×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
پردے کے پیچھے کیاہے؟
Dated: 18-Apr-2017
ترکی کے صدارتی ریفرنڈم جس میں اٹھارہ نئے قوانین سمیت نظامِ حکومت بدلنے والا بنیادی نقطہ یعنی پارلیمانی نظام کو صدارتی نظام میں بدلنے کا سوال بھی شامل تھا۔ دراصل طیب اردگان کے بیٹے کی کرپشن کہانیوں کے بعد حکومت کا خود ساختہ ڈرامہ جس میں سینکڑوں مخالفین کے قتال اور تقریباً پانچ لاکھ سے زائد سیاسی مخالفین ،جن میں فوجی، ڈاکٹرز، انجینئرز، بیوروکریٹس، کسان، طلبہ اور اساتذہ بھی شامل ہیں کو پابندِ سلاسل کر دیا گیا اور مشہور مشنری تحریک کے خالق فتح اللہ گولن کی گولن تحریک پر قدغن لگا دی گئی اور پھر طیب اردگان کے چالاک سیاسی حواریوں نے انہیں مشورہ دیا کہ خطے میں امریکہ کی کمزور ہوتی ہوئی گرفت اور یورپین یونین سے ترکی کے کشیدہ تعلقات اور ترکی کے پڑوس عراق اور شام جہنم کی دلدل بن چکے ہیں ان حالات میں ایک امیر المومنین کی اشد ضرورت ہے جس پر طیب اردگان کے سیاسی تھنک ٹینک نے قریباً قریباً ویسا ہی پلان ترتیب دیا اور سوالنامہ بھی تقریباً ویسا ہی تیار کروایا جیسا پاکستان کے سابق آمر مرحوم ضیا الحق نے امیر المومنین بننے کے شوق میں ریفرنڈم کے لیے تیا ر کروایا تھا اور آج جب ریفرنڈم کے نتائج آنے سے پہلے عام تاثر یہی تھا کہ طیب اردگان یہ معرکہ باآسانی جیت جائیں گے مگر شام کو جب گنتی کا عمل مکمل ہوا تو طیب اردگان کو برخلافِ توقع صرف اکاون اعشاریہ اکیس پرسنٹ ووٹ ملے جبکہ اپوزیشن کو اڑتالیس اعشاریہ نواسی فیصد ووٹ ملے اور اپوزیشن نے ٹوٹل ووٹوں کے ساٹھ فیصد کی دوبارہ گنتی کی درخواست دے دی ہے ۔ طیب اردگان کو ملنے والے ووٹوں کی اکثریت صرف ایک اعشاریہ اکیس فیصد ووٹوں کی ہے جو کہ دوبارہ گنتی میں اقلیت میں تبدیل ہو جائے، ایسا ہونا کوئی مشکل بات نہیں اور ریفرنڈم کے ان نتائج نے ثابت کر دیا ہے کہ آئندہ ایام ترکی کو کھینچ کر پڑوس میں ہونے والی جنگ یا مسلکی اور فرقہ وارانہ جنگ میں دھکیل سکتے ہیں۔ قارئین! آج کافی دنوں کے بعد جھورا جہاز پھر میرے پاس آیا اور میں اس کی لائی ہوئی انتہائی اہم اور ذمہ دارانہ خبر قارئین نوائے وقت سے شیئر کر رہا ہوں۔ بقول جھورا جہاز پاکستان آئندہ جنرل الیکشن 2017، 2018،2019میں ہونے کے امکانات مفقود ہیں اور یہ کہ اگر ہوئے تو 2020نومبر میں ملک گیر جنرل الیکشن ہوں گے جبکہ 2019ء کے آخر یا 2020ء کے شروع میں وطن عزیز پاکستان میں بھی صدارتی نظامِ حکومت لانے کے لیے ریفرنڈم کروایا جائے گا۔قارئین! جھورا جہاز بولے جا رہا تھا اور میں اس کا چہرہ تک رہا تھا مجھے حیران دیکھ کر وہ پوچھنے لگا۔ وڑائچ صاحب میں آپ کے ذہن میں آنے والے سوالات کا جواب بھی دیتا ہوں وہ یوں کہ پانامہ کیس کا فیصلہ آنے کے بعد وزیراعظم میاں نوازشریف، ان کی کابینہ سے استعفے لے لیئے جائیں گے پھر مسلم لیگ ن کی طرف سے عارضی مدت کے لیے جو متوقع وزیراعظم کے لیے نام زیرِ غور ہیں ان میں خرم دستگیر، احسن اقبال، اور شاہد خاقان عباسی شامل ہیں مگر ان میں سے کوئی بھی نامزد وزیراعظم بمشکل دو ہفتے بھی اپنی سیٹ پر نہیں ٹھہر سکے گا کیونکہ پانامہ لیکس کا فیصلہ آنے کے بعد پچاس فیصد مسلم لیگ ن کے اراکین پی ٹی آئی کی آغوش میں جگہ بنا لیں گے جبکہ باقی پچیس سے تیس فیصد مسلم لیگی اراکین کسی نئی تشکیل پانے والی سرکاری مسلم لیگ میں جمپ کرنے کا سوچیں گے یا پھر ناکامی کی صورت میں پیپلزپارٹی میں شمولیت اختیار کریں گے۔ جھورے جہاز کی اطلاع کے مطابق وزیراعظم اور ان کا خاندان اس وقت شدید تر ذہنی دبائو کے زیر اثر ہے اور طیب اردگان کو ملنے والا نامکمل مینڈیٹ میاں صاحب کی سیاسی پریشانیوں میں مزید اضافہ کرے گا کیونکہ کسی بھی غیر متوقع عدالتی فیصلے کے بعد ترکی ہی ایک ایسا ملک رہ گیا تھا جس سے ذاتی اور کاروباری مفادات، تحفظ کی ضمانت بن سکتا تھا۔ قارئین! کوئی پچیس تیس سال پہلے مجھے اس وقت کی ہالی ووڈ کی ایک مووی دیکھنے کا اتفاق ہوا جس میں ہیرو اپنے دشمنوں کے تیروں سے زخم کھا کر جنگل میں جان بچاتا پھر رہا تھا کہ اسی دوران وہ خونخوار بھیڑیوں کے غار میں پائوں پھسلنے سے گر جاتا ہے اور اس کے گرنے سے پہلے وہ خونخوار جانور گوشت کے ایک لوتھڑے کے لیے آپس میں لڑجھگڑ رہے ہوتے ہیں اور جب وہ زندہ سلامت انسان کو اپنے درمیان دیکھتے ہیں تو وہ بہت خوش ہوتے ہیں مگر وہ اس ہیرو کو کراہتے سسکتے دیکھ کر ایک غیر متوقع فیصلہ کرتے ہیں۔ وہ زخمی ہیرو کی طرف بڑھتے ہیں جو آنکھیں بند کیے کسی بھی متوقع صورتِ حال کے لیے خود سپردگی کے عالم میں تھا مگر وہ اس وقت حیران رہ گیا جب خونخوار درندوں نے اسے گھسیٹ کر ایک قریبی گڑھے تک پہنچایا جس کے اندر پانی موجود تھا زخموں سے چُور ہیرو نے ایک نگاہِ تشکر ڈالی اور غٹاغٹ گدلا پانی پینے لگا اور وہاں سے خود کو ریسکیوکرتا ہوا اپنی منزل تک جا پہنچا۔ فلم کی اس چھوٹی سی سٹوری سے جو سبق دیا گیا وہ یہ ہے کہ بیمار،لاغر اور زخمی ہدف پر تو درندے بھی وار نہیں کرتے مگر گذشتہ روز ولی خان یونیورسٹی مردان میں ہونے والے اندوہناک سانحے کی ویڈیو کلپ دیکھتے ہوئے یکدم میں یہ سوچنے پر مجبور ہو گیا کہ زندہ انسانوں کو اجتماعی بے دردی سے مارنا اور پھر مرے ہوئے اپنے ہی ہم مذہب اور اپنے ہی کسی دوست کی لاش پر بہیمانہ تشدد ہمارے معاشرے کی پہچان نہیں۔ یقینا اب جان بحق ہونے والے مشعال خاں کی یاد میں سیمینار بھی ہوں گے حق او رمخالفت میں دلائل بھی دیئے جائیں گے ، معاشرے کی بے حسی کا رونا بھی رویا جائے گا مگر اس سے فریاد کرتی ہوئی ماں اور بہنوں کا کلیجہ ٹھنڈا نہیں ہوگا۔ ایسے واقعات نہ صرف ہماری نئی نسل کے لیے زہر قاتل ہیں بلکہ اوور سیز بسنے والے کروڑوں پاکستانیوں کے لیے باعث ندامت بھی ہیں۔ آزاد میڈیا کے اس دور میں بیرون ملک قیام پذیر پاکستانیوں کو اپنے میزبان دوستوں یا دیگر ممالک سے تعلق اورجان پہچان رکھنے والے احباب کے سامنے صفائیاں پیش کرنا پڑتی ہیںاور انہیں بتانا پڑتا ہے کہ آج بھی انسان کے روپ میں اگر حیوان زندہ ہیں تو ایسا ہر ملک میں ہے۔میں آج اپنے کچھ مقامی دوستوں کو بڑی بحث و تمحیث کے بعد یہ باور کرانا چاہ رہا تھا کہ گذشتہ روز ننگرہار افغانستان میں امریکہ نے انسانی تاریخ کا سب سے بڑا بم گرا کر سینکڑوں انسانوں کو نہ صرف قتل کیا بلکہ اس خونیں بم سے اپنے اسلحے کو ٹیسٹ بھی کرلیا لیکن مردان میں ایک طالب علم کا قتل امریکہ کے اس پورے جرم کو چھپانے میں کامیاب ہو گیا۔ پردے کے پیچھے کیا ہے یہ حقائق منظرِ عام پر آنے میں ابھی بہت دیر لگے گی۔ 18اپریل2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus