×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
عمرو عیار کی زنبیل اور ہوسِ زر
Dated: 20-Jan-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com بدھ مت مذہب کے عظیم روحانی پیشوا دلائی لامہ سے کسی نے پوچھا کہ انسانیت میں سب سے حیران کن چیز کیا ہے؟ تو دلائی لامہ نے جواب دیا کہ خود ’’انسان‘‘ کیونکہ وہ پیسے بنانے کی خاطر اپنی صحت قربان کر دیتا ہے اور پھر دوبارہ صحت یاب ہونے کے لیے اپنے پیسے قربان کر دیتا ہے اور پھر وہ آنے والے کل کو لے کر اتنا بے چین ہوتا ہے کہ اپنے مال سے لطف اندوز نہیں ہو پاتا۔ لہٰذا وہ نہ حال میں جیتا ہے اور نہ مستقبل میں جیتا ہے وہ ایسے جیتا ہے جیسے کہ کبھی مرے گا نہیں اور پھر ایسے مرتا ہے کہ جیسے کبھی ٹھیک سے جیا نہ ہو۔ میں نے دلائی لامہ کے فلسفے پر غور کیا تو مجھے اس کی باتیں حقیقت کے بہت قریب تر محسوس ہوئیں۔ دلائی لامہ نے انسان لفظ کی جو تعریف کر دی اس سے بہتر شاید ممکن نہیں۔ پاکستان کے موجودہ معروضی حالات میں ایک خاص طبقہ پیسا بنانے کی جستجو میں مگن ہے کہ اسے اپنے اطراف ایک لقمے کے لیے ترستے انسان کی چیخیں بھی سنائی نہیں دیتیں۔ ڈاکٹر طاہر القادری عمرہ کی ادائیگی کے لیے سعودی عرب روانہ ہو رہے تھے میں انہیں ایئرپورٹ چھوڑنے جا رہا تھا۔ میرے ذہن میں دلائی لامہ کا تازہ پڑھا ہوا اقتباس تھا میں نے ڈاکٹر صاحب سے پوچھا کہ آپ کے خیال میں ایک انسان کیسے خوش رہ سکتا ہے تو انہوں نے جواب دیا کہ میرے نزدیک انسان اتنا کمائے جتنا وہ خرچ کر سکے اگر میں بے تحاشہ دولت کے انبار لگا لوں مگر اسے خرچ کرنے کے لیے میرے پاس وقت، صحت اور ماحول نہ ہو تو ایسی دولت کا کیا فائدہ؟ ڈاکٹر صاحب نے کہا کہ دنیا بھر میں نوے سے زیادہ ممالک میں میں نے منہاج القرآن کے سینٹرز اور ادارے قائم کیے ہیں۔ براعظم افریقہ اور ایشیا میں ایک ہزار کے قریب سکول کالج اور یونیورسٹیاں اس سسٹم کے تحت کام کر رہی ہیں اور میری لکھی ہوئی ایک ہزار کتب دنیا بھر کے تعلیمی اداروں میں پڑھی اور پڑھائی جاتی ہیں، جن سے میں نے کبھی ایک روپے کی ریلٹی اپنے لیے مختص نہیں کی۔ شاید اس لیے کہ میں نے اپنی حدود کا تعین کر لیا ہے اور پچھلے تیس سال سے میں ایک کنال کے گھر میں اپنی بیوی بیٹیوں اور دو بیٹوں بمع بہوئوں اور پوتے پوتیوں کے رہ رہا ہوں، میں نے کبھی نہیں سوچا کہ مجھے مغلیہ محلات کی ضرورت ہے۔ ڈاکٹر صاحب کی یہ باتیں سن کر مجھے حیرت ہوئی کہ اتنے لامحدود وسائل کے باوجود قناعت پسندی کسی عام انسان کا تو شیوا نہیں۔ دوسری طرف میں پاکستان کے چند امراء خاندانوں کی طرف نظر دوڑاتا ہوں تو مجھے حیرانگی ہوتی ہے کہ چند سال پہلے صرف بائیس خاندان پاکستان کے وارث تھے لیکن گذشتہ تین دہائیوں سے یہ تعداد ایک ہزار سے کراس کر چکی ہے۔ لاہور کا ایک بڑا خاندان جو بینکوں اور ملوں کا مالک ہے اور ایک محتاط اندازے کے مطابق پاکستان کا نمبر ون امیر خانوادہ ہے۔ اس امیر آدمی سے ایک بار کسی جرنلسٹ نے پوچھا کہ آپ کھربوں کی جائیداد کے مالک ہیں مگر آپ رفاہ عامہ یا زکوٰۃ کے مستحقین کے لیے چند روپے بھی خرچ نہیں کرتے تو پاکستان کے اس سب سے زیادہ امیر آدمی نے جواب دیا کہ میں اپنے کاروبار پہ حکومت کو ٹیکس ادا کرتا ہوں، میں یہ رفاہی کاموں کو ضروری نہیں سمجھتا۔ خود وزیراعظم اور ان کے خاندان جس نے ایک چھوٹی سی دکان سے چند دہائیاں پہلے کام شروع کیا تھا انہیں جب ذوالفقار علی بھٹو کے زمانے میں ادارے قومیائے جانے کے دوران بہت سی ملوں اور فیکٹریوں سے ہاتھ دھونا پڑے۔ قسمت کی دیوی ان پر پھر مہربان ہوئی اور 12اکتوبر1999ء تک وہ اتنی دولت اکٹھی کر چکے تھے کہ ملک کے پہلے پانچ امراء میں ان کا نام شمار ہونے لگا، پھر جب وہ مشرف دور میں زیرعتاب آئے تو خاندان کے افراد بمع خصوصی ملازمین پاکستان سے جبری جلاوطن ہونا پڑا اور آٹھ سال کی جلاوطنی ختم کرنے کے بعد پچھلے آٹھ سال سے پھر یہ خاندان اقتدار کے ایوانوں پر مسلط ہے اور آج اس کی امارت کا نمبر پاکستان میں طے کرنے کی ضرورت نہیںکہ اب اس خاندان کا شمار برطانیہ کے بڑے امراء میں ہوتا ہے۔ اسی طرح سابق صدر آصف علی زرداری جو دو مرتبہ اپنی شہید زوجہ کی وجہ سے اقتدار کے ایوانوں تک پہنچے اور تیسری دفعہ اسی زوجہ کی شہادت نے انہیں اقتدار کے سنگھاسن پر بٹھا دیا۔ چند سال پہلے بمبینو سینما کی ٹکٹیں بلیک کرنے والا یہ شخص جس کا کراچی کے فائیو سٹار ہوٹلوں میں داخلہ ممنوع تھا آج وہ ایک محتاط اندازے کیمطابق ستر ارب ڈالر کا مالک ہے۔ ہوس ،لالچ اور اقتدار کی ایسی بیسیوں مثالیں ہمارے اطراف گھومتی نظر آتی ہیں اور میں یہ سوچنے پر مجبور ہو جاتا ہوں کہ آخر دولت اکٹھی کرنے کی کوئی حد بھی مقرر ہے؟ میری ناقص رائے کے مطابق انسان کی ہوس عمروعیار کی زنبیل کی طرح ہے جس میں دنیا بھر کے خزانے انڈیل دو پھر بھی اس زنبیل کا پیٹ نہیں بھرتا۔ دولت کی تو ایک حد مقرر کی جا سکتی ہے مگرلالچ کو حدود میں قید نہیں کیا جا سکتا۔ فاتح عالم عظیم سکندر جس نے اس وقت تقریباً پوری دنیا کو فتح کرکے ان خزانوں پر قبضہ کیا ایک روایت کے مطابق صرف اس کے خزانوں کی چابیاں ستر اونٹوں پر لادی جاتی تھیں ۔ مرنے سے پہلے عظیم سکندر نے اپنے ورثا کے لیے وصیت چھوڑی کہ جب میں مروں تو میرے دونوں ہاتھ کفن سے باہر نظر آنے چاہئیں تاکہ دنیا کو پتہ چل سکے کہ دنیا بھر کے خزانوں کا مالک جب اگلے جہاں جا رہا تھا تو کسی فقیر کی مانند اس کے دونوں ہاتھ خالی تھے۔ قارئین! ہمارے حکمران نِت نئے حربوں سے عوام کو بے وقوف بنا کر ان کے جذبات سے کھیلتے ہیں جھوٹ، مکاری، وعدہ خلافی کا دوسرا نام جمہوریت رکھ دیا گیا ہے۔ دراصل ہمارے امراء اور سیاست دان ہوسِ زر اور ہوسِ اقتدار میں عمرو عیار کی زنبیل سے مشابہت رکھتے ہیں نہ کبھی یہ زنبیل بھری جائے گی اور نہ اس ہوسِ زدہ طبقے کو عوامی امنگوں کا احساس ہوگا۔ آج پانی، گیس، بجلی، پیٹرول سب کچھ اس زنبیل کے اندر چلا گیا ہے۔ آج اگر پاکستان کے ایک ہزار امراء اپنا لالچ ایک سال کے لیے ختم کر دیں تو پاکستان کی آنے والی نسلیں بھی ایک صحت مند معاشرے کی طرح رہ سکیں گی۔ 20جنوری2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus