×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ
Dated: 12-Jan-2016
اُس کا نام عبدالمالک ریگی تھا وہ ایرانی بلوچستان کے قبیلے ریگی سے تعلق رکھتا تھا وہ 1983ء میں پیدا ہوا تو نوعمری سے ہی وہ تحریکی ذہن کا مالک تھا۔ اس کا تعلق سنی مسلم گھرانے سے تھا۔ اس لیے ابتدائی تعلیم جامعہ بنوریہ سے حاصل کی اور ایران میں پسے ہوئے سنی طبقے کو ایک تحریک میںلا کھڑا کیا اور ’’جنداللہ‘‘ کے نام سے تحریک کی بنیاد رکھی۔ ایرانی حکومت نے عبدالمالک ریگی پر کئی بم دھماکوں کا الزام عائد کیا جس میں درجنوں لوگ ہلاک ہوئے اور ایرانی فوج کے ایک جنرل کو قتل کرنے کا الزام بھی عبدالمالک ریگی پر تھا۔ 2005ء میںایرانی حکومت نے دعویٰ کیا کہ اس نے عبدالمالک ریگی کو ایک کاونٹر فائرنگ میں مار دیا ہے لیکن یہ محض دعوے تک محدود رہا ۔ پھر عبدالمالک ریگی کسی جگہ پر بھی دو راتوں سے زائد قیام نہ کرتا تھا۔ 2010ء میں وہ متحدہ عرب امارات سے ’’ کرغیز‘‘ ایئرلائن کی فلائیٹ سے کرغیزستان کے لیے فلائی کر رہا تھا کہ ایرانی ایئر فورس کے جنگی طیاروں نے اس کمرشل فلائیٹ کو زبردستی لینڈنگ کرنے پر مجبور کر دیا اور طیارے کے مسافروں میں سے عبدالمالک ریگی کو پہچان کر حراست میں لے لیا اور جون 2010ء میں اسے پھانسی کے سکواڈ کے سامنے پیش کر دیا گیا اس کے بھائی عبدالحمید ریگی کو بھی 2010ء میں پھانسی دے دی گئی تھی۔ قارئین یہ تو حالات ہیں ایران میں سنی تحریکوں کے۔ اب آپ سنیں کہ 2جنوری کو سعودی عرب کی حکومت نے ایک اعلامیہ جاری کیا کہ گذشتہ روز 47لوگوں کو پھانسی دے دی گئی ہے جن میں ایک ’’شیخ نمر الباقرالنمر ‘‘بھی شامل ہیں۔ شیخ نمر 1959ء میں سعودی عرب کے سرحدی صوبہ جہاں شیعہ مسلک اکثریت میں ہے پیدا ہوئے اور ایران میں تعلیم حاصل کرنے کے بعد سعودی عرب میں شیعہ تحریک کے ہراول دستہ میں کام کیا۔ کئی بار گرفتار ہوئے پھر رہا ہوئے مگر گذشتہ روز سعودی عرب کے بادشاہ شاہ سلیمان نے ترکی کے صدر طیب اردگان سے ملاقات کے بعد شیخ نمر کی پھانسی کے احکامات جاری کر دیئے۔ شیخ نمر کو پھانسی دینے کے بعد ایران سعودیہ تنائو بڑھ گیا جبکہ صدام حسین کے بعد عراق کی صورت احوال اور شام میں بشارت الاسد کی بگڑتی صورت احوال کے سبب سعودیہ اور ایران آمنے سامنے کھڑے ہیں جبکہ سعودیہ کو بھی یہ شک ہے کہ یمن کے حوثی باغیوں کو ایرانی اسلحہ اور لاجسٹک سپورٹ حاصل ہے۔ جبکہ پچھلے سال بحرین کی حکومت نے ایرانی حکومت پرالزام لگایا تھا کہ ایران بحرین کے اندرونی معاملات مین مداخلت کر رہا ہے۔ قارئین مشرق وسطی اور گلف میں شروع ہونے والی یہ لڑائی کوئی نئی نہیں ہے بلکہ اسلام کے چوتھے خلیفہ کی شہادت کے بعد دراصل اسلام کو دو حصوں میں تقسیم کرنے کی سازش ہوئی اور آج حالات یہ ہیں کہ جہاں سعودی عرب یا دیگر عرب ممالک کا اثر ہے وہاں شیعہ مسلک کو ٹف ٹائم دیا جاتا ہے ۔ ابھی حال میں ہی متحدہ عرب امارات اورسعودی عرب سے شیعہ تارکین وطن کی ایک بڑی تعداد کو ڈی پورٹ کیا گیا ہے جبکہ ایران میں بسنے والے سنی ایک تیسرے درجے کے شہری کی سی زندگی گزار رہے ہیں۔ گذشتہ سال جب یمنی حوثی باغیوں نے سعودی عرب پر حملے شروع کیے تو سعودی حکومت نے ایک اعلامیہ جاری کیا کہ پاکستان دیگر ممالک کی طرح ان کا حلیف ہے مگر پاکستان جو اس وقت خود دہشت گردوں کے خلاف ضرب عضب شروع کیے ہوئے ہے اور دوسری طرف بھارت کے ساتھ ہماری سرحدیں بھی محفوظ نہیں ہیں۔ ان حالات میں پاکستان اپنے گھر میں جاری جنگ سے نظریں چرا کر سعودیہ کی اندھی حمایت کیسے کر سکتا تھا؟لہٰذا پارلیمنٹ کا سہارا لیا گیا اور پارلیمنٹ سے ایک قرارداد پاس کروائی گئی کہ پاکستان اس جنگ میں غیرجانبددار کردار ادا کرے گا۔ جس پر سعودی حکمرانوں سمیت متحدہ عرب امارات کے حکمرانوں نے پاکستان کے ساتھ رویہ تبدیل کر لیا۔ جبکہ امارتی وزیر دفاع کی طرف سے پاکستان کو دھمکی بھی دی گئی اور پھر تاریخ میں پہلی دفعہ بھارتی وزراعظم نریندر مودی کو دوبئی ابوظہبی مدعو کیا گیا اور تو اور اسے وہاں پر ہندومندر بنانے کے لیے جگہ اور وسائل مہیا کیے گئے۔ اور گلف حکمرانوں نے بھارت کے ساتھ اربوں ڈالر کے تجارتی اور عسکری معاہدے بھی کیے۔ جبکہ ان عرب ریاستوں نے امریکہ کو کہلوا کر پاکستان کے اوپر دبائو بھی ڈالا کہ ایران کے ساتھ گیس پائپ لائن منصوبہ ترک کیا جائے۔ مگر مدبر پاکستانی عسکری قیادت کی ذہانت سے ہم ان کرائسس سے تقریباً باہر نکل آئے کہ سعودی عرب نے شیخ نمر کو پھانسی دے کر حالات کو ایک دفعہ پھر نقطہ عروج پر پہنچا دیا۔ تہران میں ایرانی عوام نے سعودی سفارت خانے کو آگ لگائی جس سے مشرق وسطی میں یہ آگ بھڑک اٹھی۔ اس سے پہلے بھی ایرانی عوام نے 35سال قبل امریکی سفارت کاروں کو یرغمال بنایا تھا اور ان کی تضحیک کی تھی جس پر ایران کے امریکہ کے ساتھ سفارتی تعلقات آج تک بحال نہ ہو سکے تھے۔ ایرانی عوام کو ٹھنڈے مزاج سے کام لینا چاہیے وہ حالات نہیں رہے ایران سپر پاور نہیں ہے اور اشتعال انگیز واقعات سے ایران اقوام متحدہ سمیت عالمی دنیا سے کٹ کر رہ جاتا ہے اور اس کی غریب عوام کو خمیازہ بھگتنا پڑتا ہے۔ جبکہ عرب گلف ریاستیں اور سعودی عرب مل کر بھی اس پوزیشن میں نہیں ہیں کہ ایران کو کوئی بڑا نقصان پہنچا سکیں۔ بس ہوگا یوں کہ سرد جنگ اور پراکسی وار سے دونوں ممالک اور ان کے حلیف اپنے وسائل تباہ کرتے رہیں گے۔ گذشتہ روز سعودی وزیر خارجہ اچانک پاکستان کے دورے پر آئے۔ وزیراعظم سمیت جنرل راحیل شریف سے ملاقات کی اور سعودی عرب کے ساتھ منسلک اتحاد میں شمولیت کی دعوت دی جبکہ صرف ایک دن بعد سعودی وزیر دفاع اور نائب ولی عہد پاکستان کے دورے پر آئے یقینا ہماری قیادت سے حمایت کی یقین دہانی چاہی ہوگی۔ اب سوال پیدا یہ ہوتا ہے کہ کیا پاکستان غیروں کی اس جنگ میں تختہ مشق بننا پسند کرے گا؟ ایک طرف ایران کے ساتھ لبنان، شام، عراق اور ہنڈرڈ ملین شیعہ مسلک عوام ہے جبکہ دوسری طرف عرب ریاستیں سعودی عرب سمیت درجنوں مالک اتحادی ہیں۔ ہمیں ایک دفعہ پھر پارلیمنٹ سے اجازت لینا ضروری نہیں بلکہ پاکستان کو اپنی خارجہ پالیسی کو مستحکم بنانا ہوگا جبکہ حالات یہ ہیں کہ دنیا کی سب سے بڑی اسلامی مملکت کے پاس ہمہ وقت وزیر دفاع، وزیر خارجہ تک موجود نہیں اگر ہماری قیادت نے دوراندیشی سے کام نہ لیا تو پاکستان جہاں پر سنی و شیعہ ،وہابی ،دیوبندی سبھی مسلک حتیٰ کہ اقلیتیں بھی بھائی چارے کی بنیاد پر رہ رہی ہیں اگرہم بیگانی شادی میں ناچنے لگے تو ہمارا پیارا وطن بین الاقوامی سازشوں کا شکار ہو کر مذہب و مسلک کی لڑائیوں کا گڑھ بن جائے گا۔ ایران اور سعودی کی جنگ میں جو ہم کر سکتے ہیں وہ یہ ہے کہ دونوں برادر اسلامی ملکوں کی باہمی صلح کروا دی جائے۔ ورنہ بیگانی شادی میں عبداللہ دیوانہ کے مصداق ہمارا حشر نشر ہو جائے گا۔ 12جنوری2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus