×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
لوٹ سیل، کراچی حملہ اور ریڈی میڈ انقلاب
Dated: 10-Jun-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com مجھے آج بمبئی حملے کی وہ فوٹیج ذہن میں آ رہی ہے جس کو بنیاد بنا کر بھارت نے عالمی سطح پر ہمارا ناطقہ بند کیا ہوا ہے مگر اس سے پہلے کیوں نہ پیمرا کے متناظر فیصلے کا ذکر ہو جائے جس نے ملک کے 20کروڑ شہریوں کو بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے۔ ہماری قابل فخر فوج اور عظمتوں کا نشان آئی ایس آئی جس پر ایک ٹی وی اینکر پر ہونے والے قاتلانہ حملے کے بعد ایک عالمی سازش کے تحت کردار کشی مہم شروع کی گئی تھی اور جس کے ردعمل میں پچھلے 50 دنوں سے پوری قوم سراپا احتجاج بنی ہوئی ہے اور پھر اسی نجی چینل کی طرف سے صحابہؓ و اہل بیت کی توہین کی جو جسارت کی گئی اس نے رسالت مآبؐ کے دیوانوں اور عاشقوں کو لرزا کر رکھ دیا۔ پھر جب عسکری قیادت کے دبائو پر چاروناچار وزیر دفاع نے پیمرا کے سرکاری اور غیر سرکاری اراکین میں پھوٹ ڈال کر اس ادارے کا غیر قانونی طور پر ایک ایسے شخص کو چیئرمین لگا دیا گیا کہ جس کی ساری عمر کی سروس کارکردگی یہ ہے کہ وہ رائے ونڈ والوں کا ذاتی ملازم متصور کیا جاتا ہے ۔ اپنی تعیناتی کے چند گھنٹوں بعد پیمرا کے پرائیویٹ اراکین کو نظرانداز کرکے سرکاری اراکین کو بلوا کر ایک مضحکہ خیز فیصلہ نشر کروا دیا جاتا ہے کہ پاک فوج اور اسلامی دنیا کی عظیم انٹیلی جنس ایجنسی آئی ایس آئی کی ساکھ کو نقصان پہنچانے پر ’’جیونیوز‘‘ کو ایک کروڑ جرمانہ اور پندرہ دن کی بندش کا اعلان کیا جاتا ہے جبکہ خود جیو نے افواج پاکستان اور آئی ایس آئی کے خلاف 50ارب روپے کا ہرجانہ دائر کر رکھا ہے۔ پیمرا کے فیصلے نے جہاں پوری قوم کو ششدر کرکر رکھ دیا ہے وہیں اس فیصلے کے پیچھے چھپی موجودہ حکمرانوں کی خواہش بھی اجاگر کر دیا ہے اور دشمنانِ پاکستان کو یہ ترغیب دی ہے کہ ان کا جب دل چاہے وہ ہماری پاک فوج کے خلاف ہرزہ سرائی کرے، تہمت لگائیں اور عالمی سطح پر بدنام کریں تو اس سب پیکج کی سزا یا جرمانہ صرف ایک کروڑ روپیہ اور چند دنوں کی بندش ہو گی۔ قومی اداروں پی آئی اے، سٹیل مل اور ریلوے کی نیشنلائزکرنے کا پلان بنانے والوں نے قومی اداروں کی ساکھ کی قیمت بھی مقرر کر دی ہے۔ دشمنانِ پاکستان کے لیے یہ سنہری موقع ہے کہ وہ اس دھماکہ خیز آفر اور لوٹ سل سے فائدہ اٹھا لیں کیونکہ یہ آفر محدود مدت کے لیے جس دن پاک فوج کے سپہ سالار اور قوم بیدار ہو گئی اس دن ایسی لوٹ سیل لگانے والوں کی نہ صرف شامت آ جائے گی بلکہ آئندہ کسی کو ایسی مذموم حرکت کرنے کی جسارت بھی نہ ہو گی۔ قارئین! میں یہ تحریر لکھ رہا ہوں کہ ٹی وی پر یہ بریکنگ نیوز چلنا شروع ہو گئی کہ کراچی کے جناح انٹرنیشنل ایئرپورٹ پر دہشت گردوں نے حملہ کر دیا ہے۔ یہ دہشت گرد اس سے پہلے جی ایچ کیو، مہران نیوی بیس، اور کامرہ ایئربیس سمیت تمام حساس دفاعی تنصیبات کو نشانہ بنا چکے ہیں لیکن حکمران وقت اپنے غیر ملکی آقائوں سعودی عرب، متحدہ عرب امارات، قطر، کویت اور بھارت کو خوش کرنے کے لیے ان کے پالتو دہشت گردوں سے مذاکرات کی رٹ لگائے بیٹھے ہیں۔ آج بھی سروے کروا کر دیکھ لیا جائے تو 2فیصد سے بھی کم افراد مذاکرات کے حق میں ووٹ دیں گے۔ پھر کیا وجہ ہے کہ ہمارا ازلی دشمن جہاں یہ بی جے پی اقتدار میں آئی یہ اور نریندرمودی کے حلف اٹھاتے ہی ہمارے افغانستان کے ساتھ ملحقہ سرحد پر شورش شدت پکڑ گئی ہے۔ کراچی ایئرپورٹ پر حملہ اور دہشت گردوں سے برآمد ہونے والا بھارتی اسلحہ کیا ہمارے سوئے ہوئے حکمرانوں کو جھنجھوڑنے کے لیے کافی نہیں؟ بھارت نے بمبئی حملوں کے اجمل قصاب کے نام نہاد قصے کو جیو کی مدد سے پروان چڑھاکر ہمیں دنیا بھر میں رسوا کیا تھا جبکہ پاکستان کی سالمیت پر بھارتی حملہ اس بات کی نشاندہی ہے کہ پہلے پاکستان سے کرکٹ سمیت تمام کھیلوں کے ایونٹس متاثر ہوئے اور اب پاکستان میں غیر ملکی ایئر لائنز کے آنے پر بھی پابندی عائد کر دی جائے گی چونکہ اس سازش کے محرکات کا فائدہ بھارت اور متحدہ عرب امارات کو ہوتا ہے۔ لہٰذا اس کی تفتیش کرنے سے پہلے بھارت اور متحدہ عرب امارات کی طرف سے آنکھیں بند نہیں کر لینی چاہئیں۔ پاکستان کے غیور مگر سوئے ہوئے عوام کو اب خوابِ غفلت سے جگانے کے لیے ڈاکٹر طاہر القادری نے وطن واپسی اور انقلاب کا اعلان کر دیا ہے لیکن اگر پاکستان کے 20کروڑ عوام یہ سمجھتے ہیں کہ انقلاب اور اس کے ثمرات انہیں تھالی میں رکھ کر پیش کر دیئے جائیں گے تو یہ ان کی بڑی بھول ہو گی۔انقلاب نہ تو فاسٹ فوڈ ہوتا ہے اور نہ ہی من و سلوی اور نہ ہی یہ ریڈی میڈ ہوتاہے۔انقلاب ہمیشہ قربانیاں ،خون،محنت اور ہمت مانگتا ہے۔ دنیا میں جتنے بھی انقلابات روح پذیر ہوئے اس کے لیے ان قوموں نے نسلوں تک اپنے خون سے قربانیاں رقم کیں۔ آپ انقلابِ فرانس، انقلابِ روس، انقلاب ایران اور جنگِ آزادیٔ برصغیر کو دیکھ لیں تو آپ کو اندازہ ہو گا کہ انقلاب اپنے گھروں میں ٹی وی سکرین کے سامنے بیٹھ کر یا محلے کی ’’برگد‘‘ کے نیچے بیٹھے تاش کھیلتے ہوئے یا اپنے خاندان میں بیٹھ کر فقط سیاسی بحث و مباحثے سے حاصل نہیں کیے جا سکتے۔ ڈاکٹر طاہر القادری صاحب نے مجھے بتایا کہ میں نے تو اب پیچھے نہ ہٹنے والا قدم اٹھانے کا اعلان کر دیا ہے۔ اور میں سمجھتا ہوں کہ انقلاب کے رستے میں اگر مجھے جان بھی دینی پڑ گئی تو میں سمجھوں گا کہ میں نے اپنے پاکستانیوں کے لیے یہ سودا پڑا سستا حاصل کر لیا ہے۔ اب یہ قوم پر منحصر ہے کہ وہ قائدِانقلاب کے ساتھ قدم سے قدم ملا کر وطن دشمنوں کو شکست دیں گے یا پھر ایک ’’ریڈی میڈ‘‘ انقلاب کا انتظار کریں گے میں نے ڈاکٹر طاہر القادری سے کہا کہ 12جون کو فٹ بال ورلڈ کپ شروع ہو رہا ہے جو پورا ایک مہینہ رہے گا اور اسی دوران رمضان المبارک کے روزے شروع اور سخت گرمی کے ایام ہوں گے تو کیا آپ توقع کرتے ہیں کہ قوم اپنے حقوق کی جنگ لڑنے کے لیے باہر نکلے گی؟ تو ڈاکٹر صاحب نے مسکرا کر جواب دیا کہ میں نے تو طبلِ جنگ بجا دیا ہے اب قوم کو اپنے حقوق کی جنگ لڑنی ہو گی تو انہیں بھی یہ سخت جان او رمشکل فیصلے کرنے ہوں گے۔ 10جون2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus