×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
۔۔۔ کویلے دیاں ٹکراں
Dated: 28-Apr-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com خدا خیر کرے پاکستان پہلے ہی کئی مصیبتوں میں گھِرا ہوا ہے کہ خیبر پی کے میں طوفان نے تباہی مچا دی۔ ایسی آفات نجانے ہمارے اعمال کا نتیجہ ہیں یا ہماری آزمائش۔ رب کریم ہمیں ایسی آزمائشوں، مصیبتوں اور مشکلات سے محفوظ رکھے۔ ہم نے تو خودہی اپنے لیے بڑی مصیبتیں پیدا کر رکھی ہیں۔ میں تو کہوں گا آج ہر پارٹی اپنی پالیسیوں کی بدولت عوام کے لیے مصیبت بنی ہوئی ہے۔آصف علی زرداری کل کراچی میں ایک بار پھر جلسے میں خوب برسے، ان کا مفاہمت کے فلسفے کے بعد ایک نیا فلسفہ سامنے آیا ہے کہ نوجوان نسل پارٹی قیادت سنبھالے میں اور قائم علی شاہ اقتدار سنبھالیں گے۔ نوجوانوں کو اقتدار کے لیے استعمال کرنے کا اچھا گُر نکالا ہے۔ بلاول کو قیادت سونپ کر واپس لے لی۔ اب جبکہ پارٹی کا بیڑا مکمل طور پر غرق ہو گیا تو اس میں جان ڈالنے کے لیے ٹکریں مار رہے ہیں۔ کنٹونمنٹ کے الیکشن میں صرف سات سیٹیں پی پی پی کو مل سکیں۔ جماعت اسلامی کو چھ ملی ہیں۔ آصف علی زرداری کی’’عظیم قیادت‘‘ میں پیپلزپارٹی گرتے گرتے جماعت اسلامی کی سطح پر آ گئی۔ زرداری صاحب اب بھی ’’بابوں‘‘ کو پارٹی کا روشن مستقبل سمجھ رہے ہیں۔ ایسے جلسوں سے پی پی پی کی مردہ رگوں میں خون نہیں دوڑ سکتا یہ کویلے کی ٹکریں ہیں ان کا کوئی فائدہ نہیں ہو سکتا۔ نوجوانوں نسل کو حقیقت میں آگے لائیں۔بلاول پر اعتماد کریں تو شاید پیپلز پارٹی سنبھل جائے ۔ ہمارا دوست سعودی عرب بھی کویلے کی ٹکریں ما ررہا ہے۔ ان کے وزیراور پاکستان آ اور جا رہے ہیں۔ ایک ہی مطالبہ دہرایا جا رہا ہے ،پاکستان سعودی عرب کی فوجی مدد کرے۔امام کعبہ بھی پاکستان سے لاجسٹک سپورٹ لینے کے لیے لاہور تشریف لائے ۔ بحریہ ٹائون مسجد، شاہی مسجد، جامعہ اشرفیہ، جماعت اسلامی کے دفتر تشریف لے گئے مگر کتنا اچھا ہوتا کہ امام صاحب داتا علی ہجویری گنج بخش کے درباراور جامعہ نعیمیہ جا کر بھی نما زپڑھا دیتے ۔ امام کعبہ لاہور رائے ونڈ آئے مگر وہ کوئٹہ ،پشاور، کراچی ،مظفر آباد، گلگت کو نظرانداز کر گئے۔ اس سے ثابت ہوا کہ وہ صرف پنجاب حکومت کی سپورٹ حاصل کرنا چاہتے تھے باقی ماندہ پاکستان ان کی نظر میں عجمی اور رفیق ہے۔ اسی طرح چینی صدر سے بھی خصوصی طور پر پنجاب کے وزیراعلیٰ کو ملوایا گیا۔ اس سے ثابت ہوتا ہے کہ پاکستان کے موجودہ حکمران شریف خاندان چین، متحدہ عرب امارات اور سعودی عرب، مشرق وسطیٰ سے خاندانی شاہی تعلقات رکھنا چاہتے ہیں جس طرح ان کے لبنان کے حریری خاندان سے بھی ذاتی تعلقات ہیں تو پھر باقی ماندہ پاکستان کا وزیر خارجہ کیوں ابھی تک نامزد نہیں کیا گیا یہ بات اب سمجھ میں آتی ہے۔ آج مشکل پڑی توسعودی حکمران پاکستان پر فدا ہو رہے ہیں پہلے سے پلاننگ کی ہوتی تو مایوسی نہ ہوتی۔ ایک ایک عرب شہزادہ کروڑوں ڈالر فرانس اور امریکہ کے جوئے خانوں میں ہرا دیتا ہے۔ یہی رقم پاکستانیوں کی فلاح کے لیے صرف کی ہوتی تو آج پورا پاکستان سعودی عرب کے ساتھ کھڑا ہوتا۔ اچھے دنوں میں پروا نہ کی اور اب پاکستان کی یاد آ گئی۔’’جب سلامتی لگی کٹنے تو نیاز لگی بٹنے‘‘ قارئین! حرمین شریف ، خانہ کعبہ اور روضہ رسول ؐ پر میرے ماں باپ، بیوی بچے اور میری جان بھی فدا لیکن کیا یہ حقیقت نہیں اور تاریخ کے اوراق پلٹنے سے ہمیں روزِ روشن کی طرح یہ حقیقتیں نظر آتی ہیں کہ عربوں کی ترکوں اور عربوں کی عربوں کے ساتھ باہمی چپقلشوں ، جنگ و جدال سے حرمین شریف ماضی میں بھی متاثر ہوتے آئے ہیں اور ہمارا ایمان ہے کہ قرآن شریف میں یہ رقم ہے کہ اللہ تعالیٰ نے خانہ کعبہ اور حرمین شریف کی حفاظت کا ذمہ خود لے رکھا ہے مگر یہ بھی حقیقت ہے کہ حجاز مقدس کے موجودہ وارثان نے کئی اسلامی اور مذہبی اقدار کی حامل زیارتوں کو توسیع کے نام پر مسمار کیا۔ لیکن اب بھی پاکستان کی پوری قوم نے پارلیمنٹ کی ایک قرارداد کے ذریعے موجودہ سعودی خاندان کو یہ گارنٹی دی ہے کہ اگر حرمین شریف یا سعودی عرب کی سرزمین کو کوئی خطرہ لاحق ہوا تو صرف فوج ہی کیا بیس کروڑ پاکستانی حفاظت کے لیے بھاگتے چلے آئیں گے مگر جناب بادشاہ سلامت، شاہی خاندان اور سعودی شہزادوں کی اس سے تسلی کیسے ممکن ہے وہ تو ہر پاکستانی اور عجمی کو رفیق اور ’’بخشو‘‘ سمجھتے ہیں۔ انہیں تو خطے میں اپنی برتری دکھانے کے لیے کرائے کے ’’سینوں‘‘ کی ضرورت ہے اور اس مقصد کے لیے ریالوں اور ڈالروں کی بوریوں کے منہ کھول دیئے گئے ہیں۔ جن سے ان کے کچھ مستقل تنخواہ پر کام کرنے والے سرکاری و غیر سرکاری علماء اور کچھ ’’پری پیڈ‘‘ بھرتی کیے گئے مولوی حضرات ارضِ وطن کی گلیوں اور سڑکوں پر اغیار کی اس جنگ میں کودنے کے لیے قوم کو ورغلانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ان ایزی لوڈ پاسبانوں نے ضربِ عضب اور اندرونِ ملک جاری فوجی آپریشنز، کشمیر میں پرتشدد واقعات اور بھارت کی طرف سے آئے روز سرحدی خلاف ورزیوں کی پرواہ کیے بغیر ایک دفعہ پھربیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کا کردار ادا کرنے کے لیے بے تاب ہیں۔ قارئین! جھورا جہاز پاکستان کے موجودہ حالات پر بہت پریشان دکھائی دے رہا ہے۔ وہ مجھے کہہ رہا ہے کہ وڑائچ صاحب جس طرح کے حالات ہیں۔ اس میں یہ ملک چل کیسے رہا ہے، پھر خود ہی کہنے لگا کہ آدھا ملک تو زبیدہ آپا کے ٹوٹکوں اور باقی آدھا ان ایزی لوڈ اور پری پیڈ حضرات کی وجہ سے چل رہا ہے۔ سعودی حکومت کے دورے پر وزیراعظم اکیلے جانا چاہتے تھے مگر عسکری قیادت کے دبائو پر راحیل شریف کو ساتھ لے جانا پڑا۔سعودی شاہی خاندان کی ڈیمانڈ ہے کہ کم از کم تیس ہزار بحری بری اور فضائی افواج کو سعودی عرب میں تعینات کر دیا جائے۔جبکہ پاکستانی عسکری قیادت کی جوابی شرائط تھیں کہ وہ پاکستانی فوجی جو سعودی عرب میں سروس دیں ان کو مستقل رہائش یعنی پرمنٹ رہائشی کارڈ ایشو کیے جائیں اور ریٹائرمنٹ کے بعد پنشن اور ان کے بچوں کو سعودیہ میں کم از کم ورک پرمٹ مستقل بنیادوں پر دیا جائے۔ پاکستان کے اس عسکری تعاون کے بدلے وہ 22لاکھ پاکستانی وہاں ملازمت کر رہے ہیں انہیں مستقل ورک پرمٹ دیا جائے اور انہیں سعودی عرب میں کاروبار کی اجازت دی جائے۔ انہیںمستقل قیام کی اجازت دی جائے اور امریکہ اور یورپ کی طرز پر مستقل رہائشی کارڈ اور پرمٹ جاری کیے جائیں۔ شریف خاندان بُرے حالات میں سرور محل جدہ میں رہائش پذیر ہوا اور شاہی پناہ لی ۔ اسی طرح آج سعودی شاہی خاندان کے گرد خطرات منڈلا رہے ہیں تو وہ رائے ونڈ کے باسیوں کے پاس امام کعبہ ،وزیر اوقاف اور وزیر خارجہ تک کو بھیج رہے ہیں اور لاہور کی مساجد میں امامت کی ڈپلومیسی جاری ہے یہ کرکٹ ڈپلومیسی کے بعد سعودی عرب کی ڈپلومیسی ہے۔اگر پاکستان کے مطالبات نہ مانے گئے تویہ بھی ہمارے برادراسلامی ملک کی طرف سے یہ بھی ’’کویلے دیاں ٹکراں‘‘ہیں۔ 28اپریل2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus