×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
باپ بڑا نہ بھیّا سب سے بڑا روپیہ
Dated: 23-May-2017
قارئین! آج عالمی منڈی میں ایک ڈالر تقریباً ایک سو چھ پاکستانی روپوں میں بِکتا ہے۔ کبھی ہم نے یہ سوچا ہے کہ اتنا فرق کیوں ہے اور اس کی وجہ کیا ہے؟ تو جواب اس کا یہ ہے کہ ایک امریکن اپنے ملک سے جتنا پیار کرتاہے ایک سو چھ پاکستانی مل کر بھی اپنے مل کو اتنا پیار نہیں کر پاتے اور جس دن ہم بائیس کروڑ پاکستانی ایک قوم بن کر اپنے وطن سے محبت اور عشق کریں گے تو میرا ایمان ہے کہ اس دن ایک پاکستانی روپے کا ایک امریکن ڈالر دستیاب ہوگا۔ مجھے یہ خیال یہ خبر سن کر آیا کہ بھارتی دہشت گرد اور جاسوس کلبھوشن یادیو کو پاکستان ملٹری کورٹ سے دی جانے والی سزا کے خلاف بھارت نے عالمی عدالت انصاف میں اپیل کی اور بھارت کے مشہور قانون دان اور وکیل حارش سیلوجن کی ایک گھنٹہ کی فیس نوے لاکھ روپے ہے انہوں نے کلبھوشن یادیو کے معاملے میں عالمی عدالتِ انصاف میں کیس لڑنے کی فیس ٹوکن کے طور پر صرف ایک روپیہ لی جبکہ اس کے مقابلے میں حکومت پاکستان کے مؤقف کو عالمی عدالت انصاف میں پیش کرنے کی فیس پاکستانی نژاد مشہور قانون دان خاور قریشی نے پانچ لاکھ برطانوی پائونڈز وصول کی۔ یاد رہے ایک اسٹرلنگ پائونڈ ایک سو چھتیس اعشاریہ چونسٹھ روپے کا ہے۔ اس طرح خاور قریشی صاحب چھ کروڑ تراسی لاکھ بیس ہزار روپے وصول کیے اور انہوں نے پچاس منٹ دورانیہ پر مشتمل اپنے کمنٹس پڑھے یعنی خاور قریشی کو دیا جانے والا معاوضہ فی منٹ تیرہ لاکھ چھیاسٹھ ہزار چارسو روپے بنتا ہے۔ اگر ہم اس ایک واقعہ سے اندازہ لگا نے کی کوشش کریں کہ دشمنی اپنی جگہ مگر ایک ہندو اپنی حکومت سے کوئی فیس نہیں لیتا جبکہ ہمارا پیارا پاکستانی وکیل یہاں بھی حکومت کی کھال کھینچ لینے کی اپنی پوری کوشش کرتا ہے۔ جھورا جہاز مجھے بتا رہا تھا کہ جوانی کی بات ہے وہ اپنے دوستوں کے ہمراہ سیالکوٹ کے قریب ہیڈمرالہ پکنک کے لیے جا رہا تھا تو راستے میں اچانک گاڑی بند ہو گئی، ہم نے گاڑی ایک سائیڈ پر کھڑی کرکے چیک کیا تو پتہ چلا کہ پٹرول ختم ہو چکا تھا۔ سب لوگ پریشانی کے عالم میں کھڑے تھے کہ پاس سے گزرتی ہوئی ایک وین رُکی اور ایک گورا گاڑی سے اتر کر ہمارے پاس آیا ،ہماری پرابلم کا پتہ چلنے پر اس نے اپنی وین کے اندر پڑی ہوئی ایک گیلن ان کے حوالے کر دی۔ جھورا جہاز کہتا ہے کہ ہم نے جب اسے پیسے دینے کی کوشش کی تو وہ گورا بولا کہ میں یہ آپ لوگوں کو فری نہیں دے رہا یہ میرا آپ پر قرض ہے اور جس دن آپ کے سامنے کسی جرمن کو یہی مشکل آن پڑے تو آپ لوگ اس کی مدد کر دینا تو پھر میرا قرض اتر جائے گا ۔تو قارئین! یہ ہوتی ہے قوموں کی نشانیاں جبکہ اسی اثنا میں مجھے یاد آیا کہ نورالدین محمد جہانگیر مغل شہنشاہ تھا۔ ایک دفعہ وہ شدید علیل ہوا تو ایک برطانوی ڈاکٹر اس کے علاج کے لیے بلوایا گیا جس کی کاوشوں سے قریب المرگ بادشاہ صحت یاب ہوا تو بادشاہ نے برطانوی ڈاکٹر کو خوش ہو کر کہا کہ جتنا اس ڈاکٹر کا وزن ہے اس کے برابر اسے سونا دے کر معاوضہ ادا کیا جائے ۔ اس پر انگریز ڈاکٹر بولا بادشاہ سلامت! مجھے آپ کے انعام و اکرام کی قدر ہے مگر میری ایک درخواست ہے کہ مجھے انعام دینے کی بجائے آپ برطانوی تاجروں کو یہ اجازت مرحمت فرما دیں کہ وہ برصغیر ہند کے ساتھ اپنی تجارت شروع کر سکیں۔ تو قارئین! قومیں حادثات سے نہیں بنتیں بلکہ ان کی بنیادوں میں محنت، عزم، لگن، ولولہ اور وطن سے محبت کی چاشنی شامل ہوتی ہے۔ ایک جرمن محاورہ ہے کہ ’’کوالٹی کسی حادثے کا نتیجہ نہیں ہوتی‘‘ ایک اور برصغیر کے فلاسفرکا یہ قول ہے کہ ’’قوم بنانا اتنا ہی مشکل کام ہے کہ جتنا آم کا درخت لگا کر اس کا پھل خود کھانے کا خواب دیکھنا۔‘‘ قارئین یہ بھی سچ ہے کہ برصغیر میں جب ایک طرف عمارتیں بن رہی تھیں، تاج محل اور قطب مینار بن رہے تھے تو دوسری طرف اسی وقت یورپ میں آکسفورڈ کی عمارت بن رہی تھی۔ قارئین! گذشتہ روز ایران کے جنرل الیکشن میں صدارت کے عہدے کے لیے انتخابات ہوئے جس میں موجودہ صدر حسن روحانی بھاری اکثریت سے دوسری دفعہ ایران کے منتخب صدر بن گئے۔ محترم حسن روحانی اپنی کنزرویٹو سوچ، سخت پالیسیوں اور پاکستان مخالف سخت گیر رویہ رکھنے کی وجہ سے مشہور ہیں اور آج کل شنید یہ ہے کہ حسن روحانی ،نریندر مودی اور اشرف غنی کا ٹرائیکا مل کر عالمی سازشوں میں مصروف ہے اور ان تینوں کا مین ہدف مملکت پاکستان ہے۔ حالانکہ تاریخی طور پر ایران وہ پہلا ملک تھا جس نے پاکستان بننے کے بعد ہمیں تسلیم کیا مگر بعدازاں رضا شاہ پہلوی مرحوم و دیگر ایرانی ملٹری اسٹیبلشمنٹ نے پاکستانی عوام کے سعودی عرب کی طرف جھکائو کو دیکھتے ہوئے ہمارے ساتھ تعلقات میں بگاڑ پیدا کر دیئے۔ یہی وجہ تھی کہ جب 1974ء میں اسلامی سربراہی کانفرنس لاہور میں منعقد ہونے جا رہی تھی تو رضا شاہ پہلوی نے اس میں شمولیت سے انکار کر دیا تھا اور بیگم نصرت بھٹو مرحومہ جن کا کہ شاہی خاندان سے قریبی تعلق تھا، اس کو بھی نظرانداز کرکے رضا شاہ پہلوی اسلامی سربراہی کانفرنس میں شریک نہ ہوئے جس کا خمیازہ چند سال بعد انہیں اس وقت بھگتنا پڑا جب ایرانی انقلاب کے آنے کی وجہ سے انہیں چھپنے کی بھی جگہ نہیں مل رہی تھی اور گذشتہ روز ایران کے آرمی چیف کی طرف سے پاکستان کے اندر سرجیکل اسٹرائیک کی دھمکی دراصل اس سوچ کے پیچھے حسن روحانی کی ذہنیت کارفرما تھی۔ قارئین! گذشتہ روز امریکہ کے نومنتخب صدر ٹرمپ نے سعودی عرب کا دو روزہ دورہ کیا جبکہ اس سے کچھ دن پہلے چالیس سے زائد اسلامی ممالک کی اسلامی نیٹو تشکیل پائی اور خدا نے پاکستان کے حصے میں اس کی سربراہی لکھی جو جنرل راحیل شریف نے قیادت سنبھال لی اور یہ بھی مکافاتِ عمل ہے کہ وہ صدر ٹرمپ جو چند دن پہلے تک سعودی عرب پر سفری پابندیاں لگا رہا تھا وہ آج خادمِ حرمین شریفین شاہ سلمان کے سامنے جھکا ہوا اپنے گلے میں سعودی اعلیٰ اعزاز ڈلوا رہا تھا اور اگر ان عالمی حالات میں جبکہ امریکہ اندرونی اور بیرونی مسائل اور معاشی مشکلات کی دلدل میں پھنسا ہوا ہے اور سعودی عرب کے ساتھ چار سو ارب ڈالر کے تجارتی معاہدے نہ کرتا تو شاید اس سفید ہاتھی کا سروائیو کرنا مشکل ہو جاتا۔ درجہ بالا معاہدوں میں ایک سو تیس ارب ڈالرز کے اسلحہ کے معاہدے بھی شامل ہیں۔ اسی لیے تو ٹرمپ سمیت پورا امریکہ سعودیہ کے گن گا رہا ہے اور شاید اسی کسی خاص موقع کے لیے شاعر نے کہا تھا: ’’باپ بڑا نہ بھیّا سب سے بڑا روپیہ‘‘ قارئین کو وزیراعظم محترم نوازشریف کا 76واں بیرونی دورہ مبارک ہوجو انتہائی مایوس کن رہابہرحال دورہ دورہ ہوتا ہے۔ نوازشریف کو وہاں تقریر کا موقع بھی نہ دیا گیا چاہیے تو یہ تھا کہ وہ اس سبکی پر اسی روز واپس آجاتے مگرجو لوگ پاناما لیکس فیصلے میں محض وزارت عظمیٰ بچ جانے جبکہ وقار،عزت،اعتباراور ساکھ برباد ہونے پر بھی جشن منائیں اور سرخرو ہونے کے دعوے کریں ان سے قومی حمیت کیا توقع کی جاسکتی ہے۔۔ 23مئی2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus