×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
کھودا پہاڑ نکلا چوہا!
Dated: 14-Jul-2015
مطلوب احمد وڑائچ matloobwarraich@yahoo.com ڈاکٹر تنویر زمانی سے میری پہلی ملاقات اس دن ہوئی جب میں شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کے ساتھ امریکہ کے دورے پہ گیا ہوا تھااور پی پی پی یو ایس اے کے اس وقت کے صدر ڈاکٹر حسن اور سیکرٹری چوہدری اعجاز فرخ نے میرے اعزاز میں ایک عشایئے کا اہتمام کیا۔ وہیں ایک دوست نے تنویر زمانی کا مجھ سے تعارف کروایا اور ہم نے آپس میں نمبرز ایکسچینج کیے۔ میرے پاکستان آنے کے بعد ڈاکٹر تنویر زمانی نے تقریباً روزانہ کی بنیاد پر میرے ساتھ رابطہ رکھا جو میں نے محسوس کیا۔ دراصل وہ میرے ذریعے شہید محترمہ اور پارٹی کی اعلیٰ قیادت تک رسائی چاہتی تھیں اور ان کی اسی خواہش پر میں نے اپنے ایک دوست خالد اعوان کے ذمہ یہ ڈیوٹی لگائی کہ جب اگلی دفعہ محترمہ یا آصف علی زرداری امریکہ تشریف لائیں تو میرے ریفرنس سے ڈاکٹر تنویر زمانی کی ان سے ملاقات کا اہتمام کر دیں۔ اس سے تھوڑے عرصہ بعد ہی محترمہ کی شہادت کا واقع پیش آ گیا۔ کچھ عرصے بعد میں دوبارہ امریکہ گیا تو پیپلزپارٹی یو ایس اے کے موجودہ نامزد صدر چوہدری شفقت تنویر نے مجھے یومِ پاکستان کے ایک پروگرام میں چیف گیسٹ کے طور پر بلوایا۔ اسی تقریب میں ڈاکٹر تنویر زمانی نے بڑی دھواں دار تقریر کی، بعدازاں میری ان سے گپ شپ ہوئی تو وہ پہلے سے زیادہ بااعتماد اور خوش نظر آ رہی تھیں اور بار بار اعلیٰ قیادت سے ملوانے کا شکریہ ادا کر رہی تھیں جبکہ پیپلز پارٹی یو ایس اے کے دیگر سینئر رہنما ڈاکٹر تنویر زمانی کی چرب زبانی اور حرکات پر کافی نالاں تھے اور پھر اس کے کچھ ہی دنوں بعد میڈیا پر پہلی بار ڈاکٹر تنویر زمانی اور آصف علی زرداری کے درمیان ازدواجی تعلقات کی خبریں گردش کرنے لگیں۔ پارٹی کی اعلیٰ قیادت کے کہنے پہ میں امریکہ گیا اور وہاں ذاتی تحقیقات کرکے یہ رپورٹ لی کہ ڈاکٹر تنویر زمانی نے نیویارک میں مقیم ایک پاکستانی صحافی عظیم ایم میاں کے ساتھ مل کر سستی شہرت حاصل کرنے کے لیے یہ ڈھونگ رچایا ہے جبکہ ڈاکٹر تنویر زمانی کے آصف زرداری کے ساتھ تعلقات کی نوعیت کچھ اور تھی۔ اسی ٹور پر میں نے ڈاکٹر تنویر زمانی کو خبردار کیا کہ وہ ایسی حرکتوں سے باز رہے۔ اب کافی عرصہ بعد اس بجھی ہوئی آگ سے پھر سے چنگاریاں تلاش کرنے کی کوشش کی گئی ہے اور ایک دفعہ پھر پاکستان کے پرنٹ اور الیکٹرانک میڈیا پر پچھلے دو ہفتوں سے ڈاکٹر تنویر زمانی سیکنڈل کو اچھالا گیا ہے۔ پاکستان کے تقریباً تمام نجی ٹی وی چینلز اور پرنٹ میڈیا پر ڈاکٹر تنویر زمانی کے انٹرویو ہر سینئر اینکر نے کیے اور ایسا لگ رہا تھا کہ جیسے بیس کروڑ عوام کے اصل مسائل کا حل صرف اس سیکنڈل کے اندر پوشیدہ ہے۔ چونکہ میں ان دنوں امریکہ اور کینیڈا آیا ہوا ہوں تو میںنے اپنی انویسٹی گیشن فطرت کے ہاتھوں مجبور ہو کر اس سیکنڈل کو بے نقاب کرنے کا ارادہ کر لیا اور پھرمجھے جو حقائق نظر آئے وہ بڑے لرزہ خیز تھے۔ کہانی یوں ہے کہ جب آصف علی زرداری اور ان کی پوری ٹیم رینجرز کے ہاتھوں راہِ فرار کرنے پر مجبور ہوئے اسی دوران ایان علی اور مختلف جگہوں پر چھپایا ہوا کالادھن برآمد ہونا شروع ہوا تو آصف علی زرداری نے پہلے تو براہِ راست فوج کو دھمکیاں دینا شروع کر دیں مگر فوج کی طرف سے سپاٹ جواب ملنے پر موصوف نے حسب عادت اعلیٰ فوجی افسران کو خریدنے کی ناکام کوشش کے بعد چوہدری نثار سے مشورے کے بعد بمعہ فیملی ملک سے بھاگنے میں عافیت جانی اور طے شدہ پلان کے مطابق امریکہ سے ڈاکٹر تنویز زمانی کو پاکستان بلوا کر ایک مردہ سیکنڈل میں پھر سے روح پھونکنے کی کوشش کی۔ اس دوران یہ حقائق بھی سامنے آئے کہ ڈاکٹر تنویر زمانی کے میڈیا پر انٹرویوز کے انتظامات کروانے کے لیے مختلف نجی چینلز، اینکرز، پروڈیوسرز میں کروڑوں روپے بانٹے گئے تاکہ عوام کی توجہ اصل ملکی معاملات سے ہٹا کر اس خود ساختہ سیکنڈل کی طرف کر دی جائے۔ قارئین! جیسا کہ آپ نے دیکھا کہ ڈاکٹر تنویر زمانی سیکنڈل کے آنے سے سندھ میں پی پی پی کی حکومت کی کرپشن، لوٹ مار اور ایان علی کیس کو دبانے کی حتی الوسع کوشش کی گئی او ربڑے بڑے پہلوان اینکر صاحبان جو خود کو انویسٹی گیٹنگ صحافت کا چیمپئن سمجھتے ہیں یا تو بِک گئے یا پھر ٹریپ ہو کر رہ گئے اور انہوں نے تنویر زمانی کے انٹرویوز کرنے سے پہلے اتنا پتہ تک نہیں کیا کہ امریکہ میں رجسٹرڈ سرجن ڈاکٹر متعدد بچوں کی ماں اور ایک امریکن ڈاکٹر تحسین کی بیوی کا فیملی سٹیٹس کا پتہ چلانا کوئی مشکل بات ہے۔ کسی اینکر اور پروڈیوسر نے پی پی پی یو ایس اے کے کسی موجودہ یا سابقہ عہدیدار سے اس بابت معلوم کرنے کی زحمت نہیں کی اور ایک ڈاکٹر تنویر زمانی آصف علی زرداری کے پھیلائے ہوئے جال اور سیکنڈل سے پاکستان کے بیس کروڑ عوام کو دو ہفتے تک بیوقوف بناتی رہی۔ اسے کہتے ہیں ’’کھودا پہاڑ نکلا چوہا!‘‘ قارئین! سندھ حکومت نے رینجرز کو خصوصی اختیارات دینے کی مدت میں توسیع دینے سے انکار کرنے کے بعد جب یہ دیکھا کہ پاک فوج اور رینجرز اور اعلیٰ عسکری قیادت کا موڈ کچھ اور ہے تو بادۂ نخواستہ رینجرز کو ایک ماہ کی توسیع دے دی حالانکہ ایم کیو ایم کی رابطہ کمیٹی اور خود الطاف بھائی نے پہلے تو فوج کو دراندازی کی دعوت دی اور جب ان کے اپنے ہی خلاف شکنجہ کسنے لگا تو کہا کہ رینجرز کا یک طرفہ آپریشن کراچی کے گلی کوچوں میں خانہ جنگی کا موجب بنے گا اور اس پر دھرنہ دینے کا بھی اعلان کر دیا۔ ایم کیو ایم کی اس دھمکی پر سندھ کی مقتدر سیاسی قوتیں خاموش نہ رہ سکیں اور صبغت اللہ شاہ راشدی جو حُروں کے پیر پگاڑا ہیں کو مجبوراً میدان میں آنا پڑا اور انہوں نے قومی سیاست اور ایم کیو ایم کو یہ واضح پیغام دیا کہ اگر کراچی اور سندھ سے رینجرز کو واپس بلایا گیا تو کراچی کی سڑکوں پر اتنی لاشیں گریں گی کہ جو اٹھائی نہ جا سکیں گی۔ دراصل پیر صاحب پگاڑا کا یہ بیان ایم کیو ایم کے لیے لمحۂ فکریہ ہے اور قومی دھارے میں فنکشنل مسلم لیگ کی واپسی کا اعلان بھی۔ قارئین! کچھ بھی ہو آنے والے چند دنوں خصوصاً عید الفطر کے بعد رینجرز سالوں اورمہینوں کا کام دنوں میں پورا کرنے جا رہی ہے۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا وڑائچ صاحب چھوٹی عید کے بعد عوام کو بڑی خوشی ملنے والی ہے۔ خاص طور پر وزیراعظم کے حالیہ دورئہ روس کے دوران پاک فوج کو ایک دفعہ پھر نظرانداز کرکے مسئلہ کشمیر کو پسِ پشت ڈالنا موجودہ حکمرانوں کے لیے نیک شگون ثابت نہ ہوگا۔ 14جولائی 2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus