×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
میری پہلی محبت پاک فوج!
Dated: 22-Sep-2015
ہٹلر کہتا تھا، اگر تم کسی قوم کو شکست دینا چاہتے ہو تو اس کی فوج کو پروپیگنڈہ سے اتنا متنازع بنا دو کہ وہ لڑے بغیر ہتھیار پھینک دے۔ شاید نام نہاد پاکستانی دانشور، بکائواینکر اور غیروں کے ہاتھ کھیلنے والی عاصمہ سول سوسائٹی اور بدنام زمانہ این جی اوز ہٹلر کے فرمان پر عمل پیرا ہیں۔آج پاک افواج کے خلاف دشنام طرازی فیشن بن گئی ہے۔ حتی ٰ کہ جن لوگوں کی اپنے گھر کے اندر ہی کوئی نہیں سنتا وہ ٹی وی چینلز پر بیٹھ کر ملک کی بنیادیں کھوکھلی کرنے کے درپے ہیں۔ دہشت گردی اور عالمی امن کا جائزہ لیں تو پاک فوج نے پچھلے پندرہ سال میں ہمت اور شجاعت کی لازوال داستانیں رقم کی ہیں۔ دہشتگردی کے خلاف جدوجہد میں تقریباً بارہ ہزار افسروں اور جوانوں نے جامِ شہادت نوش کیا، تیس ہزار سے زائد ہمیشہ کے لیے معذور ہوئے جبکہ اسّی ہزارشہری شہید او رایک لاکھ سے زائد زخمی ہوئے مگر صد افسوس کہ اے این پی کے سربراہ اسفند یار ولی جن کے باپ ولی خاں مرحوم اور دادا غفار خاں مرحوم کا انڈیا سے ہمیشہ قریبی تعلق رہا اور ان کی جماعت نہ صرف پاکستان بننے کے مخالف تھی بلکہ غفار خاں مرحوم نے وصیت کی تھی کہ انہیں پاکستان میں نہ دفنایا جائے لہٰذا انہیں افغانستان میں دفنایا گیا مگر دوسری طرف پنجاب کی ایک دلیر ماں نے ایک اور بیٹا جنم دیا جس کا نام کیپٹن اسفند یار بخاری تھا جس نے بیس کروڑ پاکستانیوں کے لیے جان کا نذرانہ پیش کیا۔ ایک طرف اسفند یار ولی بھارت سے پاکستان کے خلاف مدد مانگتا ہے دوسری طرف کیپٹن اسفندر یار شہید کی تعزیت کیسی۔فرق آپ خود تلاش کریں کہ نام ایک مگر دونوں کے ایمان میں زمین آسمان کا فرق ہے۔ میں اکثر دوستوں کہتا ہوں کہ آج ایک ڈالر سو روپے کا کیوں ہے پھر خود ہی جواب دیتا ہوں کہ جب ہر پاکستانی اپنے وطن سے اتنی ہی محبت شروع کر دے گا کہ جتنی ایک امریکی شہری اپنے ملک سے کرتا ہے تو اس دن ڈالر اور روپیہ برابری کی سطح پر آ جائیں گے۔ ستم ظریفی دیکھئے کہ سیاست دانوں کی طرف سے فوج پر ہمیشہ یہ الزا م آیا کہ انہوں نے صرف ارسٹھ سال کے عرصے میں پانچ دفعہ مارشل لاء لگا کر جمہوریت کو ڈی ریل کیا مگر اصول پسندی کی بات یہ ہے کہ ہم سیاست دانوں کی اپنی ہی کرتوتوں کی وجہ سے وردی والوں کو اپنے فرض کا احساس ہوتا رہا ۔کیا جب ڈاکو اور لٹیرے ملک کو لوٹ رہے ہوں ، چادر اور چاردیواری کا تحفظ پامال کیا جا رہا ہو، قانون کا مذاق اڑایا جا رہا ہو۔ ایک استحصالی طبقہ خزانے کو خالی کرکے ملک کو اندھیرے میں ڈبو کر سرمایہ باہر منتقل کر دے، غریب کے بچے کاغذ اور قلم کو ترسیں اور سیاست دانوں کی اولادیں آکسفورڈ اور ہارورڈ میں تعلیمی گلچھرے اڑائیں جبکہ اوورسیز پاکستانیوں کی عمر بھر کی کمائیاں قبضہ مافیا اور ریئل اسٹیٹ ٹائیکون ہڑپ کر جائیں، سیاست دان پاک فوج کو ’’تڑیاں‘‘ لگائیں اور ’’را‘‘ کو مدد کے لیے پکاریں تو پھر کیا ملک کے رکھوالے آنکھیں اور کان بند کر لیں؟ پھر کیا یہ ان کے فرائض میں شامل نہیں کہ وہ مادرِ وطن کی ناموس کی طرف بڑھنے والے ہاتھوں کو کاٹنے کے لیے کود پڑیں۔ قارئین! میں آج کالم کے توسط سے پاک فوج کی اعلیٰ قیادت تک ایک تجویز بھی پہنچانا چاہتا ہوں کہ براہِ کرم آئندہ دس سالہ منصوبہ تیار کیا جائے جس میں کینٹ ایریا کو سول علاقوں سے دور تعمیر کیا جائے اور کینٹ ایریا کے چاروں اطراف زمین کو صرف زرعی مقاصد کے لیے استعمال کرنے کی اجازت دی جائے وگرنہ غیرقانونی بستیوں کی تعمیر روکنا ممکن نہ ہوگا اور فوج کے زیر انتظام ایریا میں سویلین کا داخلہ بذریعہ چیک پوسٹ ہو۔ مثال کے طور پر لاہور کا آر اے بازار اور راولپنڈی کا آر اے بازار اس قدر رش سے بھرا ہوتا ہے کہ ایسی جگہوں پر سیکیورٹی کو مکمل بنانا انسانی بس کی بات نہیں۔کینٹ ایریاز سے سول ٹریفک اور آمدورفت کا داخلہ ممنوع ہونا چاہیے۔ قارئین!بچپن میں میرے والد مجھے سکول چھوڑنے جاتے تو راستے میں کوئی فوجی گاڑی گزرتی نظر آتی تو ہم اسے سلیوٹ کرتے اور یہ میری پاک فوج سے پہلی محبت تھی ۔ آج کا دوسرا موضوع نمک حرامی ہے میں نے تاریخ کی بے شمار کتب پڑھیں اپنی ریسرچ ٹیم کو نمک حرامی کی مثالیں اور قصے تلاش کرنے کو کہا مگر یہ دیکھ کر میری حیرت کی کوئی انتہا نہ رہی کہ نمک حرامی میں افغانی سب کو پیچھے چھوڑ گئے کہ جب اسرائیل نے فلسطین پر قبضہ کیا تو لاکھوں فلسطینی جان بچانے کے لیے سرحد سے ملحقہ لبنان میں داخل ہو گئے جہاں پر لبنانی حکومت نے انہیں صابرہ اور شتیلہ نامی کیمپوں میں محصور کرکے رکھ دیا اور اسی طرح برادر اسلامی ملک اردن نے بھی فلسطینی مہاجروں کو چاردیواری کے اندر محصور رکھا،بعدازاں فلسطینی مہاجروں کی شورش کو کچلنے کے لیے اس وقت کے پاکستانی بریگیڈیئر ضیاء الحق (بعد میں صدر پاکستان)کی خدمات حاصل کی گئیں۔ اسی طرح سقوطِ ڈھاکہ کے بعد بنگلہ دیش حکومت نے لاکھوں بہاریوں کو ابھی تک خاردار تاروں کے اندر محصور کر کے رکھا ہوا ہے۔ جب روس نے افغانستان میں دخل اندازی کی او رمہاجرین پاکستان اور ایران آنا شروع ہوئے تو ایران کی حکومت نے دس لاکھ مہاجرین لینے کا اعلان کیا اور ساتھ ہی یہ شرط رکھی کہ یہ مہاجر خاردار تاروں میں بنائے گئے کیمپوں میں پناہ گزیں ہوں گے جبکہ پاکستانی قوم نے اپنی سرحدوں اورد ل کے دروازے ان مہاجرین کے لیے کھول دیئے اور چالیس لاکھ سے زائد افغان مہاجرین وطن عزیز کے طول و ارض میں کسی زہر کی طرح پھیل گئے۔ یہ مہاجرین اپنے ساتھ اپنے مال ڈنگراپنی ٹرانسپورٹ اور کارگو ٹرالے بھی لے کر آئے جس سے ہماری معیشت کو شدید دھچکا لگا جبکہ ہزاروں ٹن ہیروئین اور کلاشنکوفیں بھی ملک میں آ گئیں۔ آج پاکستان میں افغان شہریوں نے شناختی کارڈ او رپاسپورٹ تک حاصل کر لیے ہیںانکی آج تیسری نسل پاکستان میں جوان ہو چکی ہے۔ نوزائیدہ مملکت پاکستان دہشت گردی کے علاوہ معاشی صدمات کا شکار ہے۔ حکمت یار، ملاعمر، حامد کرزئی، اشرف غنی، پروفیسر سیاف، حقانی فیملی اور عبداللہ عبداللہ جیسے لوگ اور ان کی اولادیں سالوں تک پاکستان کی مہمانداری کا لطف اٹھاتے رہے ہیں۔ حقیقت تو یہ کہ آج یہی افغان پاکستان کی سلامتی کے لیے سب سے بڑا خطرہ ہیں اور نمک حرامی کی بدترین مثال بھی۔ 22ستمبر2015ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus