×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سیاسی بلوغت
Dated: 23-Jun-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com یہ اُن دنوں کی بات ہے جب میں میترانوالی ہائی سکول میں پڑھتا تھا او راکثر و بیشتر قریبی قصباتی شہر ڈسکہ بغرض شاپنگ آنا جانا رہتاتھا۔ ڈسکہ کی سڑکوں پر بجلی کے کھمبوں پر چھوٹے بڑے سائز کے رنگ برنگے چمکیلے سینما بورڈ لٹکتے نظر آتے جن پر کسی انگریزی فلم کی تشہیر ہوتی اور ساتھ لکھا ہوتا ’’ہائوس فُل، کھڑکی توڑ اور صرف بالغوں کے لیے‘‘ہم بڑے متجسس ہوتے کہ آخر یہ کیا چیز ہے جو صرف بالغوں کے لیے ہے۔ ایک دن ہم اپنے ایک دوست کے ساتھ سکول کی کوئی کتاب لینے ڈسکہ گئے تو افشاں سینما میں دوپہر کا شو دیکھنے کی ٹھانی، بڑی مشکل سے ٹکٹ لے کر اپنی سیٹوں پر بیٹھے تو پتہ چلا وہ فلم کیا تھی بس چند فحش فلموں کے ’’ٹوٹے‘‘ جوڑ کر چلائے جا رہے تھے اور ساتھ میں سائیڈ پروگرام کے نام پر نیم فحش پنجابی گیت مالا پروگرام میں شامل تھا۔ انٹروَل ہوا ہال کی لائٹس آن ہوئیں تو ہم نے دیکھاکہ ہمارے ساتھ والی سیٹوں پر ہمارے ریاضی اور سائنس کے ٹیچرز براجمان تھے۔ انہوں نے ہمیں دیکھا ہم نے انہیں دیکھا انہوں نے اپنے چہرے پر اخبار کر لی اور ہم نے اپنی گود میںپڑے ٹیسٹ پیپرز کے پیچھے منہ چھپا لیا۔ قارئین! چند ہفتے پیشتر سابق صدر آصف علی زرداری جو محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت کے بعد پیپلزپارٹی کے وصیتی شریک چیئرمین بنے، جنہیں زعم ہے کہ انہوں نے ملکی تاریخ میں پہلی بار جمہوری حکومت کے پانچ سال پورے گئے(یہ علیحدہ بات کہ اس کے عوض انہیں کیا کیا جتن کرنے اور پاپڑ بیلنے پڑے) آصف زرداری صاحب نے باپ اور بیٹے کے درمیان پائی جانے والی چپقلش اور اندرون خانہ شدید لڑائی کی وجہ سے اپنے ہی اکلوتے بیٹے کو یہ کہہ کر پارٹی چیئرمین شپ سے ہٹا دیا کہ بلاول صاحب ابھی سنِ بلوغت کو نہیں پہنچے ۔ زرداری صاحب نے یہ بھی کہا کہ جب بلاول صاحب ذہنی اور سیاسی طور پر بالغ ہو جائیں گے تو انہیں پارٹی کی قیادت دوبارہ سونپ دی جائے گی۔ بلاول کی پیپلزپارٹی کی چیئرمین شپ سے علیحدگی کی خبر لاکھوں لوگوں کے لیے سمجھ سے بالاتر تھی۔ یعنی جب بلاول صاحب کو پیپلزپارٹی کی قیادت سونپی گئی تھی تب ان کی عمر بھی اتنی نہ تھی کہ انہیں ملک کی سب سے بڑی سیاسی جماعت کا چیئرمین بنایا جاتا۔ بلاول کو اس وقت 26سال کی عمر میں بھی بقول زرداری صاحب نابالغ قرار دیا گیا ہے۔ وہ آج سے آٹھ سال پہلے کس پوزیشن میں ہوگا۔ یہ صرف زرداری صاحب کو ہی پتہ ہے مگر اس سے بھی انہونی بات یہ ہوئی کہ جب جنرل راحیل شریف کی قیادت میں پاک فوج سندھ رینجرز نے معاشی دہشت گردوں کے گرد گھیرا تنگ کرنا شروع کیا تو قومی سیاست کے اندر ایک بھونچال آ گیا۔ ہزاروں ارب روپے ہڑپ کر جانے والے بیوروکریٹس ،سیاست دان ، سابقہ و موجودہ اراکین کابینہ اور معزز پارلیمنٹیرین اپنے بچائو کے لیے ہاتھ پائوں مارنے لگے۔ روپے کی اتنی بے توقیری نہ دیکھی نہ سنی ہو گی کہ پکڑے جانے کے خوف سے اربوں روپے کے کرنسی نوٹ جلائے جانے لگے اور گھروں کے تہہ خانوں سے اور سمندر میں رواں دواں لانچوں سے اربوں روپے برآمد کیے گئے۔ اس کرپٹ مافیا کے کوریئرز بھی جب پکڑے جانے لگے تو سابق مسٹر ٹین پرسنٹ کو یہ خیال آیا کہ بلاول کوتُرپ کے پتے کے طور پر کیوں نہ استعمال کیا جائے ۔ جس بلاول کو کل تک ناپختہ عقل قرار دے کر معطل کر دیا گیا تھا وہ بلاول راتوں رات ذہنی، سیاسی طور پر بالغ قرار پایا۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ وڑائچ صاحب بلاول صاحب نے حکیم تحسین دواخانہ سے کیا کوئی معجون کھایا ہے یا پھر کوئی زوداثر ’’ویاگرا‘‘ استعمال کیا ہے جو ایک دم سے بالغ ہو گئے ہیں۔ سچ ہے بزرگ کہتے ہیں کہ جب بندریا کے پائوں جلنے لگتے ہیں تو پائوں کے نیچے اپنے بچے رکھنے سے بھی گریز نہیں کرتی اور زرداری صاحب کے پاس قربان کرنے کے لیے صرف بلاول ہی تو بچا ہے۔ دوسری صورت میں آصفہ زرداری کے سیاسی اور ذہنی بالغ ہونے تک نہ زرداری صاحب کے پاس وقت ہے اور نہ اجل کے پاس۔میں نے سندھ کی ایک بہت ہی معروف مذہبی اور سیاسی شخصیت سے پوچھا کہ مجھے زرداری کے معنی بتائو تو انہوں نے کہا کہ سندھی میں زر کا مطلب مال اور داری کا مطلب منتقل کرنے والا ہے جو کہ زمانۂ قدیم میں اپنے اونٹوں پر مال کی ترسیل ممکن بناتے تھے۔ ہمارے پنجاب میں اسے ’’کمہار‘‘ بھی کہتے ہیں تو اس سے یہ ثابت ہوا کہ زرداری صاحب اور ان کا پورا کرپٹ کنبہ جو قومی دولت ملک سے لوٹ کر باہر منتقل کر رہے ہیں وہ دراصل زرداری قبیلے کا خاندانی پیشہ ہے۔ قارئین! ایک دوسری خبر جو زرداری صاحب نے اپنے متعلق مشہورکر رکھی ہے وہ یہ کہ موصوف یاروں کے یار ہیں اور جس دوران موصوف اسمگلنگ ،ڈاکہ زنی، منشیات، منی لانڈرنگ اور کمیشن کک بیک کے مقدموں میں پابند سلاسل تھے تو انہوں نے اپنے گرد نہ صرف پروفیشنل چور، ڈاکو، لٹیرے اور جرائم پیشہ افراد کا ایک بڑا گروہ اکٹھا کر لیا بلکہ میرے اور ذوالفقار مرزا جیسے لوگوں کو وہ یہ چکمہ دینے میں بھی سوفیصد کامیاب رہے کہ آصف علی زرداری کسی کا احسان سر پر نہیں رکھتا۔ اس غیر معمولی تشہیر کے ذریعے زرداری صاحب اپنے مقاصد کے حصول میں کامیاب ہو گئے اور آج ملک کے اندر ہی نہیں سوئیٹزرلینڈ یورپ میں مسٹر رِمی، مسٹر گریگوفٹسے اور امریکہ میں سابق کانگریس مین مسٹر سیٹون گریو جیسے لوگ آصف علی زرداری کی طوطا چشمی اور احسان فراموشی پر محوِ حیرت ہیں۔ ایک بات تو طے ہے کہ آصف علی زرداری کے نزدیک حصولِ مقصد کے لیے کوئی جائز ناجائز طریقہ بھی استعمال کیا جا سکتا ہے۔ اپنی صدارت کے ابتدائی ایام میں گورنر پنجاب کی طرف سے دیئے گئے عشائیہ میں سنٹرل میز پر میرے اورآصف علی زرداری کے علاوہ افتخار احمد(جوابدہ) مبشر لقمان (اینکر) طاہر سرور میر(اینکر) اور پروفیسر اجمل نیازی(دانشور) بیٹھے تھے۔ ان اصحاب کی موجودگی میں آصف زرداری نے یہ قبول کیا کہ آج میں جس جگہ پر بیٹھا ہو اس تک پہنچانے میں مطلوب وڑائچ نے کلیدی کردار ادا کیا مگر قارئین میں محسوس کرتا ہوں کہ یہ سیاسی بالغ قسم کے مفاد پرست لوگ، ہم جیسے دوستوں کو ٹشو پیپر کی طرح استعمال کرکے پھینک دیتے ہیں مگر کوئی بات نہیں وقفے کے بعد کی فلم تو ابھی باقی ہے اور اس فلم کے مرکزی ولن کردار کو ’’صرف بالغوں کے لیے‘‘ والے بورڈ اتار کر کھمبوں پر لٹکایا جائے گا۔ 23جون2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus