×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
تھوڑی سے خاک ہوا میں اُڑا کے دیکھ
Dated: 06-Dec-2016
تکفیری فرقے کو پاکستان کی سلامتی ہمیشہ کھٹکتی رہی ہے یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے قیام پاکستان کی مخالفت کی ۔ پاکستان بن جانے کے بعد اقتدارمیں حصہ لینے سے کبھی گریز نہیں کیا مگر یہ پاکستان کو عدم استحکام سے دوچار کرنے اور اس کی جڑیں کھودنے اور کھوکھلی کرنے سے کبھی باز نہیں آئے۔ یہ اسلام کا لبادہ اوڑھ کر مسلمانوں سے دشمنی اور کدورت رکھتے ہیں۔ ان کی کئی شکلیں ہیں اور گرگٹ کی طرح رنگ بدلنے میں مہارت رکھتے ہیں۔ اپنی منافقت اور چالوں سے نوجوان نسل کو گمراہ کرکے جنت کے ٹکٹ ان کو دکھا کر خودکش حملوں پر آمادہ کرکے ملک بھر کی فضا میں بارود کی بو پھیلا دی۔ پانی سروں سے اوپر ہو گیا تو ان کی بیخ کنی اور ان کے ناپاک وجود سے ارض پاک کو پاک کرنے کے لیے ضربِ عضب آپریشن کرنا پڑا۔ یہ کیسے اہل اسلام اور محب وطن پاکستانی ہیں کہ پاکستان کے دفاع کو زد پر لیے ہوئے تھے۔ کامرہ ایئر بیس، مہران نیول بیس، ڈاک یارڈ،سرگودھا، پشاور، کوئٹہ ہوائی اڈوں، جی ایچ کیو، آئی ایس آئی دفاتر او رکمانڈوز میس سمیت دفاعی اہمیت کی حامل تنصیبات کو حملے کا نشانہ بنانے کا آخر کیا مقصد ہو سکتا ہے۔ اس سے کون خوش ہوتاہے۔ یہ فرقہ اسی کے مفادات کے لیے کام کرتا ہے۔ جنرل راحیل شریف نے اس گروہ کو نتھ ڈال کے رکھ دی، ان کو ناکوں چنے چبوا دیئے، ان کو بھاگنے اور بلوں میں گھسنے پر مجبور کر دیا۔ مگر ان کے سہولت کار ان کے ناپاک عزائم کی بجاآوری کے لیے ان کے ’’مشن‘‘ کو کھلے عام سپورٹ کرتے ہیں۔ان کو گمان گزرا کہ ایک نیک سیرت، محب وطن ،جرأت مند اور عاشق رسولؐ جرنیل کا نام آرمی چیف بنائے جانے والے جرنیلوں میں شامل ہے تو ان کے خلاف اسی روز سازش شروع کر دی۔ ان کے بارے میں احمدی ہونے کا پراپیگنڈہ کیا جانے لگا جو ہنوز جاری ہے۔ ان کے والد کی قبر کے کتبے سوشل میڈیا پر دکھائے جا رہے ہیں۔ عوام کو فوج کے سکورٹنی اور سکیورٹی سسٹم سے بدظن کیا جا رہا ہے۔ غیرمسلم کو بریگیڈیئر کے عہدے کے اوپر ترقی نہیں دی جاتی، کسی کا لیفٹیننٹ جنرل بن جانا ممکن ہی نہیں۔ جنرل قمر جاوید باجوہ کے گھر پہلے بھی میلاد اور درود سلام کی محافل ہوتی رہی ہیں۔ایسی ہی تقریب گذشتہ روز آرمی ہائوس میں منعقد ہوئی جس سے ان کے عاشق رسولؐ ہونے پر مہر تصدیق ثبت کر دی مگر تکفیری اب بھی ان کے خلاف مہم جاری رکھے ہوئے ہیں۔مگر اس تفرقے کو یہ بات ذہن نشین کر لینی چاہیے کہ نہ صرف موجودہ آرمی چیف بلکہ پاکستان کی سات لاکھ مسلح افواج کا ہر فرد عشق رسولؐ میں ڈوبا ہوا ہے اور وہ وطن عزیز پاکستان اور اس کی سلامتی سے کوئی کھلواڑ برداشت نہیں کریں گے۔ یہی وجہ ہے کہ اس جنگجو فرقے نے جیسے ہی یہ یقین کیا کہ ایک ایسا جرنیل پاکستان کی عسکری قیادت سنبھالنے جا رہا ہے جو عشق رسولؐ سے لبریز اور عشق پاکستان سے مامور ہے تواس فرقے نے ہٹلر کے جنگی اصول کے مطابق عوام اور فوج کے درمیان ایک خلیج پیدا کرنے کی کوشش کی۔ مگر یاد رکھیے یہ لوگ نہ تو پہلے اپنے عزائم میں کامیاب ہوئے اور نہ اب کبھی ان کے مذموم مقاصد شرمندۂ تعبیر ہوں گے۔اس وقت ملک کے بائیس کروڑ عوام پاک فوج کے شانہ بشانہ ساتھ کھڑے ہیں۔ یہ وہی لوگ ہیں جنہوں نے ڈاکٹر سرفراز نعیمی کو قتل کرایا، پوری سنی تحریک کو کراچی میں اڑا کے رکھ دیا۔ ان کو حضور کے نام لیوائوں کے ساتھ تعصب، کدورت اور کرودھ ہے۔ مفتی راغب نعیمی کے خلاف شدت سے پراپیگنڈہ کرتے ہیں۔حامد سعید کاظمی مذہبی امور کے وزیر بنے تو ان کے خلاف صف آرا ہو گئے اور جب تک ان کو جیل نہ پہنچا دیا گیا چین سے نہ بیٹھے۔ اب جنرل قمر جاوید باجوہ کے پیچھے پڑے ہوئے ہیں۔ ان کا یہ اقدام قومی یکجہتی ،وحدت اور یگانگت کے سراسر خلاف ہے اور ان کا دراصل مقصد بھی قوم میں نفاق اور انتشار پھیلانا ہے۔ اس لیے ایسے لوگوں کے خلاف جو سوشل میڈیا پر لغو، بے بنیاد اور جھوٹا پراپیگنڈہ کرتے ہیں سائبر کرام ایکٹ کے تحت مقدمات قائم ہونے چاہئیں۔ ان کا یہ اقدام پاکستان دشمنی کے زمرے میں آتا ہے اور یہ دشمن کے ہاتھوں میں کھیلنے اور اس کے ایجنڈے کی تکمیل کے مترادف ہے۔ وہی دشمن جس نے ہمارے مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو بے آبرو کرکے بھارت سے نکلنے پر مجبور کر دیا۔ پاکستان سے ذاتی عناد اور بغض رکھنے والا بھارت سفارتی آداب بھی بھول گیا سرعام ویانا کنونشن کی دھجیاں اڑا دیں۔مشیر خارجہ سرتاج عزیز ہارٹ آف ایشیا کانفرنس میں شرکت کے لئے بڑے شوق سے جب پہنچے تو پاکستانی میڈیا نمائندوں کے ساتھ بھی بھارتی حکام کی جانب سے برا سلوک روا رکھا گیا، بھارت پہنچنے پر پاکستانی میڈیا نمائندوں کو موبائل نیٹ ورک کا مسئلہ درپیش تھا۔ میڈیا نمائندوں کو جو سمیں فراہم کی گئیں انہیں قریبا ساڑھے 3 گھنٹے کے پراسس کے بعد دی گئیں۔ بعدازاں بھارت نے سکیورٹی ایشو کا بہانہ بنا کر مشیر خارجہ سرتاج عزیز کو ہوٹل سے باہر نکلنے سے روک دیا۔ ہائی کمشنر عبدالباسط کو میڈیا سے بات کرنے سے روکنے کی کوشش کی گئی تو انہوں نے کانفرنس کے سکیورٹی انچارج کو ڈانٹ دیا۔ عبدالباسط کا کہنا تھا کہ میں پاکستان کا ہائی کمشنر ہوں۔ پاکستانی میڈیا والے میرے لوگ ہیں۔ ان سے بات کرنے سے کوئی نہیں روک سکتا۔ مگر مشیر خارجہ سرتاج عزیز اپنے ساتھ ہونے والے سلوک پر یہ نہ کہہ سکے کہ میں پاکستان کا مشیر خارجہ اور تمہارا مہمان ہو کچھ شرم کرو۔وہ جن حالات میں بھاگے بھاگے دشمن ملک گئے اور کچھ کراکے آئے یہی کہا جاسکتا ہے ’’ہورچوپو‘‘ان کو گولڈن ٹیمپل کا دورہ کرنے سے بھی روک دیا گیا۔ سرتاج عزیز نے بھارت کے سفارتی آداب کے منفی روئیے پر شیڈول سے پہلے ہی وطن واپسی کا فیصلہ کیا۔ سرتاج عزیز کو بھارت میں پریس کانفرنس کرنے سے روکا گیا تھا۔ اس لئے وطن واپس آکر پریس کانفرنس سے خطاب کیا۔بھارت کے اس رویے کے بعد اس کے ساتھ سفارتی تعلقات جاری رکھنے کا کوئی جواز نہیں رہتامگر ایسے ’’اناپرست‘‘ بھارتی آلو کھا کر بھالو بننے والے حکمرانوں سے بھارت کے ساتھ لاتعلقی کا کوئی امکان نہیں جو اب بھی کشیدگی کی انتہا کے باوجود بھارت کے ساتھ تجارت جاری رکھے ہوئے ہیں جو بھارت کے منافع اور پاکستان کے خسارے کا سبب بھی ہے۔ 6دسمبر2016ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus