×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
5جولائی77ء شب خون کے اثرات ہنوز باقی
Dated: 04-Jul-2008
مشرقی پاکستان الگ ہوا یہ ایک بہت بڑا المیہ تھا۔93ہزار فوجی دشمن کی قید میں چلے گئے یہ بہت دل خراش سانحہ تھا۔ ملک لُٹ پٹ چکا تھا مغربی پاکستان کے بھی کچھ علاقوں پر بھارت قابض تھا۔ ہر پاکستانی دکھی اور دلبرداشتہ تھا ایسے میں اقتدار جناب شہید ذوالفقارعلی بھٹو کے حوالے کیا گیا۔ انہوں نے اپنے تدبر اور دانشمندی سے ملک کے بکھرے ہوئے شیرازے کو اکٹھا کیا، قیدی واپس آ گئے بھارت سے مقبوضہ علاقے واگزار کرا لیے گئے۔ ملک تیزی سے ترقی کی طرف گامزن تھا، بے روزگاری کا قلع قمع جاری تھا۔ عام لوگوں میں سیاسی شعور اجاگر ہو چکا تھا۔ طلبہ مزدور کسان اپنے حقوق و فرائض سے آگاہ ہو گئے تھے۔ تعلیم و صحت کے شعبے عروج کی طرف گامزن تھے۔ سقوط مشرقی پاکستان اور 93ہزار فوجیوں کی قید پر عالم اسلام میں بے چینی پائی جاتی تھی پاکستان کے دکھ پر عالم اسلام بھی مغموم تھا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے اس داغ کو جس طرح سے دھونے کی کوشش کی وہ اس پر مسلمہ اور مطمئن اور سرشار تھی جب انہوں نے اسلامی دنیا کو اسلامی سربراہی کانفرنس کے نام پر لاہور میں ایک پلیٹ فارم پر اکٹھا کر دیا تو دنیا کے ہر مسلمان کا سر فخر سے بلند ہو گیا۔ عالمی سطح پر مسلم امہ جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کی قیادت میں متحد ہوچکی تھی۔ پاکستان اسلامی ایٹم بم بنانے کی شاہراہ پر گامزن تھا۔ اسلامی مملک یکجان ہو رہے تھے۔ قریب تھا کہ اسلامی ممالک پھر سے ایک پرچم تلے اتحاد،یگانگت کا مظاہرہ کرتے اور امریکہ اور روس کے ساتھ ساتھ تیسری پاور بن جائے۔ دولت اسلامی ممالک کے پاس بے انتہا تھی ذہانت جناب ذوالفقار علی بھٹو شہیدکی تھی دونوں مل کر یقینا اسلامی ممالک ایسی سپر پاور بن جاتے جو روس اور امریکہ کو پیچھے چھوڑ دیتے۔ ایک طرف جناب بھٹو اس حکمت عملی پر کام جاری رکھے ہوئے تھے دوسری طرف عالمی طاقتیں مسلم ممالک کے اتحاد کواپنے لیے خطرہ سمجھ رہی تھیں۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید پاکستان کو جلد سے جلد ایٹمی طاقت بنانا چاہتے تھے ان کے دل پر مشرقی پاکستان کے بنگلہ دیش بن جانے کے زخم موجود تھے ان کو پتہ تھا یہ زخم کس نے دیا وہ اس کا بدلہ کشمیر میں چکانا چاہتے تھے ہنودویہود ان کے نام سے ریزہ براندام تھے۔ وہ ان کو ہرقیمت پر کسی بھی طریقے سے راستے سے ہٹانا چاہتے تھے وہ موقع کی تلاش میں تھے لیکن جناب بھٹو شہید اپنی حکمت عملی پر جس تیزی سے کام کر رہے تھے اتنی ہی احتیاط سے بھی کام لے رہے تھے۔ انہیں پر بھروسا تھا اس لیے قبل از وقت الیکشن کرا دیئے۔ دشمن طاق میں بیٹھاتھا تمام سیاسی پارٹیاں سازشی نہیں تھیں۔ کچھ یار لوگ سادگی میں استعمال ہو گئے۔ 1977ء کے عام انتخابات کے بعد دھاندلی کا شور مچا دیا جناب بھٹوشہید کسی سازشی کو طالع آزمائی کا موقع نہیں دینا چاہتے تھے وہ پی این اے کے مطالبے پر دوبارہ الیکشن کے انعقاد پر تیار ہو گئے لیکن جنرل ضیاء الحق کی تاریں کہیں اور سے ہل رہی تھیں۔ 4اور5 جولائی 1977ء کی درمیانی شپ انہوں نے سامرجی سازش کو عملی جامع پہناتے ہوئے ملک کے آئینی اور منتخب وزیراعظم کی حکومت کا تختہ الٹ دیا۔ یہ وہ سیاہ رات تھی جس کی صبح آج تک طلوع ہ ہو سکی۔ بلکہ 4اپریل 1979ء کو جناب ذوالفقار علی بھٹو شہید کا جوڈیشنل مرڈر کر دیا گیا یوں 5جولائی کی سیاہ رات کے مہیب سائے اپریل 1979کو مزید گھمبیر ہو گئے۔ شہید ذوالفقار علی بھٹو کو دی جانے والی پھانسی کے اثرات آج بھی ختم نہیں ہو سکے۔ شہید وزیراعظم کی حکومت کا تختہ فوج نے نہیں چند لالچی حریص اور طالع آزما جرنیلوں نے الٹا تھا۔ ان کے بعد پاکستان کو شہید ذوالفقار علی بھٹو جیسی قیادت نہ مل سکی۔ گو ان کی کمی پورا کرنے میں شہید بے نظیر بھٹو کسی حد تک کامیاب ہوئیں۔ میاں نواز شریف نے بھی ملک کو صحیح سمت ڈالنے کی کوشش کی لیکن دونوں رہنمائوں کو دو دو مرتبہ وزیراعظم بننے کے باوجود ایک مرتبہ بھی اپنی مدت پوری نہ کرنے دی گئی۔ ملکی ترقی دشمنوں نے 1977ء کے بعد آج تک کسی بھی حکومت کو مدت پوری نہ کرنے دی۔ 2002ء سے 2007ء تک حکومت میں رہنے والے آئینی مدت پوری کرنے کا دعویٰ کرتے ہیں میرے سمیت اکثر سیاستدان اس دور کو جمہوری دور نہیں مانتے اور یقینا یہ دور جمہوری نہیں آمرانہ دور تھا بلکہ مارشلائی دور تھا۔ تمام لالچی اور فصلی بٹیرے پکڑ کر وزارتوں پر بٹھا دیئے گئے تھے۔ ان کی سیاسی غیرت کا یہ حال تھا کہ آرمی چیف نے ملک میں ایمرجنسی کے نام پر مارشل لاء لگا دیا وزیراعظم، وزرا اور وزرائے اعلیٰ نے تو کجا کسی رکن اسمبلی نے بھی احتجاجاً استعفیٰ نہیں دیا۔ سب کے سب آخری دن کی کمائی بھی سمیٹنا چاہتے تھے۔ ان میں پیپلز پارٹی سے منحرف ہونے والے بھی جن میں سے کچھ کو شہید ذوالفقار علی بھٹو کی معیت میں کام کرنے کا موقع ملا تھا۔ ان لوگوں نے نہ صرف پارٹی سے بے وفائی کی بلکہ ذوالفقار علی بھٹو کی تربیت سے بھی غداری کی۔ قدرت کی طرف سے انتقام لینے کا اپنا طریقہ کار ہے۔ قدرت نے شہید کے قاتلوں سے انتقام لے لیا عوام نے ان کی اولاد کو بار بار تخت نشین کرکے اپنا حق ادا کر دیا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید نے کہا تھا ’’مجھے قتل کیا گیا تو ہمالیہ روئے گا‘‘ یقینا ان کے قتل پر ہمالیہ رویا تھا ہر انسان بھی رو دیا تھا ابھی دونوں کے آنسو خشک نہیں ہوئے تھے کہ دختر مسرق، دنیائے اسلام کی پہلی وزیراعظم محترمہ بے نظیر بھٹو کو شہید کر دیا گیا ان کی شہادت پر مندمل ہوتے زخم پھر ہرے ہو گئے۔ ذوالفقار علی بھٹو سے بھٹو خاندان کی شہادتوں کا سفر شروع ہوا۔ شاہنواز بھٹو اور مرتضی بھٹو کی شہادت سے ہوتا ہوا محترمہ بے نظیر بھٹو کی شہادت پر ختم ہوا۔ اتنا کسی خاندان نے ملک و قوم کے لیے پسینہ نہیں بہایا ہوگا جتنا بھٹو خاندان نے خون بہایا ہے۔ جہاں شہید ذوالفقار علی بھٹو سے محبت کرنے والوں کی کمی نہیں وہیں ایسے لوگ بھی ہیں جو ان سے نفرت کرتے ہیں اور پاکستان میں ایسا ایک بھی سیاستدان نہیں جو غیرمتنازعہ ہو۔ ہر لیڈر اور سیاستدان حلیفوں اور حریفوں میں بٹا ہوا ہے۔ محبت اور نفرت کرنے والوں میں تقسیم ہے۔ لیکن شہید ذوالفقار علی بھٹو کو یہ اعزاز حاصل ہے کہ ان پر شدید تنقید کرنے والا بھی ان کے کسی نہ کسی وصف کا قائل ہے۔ اسلامی سربراہی کانفرنس کا انعقاد لاجواب ہے۔ جمعہ کو چھٹی اور شراب پر پابندی ان کا ہی کام تھا۔ اور سب سے بڑھ کر پاکستان کو اپنی جان کا تحفہ دے کر ایٹم بم بنایا۔ ذوالفقار علی بھٹو شہید پہلے سیاستدان تھے جنہوں نے جہاد کا لفظ استعمال کیا اور جہاد کو اپنی پالیسی کا باقاعدہ حصہ بنایا۔ وہ جہاد کو مسئلہ کشمیر کا حل سمجھتے تھے۔ انہوں نے 1964ء اور 1965ء کے درمیان مجاہدین کے ذریعے کشمیر پر قبضے کا منصوبہ بنایا اور مقبوضہ کشمیر میں مجاہد بھجوائے سری نگر اور جموں میں پاکستان نواز نوجوان جمع کیے اور ایوب خان کو کشمیر آپریشن پر تیار کیا آپریشن ان کا ہی منصوبہ تھا۔ 1971ء میں ان کے اقتدار میں آنے کے بعد مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی سرگرمیاں تیز ہو گئیں۔ افغانستان میں روسی عمل دخل بڑھا تو ذوالفقار علی بھٹو نے کابل یونیورسٹی کے بعض روس مخالف اساتذہ اور طلبا سے رابطہ کرکے ان کو پاکستان آنے کی دعوت دی ان میں گلبدین حکمت یار، پروفیسر برہان الدین ربانی، سبغت اللہ مجددی شامل تھے اصل میں افغانستان میں جہاد کی بنیاد ذوالفقارعلی بھٹو شہید نے رکھی تھی۔آئین میں اسلامی دفعات بھی شہید ذوالفقار علی بھٹو نے شامل کرائیں اور سب سے بڑھ کر پاکستان کی بقا اور سالمیت کا موجب 1973 ء کا آئین شہید ذوالفقار علی بھٹو کا اس قوم کے لیے ایک عظیم تحفہ ہے۔ شہید بے نظیر بھٹو نے اسلام کی خدمات کے حوالے سے اپنے والد محترم کے مشن کو جاری رکھا۔ مقبوضہ کشمیر میں آزادی کی موجودہ تحریک 1989ء میں شروع ہوئی۔ محترمہ نے اپنے دوسرے دور میں او آئی سی میں کشمیر فنڈ بنوایا۔ او آئی سی کی حامل اسلامی سربراہی کانفرنس میں حیرت کانفرنس کو آبزرور کی حیثیت دلائی، کشمیر رابطہ گروپ تشکیل دیا۔ پاکستان میں آج تک قائم ہونے والی ہر حکومت اور ہر حکمران سے زیادہ اسلام کے لیے بھٹو خاندان کی خدمات سب سے زیادہ ہیں۔ذوالفقار علی بھٹو شہید زندہ رہے تو آج تک مسئلہ کشمیر حل ہو چکا ہوتا کالاباغ کی تعمیر مکمل ہو چکی ہوتی۔ بھارت کو جہلم،چناب اور دریائے سندھ پر پاور پراجیکٹس اور ڈیموں کی تعمیر کی جرأت نہ ہوتی۔ ملک میں مہنگائی کا عفریت پھن پھیلائے نہ پھرتا،لوڈشیڈنگ کے عذاب سے قوم محفوظ رہتی۔ پاکستان کے سرحدی علاقوں میں غیرملکی افواجوں کو اپنا جدید اسلحہ ٹیسٹ کرنے کے مواقعے نہ ملتے اور ہم ایک عزت مند قوم کی طرح سراٹھا کر عالمِ عالم میں پھرتے۔لیکن 5جولائی کے مہیب سائے آج بھی پوری پاکستانی قوم پر مسلط ہیں۔ خدا ہمیں صحیح راستہ دکھائے اب تو ہمارے پاس کوئی بھٹو بھی قربانی کے لیے نہیں بچا۔
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus