×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ڈرے، سہمے، خوفزدہ، بوکھلاہٹ کے شکار۔ آصف علی زرداری
Dated: 14-Oct-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بسترِ مرگ پر پڑے باپ نے بیٹے کو نصیحت کی کہ اگر تم کامیاب آدمی بننا چاہتے ہو تو مملکت کے ہر شہر میں ایک مکان بنا لو، باپ کی رحلت کے بعد بیٹے نے نصیحت پہ عمل درآمد شروع کر دیا، ابھی چند شہروں ہی میں مکان تعمیر ہوئے تو اس شخص کا سرمایہ تقریباً ختم ہو گیا ۔بہت پریشان ہوا کہ باپ کی نصیحت کو چھوڑوں تو خدا ناراض اگر عمل کروں تو چند روز میں فقیر ہو جائوں گا، اچانک دل میں خیال آیا تو باپ کے ہم اثر ایک بزرگ سے بپتا بیان کی۔ بزرگ بولے کہ بیٹا اگر تم نے عقل سے کام لیا ہوتا اور وصیت کو سمجھا ہوتا تو تمہارے باپ کا مدعا یہ تھا کہ ہر شہر میں اپنے دوست بنا لو اور جب تم کسی شہر میں بھی جائو تو دوست کا گھر تمہارے اپنے ہی گھر کی طرح ہو اور تمہیں سرائے میں نہ ٹھہرنا پڑے ۔ مجھے بچپن میں سنا ہوا قصہ آج اس لیے شدت سے یاد آیا کہ سابق صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے کراچی، نواب شاہ، اسلام آباد اور لاہور کے بعد اب پشاور میں بلاول ہائوس بنانے کا اعلان کیا ہے۔ شاید یہی وجہ تھی کہ چند روز پہلے سابق صدر نے اپنے ایک بیان میں کہا تھاکہ ہسپتال بنانے سے کوئی سیاست دان نہیں بن جاتا اور کوئی مذہبی رہنما او رکھلاڑی بھی سیاست دان نہیں بن سکتا ۔ موصوف کا اشارہ شاید ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان کی طرف تھا مگرے میرے ذہن میں چند سوالات آ رہے ہیں کہ میں سابق صدر سے پوچھوں کہ محترم کیا سیاست دان بننے کے لیے مندرجہ بالا لوازمات اور خصوصیات کا ہونا لازم ہے۔ -1بمبہنو سینما میں ٹکٹ بلیک کرنے کا دس سالہ تجربہ ہو، -2بندہ نہ صرف کریمنل مائنڈ ہو بلکہ 12سال جیل کاٹنے کا تجربہ ہو،-3 اپنی شریک حیات کی وزارت عظمیٰ کی بساط لپیٹنے کا دو بار موجب بنا ہو،-4 اقتدار میں رہ کر حکومتی خزانے کا مالِ غنیمت کی دوستوں میں بانٹنے کا عادی ہو، -5کرپشن اس لیول پہ کرے کہ پوری دنیا میں مسٹر ٹین پرسنٹ چھاپ لگ جائے، -6جعلی کاغذات اور وصیتیں تیار کرنے کا تجربہ رکھتا ہو، -7اپنے مخالفین کو راستے سے ہٹانے کا ہنر جانتا ہو، -8دنیا بھر کے وہ ممالک جہاں بلیک منی کو حفاظت سے چھپایا جا سکے ان ممالک میں اربوں ڈالر کا سرمایہ چھپانے کا فن جانتا ہو، -9جھوٹ اور مکاری کا یہ حال ہو کہ قرآن پہ دیئے ہوئے حلف کو محض سیاست قرار دے اور اپنے کرتوتوں سے اس مقام پر پہنچ جائے کہ اسے ’’عالمی احسان فراموش‘‘ قرار دے دیا جائے۔ ہاں تو مسٹر زرداری صاحب اگر سیاست دان بننے کے لیے مذکورہ بالا کوالیفکیشن ضروری ہے تو یہ سب خرافات ڈاکٹر طاہر القادری اور عمران خان میں موجود نہیں ہیں۔ لہٰذا ایسی سیاست، صدارت، وزارت عظمی آپ اور آپ کے ساتھیوں کو مبارک ہو۔ قارئین موصوف سابق صدر کی جو فلم گذشتہ الیکشن میں پِٹ چکی ہے اس کو پنجاب سے دوبارہ ریلیز کروانا چاہتے ہیں جبکہ 2008ء میں پیپلزپارٹی پنجاب میں حکومت بنانے کی پوزیشن میں تھی مگر مفاہمت کی سیاست کے نام پر ایک لمبی اینگز اور بار بار باریاں لینے کے منصوبے پر عمل کرتے ہوئے پنجاب شریف برادران کی جھولی میں ڈال دیا گیا جبکہ تاریخ گواہ ہے کہ پیپلزپارٹی جتنی بار بھی اقتدار میں آئی اس کی حکومت بنانے میں 75فیصد حصہ پنجاب سے جیتی ہوئی قومی اسمبلی کی نشستوں کی وجہ سے ہوا ہے۔ پاکستان پیپلزپارٹی کی موجودہ رجیم گذشتہ 6سال کے دوران کارکنوں کو اچھوت اور شودر سمجھ کر نظرانداز کرتے رہے مگر آج آصف علی زرداری اور بلاول زرداری پنجاب میں بجھی ہوئی راکھ سے چنگاری ڈھونڈنے کی ناکام کوشش میں مصروف ہیں جس سے ان کا منہ او رہاتھ کالے ہونے کے سوا کچھ نہیں ملے گا۔آج آصف علی زرداری کو پنجاب سے محبت یاد آئی ہے کیا وہ یہ نہیں جانتے کہ کالاباغ ڈیم جس کی موجودہ پیپلزپارٹی شدید ترین مخالفت کرتی ہے بننے نہ دے کر پنجاب کی لاکھوں ایکٹر زرخیز زرعی اراضی کو بنجر بنانے کا موجب بن رہی ہے ہر معاملے پر پنجاب کو گالی دے کر سندھ میں نشست جیتنے کی حکمت عملی کسی سے ڈھکی چھپی نہیں۔2003ء میں میں محترمہ بے نظیر بھٹو کے پاس دوبئی میں موجود تھا اسی دوران حیدر آباد اور سکھر سے کچھ پارٹی ایم این ایز بھی دوبئی بی بی کے پاس آئے تھے، کھانے کی میز پر کالا باغ ڈیم کے متعلق گفتگو چھڑ گئی۔ پنجاب کے متعلق غلط زبان استعمال ہونے پر مجھے طیش میں آتا دیکھ کر ان ایم این ایز کو چپ ہونے کا اشارہ کیا اور بعدازاں اکیلے میں مجھ سے وضاحت کی کہ سندھ میں پنجاب کے متعلق جو خدشات پائے جاتے ہیں ان کو آہستہ آہستہ ٹھیک کیا جائے گا(یہ واقع میں اس سے پہلے بھی اپنے کالم میں لکھ چکا ہوں) آج پیپلزپارٹی نے 18اکتوبر کو سیاست میں اپنی نئی پراڈکٹ بلاول زرداری کو اتارنے کا فیصلہ کیا ہے جبکہ بلاول کا ڈرا، سہما، خوفزدہ باپ یہ جانتا ہے کہ پنجاب سے شمولیت کے بغیر نہ تو یہ جلسہ بھرا جا سکے گا اور نہ ہی اس شو کے اثرات باقی ملک کے اندر محسوس کیے جا سکیں گے۔ یہ جمہوریت عجب تماشا ہے ایک بڑا جاگیردار اور ایک بڑا سرمایہ دار اپنے اثاثے بچانے کے عمل کو جمہوریت بچانا کہہ رہے ہیں۔ یاد رکھیئے اس ملک کو بلاول ہائوسز کی ضرورت نہیں، اس ملک کے بیس کروڑ عوام کو صحت مند معاشرے کے لیے اقدامات کی ضرورت ہے۔ یہاں پہ ہر یونین کونسل لیول پر جدید سہولتوں سے آراستہ ہسپتالوں کی ضرورت ہے۔اس ملک کو تحصیل سطح کی بنیاد پر یونیورسٹیوں کی ضرورت ہے۔ اس ملک کے مزدور کو نئے روزگار کے مواقع پیدا کرنے کے لیے کارخانے اور فیکٹریاں لگانے کی ضرورت ہے۔ اس ملک کے کسان کو فی ایکڑ پیداوار دوگنی کرنے کے لیے جدید ٹیکنالوجی،بیج اور کھادوں کی ضرورت ہے۔ اس ملک کی لاکھوں ایکڑ اراضی سیلاب بُرد ہونے سے بچانے کے لیے ٹھوس منصوبہ بندی بنانے کی ضرورت ہے۔ پھر چاہے مذکورہ بالا تمام منصوبہ جات کا نام ’’بلاول پراجیکٹ‘‘ رکھ دیا جائے۔ جناب زرداری صاحب اور بلاول زرداری صاحب عوام کا استحصال کرکے ،عوام کی خوشیاں لوٹ کر، عوام کو رسوا کرکے اور جیالوں کی محبت کو بے وقوفی سمجھنے کی روایت اب ختم ہو جانی چاہیے۔ لیڈر قوم اور پارٹی کا رہبر ہوتا ہے، لیڈر کو یہ زیب نہیں دیتا کہ وہ ہر پانچ سال بعد اپنے جیالوں سے معافیاں مانگتا پھرے۔ جہاں تک بات پنجاب دھرتی کی ہے تو جس طرح سمندر اپنے اندر مردہ لاشوں کو جذب نہیں کرتا اور ساحل پر پھینک دیتا ہے، اسی طرح پنجاب کے غیور عوام کو بھی جب یہ احساس ہو جائے کہ ان کے اعتماد سے کھیلا جا رہاہے تو پھر اس پارٹی کو گزشتہ الیکشن کے نتائج کی طرح قومی اسمبلی کی ایک سیٹ بھی نہیں ملتی۔ یہ پنجاب سلطان باہو، بلھے شاہ، وارث شاہ، نظام، ملنگی، بھگت سنگھ، دُلا بھٹی اور بابا فرید کی سرزمین ہے اسے کسی مہمان اداکار کی ضرورت نہیں۔ ایک مصدقہ اطلاع کے مطابق پیپلزپارٹی کے 100کے قریب قومی اسمبلی اور 150کے قریب صوبائی اسمبلی کے سابقہ امیدواران نے پاکستان عوامی تحریک جوائن کرنے کا اصولی فیصلہ کر لیا ہے۔ اسی وجہ سے سابق صدر پچھلے 8دن سے لاہور میں ڈیرے ڈال کر بیٹھے ہوئے ہیں اور ان کی زبان آگ برس رہی ہے مگر ڈاکٹر طاہر القادری اس سیچوائشن کو انجوائے کر رہے ہیں۔19اکتوبر کے جلسہ لاہور کے دن اور اس کے بعد آصف علی زرداری اور بلاول زرداری کے چودہ طبق روشن ہو جائیں گے ،دیکھتے رہیے۔ 14اکتوبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus