×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شہید بے نظیر بھٹو کا یومِ شہادت۔اور قاتلوں کا گریبان
Dated: 27-Dec-2014
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com قارئین نوائے وقت سے میںنے آج سے چھ ماہ قبل شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی سالگرہ کے دن اپنے کالم میں ،میں نے یہ وعدہ کیا تھا کہ ان کے اگلے یومِ شہادت پر میں ان کے قاتلوں کو بے نقاب کروں گا۔ میرے اس عزم کا آغاز تو دراصل 20فروری 2008ء کو ہی ہو گیا تھا جب الیکشن کے دو دن بعد نومنتخب اراکینِ قومی اسمبلی و اراکین فیڈریل کونسل اور سینٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کا مشترکہ اجلاس زرداری ہائوس اسلام آباد میں منعقد ہوا۔ اس اجلاس میں اپنی افتتاحی تقریر کے دوران میں نے اپنے دوست آصف علی زرداری کو ناراض کرتے ہوئے یہ الفاظ کہہ دیئے تھے کہ ہمیںیہ غیر دائمی اقتدار قبول کرنے کی بجائے محترمہ بے نظیر بھٹو شہید کے قاتلوں کو بے نقاب کرکے کیفرکردار تک پہنچانا چاہیے اور یہ کہ زبانِ خلق پکار رہی ہے کہ شہید محترمہ کے خون کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر محسوس کیے جا سکتے ہیں۔ میرا یہ کہنا تھا کہ سامعین اور منتظمین کو جیسے سانپ سونگھ گیاتھا اور میرے اس جملے کی ادائیگی کے بعد زرداری صاحب شدید جھنجھلاہٹ میں کرسیٔ صدارت چھوڑ کر عقب میں کمرے کے اندر چلے گئے تھے۔ قارئین! جس روز شہید محترمہ کی شہادت کا دن اور وقت تھا میں انہی کے ایک کیس کے سلسلے میں سوئٹزرلینڈ جانے کے لیے ایئرپورٹ پر بورڈنگ کے مراحل طے کر چکا تھا اور جب میں چند دنوں بعد واپس آیا تو بہت سا پانی پُلوں کے نیچے سے گزر چکا تھا۔ اسی دوران دو نئے شریک چیئرپرسنز کی نامزدگی ہو چکی تھی ایک عدد وصیت بھی پیپلزپارٹی کی نئی قیادت کو سپورٹ کرنے کے لیے منظرعام پر آ چکی تھی۔ 7جنوری کو ہونے والے الیکشن 18فروری تک مؤخر کر دیئے گئے تھے اور پیپلزپارٹی کی نئی قیادت نے چالیس روزہ سوگ کا اعلان کرکے اور پاکستان کھپے کا مفاہمتی نعرہ متعارف کروا کر لاکھوں کارکنان کے جذبات پر برف ڈال دی تھی۔پیپلزپارٹی کے اندر بے شمار وہ لوگ جو شہید محترمہ کے قریبی یا انتہائی قابل اعتماد ساتھی ایک ایک کرکے خاموش کرائے جا رہے تھے۔ صاف نظر آ رہا تھا کہ نئی قیادت ان پرانے وفاداروں کو قبول کرنے کو تیار نہیں اور یہی وہ ٹائم تھا جب مصلحتی سیاست کے تقاضوں کو پورا کرتے ہوئے محترمہ شہید کی پولیٹکل سیکرٹری محترمہ ناہید خاں پیپلزپارٹی پارلیمنٹریرین کے صدر مخدوم امین فہیم، اعتزاز احسن، جہانگیر بدر، صفدر عباسی، رضا ربانی اور دیگر سینئر اراکین نئی قیادت سے کسی خیر کی توقع اور امید لگائے بیٹھے تھے۔ دراصل یہی وہ وقت تھا جس کا ادراک اگر مندرجہ بالا اراکین کرتے تو آج پیپلزپارٹی اور پاکستان کی سیاست اور حالات بڑے مختلف دکھائی دیتے اور جب میں واپس آیا تو معالات میری پہنچ اور بساط سے نکل چکے تھے۔ نئی قیادت کے ساتھ جدیدِ تعلقات کرکے میں مشیر، وزیر تو بن سکتا تھا مگر میں نے مفاہمت کی پالیسی اپنانے کی بجائے پیپلزپارٹی کے اندر انویسٹی گیشن اور سوچ بدلنے کی پالیسی کا انتخاب کیا اور پچھلے سات سالوں کے دوران نوائے وقت کے صفحات اس بات کے گواہ ہیں کہ میں نے جابر حکمران کے سامنے کلمۂ حق کہنے کو اپنی زندگی کا محور بنایا۔ اس دوران آصف زرداری جو کہ ایک پلان کے تحت صدر منتخب ہو چکے تھے۔ مسلسل اس کو شش میں لگے رہے کہ یا تو میں ان کے ساتھ مل جائوں یا پھر سیاست کی پردئہ سکرین سے عارضی طور پر غائب ہو جائوں۔ اسی دوران صدر آصف زرداری کے پیغامات مجھے سینیٹر ذکا اشرف کے ذریعے مسلسل ملتے رہے جبکہ متعدد بار صدر کے سیکرٹری سینیٹر قیوم سومرو میرے گھر تشریف لاتے رہے او راپنے تئیں پورا زور لگاتے رہے کہ میں پارٹی کے اندر ان کی نظر میں بغاوت کا عنصر نہ پھیلائوں لیکن شہید محترمہ سے میری کمٹمنٹ اس بات کی متقاضی تھی کہ میں شہید محترمہ بینظیر بھٹو سے کیے ہوئے وعدے ایفاء کروں مگر میرے اکیلے کی آواز جنگل میں طوطی کی طرح تھی۔ پیپلزپارٹی کی نئی قیادت نے پارٹی کے اندر اپنا اثر اور رِٹ قائم کرنے کے لیے کچھ اراکین کو پارٹی عہدے اور کچھ کو اقتدار کے ایوانوں میں اپنے ساتھ شامل کر لیا۔ اس طرح ہر وہ لب جو بول سکتے تھے ان میں اقتدار کی ’’چوسنی‘‘دے دی گئی جبکہ ناہید خان، صفدر عباسی اور دیگر کو دھمکیاں دے کر چپ کروا دیا گیا اور آج بھی لاہور کے پولیس سٹیشنز اور ان میں درج شدہ ایف آئی آرز اس بات کا ثبوت ہیں کہ میرے اوپر قاتلانہ حملے ہوئے میرے بچوں کے سکول اور کالج کو دھمکیاں ملیں اور میری اپنی ہی جماعت کے اقتدار میں ہونے کے باوجود میری بیوی اور بچوں کو بادہ نخواستہ جلاوطنی اختیار کرنا پڑی اور پیپلزپارٹی ہی کے دور حکومت میں لاہور میں میرا وہ گھر جہاں آصف علی زرداری رہائی تحریک اور میثاقِ جمہوریت کی تحریک نے جنم لیا اس پر میری غیرموجودگی میں قبضہ کروا دیا گیا مگر یہ سب ہتھکنڈے محترم مجید نظامی(مرحوم) کی بدولت میرے عزم کو کمزور نہ کر سکے اور پھر چشمِ فلک نے دیکھا کہ صرف اقتدار کا پانچ سال کے پورے کرنے کا یک نکاتی ایجنڈا لے کرآنے والی قیادت کس طرح اسٹیبلشمنٹ اور عدلیہ کے ہاتھوں محصور بنی رہی۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو ،شہید شاہنواز علی بھٹو، میر مرتضیٰ بھٹو شہید اور بے نظیر بھٹو شہید کی قربانیوں کے صدقے اقتدار میں آنے والی پیپلزپارٹی کی حکومت اپنے ہی دور اقتدار میں ایک گورنر اور ایک وفاقی وزیر قتل کروا بیٹھی جبکہ ایک وفاقی وزیر دو سال جیل کی سلاختوں کے پیچھے بند رہا جبکہ امریکہ میں پاکستان کے سفیراور ایک منتخب وزیراعظم کو جبراً گھر بھجوا دیا گیا لیکن صاحب پھر بھی مسکرا کر پانچ سال پورے کرنے کا عزم لیے بیٹھے رہے۔ اس کانتیجہ 2013ء کے الیکشن میں یہ نکلا کہ سندھ کے علاوہ ملک بھر سے پیپلزپارٹی کا نام و شان مٹ گیا پھر جناب بلاول بھٹوزرداری کو لایا گیا اور پھر ان کی اپنے باپ کے ساتھ کشیدگی تمام حدود کراس کر چکی ہے جبکہ پیپلزپارٹی کی متعدد مقتدر شخصیات کسی بھی وقت نئی پارٹیوں میں شمولیت اختیار کرنے والی ہیں۔ قارئین! 15دسمبر شام تک میں اپنے مصمم ارادے پہ قائم تھا مگر 16دسمبر کو ہونے والے اندوہناک سانحے نے مجھے بہت کچھ سوچنے پر مجبور کر دیا ہے کہ جب ریاست پاکستان ان حالات میں دھرنوں، ریلیوں اور جلسوں کی متحمل نہیں ہو سکتی عمران خان اور میرے قائد ڈاکٹر طاہر القادری نے موجودہ حالات کے تقاضوں کو سمجھتے ہوئے عارضی طورپر اپنی تلواریں نیام میں رکھ لی ہیں چونکہ میرے 27دسمبر کومتوقع اعلان کے بعد ملک کے طول و عرض اور خصوصاً سندھ میں فسادات سے ملکی سلامتی کو شدید خطرات لاحق ہونے تھے اس لیے ملک کے وسیع تر قومی مفاد اور یک جہتی و سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے میں آج شہید محترمہ کے مبینہ قاتلوں کا ابھی اعلان نہیں کروں گا تمام دستاویزات اور ثبوت میرے وکلاء کے پاس سوئٹزرلینڈ، کینیڈا اورپاکستان میں موجود ہیں اور خدانخواستہ میرے ساتھ پیش آنے والے اتفاقیہ یا اراداتاً حادثے کی صورت میں یہ دستاویزات پاکستان کے 20کروڑ عوام کے سامنے پیش کر دی جائیں گی ۔ قارئین! کوئی لالچ یا عہدہ یا اقتدار اب میرے ہاتھوں کو محترمہ شہید کے قاتلوں کے گریبان تک پہنچنے سے روک نہیں سکتا۔ 27دسمبر2014ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus