×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سینیٹ الیکشن اور سیاسی اسٹاک ایکسچینج
Dated: 24-Feb-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com جھورا جہاز شدید غصے کی کیفیت میں آفس میں داخل ہوا ۔وہ پاکستان کے معروضی، سیاسی، سماجی اور اقتصادی حالات سے قطعاً خوش نہیں تھا۔20کروڑ دیگر ہم وطنوں کی طرح اسے بھی غم اس بات کا تھا کہ عین ان کی نظروں کے سامنے ایک خاص مراعات یافتہ طبقہ اس کے ہم وطنوں کی تقدیر اور نصیب سے کھیل رہا ہے اور تمام اہل وطن کی حالت ڈربے میں بند ان مرغیوں جیسی ہے جو اپنے سامنے اپنے ساتھیوں کو ذبح ہوتے ہوئے دیکھ تو رہی ہیں مگر مزاحمت نہیں کر سکتیں۔ پی ٹی آئی کے چیئرمین عمران خان نے 2013ء کے الیکشن میں ہونے والی دھاندلیوں کے خلاف ملک گیر تحریک چلانے کا اعلان کیا تو پاکستان عوامی تحریک ا ور تحریک انصاف کی کولیشن سے اس موومنٹ کو ملک گیر پذیرائی حاصل ہوئی ۔ کم از کم چھ ماہ تک ملک کے طول و عرض میں کاروبار زندگی معطل اور نظامِ مملکت مفلوج رہا پھر ملک کے تمام چور، ڈاکو، لٹیرے اور قبضہ مافیا ایک پوائنٹ پر اکٹھے ہو گئے اور وہ پوائنٹ تھا کہ کسی طرح اقتدار زدہ طبقے کے مفادات کو ممکنہ شکست سے بچایا جائے۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ اس وقت کی صوبائی، قومی پارلیمنٹ اور سینیٹ انہی مفاد پرست ٹولے کی علم بردار ہے جس نے پچھلے ستر سالوں سے عوام اور مملکت کے مفاد کو یرغمال بنا رکھا ہے۔ یہ طبقہ کچھ اس طرح سے منظم ہے کہ یہ قومی اور عالمی ایشوز کو یکسر دبانے اور تبدیل کرنے میں کمال مہارت رکھتا ہے اور نتیجتاً یہی کچھ کرپشن اور دھاندلی کی پیداوار اسمبلیوں کے خلاف چلنے والی تحریک کا انجام ہوا۔ پچھلے چند مہینوں سے میڈیا ہمیں یہ باور کروانے میں بڑی حد تک کامیاب رہا کہ گذشتہ تحریک کے بطن سے عوامی شعور نے جنم لیا ہے۔ یہ علیحدہ بات کہ میں اس فلسفے سے مکمل اتفاق نہیں کرتا۔ میرے نزدیک یا تو کوئی تحریک کامیاب ہوتی ہے یا پھر فلاپ۔ میرا مصمم یقین ہے کہ گذشتہ انقلابی تحریک میں ان مرغی نما انسانوں نے شرکت کی جو چھری کی عین زد میں تھے مگر عوام کا ایک بڑا حصہ محض ٹی وی چینلز پر ٹاک شوز اور مذاکرے دیکھ کر اپنا بلڈپریشر اپ اینڈ ڈائون کرتا رہا۔ قارئین دنیا کی تاریخ میں انقلاب کبھی اس طرح روح پذیر نہیں ہوئے بلکہ انقلاب کی منزل حاصل کرنے کے لیے قوموں کو لازوال ہمت، عزم اور حوصلے کی ضرورت ہوتی ہے۔ گذشتہ انقلاب تحریک کی جزوی ناکامی سے حکمرانوں سمیت مفاد پرست ٹولے نے یہ اندازہ لگانے میں بالکل دیر نہیں لگائی کہ پاکستانی عوام کسی انقلاب کے لیے ذہنی اور عملی طور پر تیار نہیں، وگرنہ آئندہ چند روز میں ہونے والے سینیٹ کے الیکشن کا انجام بھی جنرل الیکشن جیسا ترتیب نہ دیا جاتا۔ ایک دفعہ پھر وہی ایکشن ری پلے ہونے جا رہا ہے۔ برسرِ عام آئین اور قانون کی دھجیاں اڑانے کے منصوبے طے پا رہے ہیں۔ تقریباً سبھی سیاسی پارٹیوں نے قانون، اصول اور روایات کو شکست دینے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے۔ قارئین! دنیا کے سو سے زیادہ ممالک میں پارلیمانی یا صدارتی نظام کے باوجود سینیٹ کی موجودگی سے انحراف نہیں کیا جاسکتا مگر اکثر ممالک میں سینیٹ کے ممبران کا براہ راست انتخاب عمل میں لایا جاتاہے۔ مجھے یہ سمجھ نہیں آتی کہ ہمارے قانون میں ایسا سقم کیونکر رکھا گیا کہ جس سے دولت مند اقتدار زدہ طبقے کو سینیٹ الیکشن میں آزاد امیدوار کے طور پر کھڑا ہو کر آئین اور قانون سے کھیلنے کا موقع مل سکے۔ نمبر دو پاکستان کے ہر ذی شعور شخص کو اس بات کی خبر ہے کہ فلاں پارٹی کے فلاں صوبے میں اراکین کی تعداد کیا ہے اور اس تعداد کی بنا پر وہ کتنے اراکین منتخب کروا سکتے ہیں۔ ہر دفعہ سینیٹ الیکشن سے پہلے بظاہر یہ دھائی سامنے آتی ہے کہ منافقت اور جھوٹ کو شکست دینے کے لیے اوپن بیلٹ کا نظام نافذ کیا جائے تاکہ عوام کو پتہ چل سکے کہ ان کے منتخب کردہ ممبر نے اپنا ضمیر کتنے میں بیچا ہے۔ لیکن اس وقت بھی پاکستان کی سبھی بڑی جماعتیں اور ان کی قیادت سیاسی منڈیوں میں خریدار بن کر ہر بکنے والے ضمیر فروش ارکان اسمبلی کو خریدنے کے لیے کمرکس چکے ہیں۔ایک دفعہ پھر چند روز کے لیے پرنٹ وا لیکٹرانک میڈیا پر اس نظام اور ان کرپٹ اراکین اسمبلی کے خلاف واویلاہوگا پھر اس دوران کوئی اور ملکی یا بین الاقوامی ایشو میڈیا کی توجہ کا مرکز بن کر اس پرانے ایشیو پر مٹی ڈال دے گا۔ عوامی مینڈیٹ کی اس سے زیادہ توہین کیا ہو گی کہ سیالکوٹ، گوجرانوالہ سے تعلق رکھنے والے امیدوار اور پشاور سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو سندھ سے اور بلوچستان سے تعلق رکھنے والے امیدوار کو اسلام آباد کیپٹل سے جتوایا جائے۔ قارئین! سیاست کی طرح کرکٹ میں بھی ان مفاد پرست طبقات نے ایسے پنجے گاڑے ہیں کہ پاکستان کی عالمی سطح پر جو سبکی ہوئی ہے اس کا ازالہ شاید ممکن نہیں۔ ایک شکست زدہ ٹکڑوں اور فرقوں میں بٹی ہوئی قوم جو گذشتہ چودہ سال سے حالت جنگ میں ہے جس کی گذشتہ دو نسلیں بارود اور بمبوں کی آغوش میں جوان ہو رہی ہیں۔ جہاں نوجوان نسل کو معاشرے کا ایک صحت مند فرد بنانے کی بجائے خودکش حملہ آور بننے پر مجبور کیا جاتا ہے۔ وہاں کرکٹ اور ہاکی دوایسے قومی کھیل تھے جنہوں نے اب تک کی نیشنل یونیٹی کو برقرار رکھنے میں ایک کلیدی کردار ادا کیا ہے مگر شومئی قسمت کہ جمہوریت کی طرح ہمارے کھیل او رکھلاڑی بھی ’’رضیہ غنڈوں میں پھنس گئی‘‘کے مصداق ہو چکے ہیں۔اور عوام کی حالت اس مریض جیسی ہے جس کو اسی عطار کے بیٹے سے دوالینی پڑ جاتی ہے جس نے پہلے ہی پنکچر لگا لگا کر پوری قومی یکجہتی کا ستیاناس کر دیا ہے ۔ ملک کی موجودہ صورت حال یوں ہے کہ داخلہ، خارجہ، دفاع اور تمام پالیسیاں جنرل راحیل شریف اور فوج کی مرہون منت ہیں مگرہمارے جمہوریت اشرافیہ اس پر بھی اتراتے نہیں تھکتے۔ اور ایسا تب تک ہوتا رہے گا جب تک اس قوم کا ہر فرد اپنی ذمہ داری کا ادراک نہیں کر لیتا۔ دراصل اس وقت مملکت عزیز کو ایک بڑے لیول پر اوورہالنگ کی شدید ضرورت ہے ہمارے اطراف بیٹھے ہمارے دشمن للچائی ہوئی گِدھ کی طرح ہماری طرف دیکھ رہے ہیں۔ اگر اب بھی ہم نے نمبرز ٹانگنے اور پوائنٹ سکورنگ کرنے کا وطیرہ نہ چھوڑا تو ہمارا ذکر کتابوں میں بھی تلاش کرنا دشوار ہو گا۔ قارئین! میں اپنے گذشتہ سالوں کے دوران کالموں میں عوام کی امیداور ہمت بندھانے کی اپنی سی سعی کرتا رہاہوں مگر اب پاکستان کے ہر فرد کو اپنا فرض نبھانا ہوگا وگرنہ وقت نہ آج تک کبھی رُکا ہے نہ رُکے گا اور ہم انسانوں کی منڈیوں میں یوں ہی بکتے رہیں گے۔ 24فروری2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus