×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
شیر کی داڑھی میں تِنکا
Dated: 26-Apr-2016
محل میں شہزادہ سلیم کنیزوں اور خدام کے ساتھ کبوتر بازی سے لطف اندوز ہو رہا تھا،اتنے میں بادشاہ سلامت کی طرف ہرکارے نے اطلاع دی کہ بادشاہ نے شہزادے کو طلب کیا ہے۔ شہزادہ اس وقت دونوں ہاتھوں میں دو کبوتر لیے کھڑا تھا اس نے پاس کھڑی کنیز کو دونوں کبوتر تھما دیئے۔ تھوڑی دیر بعد شہزادہ واپس آیا تو دیکھا،کنیز کے ہاتھ میں صرف ایک کبوتر تھا۔ شہزادے نے پوچھا دوسراکبوتر کہاں گیا؟ تو اس نے جواب دیا وہ تو اُڑ گیا۔ شہزادے نے پوچھا وہ کیسے؟ تو کنیز نے ہاتھ کھولے اور کبوتر اڑا گیا اور بولی ’’ایسے‘‘ (یہ کنیز جس کا نام نورجہاں تھا اسی ادا کی وجہ سے بعد میں ملکۂ ہند بنی) 2008ء میں جب مشرف نے اقتدار چھوڑا تو مسلم لیگ ن کے رہنمائوں کی طرف سے یہ سب سے بڑا مطالبہ تھا کہ جنرل مشرف کو غداری کے الزام میں گرفتار کیا جائے۔ پھر 2013ء میں مسلم لیگ ن نے جب اقتدار سنبھالا تو خواجہ سعد رفیق نے کہا کہ مشرف کو چوراہے پر لٹکائیں گے اور وفاقی وزیر احسن اقبال نے کہا کہ اگر مشرف پر مقدمہ چلا کر سزا نہ دلوا سکے تو میں مستعفی سیاست چھوڑ دونگا۔ اور پھر دنیا نے دیکھا کہ مشرف پھُر ہوگئے۔ وزیراعظم نوازشریف کی دوتہائی اکثریت بھی مشرف کو ملک چھوڑنے سے نہ روک سکی اور موصوف نے دوبئی میں بیٹھ کر منہ میں سگار دبا کر میڈیا میں ایک تصویر بھجوائی او رکہا میں تو چلا گیا ’’ایسے‘‘ قارئین! گذشتہ دنوں کراچی کی ایک خصوصی عدالت میں ایک پولیس آفیسر نے ضبط شدہ اسلحہ پیش کیا جس میں ایک ہینڈ گرنیڈ بھی تھا۔جج کے استفسار پر ’’ پتہ بھی ہے یہ اسلحہ کیسے استعمال کرتے ہیں‘‘تو فرمانبردار لائق پولیس آفیسر نے ہینڈ گرنیڈایک ہاتھ میں لیا اور دوسرے ہاتھ سے اس کی پِن نکال دی اور کہا ’’ایسے‘‘ لیکن اس تابعداری کے نتیجے میں جج سمیت درجن بھر افرادزخمی ہو کر ہسپتال جا پہنچے۔ قارئین! گذشتہ کچھ عرصے سے کراچی میں مائنس ون فارمولا کا ذکر ہو رہا تھا۔ قومی اسمبلی میں پچیس سیٹیں، سندھ اسمبلی میں باسٹھ اور سینیٹ آف پاکستان میں آٹھ نشستیں رکھنے والی ایم کیو ایم جس کے قائد گذشتہ تئیس سال سے ملک سے باہر بیٹھ کر بھی کراچی اور سندھ کے شہری علاقوں کو یرغمال بنائے بیٹھے تھے۔ جن کے نام پر سندھ میں یونیورسٹیاں اور کالج بن رہے تھے، جن کا براہ راست خطاب سننا کارکنان پر واجب تھا۔ 24اپریل کو انہی کی سلطنت کراچی میں مصطفیٰ کمال نے جناح باغ میں جلسہ کرکے یہ ثابت کر دیا ’’ایسے‘‘ مائنس ون کے فارمولے پر عمل ہوتا ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ کراچی اب بڑی حد تک ایم کیو ایم کے ہاتھوں سے پھسل چکا ہے۔ قارئین! دوتہائی اکثریت سے جیتنے والی مسلم لیگ ن اور تیسری مرتبہ وزیراعظم بننے والے نوازشریف اور چھ مرتبہ وزیراور وزارتِ اعلیٰ کے منصب پر فائز ہونے والے میاں شہبازشریف اور درجن بھر وزارتوں پر براجمان ان کے عزیزواقارب کبھی یہ سوچ بھی نہیں سکتے تھے کہ اقتدار کا قالین ان کے پائوں کے نیچے سے کھسک جائے گا۔ ماڈل ٹائون لاہور میں چودہ اور شاہراہِ دستو رپر دس افراد کو بائیس کروڑ عوام کے سامنے قتل کر دیا گیا۔ ملک گیر احتجاج ہوئے، دھرنے دیئے گئے، کمیشن بنے او رکمیشن کی رپورٹیں چھپائی گئیں، پھر اپنی مرضی کا کمیشن بنا کر خود کو اور ساتھی ملزمان کو اس کیس سے بری کروایا گیا تو آپ ہی کیا پورا ملک اس بات پر متفق تھا کہ میاں برادران کو اقتدار سے ہٹانا تو دور کی بات انہیں 2018ء کے الیکشن میں اپنی مرضی کی کامیابیوں سے بھی روکا نہ جا سکے گا مگر جھورا جہاز بضد تھا وہ مسلسل کہہ رہاتھا، اقتدار کے اس طرف بھی مائنس ون فارمولے پر عمل تیزی سے جاری ہے۔ اینٹ سے اینٹ بجانے والے آصف علی زرداری آج خود ساختہ جلاوطنی میں بیٹھے ہیں جبکہ جنرل راحیل شریف کی جگہ نیا آرمی چیف لانے کی تیاری تقریباً مکمل تھی اور میاں صاحب امریکہ روانگی کے لیے ایئرپورٹ پہنچنے ہی والے تھے کہ انہی لمحات میں ایک دم ’’ایسے‘‘ خبر موصول ہوتی ہے۔ پانامہ لیکس کی ،کسی کی کچھ سمجھ نہیں آتی کہ یہ سب کیسے ہو گیا۔ پرائم منسٹر اور مستقبل میں پرائم منسٹر کے متوقع امیدواران سارے ہی اخلاقی طور پر نااہل ہو کر عوام سے نظریں چھپاتے پھرتے ہیں۔ قارئین! اولاد کے ہاتھوں والدین کا اقتدار تاریخ میں کئی دفعہ ڈوبتا دیکھا گیا ،ماضی کا واقعہ ہے۔ ایوب خان کے بیٹوں نے جب اقتدا رمیں دخل اندازی شروع کی تو وہی ایوب خان جو فیلڈ مارشل بھی تھا ، خوار ہو کر اسے اقتدار چھوڑنا پڑاجبکہ ضیا الحق اور جنرل عبدالرحمن اختر کے بیٹوں نے بھی زمانۂ اقتدار میں اودھم مچائے رکھا۔ عالمی تاریخ پر نظر دوڑائیں تو مصر کے صدر حسنی مبارک کے بیٹے اعلیٰ مبارک، لیبیا کے سابق حکمران معمر قذافی کے بیٹے بھی اقتدار کا ناجائز استعمال کرتے رہے اور بالآخر انہیں بھاری قیمت ادا کرنا پڑی۔ امریکی نائب صدر جوبیڈن کے بیٹے رابرٹ ہنٹر بیڈن ،چینی صدر لی پنگ کی بیٹی شیالی لیون، ملائیشین پرائم منسٹر کے بیٹے ناصی الدین،آذربائیجان کے صدر کی اولاد لائلہ، آرزو، حیدر جبکہ وزیراعظم پاکستان کے بیٹے حسین نواز، حسن نواز اور بیٹی مریم نوازشریف نے اپنے معاشی مفادات کی سرگرمیوں اور ٹیکس چوری جیسے الزامات کی وجہ سے اپنے باپ کے مضبوط اقتدار کی چولیں ہلا کر رکھ دی ہیں۔ پچھلے پچیس دن میں تین دفعہ قوم سے خطاب کے دوران وزیراعظم کسی مجرم کی طرح قوم کے سامنے اپنی اولاد کے جرائم کی صفائیاں پیش کرتے نظر آئے۔ پوری قوم نے دیکھا کہ قوم سے خطاب کے دوران ایک بے بس باپ اپنی اور خاندان کی عزت بچانے کی ناکام کوششیں کر رہا ہے۔ میں وزیراعظم کی قوم سے آخری تقریر کان لگا کر سن رہا تھا اور ساتھ ہی اپنے کالم کے لیے پوائنٹس لکھ رہا تھا کہ میرے پاس بیٹھی بیٹی سے میں نے پوچھا کہ وزیراعظم کے خطاب پر کوئی کومنٹ تو وہ بولی ’’شیر کی داڑھی میں تِنکا‘‘ قارئین! اقتدار آنی جانی چیز ہے، دولت بھی ہاتھ کے میل کی طرح ہے۔ ملک کے موجودہ حالات کے تناظر میں وزیراعظم اور ان کے خانوادے کو اقتدار کو ٹھوکر مار کر عوامی عدالت میں جانا چاہیے،جیسا انکے وزیر قانون زاہد حامد نے مشورہ دیا کاسہ لیسوں،حاشیہ برداروں اور خوشامدی وزیروں نے مذاق میں اُڑا دیا۔ 26اپریل2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus