×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
21جون ،شہید رانی اور پیپلزپارٹی کا مستقبل
Dated: 21-Jun-2017
شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کارکنوں اور جیالے، جیالوں کے دلوں میں تاابد زندہ رہیں گی۔ اسی طرح قائد عوام شہید ذوالفقار علی بھٹو بھی عوام کے دلوں اور ذہنوں میں ہمیشہ زندہ رہیں گے۔ میں نے 20فروری 2008ء کو جنرل الیکشن کے رزلٹ آنے کے بعد زرداری ہائوس اسلام آباد میں نومنتخب اراکین اسمبلی اور فیڈرل کونسل و سنٹرل ایگزیکٹو کمیٹی کے مشترکہ اجلاس سے افتتاحی خطاب کرتے ہوئے کہا تھا کہ شہید بی بی کے قاتلوں کو ڈھونڈنا ،سزا دینا اور منطقی انجام تک پہنچانا ہماری اولین ترجیح ہونی چاہیے نہ کہ ایک عارضی اقتدار کے لیے ہم کولیشن اراکین کے تلوے چاٹیں اور یہ کہ آج پاکستان کا ہر شہری یہ سوچ رہا ہے کہ شہید بی بی کے خون کے چھینٹے زرداری ہائوس کی دیواروں پر بخوبی دیکھے جا سکتے ہیں۔ اور یہ کہ ہم سب جیالے بھٹوز کی لیگیسی اور وراثت کے وارث ہیں۔ قارئین! میرے یہ الفاظ اس وقت پی پی پی کی قیادت کو ناگوار گزرے اور پھر مجھے پارٹی سے دور اور علیحدہ کرنے کی سازشیں شروع ہو گئیں۔ میںیہ سب طوعاًکراعاً یہ برداشت کرتا رہا مگر جب میرے بچوں اور فیملی پر پاکستان کی زمین تنگ ہونے لگی تو مجبوراً مجھے جلاوطنی اختیار کرنا پڑی ۔ ذرا سوچیے کہ ایک شخص جس نے پچیس سال پارٹی کو دیئے ہوں، پارٹی قیادت اور جمہوریت کے لیے درجنوں کتابیں اور سینکڑوں کالم لکھے ہوں اور اسے سوئٹزرلینڈ میں شہید بی بی اور آصف علی زرداری کے کیسوں کا نگران مقرر کیا گیا ہو، جسے فیڈرل کونسل کا سب سے کم عمر رکن شہید بی بی نے بنایا ہو، جس کی ازدواجی زندگی پارٹی قیادت پر لگے داغوں کو مٹانے کے دوران ڈسٹرب ہو چکی ہو، جس نے ایک عالمی ادارے میں ایک شاندارکیریئر محض شہید بی بی کے کہنے پر بیک وقت ختم کر دیا ہو اور 1999ء سے شہید محترمہ کی شہادت تک ان کا خصوصی ایلچی رہا ہو جو شخص اپنی ذاتی کاوشوں سے شہید بی بی کو اقوامِ متحدہ، امریکن سٹیٹ ڈیپارٹمنٹ اور امریکن پینٹاگون لے کر گیا ہو اور کامیاب مذاکرات کروانے میں کلیدی کردار ادا کیا ہو اس شخص کو جب اپنی ہی پیپلزپارٹی اقتدار میں آئے تو اس کے لیے آسانیوں کی بجائے مشکلات پیدا کر دی جائیں۔ تاریخ اور زمانہ گواہ ہے کہ لاہور جوہر ٹائون میں پیپلزپارٹی کی قیادت کا کوئی ایسا فرد نہیں جس نے اس گھر کو مسکن بنا کر قیام نہ کیا ہو اور مشرف کے پورے دور میں لاہو رمیں ایک واحد میرا گھرہی تھا جسے پہلے اے آر ڈی اور بعدازاں پارٹی میٹنگز کے لیے استعمال کیا جاتا تھا مگر وہ لوگ جو میں آصف زرداری صاحب کے جیل سے باہرآنے کے بعد اور شہید بی بی کی شہادت کے بعد دیکھتا ہوں وہ یقینا اس وقت اس قافلے میں نہ تھے حتیٰ کہ آصف علی زرداری کی رہائی کے سلسلے میں ،میں جو باہر سے انویسٹی گیشن ٹیم لے کرپاکستان آیا تو محترم نوازشریف صاحب نے جو اس وقت وزیراعظم تھے مجھے نہ صرف گرفتار کروایا بلکہ اس وقت کے اکلوتے سرکاری چینل او رمیڈیا پر میری کردار کشی کی مہم بھی شروع کی اور مجھے ایک عرصے تک اڈیالہ جیل میں راجہ پرویز اشرف ، تاجی کھوکھر اور آصف علی زرداری کے ساتھ پابندِ سلاسل کر دیا گیا تھا۔ جہاں آصف علی زرداری صاحب نے باقاعدہ میرے ساتھ ایک وعدہ کے ذریعے مجھے اپنا چھوٹا بھائی بنا لیا مگر شہید بی بی کی شہادت کے بعد اسی چھوٹے بھائی پر پاکستان کی زمین تنگ کر دی گئی لیکن قارئین میں اسے حوادث زمانہ سمجھ کر جھیلتا رہا میں جب بھی پریشان ہوتا میں اکیلے میں اپنے رب سے پوچھتا کہ یا خدایا یہ مجھے کس چیز کی سزا مل رہی ہے۔ بی بی شہید سے وفا کی یا آصف علی زرداری سے دوستی کی؟ قارئین! میرے بیوی بچے مجھے تب بھی پوچھتے تھے اور آج بھی معصومانہ سوال کرتے ہیں کہ پاپا اگر سیاست اتنی ہی بے رحم اور طوطا چشم ہے تو پھر کیا یہ آپ کی غلطی نہیں تھی کہ آپ نے اپنے لیے اس احسان فراموش دوستوں کا انتخاب ہی کیوں کیا؟ مگر جب میں اپنے بچوں کو اس بات کا جواب دیتا ہوں تو میرا بحرِ بیکراں کی طرح بے قرار دل اور ذہن یک لخت پرسکون ہو جاتا ہے۔ میں بچوں اور فیملی سے کہتا ہوں کہ میں نے آٹھ سال شہید محترمہ بے نظیر بھٹو کی انتہائی قربت میں گزارے ہیں۔ میں نے ان سے سیاست کے رموز و اسرار جانے ہیں۔ انہوں نے ایک مشفق ماں اور بہن کی طرح میری سیاسی تربیت کی اور شہید محترمہ نے جو مجھ پر اعتماد کیا تھا میں اس پر پورا اترا اور میں اپنی وفا ان سے نبھاتا رہوں گا۔ مجھ سے پارٹی کی اعلیٰ قیادت نے بہت کچھ چھین لیا مگر آج بھی میرے پاس سینکڑوں ایسے واقعات ،باتیں، نصیحتیں ، ناراضگیاں اور خوبصورت یادیں ہیں جنہیں میں ہر روز تسلسل سے یاد کرکے اپنی روحانی تسکین حاصل کرتا ہوں اور میں خوش ہوں کہ آج پیپلزپارٹی کو تقریباً سبھی لوگ چھوڑ کر جا چکے ہیں اور جو نہیں گئے وہ جانے کے لیے پَر تول رہے ہیں۔ جھورا جہاز مجھے کہہ رہا تھا وڑائچ صاحب امتیاز صفدر وڑائچ کے پارٹی چھوڑ کر جانے کے بعد اب صرف دو ہی وڑائچ پارٹی میں رہ گئے ہیں ایک اعتزاز احسن وڑائچ اور دوسرا مطلوب احمد وڑائچ ۔ اس میں کوئی شک نہیں کہ پی پی پی سے سیاسی گند صاف ہو رہا ہے مگر سوال یہ ہے کہ اس طرح کا سیاسی گند پارٹی میں اکٹھا ہی کیوں کیا گیا تھا؟ابھی گذشتہ روز چیئرمین بلاول بھٹو کی موجودگی میں بلاول ہائوس لاہور میں ایک جیالے کو تختۂ مشق بنایا گیا تو ویڈیو میں یہ سب دیکھ کر مجھے وہ بے شمار نامور اور گمنام جیالے یاد آئے جن کی قربانیوں کے مرہونِ منت آصف علی زرداری نے پانچ سال مسندِ اقتدار پر پورے کیے۔ پیپلزپارٹی کی اعلیٰ قیادت کے انہی رویوں سے تنگ آ کر میں کچھ عرصہ کے لیے خاموشی اختیار کر لی اور سیاسی مشاورت اور ایڈوائزری کو اپنا کیریئر بنا لیا مگر ایک دن کے لیے بھی پارٹی میرے خون اور رگوں سے جدا نہیں ہوئی میں نے پارٹی قیادت کی اصلاح کے لیے پاکستان کے نمبر ون مؤقر روزنامہ ’’نوائے وقت‘‘ میں سینکڑوں کالم تحریر کیے جنہیں اس وقت پارٹی کی اعلیٰ قیادت درخوراعتنا نہ سمجھا مگر میں بھی فطرتاً بات کا دھنی ،میں بھینس کے آگے نو سال سے بانسری بجا رہا ہوں اور میں باآواز بلند اقرار کرتا ہوں کہ میرے جیسے جیالے ہی اصل پیپلزپارٹی اور بھٹو لیگیسی کے وارث ہیں۔ مردِ صحافت مرحوم مجید نظامی صاحب نے مجھے اصلی جیالے کا خطاب دیا تھا۔ میں اس کو کیونکر فراموش کر سکتا ہوں اور آج بھی ہم دوست ملک آفتاب،جاوید گجر، سلیم جنجوعہ اور دیگر دوست اکٹھے ہو کر شہید محترمہ کا کیک کاٹیں گے۔ 21جون ،4اپریل،5جنوری اور 27 اپریل ہماری زندگی کا حصہ بن چکے ہیں۔ اقتدار تو آنی جانی چیز ہے کوئی سولی پر لٹک کر منصور کی مانند امر ہو گیا، کوئی فضا میں اپنے اعمالوں سمیت بکھر گیا۔ کوئی سڑک پہ اپنے عوام کے درمیان خون میں نہلا دیا گیا اور کوئی بچوں اور اقرباء احباب سمیت جے آئی ٹی کے سامنے پیش ہو کر زمانے بھر میں رسوا ہو گیا۔ یہ اپنے اپنے نصیب کی بات ہے آج بھی گڑھی خدا بخش کے مزاروں میں مقیم بیس کروڑ عوام کے دلوں میں بستے ہیں۔’’ہیپی برتھ ڈے شہید رانی‘‘ 21،جون2017
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus