×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ذرا نم ہو تو…
Dated: 05-Dec-2009
آج اس نفسانفسی کے دور میں ہر طرف لوٹ لو سمیٹ لو کا سماں ہے۔ سیاسی کارکن بھی تلخ تجربات کے بعد عزم اور کاز کی سیاست کے بجائے ذاتی مفاد کو ترجیح دیتا ہے۔ سیاسی پارٹیوں کو بینرز اور پوسٹرز لگانے کے لیے سیاسی کارکن میسر نہیں۔ یہ کام مزدوروں سے کرانا پڑتا ہے۔ چند سال قبل تک حالات مختلف تھے۔ نومبر68ء میں پیپلز پارٹی کی بنیاد رکھنے سے قبل ذوالفقار علی بھٹو آمریت سے لڑ کر تنہا تھے۔ مگر جب چلے تو کارواں بنتا چلا گیا۔ مزدور کو بھٹو صاحب نے مالک کے ہم پلا بنا دیا۔ طالب علم کو 10پیسے کرایہ کی سہولت فراہم کی، صدیوں سے پستے ہوئے کسان کو زمینوں کا مالک بنا دیا۔ محنت کش اور ہنرمند پر بیرونِ ممالک جا کر روزی کمانے کے دروازے وا کر دیئے۔ روٹی، کپڑا اور مکان کا حصول غریب کے لیے ممکن بنا دیا۔ غریب ہاری ماں کے عظیم بیٹے نے غریبوں کی لاج رکھ لی۔ گجرات میں اسے جوتا دکھایا گیا تو قائد عوام نے شہر کے ننگے پائوں پھرنے والوں کے لیے جوتوں کا اہتمام کر دیا۔ لاکھوں غریبوں کو 5مرلہ کے گھر بنوا کر دیئے۔ جب اس عظیم لیڈر کو موت سے ہمکنار کرنے کی تیاری ہو رہی تھی تو اس ملک کے غریب محنت کش مسلمان،عیسائی،ہندوبلاتفریق آگے بڑھے لاکھوں کارکن جان نچھاور کرنے کے لیے اُمڈ آئے۔ ذوالفقار علی بھٹو دنیا کا پہلا سیاسی لیڈر تھا جس کی خاطر درجنوں جیالوں نے خود سوزی کر لی۔ آج بھی غریب تسلیم کرنے کو تیار نہیں کہ بھٹو ان سے دور چلا گیا ہے۔ ہر غریب کی آنکھ میں آج بھی بھٹو زندہ ہے۔ بھٹو صاحب نے بھی کہا تھا کہ میں ہر اس گھر میں موجود ہوں، جس کی چھت بارش سے ٹپکتی ہے۔ تاریخ آگے بڑھتی ہے۔ 10اپریل 1986ء کارکنوں کے لیے عید سے کم نہیں تھا۔ محترمہ بے نظیر بھٹو لاہور ایئرپورٹ پر اتریں تو عوام کا ٹھاٹھیں مارتا سمندر ایئر پورٹ سے مینار پاکستان تک موجود تھا۔ انسانی آنکھوں اور کانوں نے اس سے قبل ایسا اجتماع دیکھا نہ سنا تھا۔میاں نوازشریف نے اپنی سیاسی مہم کا آغاز کیا تو ان کو کارکنوں کا ڈھیروں پیار ملا۔ وہ خطے کے نئے اور بڑے لیڈر کے طور پر سامنے آئے۔ عمران خان نے 1992ء کا ورلڈ کپ جیتا تو قوم کے ہیرو قرار پائے۔ شوکت خانم کینسر ہسپتال کی بنیاد رکھی تو خواتین نے اپنے زیورات اور بچیوں نے بُندے تک اتار کر ان کی جھولی میں ڈال دیئے۔ عمران خان نے تحریک انصاف بنائی تولاکھوں کارکنوں نے اس پر بھرپور اعتماد کا اظہار کیا۔ بات جب غریب کی ہوتی ہے تو اس کے پاس سب سے بڑی متاع خون اور جان ہوتی ہے جو وہ اپنے سے پیار کرنے والے پرہر وقت قربان کرنے سے گریز نہیں کرتا۔ بدلے میں وہ صرف تھوڑی سی عزت،تھپکی اور شاباش کی خواہش رکھتا ہے۔ 18اکتوبر2000ء کو ہر شخص کو کامل یقین تھا کہ سامراج کی پروردہ قوتیں کوئی خباثت ضرور کریں گی۔ اس وقت جیالوں نے پروانوں کی طرح شمع جمہوریت کے گرد انسانی زنجیر بنا لی تھی اور ان کے گوشت کے لوتھڑے کھمبوں پر لٹکتے نظر آئے۔ آگ اور موت کے اس کھیل سے وہ اپنی قائد کو بحفاظت نکال کر لے گئے تاہم سینکڑوں پروانے بھسم ضرور ہو گئے۔ پھر 27دسمبر کو یہی کارکن عہدوفا نبھاتے ہوئے اپنی قائد پر قربان ہو گئے۔ الیکشن 2008ء کے 20ماہ بعد کچھ لوگ یہ جتاتے ہیں کہ پیپلز پارٹی کا گراف گر رہا ہے وہ صدر، وزیراعظم اور گورنر پر تنقید کرتے ہیں دراصل یہ لوگ اپنی خواہشوں کی تکمیل چاہتے ہیں پھر خود پیپلز پارٹی کی قیادت کے اندر خود ساختہ لیڈرشپ خاموش اور اس انتظار میں ہیں کہ پارٹی چیئرمین ہی سب کچھ کریں۔یہ لوگ پارٹی کے دفاع کی بجائے اس انتظار میں کہ کب ان کا بھائو اچھا لگتا ہے۔ ان خوفناک دنوں میں بھی جب کہ سیاسی جماعتوں کو کارکنوں سے گلہ اور کارکنوں کو جماعتوں سے ہے۔ پیپلز پارٹی کے کارکن ایک ایسے شخص کے گن گا رہے ہیں جس کے بیٹے کے دعوت ولیمہ میں کارکنوں کو عزت دی گئی۔کارکن ترنگا تھامے بھنگڑا ڈال رہے تھے۔ اور لاہور کی سڑکیں اس روز ٹریفک سے تقریباً بلاک ہو کر رہ گئیں تھیں۔صحافی بھی اس کی کارکردگی سے مطمئن ہیں۔ متوسط طبقہ کے صحافیوں کو اس نے لگژری مکانات الاٹ کیے (ایسا ہی طرز عمل لاہور میں سکونت اختیار کرنے کے بعد میں نے بھی اپنا رکھا ہے۔ لاہور کے صحافیوں کے دلوں میں،میں نے یوں گھر کر لیا کہ رفتہ رفتہ میں سیاسی کھلاڑی سے لکھاری بنتا چلا گیا) اس شخص کو اقتدار میں جتنا حصہ ملا اس سے کئی گنا بڑھ کر اس نے کارکنوں میں بانٹا۔ یہی وجہ ہے کہ آج جو کارکن اس تک پہنچ گیا وہ خوش ہے جو نہ پہنچ کا اس تک یہ خود پہنچنے کی کوشش میں ہے۔ وہ کارکنوں کے مسائل حل کرنے کے لیے بازو پھیلائے ہوئے ہے۔ وہ کاروبار کے لیے کارکنوں کو وسائل مہیا کرتاہے۔ میرا تعلق پنجاب کے جاٹ خاندان سے ہے۔ قارکین جانتے ہیں کہ مداح سرائی میرا شیوہ نہیں۔ پارٹی کے اندر بھی میری مثبت نقاد کے طور پرشہرت ہے۔ مگر میرا دل کرتا ہے کہ پنجاب کے کارکن جس شخص کے لیے نعرہ مستانہ لگاتے پھرتے ہیں اس میں کوئی نہ کوئی ایسی بات ضرور ہے کہ وہ درمیانے سائز کے محکمے کا چیئرمین ہے جو لوگوں میں عزت اور پیار بانٹ رہا ہے جبکہ پیپلز پارٹی کے دیگر صوبائی اور وفاقی وزراء اپنے کارناموں کی وجہ سے خود بھی اور کارکن بھی پریشان ہیں۔اس شخص کے طرز سیاست سے اختلاف ہو سکتا ہے لیکن اس کی کارکردگی سے اتفاق ضرورکرتا ہوں۔ یہ شخص ہر وقت کارکنوں کی دلجوئی میںلگا رہتا ہے۔ اسے ڈررہتا ہے کہ بھٹو کے پروانے ناراض نہ ہو جائیں وہ دونوں ہاتھ کارکنوں کے کندھے پہ رکھ ان سے باتیں کرتا ہے۔ پھر یہ بات میری سمجھ میں آتی ہے کہ آج بھی سیاسی پارٹیوں کے پاس کارکنوں کی کمی نہیں اگر ان کے لیڈر متروکہ وقف املاک کے چیئرمین آصف ہاشمی جیسا رویہ اپنالیں۔ آصف ہاشمی کا ایک کارنامہ یہ بھی ہے کہ وہ بھارتی پنجاب کے سکھوں کو جو کہ دو عشروں سے پاکستان سے شاکی تھے (جب ان کے جانبازوں کی لسٹیں بھارتی حکومت کے حوالے کی گئی تھیں) اس سے دوریاں بڑھیں اور سکھوں نے پاکستان آنا چھوڑ دیا۔ آصف ہاشمی نے اپنے مخصوص طرزِ تکلم اور محبت سے ان کے اعزاز میں عشائیوں اور سیمینارز کا اہتمام کرکے اور ان کے گردواروں کی مرمت اور تزئین و آرائش کروا کر جس رواداری کا ثبوت دیا ہے اس سے آصف ہاشمی دنیا بھر کے سکھوں کے لیے بھی سفیر محبت بن گئے ہیں اور ان کو پھر سے قریب لے آئے ہیں۔ آج بھارت کا آرمی چیف دیپک کپور پاکستان کی موجودہ خارجہ پالیسی کی وجہ سے محدود ایٹمی جنگ کی دھمکی دیتا ہے۔ اس وقت آصف ہاشمی سکھ اور ہندو یاتریوں میں جس طرح محبت بانٹ رہا ہے، ان کی کاوشوں سے پاکستان اور بھارت کے امن پسند شہریوں کے لیے یہ امر یقینا ستائش اور امن کا باعث ہے۔ آصف ہاشمی نے ایک چھوٹے سے محکمے کا چیئرمین ہو کر بڑا کارنامہ انجام دے دیا اس کا مطلب کچھ کر گزرنے کا عزم ہو تو قدرت بھی ساتھ دیتی ہے اورسیاسی کارکنوں کی بھی کمی نہیںہوتی۔ حضرت علامہ اقبال کے شعر کا یہ مصرع شاید کسی آصف ہاشمی کے لیے ہی تھا: ذرا نم ہو تو یہ مٹی بڑی زرخیز ہے ساقی
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus