×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بھارتی دفاعی بجٹ۔ ہمارے لیے لمحہ فکریہ
Dated: 17-Jul-2009
کچھ پاکستانی دانشوروں کے پیٹ میں بھارت سے دوستی کا مسلسل درد اور کچھ کے پیٹ میں وقتاً فوقتاً مروڑ اٹھتا رہتا ہے۔ اس کے باوجود کہ بھارت نے پاکستان کو نقصان پہنچانے، بدنام کرنے اور دنیا سے الگ تھلک کرنے کا موقع کبھی ضائع نہیں کیا۔ بھارت اگر یہ سب بھی نہ کرے تو بھی کشمیر اور کشمیروں کی قسمت کا فیصلہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق ہونے تک بھارت کے ساتھ کسی بھی قسم کا لین دین، تجارت، طائفوں کے تبادلے یکسرختم کر دینے چاہئیں۔ ایک طرف ہندوبنیا، پاکستان کے ساتھ مشروط دوستی، تعلقات بہتر بنانے کی بات کرتا ہے تو دوسری طرف اسلحہ کے انبار لگا رہا ہے۔ اسلحہ کے ڈھیر آخر وہ کس کے خلاف لگا رہا ہے۔ بنگلہ دیش، سری لنکا، نیپال، بھوٹان یا مالدیپ کے خلاف۔ یہ ممالک تو بھارت کے سامنے اونچی آواز میں بولنے کا حوصلہ تک نہیں رکھتے۔ چین کے سامنے بھارت کی بولتی بند رہتی ہے۔ آ جا کے ایک پاکستان ہے جس کی آزادی کو ہندو نے قبول کیا نہ برداشت۔ وہ آج بھی اکھنڈ بھارت پر یقین رکھتے ہیں۔ پاکستان کے دوٹکڑے کرکے بھی اس کا مشن مکمل نہیں ہوا۔ اب وہ مزید ٹکڑے کرنے کے درپہ ہے اور سازشوں کے ساتھ ساتھ جنگی تیاریاں بھی کر رہا ہے۔ عالم اسلام کی بات ہوتی ہے تو ہنود و یہود نصاریٰ متحد ہو جاتے ہیں یہی وجہ ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کو فرنٹ لائن اتحادہ قرار دیتا ہے۔ سول نیوکلیئر ٹیکنالوجی کی بات ہوتی ہے بھارت پر نچھاور اور پاکستان نیوکلیئر پروگرام بھی کھٹکتا ہے۔اب بھارت نے اپنے دفاعی بجٹ میں اضافہ کرکے اس کا حجم 14کھرب روپے کر دیا ہے۔ جبکہ پاکستان کا دفاعی بجٹ کل 29کھرب کے بجٹ میں سے 46ارب روپے کے اضافہ کے ساتھ 3کھرب34ارب روپے ہے۔ بھارت کا دفاعی بجٹ پاکستانی روپے کی قیمت کے مطابق (یاد رہے بھارتی اور پاکستانی کرنسی میں فرق 1.6کا ہے)ساڑھے 22کھرب روپے بنتا ہے۔کیا بھارت ساڑھے 22کھرب روپے سے ہمسایہ ممالک کے لیے ویلنٹائن ڈے پر پھول خریدے گا؟ ہمارے حکومتوں نے بھارت کے سامنے جھک کر بہت دیکھ لیا۔ اس سے بھارت کے نخروں اور جارحیت میں اضافہ ہوا۔ وہ پاکستان سے ممبئی حملوں کا حساب مانگتا ہے اورخود ایک لاکھ سے زائد کشمیریوں کے خون کا حساب کیوں نہیں دیتا۔اس پر بھی ایک کمیشن قائم ہونا چاہیے۔بھارت دوستی کی بات نہیںکرتا تو پاکستان کو بھی نہیں کرنی چاہیے۔ اینٹ کا جواب پتھر کی بجائے پھولوں سے دیا جائے گا تو بھارتی اکڑ میں مزید اضافہ ہوگا۔ اینٹ کا جواب پتھر سے دیا جائے گا تو یہ اپنی اوقات میں آ جائے گا۔ ایک بزدل جرنیل خوف کے مارے کرکٹ میچ دیکھنے کے بہانے بھارت جا پہنچا۔ دوسرا ایک کانفرنس کے دوران بھارتی وزیراعظم سے اس کی سیٹ ہاتھ ملانے جا پہنچا ہمیں ان جیسے حکمرانوں کی نہیں مجید نظامی صاحب کی طرح ولولہ اور جذبہ رکھنے والے دانشوروں کی ضرورت ہے جن کو جنرل ضیاء الحق نے بھارت کے دورہ کے موقع پر ساتھ چلنے کی دعوت دی مگر تحریک پاکستان کے سپوت اور نظریہ پاکستان ٹرسٹ کے محافظ کا جواب تھا۔ ’’جنرل صاحب ٹینک پر بیٹھ کر بھارت جائو گے تو میں بھی چلوں گا۔‘‘جس پر ایک جرنیل جس کا کام موت کی آنکھوں میں آنکھیں ڈالنا ہوتا ہے کھسیانا ہو گیا۔ اس میں شک نہیں کہ جنگوں کے فیصلے بالآخر مذاکراتکی میز پر ہوتے ہیں یہ بھی حقیقت ہے کہ جنگوں سے ہی قومیں متحد ہوتی ہیں۔ اگر ہم بھارت کے نخرے یونہی برداشت کرتے رہے تو آج اس نے ہمین سازشوں کے ذریعے کھیلوں کے حوالے سے دنیا سے کاٹ کر رکھ دیا ہے تو کل پاکستان کو معاشی اور سیاسی لحاظ سے دنیا سے الگ تھلک کر دے گا۔آج بھارت نے پاکستان کے بارڈر کے ساتھ باڑ لگا کر جس دوستی کا ثبوت دیا ہے کیا دنیا میں اس کی مثال کہیں ملتی ہے۔دنیا کی تاریخ میں اقوام عالم میں ہمسایوں کے ساتھ دوستی اور دشمنی کی مثال تو ملتی ہے مگر باڑیں لگا کر اپنے دشمن کو مقید کر دینا اس کی مثال آج کی اس جدید دنیا میں بھی ڈھونڈنا مشکل ہے۔بھارت پاکستان کو ناکام ریاست اور دہشتگرد قرار دلانے پر تلا ہوا ہے۔ جبکہ کہ ہم اس سے مذاکرات کی بھیک مانگ رہے ہیں۔ وزیرخارجہ ایس ایم کرشنا کا بیان کتنا شرمناک ہے کہ پاکستان جب تک دہشت گردوں کے خلاف کاروائی نہیں کرتا مذاکرات نہیں ہوں گے۔ یہ بیان اس وقت دیا گیا جب وزیراعظم یوسف رضا گیلانی شرم الشیخ کی ’’نام‘‘ کانفرنس میں شرکت کے لیے اسلام آباد ایئرپورٹ پہنچے تھے۔ جہاں ان کی بھارتی وزیراعظم سے ملاقات ہونے والی تھی۔پاکستان امن کے لیے آپشن پر غور کرتا ہے۔وہ مسئلہ کشمیر کا بھی پرامن حل چاہتا ہے لیکن یکطرفہ طور پر امن کا پرچار کب تک ہو سکتا ہے۔ بالآخر انتہائی آپشن ناگزیر ہو جائے گا جس کی وجہ بھارت کا مذاکرات سے فرار ہے۔ ہمیں انتہائی اقدام کی تیاری رکھنی چاہیے۔ بھارت نے اپنا بجٹ ساڑھے 22کھرب روپے کر دیا ہے اس کی آبادی اور رقبہ پاکستان کے مقابلے میں 8گنا زیادہ ہے۔ جنگی وسائل اور بجٹ بھی پاکستان کے مقابلے میں آٹھ گنا زیادہ ہے۔ ہمیں پیٹ کاٹ کر بھی فوج کی ضروریات پوری کرنا چاہیے تاکہ مکار دشمن کا مقابلہ کیا جا سکے اور بھارت کے دفاعی بجٹ سے زائد بجٹ نہیں رکھ سکتے تو اس کے برابر ضرور ہونا چاہیے۔ پاک فوج نے سوات سے بھارت اور ’’را‘‘ کے سپانسرزشرپسندوں کا بڑی جرات اور بہادری سے خاتمہ کرکے ثابت کر دیا کہ پاکستانی فوج دنیا کی بہترین فوج ہے۔ متحد قوم اور فوج مل کر بھارت کے عزائم خاک میں ملا سکتی ہے۔ پاکستان کی شاہ رگ کشمیر کو واگزار کرا سکتی ہے۔ بشرطیکہ یحییٰ خان جیسے شراب میں ڈوبے اور مشرف جیسے مجروں کے عادی حکمران نہ ہوں۔ آج پھر ملک کی باگ ڈور بھٹو کے جانشینوں کے ہاتھ ہے۔ ذوالفقار علی بھٹو نے مسئلہ کشمیر اجاگر کیا۔ اس کے جانشین اسے آزاد کرا کے دم لیں گے۔پچھلے دنوں ہماری فوج کے ایک اعلیٰ افسر نے واشنگٹن کا دورہ کیا اور پروگرام اور ایجنڈے کے مطابق انہیں وہاں پر ایک دن رکنا تھا۔میٹنگ کے اختتام پر پاکستانی افسر کو امریکی میزبانوں نے کہا کہ آپ رک جائیں آپ کے ساتھ چند ایک اور میٹنگز اور گپ شپ ہو جائے تو ہمارے جرأت مند افسر کا جواب تھا کہ میں جس کام کے لیے آیا تھا وہ ہو گیا میرا ملک اس وقت حالت جنگ میں ہے اب میں ایک لمحے کے لیے بھی نہیں رک سکتا۔ضرورت ہے پاکستان کو ان جیسے دلیر اور بہادر لوگوں کی جوقوم اپنے وطن کی مٹی سے اس حد تک مخلص ہو جائے اس کو شکست دینا ناممکن نہیں تو مشکل ضرور ہے۔اس وقت پاکستان جن حالات اور جغرافیائی صورت حال میں ہے ہمارے لیے جومسائل ہیں ان میں ہمیں انتہائی تدبر سے ایک متحد قوم بن کر اپنے دشمنوں سے برسرپیکار ہونا ہے دوسری طرف ’’را‘‘،’’خاد‘‘،’’موساد‘‘ اور ’’سی آئی اے‘‘پاکستان کو کمزور تر کرکے اپنے مذموم مقاصد میں کامیاب ہونے کے لیے بے قرار ہیں۔ان حالات میں ہمیں ملک کی دفاعی ضروریات کو تمام تر چیزوں سے مقدم رکھ کر سوچنا ہوگا اور بھارتی بجٹ کے مقابلے میں ایک لمحہ بھی سوچے بغیر پاک فوج کو اس کی ضرورتوں کے مطابق بجٹ دینا ہوگا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus