×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
فلسفہ قربانی۔۔۔غداری،کفر اور شہادت کی مہریں
Dated: 13-Sep-2016
فلسفہ ٔ عید قربان یہ ہے اپنی تمام تر خواہشات سے قطع نظر اللہ کے احکامات کے سامنے سر جھکا دیا جائے۔ تاریخِ اسلام کے اوراق قربابیوں کے واقعات سے بھرے پڑے ہیں۔ان میں کچھ واقعات تو ایسے ہیں کہ جن کی مثال نہیں ملتی،بالخصوص حضرت ابراہیم ؑکا اپنے لختِ جگر حضرت اسماعیل ؑکی قربانی پیش کرنا۔آج ہم اسی دن کی یاد منارہے ہیں جس دن حضرت ابراہیم علیہ السلام نے اپنے بیٹے حضرت اسماعیل علیہ السلام کی قربانی ربِ قدوس کی بارگاہِ مقدس میںپیش کی تھی،جو اللہ تبارک وتعالیٰ نے قبول فرمائی،اسی خوشی میں ہم عید مناتے ہیں۔ ربِ غفور نے حضرت ابراہیم علیہ السلام کی اس قربانی کو اس قدر پسند فرمایاکہ قیامت تک امتِ مسلمہ کیلئے قربانی کو ضروری قرار دیتے ہوئے یاد گار بنا دیا۔ عید الاضحی کے دن اللہ عزوجل انسان سے چاہتا ہے کہ وہ خدا کی قربت کی نیت سے جانور ذبح کر کے اسکا تقرب حاصل کرے۔ سنت ابراہیمی کی پیروی کا خواہشمند ہرکلمہ گو اسی کوشش میں ہے کہ کسی طرح اس کی مالی گنجائش کے مطابق قربانی کا جانور میسر آجائے تو اس فریضے کی ادائیگی ممکن ہو سکے۔ عید قرباں آئے گی اور گزر جائے گی۔ لیکن اس فریضے کی ادائیگی کا فلسفہ اگر سمجھ میں آجائے تو یقینا اس کا اثر عملی زندگی میں بھی نظر آنے لگے گا۔ رضائے الٰہی کے لئے کئے جانے والا ہر کام عبادت ہے۔ عید قرباں پر جانور ذبح کرنے کا مقصد اس عزم کا اعادہ کرنا ہوتا ہے کہ اللہ کی راہ میں اپنی پسندیدہ چیز کو قربان کرنے کی روح بیدار رہے گی اور کبھی دنیا کی محبت اسکی اطاعت میں آڑے نہ آئے گی۔ایثار وقربانی کے ساتھ ساتھ عید الاضحی کا دن احتساب کادن بھی ہے۔ لیکن کیا ہم نے کبھی احتساب کیا کہ ہمارا عمل رب چاہی ہے یا مَن چاہی،ہم لہو لعب میں سارا وقت گزار دیتے ہیں اور یہ سمجھ لیتے ہیں کہ قربانی کا حق ادا ہو گیا۔ عید تسلیم و رضا اور بارگاہ الہٰی میں اسکے تقرب کے حصول کے لئے سر تسلیم خم ہوجانے کا نام ہے۔ قدرتی بات ہے کہ ایسی عید کو اس انداز سے منانا چاہیے کہ وہ انسان کی پوری زندگی پر ، اسکے گفتار میں ، اسکے اخلاق وکردار میں اسلامی تعلیمات کو اجاگر کرے۔ اس بنیاد پر عید مناتے ہوئے ایسا طرز عمل اختیار کرنا چاہیے جو ایسی معنوی اور انسانی فضا سے مناسبت رکھتا ہو جو انسان کو اللہ سے دور نہیں کرتی بلکہ اسے اللہ کے نزدیک لیجاتی ہے۔ اس موقع پر خوشی و شادمانی کا احساس اللہ کی نعمتوں اور سعادت و کامیابی کے ان عناصر کا حامل ہونے کی وجہ سے ہونا چاہیے جنہیں اللہ نے انسانوں کوعطا کیا ہے ،عیدالاضحی کا پیغام ہے کہ ایک عظیم اور بڑے مقصد کیلئے انسان، اپنی خواہشات، انا ، فخروانبساط اور غرور کو قربان کردے۔ آج عالم اسلام جن مصائب اور ہم پاکستانی جن مسائل سے دوچار ہیں ان میں سے نصف سے زیادہ سے نجات ہم ایثار اور جذبہ قربانی سے نجات پا سکتے ہیں۔ عید قربان جہاں ایثار اور قربانی کا درس دیتی ہے وہیں اتحاد یگانگت اور تحمل و برداشت کا بھی سبق دیتی ہے۔ آج نہ صرف مسلم ممالک اتفاق کے بجائے نفاق اور انتشار کا شکار ہیں بلکہ ملک کے اندر بھی ایک افراتفری کی فضا بنی ہوئی ہے۔ اتحاد یگانگت اور یکجہتی کا فقدان ہے۔ عید قربان ہمیں جس ایثار ،تحمل ، برداشت اور قربانی کا درس دیتی ہے ہم اس سے کوسوں دور ہیں۔ ہمارے اندر قربانی کے بجائے تعصب بھر چکا ہے۔ ہم ایک دوسرے کے لیے ناقابل برداشت ہو گئے ہیں۔ احساس کی جگہ بے حسی نے لے لی ہے۔لائن میں کھڑے ہونا اور اشارے پر رُکنا اپنی توہین سمجھتے ہیں۔ جھوٹ بولنے، غیبت کرنے، دھوکہ دینے اور بہتان طرازی کو عار نہیں سمجھتے۔ تین مہریں تو ہر کسی کی جیب میں پڑی ہیں۔ جس کو چاہا کافر قرار دے دیا۔ جس پر چاہا غداری کا لیبل لگا دیا اور جسے چاہا شہید کے درجے پر پہنچا دیا۔ مولانا فضل الرحمن نے شہادت کی کیا توجیح پیش فرمائی۔ امریکہ کے خلاف کتا بھی لڑتا مارا جائے تو وہ بھی شہید ہے۔ جماعت اسلامی کے امیر منور حسن نے دہشتگردوں کے ساتھ برسرپیکار فورسز کے سپوتوں کو شہید ماننے سے انکار کر دیا۔ اسکا بدلہ جماعت اسلامی نے منور حسن کو امیر کے عہدے کے لیے مسترد کرکے لے لیا۔ مولانا فضل الرحمٰن نے مذہب کی زیادہ توہین کی مگر مذہب کے ٹھیکیدار ہونے کی وجہ سے ان سے کسی نے کچھ نہ پوچھا۔ ان کے والد محترم نے فرمایا تھا کہ شکر ہے ہم پاکستان بنانے کے گناہ میں شامل نہیں تھے۔ مولانا فضل الرحمن اور ان کے ساتھیوں نے اس بیان سے کبھی لاتعلقی ظاہر نہیں کی۔ ایسے علما نے علامہ اقبال اور قائداعظم پر کفر کے فتوے لگائے۔ ایسے فتوے اب بھی جاری ہوتے ہیں۔ انہی فتوئوں کے باعث ہزاروں لوگوں کاخون ہو چکا ہے۔ کہیں لشکروں نے اودھم مچایا ہوا ہے اور کہیں سپاہ قہر ڈھا رہی ہیں۔اگرغداروں کی فہرست دیکھی جائے تو اس کا کوئی اختتام نہیں ہے۔ بغیر کسی ثبوت اور وجہ کے مخالف نظریات رکھنے یا اختلاف رائے کرنے والے کو ایک لمحے میں غدارقرار دلایا جاتا ہے۔ بھٹوز کو غدار قرار دیا جاتا رہا۔شہید ذوالفقار علی بھٹو کو غدار کہا گیا پھر یہی کچھ شہید بے نظیر بھٹو کے بارے میں کہا گیا ۔یہ لقب ایسا بے توقیر ہوا کہ کسی نے کوٹس نہیں لیا۔ ذوالفقار علی بھٹو کی شہادت کے بعد بے نظیرشہید کو عوام نے دو مرتبہ منتخب کرکے تیسری مرتبہ بھی مینڈیٹ ان کی پارٹی کو دیا۔ آج بھی دیکھ لیں غداروں کی ایک لسٹ نظر آتی ہے۔ ڈاکٹر طاہر القادری نوازشریف کو غدار قرار دیتے ہیں۔ نوازشریف کی نظر میں جنرل مشرف غدار ہیں اور مشرف کسی اور کو اس نام سے پکارتے ہوں گے۔ کسی کی نظر میںاسفند یار ولی غدارہیں ،کوئی محمود اچکزئی پر یہ الزام لگاتا ہے۔ الطاف نے پاکستان مردہ باد کہا، پاکستان توڑنے کی بات کی، بھارت سے پاکستان بنانے کی معافی مانگی۔ ایسے شخص کے بارے میں غداری سے کم کوئی لفظ ہو ہی نہیں سکتا مگر کچھ لوگ پوری متحدہ قومی مومنٹ کو غدار قرار دے رہے ہیں۔ کسی کو غدار ، کافر اور ’’مردار‘‘ کہنے سے کوئی ایسا ہو نہیں جاتا مگر نفرتوں کی ایک دیوار کھڑی ہو جاتی ہے۔ عید قربان کا پیغام تو برداشت، تحمل اور قربانی ہے مگر ہماری سمت کیا ہے، کوئی سمت نہیں، کوئی منزل نہیں۔ بے راہروی ہماری پہچان بنتی جا رہی ہے۔ ایثار و قربانی، اخلاقیات تحمل اور برداشت جیسے جذبے سے ہم نفرتوں کی خلیج پاٹ سکتے ہیں دراصل یہی عید قربان کا درس اور فلسفہ ہے۔آج مکار دشمن نے ہمیں مسلکی عداوتوں میں الجھا دیا ہے ۔ایک وقت تھا کہ عالم اسلام کا ایک ہی دشمن تھا جس کا نام اسرائیل ہے مگر ہماری ناچاکی ،اندرونی عداوتوں اور ایمان کی کمزوری کی وجہ سے پچھلے بیس سالوں میں ایک مختاط اندازے کے مطابق بیس لاکھ مسلمانوں کو ان کی اپنی سرزمینوں پر تہ تیغ اور تورا بورا کر دیا گیا ہے۔ اور یہ سلسلہ اب بھی رُکا نہیں اور یہ یقینا اس وقت تک نہیں رُکے گا جب تک ہم اتحاد اور یگانگت کی راہ کو اپنا نہیں لیتے۔ یہی جذبہ ایثار اور درس قربانی ہے۔ 13ستمبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus