×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
بوہے آئی جنج تے وِنوں کُڑی دے کَن!
Dated: 17-Jan-2017
عالمی سیاسی منڈی میں تیزی کا رجحان ہے۔ 20جنوری 2017ء کے دن نہ صرف ڈیموکریٹک پارٹی آف امریکہ کا آٹھ سالہ اقتدار ختم ہو گا بلکہ ایک نظریئے اور فلسفے کی شکست کو بھی تسلیم کر لیا جائے گا۔ باراک حسین اوباما کو آٹھ سال پہلے صدر بنانادراصل ڈوبتے اور لڑکھڑاتے امریکن نظام کو سہارا دینے کی ایک کاوش تھی۔ بش سینئر اور جارج بش جونیئر کے بارہ سالہ اقتدار نے نہ صرف امریکی معیشت کو زمین بوس کر دیا تھابلکہ یہ امریکی فلسفہ بھی دفن ہو گیا کہ امریکی معاشرہ ایک ملٹی کلچرل اور بین المذاہب اقوام کی جنت ہے۔ دراصل ری پبلکن پارٹی کے دورِ اقتدار کے ان بارہ سالوں میں نسل پرستی کی سوکھی جڑیں پھر پھلنے پھولنے لگیں اور خاص طور پر جارج بش کے دورِ اقتدار میں بش اور اس کی کابینہ کے دیگر ساتھیوں نے ایک عام سی جنگ کو نسل پرستی اور مذہبی جنگ کی آگ میں جھونک دیا۔ امریکی اور برطانوی خفیہ اداروں کی بوگس اور جعلی رپورٹس کی وجہ سے پورے خطہ عرب اور بحر گلف کو جنگ کی طرف دھکیل دیا گیا اور بعد کی تحقیق اور حقائق کے منظرِ عام پر آنے کے بعد یہ بات روزِ روشن کی طرح عیاں ہو گئی کہ صدام حسین کے پاس نہ تو نیوکلیئر ہتھیار اور میزائل تھے اور نہ ہی زہریلی گیسوں کے ذخیرے ملے۔ آج ٹونی بلیئر کا اعتراف اور سابق امریکی وزیر دفاع کا معذرت خواہانہ بیان اس خطے کے تیس لاکھ ہلاک شدگان کا مداوا نہیں ہو سکتا۔ طوعاً کراہن اوباما کے آٹھ سالہ دورِ اقتدار کو برداشت کرنے کے دوران امریکہ کے اس مفاد پرست طبقے نے یہ ذہن نشین کر لیا تھا کہ اب امریکہ میں ڈیموکریٹک پارٹی کے دورِ حکومت کا تسلسل امریکی پاور بلاک کو دنیا میں تنہا کر دے گا اور پھر ساری دنیا اس وقت حیران و پریشان رہ گئی کہ جب امریکہ اور پوری دنیا کے تجزیہ نگاروں، دانشوروں اور رائے عامہ کے سروے کا حساب کتاب لگانے والے ادارے ناکام ہو گئے اور بقول امریکی خفیہ اداروں کے پہلی دفعہ امریکی الیکشن نتائج کو ’’ہیک‘‘ کر لیاگیا۔ راقم سمیت امریکی معاشرے کو جاننے اور اس پر ریسرچ رکھنے والے تمام محققین اس بات پر متفق ہیں کہ کسی بینک، ڈیپارٹمنٹ یا ادارے کا کمپیوٹرائزڈ نظام ہیک کرنا کوئی عام سی بات نہیں ہوتی چہ جائیکہ دنیا کی سب سے بڑی سپر پاور کے انتخابی نظام کو تو ممکن ہی نہیں۔ دراصل امریکی اداروں کا روس کی خفیہ ایجنسی پر الزام تراشی ایک بھونڈا مذاق ہے ۔حقائق کو دیکھتے ہوئے یہ ماننا پڑے گا کہ امریکہ کی 72فیصد سفید فام آبادی تمام تر نظریاتی اور سیاسی اختلافِ رائے کے باوجود ری پبلکن پارٹی کو ووٹ دینے پر بضد تھی لہٰذا روسی خفیہ ایجنسیوں پر الزامات لگا کر وہ امریکی اپنے ہی معاشرے کے اندر ایک بڑی تبدیلی کو چھپانا چاہتے ہیں۔یاد رہے پاکستان کے دو بڑے سیاسی خاندانوں نے حالات کا سیاسی ادراک نہ کرتے ہوئے کچھ جعلی اور خودساختہ قسم کے امریکی مشیروں کے کہنے پر ڈیموکریٹک پارٹی کی امیدوار ہیلری کلنٹن پر کئی سو ملین ڈالرز کی انویسٹمنٹ کر دی۔ امریکی ڈیموکریٹک پارٹی کے ایک خودساختہ مشیر مسٹر شاہد خان نے میاں برادران اور بھٹو فیملی سے کئی سو ملین ڈالرز بٹور لیے مگر انتخابی نتائج آنے کے بعد موصوف منظرنامہ سے اس طرح غائب ہیں جیسے…!پھر امریکی الیکشن نتائج آنے کے بعد میاں نوازشریف نے اپنی سیاسی خفت بچانے کے لیے ایک دوسرے پاکستانی سیاسی طالع آزما دوست کے ذریعے نو منتخب امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے رابطہ کیا اور ٹیلی فونک بات کرنے کی خواہش کا اظہار کیا۔ شنید ہے کہ ایک لم سم رقم خرچ کرنے کے بعد میاں صاحبان نو منتخب صدر سے ٹیلی فونک گفتگو کرنے میں کامیاب تو رہے مگر اپنی لائق بیٹی کی پھرتیوں کی وجہ سے سارا مزہ اس وقت کرکرا ہو کر رہ گیا جب ٹرمپ کے ترجمان نے نہ صرف اس گفتگو کے مندرجات کو مسترد کیا بلکہ بعدازاں سیکرٹری خارجہ طارق فاطمی جو خاص طور پر اس ٹیلی فون گفتگو کے بعد عجلت میں امریکہ روانہ ہو گئے تھے سے ملنے سے انکار کر دیا اور موصوف لاکھوں ڈالرز قومی خزانے سے خرچہ کرنے کے باوجود خالی ہاتھوں بے مراد واپس لوٹے۔اسی طرح بعد میں ایک دوسری سیاسی قوت نے 20جنوری کو ہونے والی تبدیلی اقتدار کی تقریب کے دعوت نامے ڈھونڈنا شروع کر دیئے حالانکہ 20جنوری کو ہونے والی مرکزی تقریب کے لیے ہزاروں دعوت نامے دنیا بھر کے دو سو سولہ ممالک کی اشرافیہ بشمول سیاسی اکابرین میں تقسیم کیے۔ سابق صدر آصف علی زرداری نے ایسا ہی ایک دعوت نامہ حاصل کرنے کے لیے دن رات ایک کیا اور لاکھوں ڈالرز نام نہاد امریکی مشیروں کو لٹانے کے بعد دعوت نامہ حاصل کرنے میں کامیاب ہو گئے۔ لوٹی ہوئی قومی دولت کا اس بے دردی سے استعمال دیکھ اور سُن کر میں حیران رہ گیا اور امیرا یہ کہنے کو دل چاہا کہ سائیں آپ مجھ سے کہتے تو میں آپ کو خصوصی سٹوڈنٹ ڈسکائونٹ دلوا دیتا۔ قارئین خطۂ عرب میں عربوں کی اندرونی چپقلش اور مسلکی مخالفت ایک خوفناک جنگ میں تبدیل ہو چکی ہے۔ ترکی طیب اردگان کی قیادت میں عربوں سے اپنی نوے سالہ دشمنی ختم کرکے اپنے اقتدار کو دوام دینے کے لیے اسلامی بلاک کی تشکیل میں مگن ہے۔ پاکستان افغانستان کی بے وفائی کے جھٹکے سہنے پر مجبور ہے اور چونکہ بھارت کا روس کو چھوڑ کر امریکہ سے ناطہ جوڑنا علاقے میں طاقت کے توازن کو ڈسٹرب کرنے کے لیے کافی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ پاکستان کی عسکری قوتیں چین، روس اور ایران کی طرف دیکھ رہی ہیں۔ ان حالات میں 20جنوری کو واشنگٹن میں اقتدار کی منتقلی اپنے ساتھ کئی طوفان لے کر آئے گی اور اس موقع پر پاکستان کو ایک مضبوط ، مدبر اور سیاسی ویژن رکھنے والی قیادت کی ضرورت ہے جو مکمل عوامی امنگوں کی ترجمان ہو مگر پاکستان کے معروضی حالات کچھ اس طرح ہیں کہ ہر شخص ایک دوسرے سے بظاہر دست و گریباں ہے۔ کیا پاکستان آنے والی اس عالمی تبدیلی اور اندرونی محاذ پر تبدیلیوں کے لیے تیار ہے؟ اس پر ایک پنجابی کہاوت ’’بوہے آئی جنج تے وِنوں کُڑی دے کَن‘‘ قارئین آج مجھے میرے ایک دوست نے ویڈیو فوٹیج دکھائی جنہیں دیکھ کر مجھے پتا چلا کہ امریکہ کے موجودہ نائب صدر جوبائیڈن جو چند روز بعد سبکدوش ہو رہے ہیں، اپنی نائب صدارتی عہدے کے دوران ان کے بیٹے کو کینسر کی بیمار لاحق ہو گئی تو ان کے پاس بیٹے کے علاج کے لیے اپنا گھر بیچنے کے سوا کوئی چارہ نہ رہا اور جب صدر اوباما کو ان حالات کا پتا چلا تو انہوں نے اپنی جمع کئی ہوئی پونجی میں سے نائب صدر جوبائیڈن کے بیٹے کے علاج کے لیے اپنی طرف سے مطلوبہ رقم دے دی۔ذرا تصور میں لائیں کہ اس طرح کے حالات پاکستان میں درجہ چہارم کے چپڑاسی کے ساتھ بھی پیش نہیں آتے۔ اور پھر ہم پوچھتے ہیں کہ قومیں کیسے بنتی ہیں؟ 17,جنوری2017
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus