×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
ہر فرعونِ را موسیٰ
Dated: 28-Feb-2017
فرعونِ مصر کے مظالم پوری شدت سے جاری تھے اور اسی دوران شاہی جوتشی اور نجومیوں نے یہ بتایا کہ اس کی موت کا سبب بننے والا بچہ جنم لینے کے قریب ہے جسے سُن کر فرعونِ مصر نے ایک شاہی فرمان جاری کیا تاحکم ِ ثانی تمام نومولود بچوں کو قتل کر دیا جائے اور وہ بچے جو ابھی مائوں کی کوکھ میں ہیں انہیں مائوں سمیت ہلاک کر دیا جائے۔ اسی دوران مصر کی ایک عورت ’’یوحانذ‘‘ کے گھر بچے کی پیدائش متوقع تھی اور جب بچہ پیدا ہوا تو یوحانذ اور اس کے شوہر عمران نے بچے کو ٹوکری میں رکھ کر دریا برد کر دیا کہ اگر خدا کو منظور ہوا تو وہ اس بچے کو بچا لے گا۔ قارئین ! دریا میں بہتا ہوا یہ بچہ فرعونِ مصر کی ملکہ آسیہ کے ہاتھ لگا جو اسے چھپا کر محل میں لے آئی اور اس کی پرورش شروع کر دی۔ جوان ہو کر یہ بچہ پیغمبر بنے اور بعد میں یہی پیغمبر فرعون کی تباہی اور بربادی کا سبب بنے۔ قارئین! گذشتہ روز شریک چیئرمین پیپلزپارٹی اور سابق صدر مملکت آصف علی زرداری کے ہاتھ پر بیعت کرکے ایک ایسے کردار نے پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کی جو کبھی آصف علی زرداری کا بدترین دشمن تھا۔ 1990ء میں جب محترمہ کی پہلی حکومت اسٹیبلشمنٹ نے ختم کی تو جام صادق علی کو سندھ کا وزیراعلیٰ بنایا گیا ۔ مرکز میں نوازشریف کی حکومت تھی چونکہ عرفان اللہ مروت اس وقت کے صدرِ مملکت غلام اسحاق خان کے داماد تھے لہٰذا سندھ کابینہ میں ان کو وزیر بنایا گیا اور انہوں نے عنانِ وزارت سنبھالتے ہی پیپلزپارٹی کے جیالے اور جیالیوں کو ٹف ٹائم دینا شروع کر دیا۔ 1991ء میں کراچی کی ایک معزز فیملی سے تعلق رکھنے والی لڑکی نے یہ پولیس رپورٹ لکھوائی اور الزام لگایا کہ عرفان اللہ مروت نے اپنے ساتھیوں کے ساتھ مل کر اس کا گینگ ریپ کیا ہے یہ خاتون جس کا نام وینا حیات تھا یہ سابق وزیر اعلیٰ سکندر حیات کی پوتی اور مسلم لیگ کے سینئر رہنما سردار شوکت حیات کی بیٹی تھی لہٰذا پیپلزپارٹی سمیت متعدد این جی اوز نے ایک بہت بڑا احتجاج ریکارڈ کروایا خود غلام اسحاق خاں کے لیے بھی یہ بڑی شرمندگی کی بات تھی جب کہ عرفان اللہ مروت نے جواب میں الزام لگایا کہ اس کو پھنسانے کے لیے آصف علی زرداری کے آدمیوں نے یہ سارا ڈرامہ رچایا ہے ۔بعدازاں ایک انٹرویو میں سابق وزیر داخلہ سندھ ذوالفقار مرزا نے اعتراف کیا کہ آصف علی زرداری کے اس خاتون کے ساتھ مراسم تھے۔ بہرحال یہ سکینڈل 90کی دہائی کا ایک بڑا سکینڈل تھا جس کی وجہ سے سندھ میں جام صادق اور مرکز میں نوازشریف کی حکومتوں کو جھٹکے لگے اور انہیں قبل از وقت حکومت سے ہاتھ دھونا پڑے۔ قارئین! اس میں کوئی شک نہیں کہ آصف علی زرداری کا طرزِ سیاست اور خیالات ’’میکاولی‘‘ سے ملتے جلتے ہیں۔ محترمہ کے بھائی شہید مرتضیٰ بھٹو اور خود محترمہ کی شہادت کے زمرے میں آصف علی زرداری پر سنگین الزامات عائد ہوتے رہے اور اپنی ماں کی شہادت پر آصفہ بھٹو کی طرف سے اپنے بازو کی نس کاٹ کر خودکشی کی کوشش اور خود راقم نے محترمہ کی شہادت کے بعد ہونے والے الیکشن کے بعد فیڈرل کونسل اور سی ای سی کے پہلے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے معزز ممبران کے سامنے کہہ دیا تھا کہ محترمہ بے نظیر شہید کے قتل کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر دیکھے جا سکتے ہیں۔ جب آصف علی زرداری اپنی جابرانہ صدارت کے پانچ سال پورے کر چکے اور 2013ء کے الیکشن میں پیپلزپارٹی شکست و ریخت سے دوچار ہوئی تو جیالوں نے یہ سوچ کر صبر کر لیا کہ پچھلے پانچ سال ہم نے حکومت نہیں کی بلکہ کسی ناکردہ جرم کا کفارہ ادا کیا ہے اور جیالوں کو امید کی ایک کرن نظر آئی کہ اب بلاول بھٹو اپنے نانا اور شہید ماں کے ویژن، سوچ اور فلسفے کو لے کر آگے بڑھیں گے اور ایک دفعہ تو ایسا لگا کہ واقعی ایسا ہو رہا ہے مگر آصف علی زرداری نے جب یہ دیکھا کہ پاور کا توازن ان کے ہاتھ سے نکل کر شہید محترمہ کے بیٹے کے ہاتھ منتقل ہو رہا ہے تو صرف چند ہفتوں بعد ہی پرانے بادشاہی گُر آزمائے جانے لگے۔ پارٹی دو واضح حصوں میں تقسیم ہوتی نظر آئی جبکہ اس سے پہلے خود راقم سمیت درجنوں سینئر رہنما اور جیالے ایک لمبی خاموشی اختیار کر چکے تھے، جب آصف علی زرداری جیل سے ضمانت پر رہا ہوئے اور انہوں نے پارٹی پر قبضہ جمانا شروع کیا تو اس وقت پیپلزپارٹی کے ایک گروپ نے زرداری صاحب کی پالیسیوں کے خلاف پیپلزپارٹی کے اندر جی سیون کے نام سے ایک گروپ تشکیل دیا جس میں مرحوم ڈاکٹر جہانگیر بدر، افضل سندھو صاحب ،قیوم نظامی صاحب، اسلم گِل صاحب، بدر چوہدری اور گزشتہ رروز وفات پانے والے مرحوم میاں خالد سعید صاحب اور راقم شامل تھے اس گروپ کا پہلا اجلاس راقم کے گھر ہی جوہر ٹائون میںمنعقد ہوا تھا۔ قارئین! آج جب مجھے آصف بھٹو اور بختاور بھٹو کا وہ ٹویٹ دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں شہید محترمہ کی دونوں بیٹیوں نے عرفان اللہ مروت کی پارٹی میں شمولیت کی مذمت اور ناراضگی کا اظہار کیا تھا اس ایک پیغام سے ملک بھر میں کروڑوں جیالوں اور جیالیوں کو ایک نئی زندگی ملی۔ آج لاتعداد دوستوں نے مجھ سے ٹیلی فونک اور بذریعہ ای میل رابطے کیے اور کہا کہ بھٹو خاندان کی یہ جوان ٹیم جس میں بلاول بھٹو،فاطمہ بھٹو، ذوالفقار جونیئر، بختاور بھٹو، آصفہ بھٹو سب اکٹھے ہو جائیں تو وہ اپنے دادا اور نانا کے مشن کو بطریقِ احسن آنے والے نسلوں کو منتقل کر سکتے ہیں وگرنہ سیاسی چیلوں اور گِدھوں کا ٹولہ جس میں آصف علی زرداری، فریال تالپور، سراج درانی، ڈاکٹر عاصم اور اس قماش کے لوگ پاکستان پیپلزپارٹی کے لیے زہر قاتل ہیں مگر شنید یہ ہے کہ نوازشریف کی ڈوبتی ہوئی نائو دیکھ کر آنے والے ہفتے میں آصف علی زرداری نے آل پارٹیز کانفرنس بلانے کا اعلان کیا ہے جس کا صرف ایک ہی مقصد ہے کہ آصف علی زرداری کے سیاسی مردہ گھوڑے میں روح پھونک دی جائے تاکہ وہ ایک بار پھر اقتدار کے سنگھاسن پر مسند افروز ہو سکے۔ قارئین! پیپلزپارٹی کی آل پارٹیزکانفرنس ایک ایسے وقت میں بلانا ایسے ہی ہے جیسے قریب المرگ جانور کے گرد گِدھوں کا منڈلانا مگر خوشی کی بات ہے کہ آصف علی زرداری کی طرف اپنے ہی گھر سے پہلا پتھر پھینکا گیا۔جس کے عرفان اللہ مروت کو یہ کہنا پڑا کہ وہ پی پی پی میں شامل نہیں ہوئے۔ 28فروری2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus