان کے درمیان جھولتا رہے۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus