×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
محبوب کی گلیاں…واہ سبحان اللہ
Dated: 18-Nov-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com میرا تعلق سیالکوٹ کی تحصیل ڈسکہ کے نواحی قصبہ میترانوالی سے ہے۔جلاوطنی ،حصولِ تعلیم اور روزگار کے لیے مجھے میترانوالی چھوڑے تین عشروں سے زائد عرصہ ہو گیا ہے۔ وہیںہمارا آبائی گھر ،زمین اور آبائواجدادکی قبریں موجود ہیں اور سکول و کالج کے ساتھی بھی۔اپنے میترانوالی اور ڈسکہ سے محبت کا یہ عالم ہے کہ مجھے آج بھی وہ گلیاں وہ مکان یاد آتے ہیں۔اس لیے ہفتے میں دو تین بار رانا غفور احمداور معظم شفیع مغل کو فون کرکے علاقے کی ہر خبر سے باخبر رہ کر سکون تلاش کرتا ہوں۔میںہی نہیں ہر انسان اپنے آبائی گھر اور علاقے سے ایسی ہی انسیت رکھتا ہے۔مگر مجھے یہ سب لکھنے کا خیال کیوں پیش آیا کہ گذشتہ روز ایک نجی ٹی وی کے اینکرڈاکٹر شاہد محمود نے دل و دماغ جھنجھوڑ دینے والی ایک سٹوری بیان کی اور جب میں نے اس سٹوری کا فالواپ کیا تو مجھے بے شمار واقعات دیکھنے، پڑھنے اور سننے کو ملے۔ قارئین!صدیوں پہلے ایک مسلمان حکمران سلطان نورالدین زنگی جس کا عرصہ اقتدار 1146سے لے کر 1174عیسوی تک تھا۔557 ہجری کی ایک شب جب وہ سو رہا تھا تو اسے خواب میں یہ بشارت ہوئی کہ کچھ لوگ سرنگ کھود کر روضۂ رسول ؐتک پہنچنے کی کوشش کر رہے ہیں۔بادشاہ سے پھر سویا نہ گیا اسی وقت فوج کو حکم دیا اور خواب کے عین مطابق سرنگ کھودتے ہوئے شرپسندوں کو گرفتار کر لیا گیااور روضۂ رسول ؐ کے گرد و اطراف میں زیرِ زمین دھاتی دیوار بنا کر حفاظی حصار قائم کر دیا گیا۔اس کے بعد بھی متعدد موقعوں پر خانہ کعبہ اور روضۂ رسولؐکو نقصان پہنچانے کے منصوبے بنائے گئے۔امیہ خاندان اور عباسیہ خاندان کے دوراقتدار میں ان مقدس مقامات کی حرمت کو نقصان پہنچایا جاتا رہا۔ 1876ء میں عبدالعزیز بن عبدالرحمن نے پہلے سعود سلطان کی حیثیت سے اعلان کیا اور پھر سلطنت عثمانیہ کے خاتمے کے بعد بیسوی صدی عیسوی کے شروع میں سعود خاندان کو حجازِ مقدس پر مکمل کنٹرول حاصل ہوا اور عرب کا نام بدل کر سعودی عرب رکھ دیا گیا۔اور یہ بڑے اچنبھے کی بات ہے کہ خاندان السعود کی موجودگی میں ایک طرف تو خانہ کعبہ اور روضۂ رسولؐ کی توسیع کے نام پر بیشمار قیمتی اور اسلامی ورثہ کی تاریخی عمارتوں کو مسمار کیا گیا بلکہ اصحاب رسولؐاور ازواج مطہراتؓ کی قبروں تک کو بے نشان کرکے غائب کر دیا گیا۔ اس طرح کرئہ ارض پر عظیم اسلامی روایات اور تمدن کے خزینے کو منہدم و معدوم کر دیا گیا۔ قارئین کرام!دوسری طرف ایک صہیونی اور یہودیوں کی مذہبی جنونی تنظیم’’فری میسن‘‘اپنی کارروائیوں میں مصروف ہے،جن کا مرکزی ہدف ِ ملت اسلامیہ کورو بہ زوال کرنا ہے۔اس وقت بھی کئی اہم ممتاز عالمی رہنما اس تنظیم کے خفیہ رکن ہیںاور یہ تنظیم ’’ٹرائی اینگل اور آنکھ‘‘ کا لوگو استعمال کرتی ہے۔ایک دفعہ اس کی رکنیت اختیار کرنے کے بعد اس سے زندہ واپسی ممکن نہیں ہوتی۔جان ایف کنیڈی اور مائیکل جیکسن کی مثال سب کے سامنے ہے اور سننے میں آیا ہے کہ سیف علی خان اور شاہ رخ خان سمیت متعدد مسلمان حکمران اور امراء بھی اس تنظیم کی رکنیت اختیار کر چکے ہیں۔کچھ عالمی اداروں کی طرف سے سعودی حکمران خاندان کو بھی اس تنظیم کا پروردہ خیال کیا جاتا ہے ۔اگر آپ تفصیل سے اس موضوع پر تحقیق کریں تو متعدد مستند احادیث مبارکہ میں ان کے عزائم کو واضح کرکے نشانیاں بیان کی گئی ہیںجبکہ قرآن پاک میں بھی دجال کی آمد بیان کی گئی ہے۔نبی کریمؐکی جس گھر میں پیدائش مبارک ہوئی اس کو گِرانے کا حکم دے دیا گیا ہے اور اس جگہ پر خادمِ حرمین شریف کنگ عبداللہ کا وی آئی پی محل تعمیرکرنے کا نقشہ منظور کر لیا گیا ہے جبکہ اس کے پاس سرورِ کائناتؐکے معراج شریف پر جانے کی نشانیوں کو بھی مسمار کر دیا گیا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق مزید تاریخی اور مقدس جگہوں کومنہدم کرکے دسمبر میں محل کی تعمیر شروع کر دی جائے گی۔ قارئین! آپ کویاد ہوگا کہ آج سے صرف دو عشرے پیچھے کی تاریخ دیکھیں تو مسئلہ فلسطین پر تمام عرب ممالک اور گلف ریاستیں اور شمالی افریقہ کے مسلمان ممالک سمیت پاکستان اور ایران اسرائیل کی مخالف صف میں کھڑے تھے اور اسرائیل عالمی سطح پر ماسوائے امریکہ کے تنہا تھا مگر فری میسن تنظیم اور یہودی سرمایہ داروں کے باہمی گٹھ جوڑ نے دنیا کی سیاست پلٹ کر رکھ دی ہے۔پہلے مصر کے صدرناصر پھر سعودی فرماروا شاہ فیصل،ذوالفقار علی بھٹو، یاسرعرفات،صدام حسین، بے نظیر بھٹواور کرنل معمر قذافی جیسے عظیم راہنمائوں کو راستے سے ہٹایا گیااور آج پوری مسلم امہ آپس کی اندرونی خلفشار باہمی لڑائیوں اور مسلکی نفرتوں کا شکار ہے۔عراق،شام اور لیبیامیں شیعہ، سنی، وہابی کی کوئی آواز تک سنائی نہیں دیتی تھی مگر آج یہ مسلکی لڑائیوں کا گڑھ بن چکے ہیں۔شام اور لیبیا کے خلاف سعودی حکومت نے اسرائیل کو فضائی کارروائی کے لیے خلائی راہداری مہیا کی جبکہ ایران اور عراق کے خلاف ماضی قریب میں بھی سعودی اور اسرائیلی گٹھ جوڑدیکھنے کو ملا۔اس وقت بھی اسرائیل بھارت کا سٹریٹیجک پارٹنرہے۔ یہ وہی بھارت ہے جو یاسرعرفات کا سب سے قریبی حلیف تھا۔ قارئین!کسی بھی حکومت اور حکمران کو اپنے ہی ملک کے اندر عوامی فلاح و بہبود کے منصوبے شروع کرنے کی ممانعت نہیں ہے اور اس مقصد کے لیے سعودی عرب کے پاس ہزاروں لاکھوں مربع میل کا علاقہ خالی پڑا ہے مگر وہ مقدس جگہیں جہاں محبوبِؐ خدا پروان چڑھے، جوان ہوئے،جہاں اسلام اور قرآن کا نزول ہوا، اس تاریخی اور اسلامی ورثے کو اپنوں کے ہاتھوں مسمار ہوتے دیکھ کر یقینا میں اور آپ ’’کڑھنے‘‘اور افسوس کرنے کے سوا اور کر بھی کیا سکتے ہیں۔ایک سروے کے مطابق 95فیصد اسلامی ورثہ اب تک ناپید ہو چکا ہے۔ اور جب میرے جیسا ایک عام انسان اپنے گلی، محلے، گائوں اور آبائواجداد کی قبروں کو نہیں بھولتاتو پھر دونوں جہان کے تاجدارِ انبیاؑاور خاتم المرسلینؐ نے جن گلیوں، مکانوں میں پرورش پائی ، ان جگہوں کا بے دردی سے مسمار کیا جانا ایک عام مسلمان کے لیے ایک بہت بڑا لمحۂ فکریہ ہے ۔سعودی حکمران صدی بھر سے اسی نبی آخرالزماںؐکی رحمتوں کو سمیٹ رہے ہیں اور ہمیں اس پر کوئی اعتراض بھی نہیںکہ جسے اللہ دے۔مگر اسلام کاسارا فلسفہ عشق رسول ؐاور اطاعتِ خداوندی پر مشتمل ہے۔اگر ایک مسلمان کے دل سے عشقِ رسولؐنکال دیا جائے تو اس میں باقی کیا بچتا ہے؟قارئین! میں عسکری اور سیاسی تجزیہ نگاری کرتا ہوں، مذہب اور دین کے متعلق میری معلومات بہت حقیر سی ہیں،مگر مجھے جو دکھ اس واقع کو سن کر ہوا وہ کسی مومن مسلمان سے کم نہیں۔میں نے قارئین نوائے وقت کو اپنے قلم کے تقدس اور حرمت کا خیال کرتے ہوئے معلومات پہنچانے کی کوشش کی ہے۔ مجھے امید ہے کہ ہم سب کی آواز مل کر سعودی حکمرانوں تک پہنچے گی اور وہ یقینا اس کا احترام کریں گے۔ 18نومبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus