×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
اعصابی جنگ اب فیصلہ کن مرحلے میں!
Dated: 26-Aug-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com اس وقت دنیا بھر میں مقیم پاکستانیوں سمیت اہل وطن گہرے کرب اور الم سے گزر رہے ہیں۔ سابق ایڈیشنل سیکرٹری الیکشن کمیشن محمد افضل خاں نے الیکشن 2013ء کے قبیح چہرے سے نقاب اتار دیاہے۔ اس گھنائونے کھیل میں بیوروکریسی، عدلیہ اور جن عبوری حکمرانوں نے حصہ لیا تھا ان کے پاس اب منہ چھپانے کو جگہ نہیں بچی۔ کاش میں اس موقع پر وطن عزیز میں موجود ہوتا تو اس سازشی اور گھنائونے کھیل کے کرداروں کو چُلو بھر پانی اپنے ہاتھ سے پیش کرتا۔ اگر اب بھی کچھ لوگ اس بات پر بضد ہیں کہ موجودہ حکومت کا دامن پاک ہے تو وہ نجی ٹی وی چینل یا یو ٹیوب پر مبشر لقمان کے ساتھ محمد افضل خاں کے انٹرویو کو بار بار چلا کر دیکھیں کہ جب تک ان کا ضمیر بیدار نہ ہو جائے۔ اب سابق چیف جسٹس افتخار محمد چوہدری سے استعفیٰ تو نہیں مانگا جا سکتا لیکن اگر افتخار چوہدری جرأت کا مظاہرہ کریں تو وہ ’’ جی ساتسو‘‘ (جاپانی طریقہ خودکشی) کی رسم ادا کرکے اپنے اوپر لگے الزامات کا کچھ کفارہ ادا کر سکتے ہیں۔ اگر وہ چاہیں تو یہ رسم ادا کرتے وقت موجودہ حکمرانوں، سابقہ نگرانوں اورالیکشن کمیشن آف پاکستان کو بھی اس کارِ خیر میں مدعو کر سکتے ہیں۔ گذشتہ روز وزیراعظم نوازشریف نے ملک میں جاری کشیدہ حالات پر سابق صدر آصف علی زرداری کو کھانے پر مدعو کیا۔ یہ خبر سن کر میرے ایک دوست وقار شیخ رچمنڈہل سے میرے پاس تشریف لائے اور بیٹھتے ہی جیسے پھٹ پڑے، کہنے لگے نوازشریف اور شہباز شریف نے ابھی پچھلے سال الیکشن سے پہلے اسی آصف علی زرداری کو علی بابا اور چالیس چور کا لقب دیا تھا اور بالوں سے گھسیٹ کر جیل میں ڈالنے اور لوٹی ہوئی قومی دولت پاکستان اور اوورسیز میں موجود اکائونٹس سے لانی تھی ۔ جوش خطابت میں میاں صاحب یہ بھی فرما گئے کہ زرداری کا پیٹ پھار کر لوٹی ہوئی دولت نکالیں گے اور آج اسی زرداری کے پیٹ میں ہرن کے بھنے ہوئے گوشت سمیت 70مختلف قسم کے کھانے ڈالے جا رہے ہیں۔ ایک خبر یہ بھی ہے کہ وزیر اعلیٰ شہباز شریف نے ’’معزز مہمان‘‘ کے لیے سویٹ ڈش اپنی نگرانی میں تیار کروائی۔ وقار شیخ سمیت 20کروڑ عوام عجیب کشمکش اور تذبذب میں مبتلا ہیں کہ یا خدا الیکشن 2013ء سے پہلی والی جوشیلی خطابت صحیح تھی یا پھر اپنے اقتدار کو ڈوبتا دیکھ کر گدھے کو باپ بنانے کے مصداق سابق صدر کے لیے رائے ونڈ کے ایوانوں میں سرخ قالین بچھانا اور گل پاشی کرنا سچ ہے۔ میرا ذاتی خیال ہے کہ صدر مملکت جناب ممنون حسین کا ہنی مون تقریباً ختم ہوا۔ ان کی حیثیت ایک کٹھی پتلی صدر سے زیادہ نہیں اور بہتر یہی ہے کہ صدرِ مملکت پھر سے دہی بھلے اور گول گپوں کی دوکان سنبھال لیں کیونکہ کہیں یہ نہ ہو کہ نہ ادھر کے رہیں نہ اِدھر کے رہیں۔ میں نے گذشتہ روز صحافیوں کو بریفنگ دیتے ہوئے سابق صدر آصف زرداری کے لہجے اور الفاظ کے پیچھے چھپی ہوئی دوبارہ صدر بننے کی خواہش کو محسوس کر لیا تھا۔ صحافیوں کی بات چلی تو مجھے یہ سن کر حیرت نہیں ہوئی کہ پاکستان کے ہر اس صحافی کو جو بکنے کے لیے آمادہ تھا اس کو اس کی منہ مانگی قیمت دے کر خرید لیا گیا ہے اور وہ اس وقت اپنے اپنے ٹی وی چینلز اور اداروں میں حق نمک بخوبی ادا کر رہے ہیں جبکہ فواد چوہدری، عمران خان، معید پیرزادہ و دیگر جنہوں نے بکنے سے انکار کیا ان سے ان کا رزق اور نمک چھین لیا گیا۔ یقینا تاریخ میں ان صحافیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا جاتا رہے گا، جنہوں نے قلم کی حرمت کو پامال نہ ہونے دیا۔ اس وقت وطن عزیز میں دو گروپس، دو قوتیں، دو طاقتیں اپنے اپنے کاز اور مفادات کو تحفظ دینے کے لیے لکیر کے دونوں طرف کھڑے ہو گئے ہیں۔ ملکی خزانہ لوٹنے ،ایفیڈرین، رینٹل پاور، حج سکینڈل، نج کاری کے نام پر لوٹ کھسوٹ اور ہنڈی کے ذریعے پیسہ باہر بھجوانے والے وزیرخزانہ ،نند پوری سمیت بجلی کے درجنوں منصوبوں سے ہزاروں ارب کی کمیشن ہتھیانے والے وزراء اور میٹروبس پراجیکٹ کے نام پر سینکڑوں ارب کی کمیشن کھانے والے لوگ لکیر کے ایک طرف کھڑے ہیں جبکہ بچے کھچے پاکستان کی سالمیت اور سلامتی کی جنگ لڑنے والی قوتیں عمران خان ،ڈاکٹر طاہر القادری، چوہدری پرویز الٰہی و شجاعت حسین ،شیخ رشید، سنی اتحاد اور مجلس وحدت المسلمین لکیر کے دوسری طرف کھڑے ہیں اور سب کی نظریں اس وقت اس قوت کی طرف اٹھی ہوئی ہیں جس نے داعش آئی ایس آئی،القاعدہ اور طالبان کے دہشت گردوں کی ڈیمانڈ کی نفی کرتے ہوئے پاک فوج کو عراق ،ایران، افغانستان اور شام میں بھجوانے سے انکار کر دیا ہے۔ پاک فوج دراصل 2001ء والے امریکی اور سعودی اتحاد کا حصہ بننے سے گریزاں ہے۔ اسی وجہ سے امریکہ اور اس کے اتحادی پاک فوج کو سبق سکھانے کے لیے بے تاب ہے اور انہی قوتوں کی شہہ پر مردودنریندر مودی پاکستانی سرحدوں پر شرانگیزی کر رہا ہے۔ دراصل پاک فوج امریکہ کے فرنٹ لائن اتحادی کے طور پر خدمات سرانجام دے کر ملکی معیشت، انفراسٹرکچر کو ڈیڑھ سو ارب ڈالر کا نقصان برداشت کر چکے ہیں اور اب وہ اسلام کے اس فلسفے کہ ’’مومن کبھی ایک سوراخ سے دو دفعہ نہیں ڈسا جا سکتا‘‘ پر عمل پیرا ہیں اور اسی وجہ سے ملکی اور مقتدر عالمی قوتوں نے موجودہ ملکی حالات میں پاک فوج کو اس میچ میں امپائر کہنا شروع کر دیا ہے ۔ اکثر پاکستانیوں کا نواز،زرداری ملاقات کے بعد یہ خیال ہے کہ زرداری نے مسند اقتدار بچانے کے لیے دو وزرائے اعظم ایک امریکہ کے لیے سفیر کی قربانی دی اور کابینہ کے ایک وزیر کو سالوں تک جیل کی ہوا بھی کھلائی، ایسی ہی خود غرضانہ نصیحت وہ میاں برادران کو بھی کر رہے ہیں کہ وہ ہر حال میں اقتدار سے چمٹے رہیں وگرنہ ڈاکٹر طاہر القادری جس کو ملک کے کروڑوں وطن پرست عاشق رسولؐ عوام کی حمایت و تائید حاصل ہے، ملک میں انقلاب برپا کرکے ان ملوکیت زدہ خاندانوں کے لیے نوشتہ دیوار بنیں گے۔ یقینا ڈاکٹر طاہر القادری کے جانثار مہینوںتو کیا سالوں تک دھرنا دے سکتے ہیں مگر مجھے قوی یقین ہے کہ عوام کے غضب کو پہچانتے ہوئے حکمران خو دہی بھاگ جائیں گے۔ ایک بات تو کنفرم ہے کہ پاکستان عوامی تحریک اور اس کی قیادت کے پاس نہ خون دینے والوں کی کمی ہے اور نہ خون کی کمی ہے۔ یہ ایک اعصابی جنگ ہے جو فیصلہ کن مرحلے میں داخل ہو چکی ہے، کسی بھی وقت بھڑکنے والی ایک چھوٹی سی چنگاری پورے سسٹم کو جلا کر خاکستر کر سکتی ہے۔ یہ جنگ کون جیتے گا فیصلہ عوام نے کرنا ہے۔ 26اگست2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus