×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
سوتیلا پنجاب
Dated: 01-Sep-2015
کچھ عرصہ پہلے پنجاب کے سابق وزیراعلیٰ محمد حنیف رامے (مرحوم) نے پنجاب کی محرومیوں اور حق تلفیوں پر مشتمل کتاب لکھی جس کا نام ’’پنجاب کا مقدمہ‘‘ رکھا گیا۔ اس کتاب کے شائع ہونے کے بعد پہلی دفعہ پنجابیوں کو حقوق کی پامالی کا احساس ہوا۔ قیامِ پاکستان اور تقسیم ہند کا سب سے زیادہ نقصان بھی اسی سوہنی دھرتی کو ہوا۔ پنجاب کو دو حصوں میں تقسیم کر دیا گیا اور سرحد کے اُس پار پنجاب دشمن قوتوں نے مشرقی پنجاب کو مزید تین حصوں میں تقسیم کر دیا جبکہ پنجاب کا جو حصہ پاکستان میں ہے اسے بھی کچھ حریص قوتیں مسلسل للچائی نظروں سے دیکھ رہی ہیں اور سرائیکی اور پوٹھوہارکو پنجاب کا حصہ ماننے سے گریزاں ہیں جبکہ پنجاب نے اپنی روایتی میزبانی اور مہمانداری ،ثقافت اورروایات کی وجہ سے ہمیشہ ہر جارح، طالع آزمائوں اور جنگجوئوں کو نہ صرف بخوشی راہداری دی بلکہ جو ٹھہر گیا اسے گلے سے بھی لگایا۔ غیر اقوام کے طالع آزمائوں نے کبھی لسانی بنیادوں پر کبھی جغرافیائی اور کبھی مذہب کے نام پر پنجاب سے اس کی ثقافت چھیننے کی کوشش کی۔ ہمارے بچوں کو سکول میں پنجابی جنگجوئوں اور سورمائوں کی تاریخ بتانے کے بجائے درآمد شدہ جنگجوئوں کو بطور ہیرو بنا کر پیش کیا گیا۔ آج بھی پنجاب کے کسی ایک سکول میں بلھے شاہؒ، بابا فرید گنج شکرؒ، میاں میر، داتا گنج بخش ہجویریؒ اورسیف الملوک کے افکار کو نصاب کا حصہ نہیں بنایا گیا۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ پاکستان کے دیگر صوبوں سندھ، بلوچستان، خیبرپختونخواہ اور کشمیر میں وہاں کی مقامی ماں بولی زبانیں سرکاری طور پر پڑھائی جاتی ہیں جبکہ کل آبادی کا چونسٹھ فیصد حصہ پنجاب پر مشمل ہونے کے باوجود پنجاب کے سکولوں میں پنجابی کو لازمی مضمون کے طور پر شامل نہیں کیا گیا۔ قارئین! مجھے تیس سال سے زائد کا عرصہ ہو چکا ہے کہ میں بیرونِ ملک تعلیم اور اپنی دیگر سرگرمیاں جاری رکھے ہوئے ہوں جب کبھی بھی میری ملاقات دیگر صوبوں سے تعلق رکھنے والے ہم وطنوں سے ہوتی ہے تو وہ بے لحاظ ہو کر پنجابیوں کو غاصب قرار دیتے ہیں۔ ایسی خودساختہ داستانیں سننے کو ملتی ہیں کہ جس سے یہ تاثر ملتا ہے کہ شاید پنجاب ہی وہ دھرتی ہے جس نے سندھیوں، بلوچیوں، پختونوں اور کشمیریوں کے حقوق سلب کر رکھے ہیں مگر کیا یہ حقیقت نہیں کہ خود پنجاب کے بنیادی حقوق تک بیوروکریسی اور اسٹیبلشمنٹ کے زیر قبضہ ہیں ۔ کیا سندھیوں، مہاجروں اور بلوچوں کو فوج میں بھرتی ہونے سے پنجابیوں نے روکا ۔کیا یہ حقیقت نہیں ہے کہ پاکستان کی نوے فیصد افواج پنجابیوں اور دس فیصد پختونوں پر مشتمل ہے ۔ کیا پچھلے ستر سال کے دوران ایک آدھ چھوڑ کر پنجاب پر مسلط حکمرانوں کا تعلق ہمیشہ دیگر بسنے والی قوموں سے رہا اور آج بھی حالات یوں ہیں کہ 1985ء سے2015ء تک ایک کشمیری خاندان تختِ پنجاب پر قابض ہے۔ قارئین! میں نے اپنی پوری زندگی کے دوران کبھی بھی پنجاب کے کسی حصے میں کسی غیر پنجابی کے متعلق حقارت اور نفرت نہیں دیکھی۔ صادق آباد سے لے کر اٹک تک تفریق ،تقسیم کا رواج نہیں جبکہ بلوچستان اور کراچی سندھ سے آئے روز پنجابی آباد کاروں کی لاشیں ان کے آبائی دیہات میں آتی رہتی ہیں۔ اور 1977ء میں ذوالفقار علی بھٹو کے حراست میں لیے جانے کے بعد وہاں پر پنجابی آبادکاروں، مزارعوں اور کسانوں سے ان کی زمینیں اور جمع پونجی تک چھین لی گئی اور انہیں مار مار کر سندھ بدر کر دیا گیا۔ لیکن معصوم پنجابی نے اس کے بعد بھی سندھی بھٹو کی پارٹی کو تین دفعہ اقتدار میں لانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ آج بھی پنجاب سے سوتیلوں جیسا سلوک کیا جا رہا ہے ملک کے ہر کونے میں دہشت گردی کے خلاف پاک فوج کے آپریشن ضربِ عضب اور آپریشن کلین اپ میں خیبرپختونخواہ اور سندھ کراچی میں امن کے دشمنوں اور معاشی دہشت گردوں کے خلاف جنگ منطقی انجام کے قریب پہنچ چکی ہے اور کراچی اور کوئٹہ میں کرائم ریٹ اسی فیصد کم ہو گیا جبکہ بلوچستان کے ’’فراریوں‘‘ اور بلوچ سرداروں کو بھی منانے کا عمل جاری ہے۔ مینگل، بگٹی، مری اور خان آف قلات کسی بھی وقت خودساختہ جلاوطنی ختم کرکے وطن واپس آنے والے ہیں لیکن عسکری قیادت سمیت ہماری بیوروکریسی اور پنجاب پر مسلط حکمران طبقہ پنجاب کو چوروں، ڈاکوئوں، راہزنوں ،قاتلوں، بھتہ خوروں اور معاشی اور معاشرتی دہشت گردوں کے رحم و کرم پر چھوڑ کر خوابِ غفلت سے بیدار ہی نہیں ہو رہا۔تھانہ کلچر اور قبضہ مافیا نے پنجابیوں کا جینا حرام کیاہوا ہے۔ پنجاب جس کی نوے فیصد معیشت کا دارومدار زراعت پر منحصر ہے کے عوام کی بدنصیبی ہے کہ ان کے اوپر تاجر، سرمایہ دار اور کارخانے دار اقتدار پر مسلط ہے۔ قیام پاکستان سے لے کر اب تک شاید پرویز الٰہی کا دورانیہ وہ واحد دور تھا جس میں کسانوں کو خاطر خواہ ریلیف ملا ۔ پسا اور دبا ہوا کسان پائوں پر کھڑا ہو گیا لیکن آج حالات کچھ اس طرح ہیں کہ شوگر ملز مالکان، کاٹن ملز مالکان، گندم، چاول اور آلو کے بڑے بڑے تاجر غریب کسانوں کی شہ رگ دبا کر بیٹھے ہوئے ہیں او رپنجاب کا استحصال زدہ کسان اپنے سروائیو ل کی جنگ لڑتے ہوئے آخری ہچکیاں لے رہا ہے۔ سڑکوں پر گندم، مونجی، آلو اور پیاز کی بوریوں کو جلا کر کسان اپنا احتجاج ریکارڈ کروا رہے ہیں۔ کہیں ایسا تو نہیں اس ملک کی اشرافیہ حکمران، بیوروکریسی، اسٹیبلشمنٹ، سرمایہ دار سب مل کر پنجابیوں سے ان کا پنجاب چھین رہے ہیں۔ پنجابیوں سے سوتیلی اولاد جیسا سلوک ایک دن عوام کو بغاوت پر آمادہ کرنے کا موجب بنے گا۔ اس لیے پنجا ب میں بھی بلاتاخیر امن دشمنوں اور معاشی دہشت گردوں کے خلاف آپریشن شروع کیا جائے وگرنہ جس دن ’’پنجابی سورمائوں‘‘ نے گنڈا سے اٹھا لیے تو احتساب کا عمل گنڈاسے سے مکمل ہوگا۔ یکم ستمبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus