×
Home
About
Columns
Books
Gallery
Contact
Matloob
Warraich
Journalist
Matloob
Warraich
Author
Matloob
Warraich
Party Chairman
انقلاب کی دستک اور سیاسی گِدھیں
Dated: 18-Jul-2017
آج 18جولائی کا دن ہے اور جمہوریت پسند جدوجہد کرنے والے اور غلامی کی زنجیریں توڑنے والوں کو نیلسن منڈیلا کا جنم دن مبارک ہو۔ قارئین! وطنِ عزیز میں جاری اس کشمکش جس کے نتیجے میں صرف گذشتہ چودہ ماہ سے ملکی معیشت کو چار کھرب روپے کا نقصان ہو چکا ہے۔ وجہ اس کی کچھ بھی ہو نقصان ہر دو صورتوں میں بائیس کروڑ معصوم عوام کا ہو رہا ہے۔ ایک طرف اَنا، خودپسندی اور ضد غالب ہے جبکہ دوسرے کنارے پر خواہشیں، امیدیں اور حسرتیں نوحہ کناں ہیں۔شہید قائدِ عوام نے جب پرائیویٹ صنعتوں کو قومیا لیا تو اتفاق فونڈری بھی اس کی زد میں آئی اور بھٹو کے دورِ حکومت میں اتفاق فونڈری کے مالکان ہجرت کرکے چلے گئے اور جب ضیا الحق کی آمد پر وہ واپس آئے تو انہیں نہ صرف اتفاق فونڈری واپس کی گئی بلکہ اس وقت کے پچاس کروڑ روپے ہرجانے کی مد میں بھی ادا کیے گئے جبکہ شریف خاندان نے گورنر غلام جیلانی کو ان کی خدمات کے عوض چاند باغ فرید کے میں کروڑوں روپے کی مربعوں کے حساب سے زمین الاٹ کی اور بعد میں ریس کورس کا نام جیلانی پارک رکھ دیا گیا۔ معاملات اور واقعات کو پھر سے دہرانے کی بجائے اگر ہم پاناما لیکس اور ڈان لیکس کی بات کریں تو بلین ڈالرز خوردبرد کرکے بھی ان کے من کو تسکین حاصل نہ ہوئی اور انہوں نے ہمارے ازلی دشمن بھارت کے سرمایہ داروں اور ذاتی دوست نریندر مودی کو خوش کرنے کے لیے فوج کے خلاف ہرزہ سرائی شر وع کر دی۔ خاص طور پر کلبھوشن کی گرفتاری نے جلتی پر تیل کا کام کیا اور یہیں سے ابتدا ہوئی اور حکومت اور عسکری اداروں کی راہیں جدا ہونا شروع ہوئیں۔ پھر جو اس دوران اقتدار کے چار سال گزار چکے تھے انہوں نے سیاسی شہادت کی تمنا دل میں بٹھا لی اور پھر ایک دن جنرل قمر جاوید باجوہ کو پرائم منسٹر ہائوس بلوا کر یہ کہا گیا کہ یا تو آپ استعفیٰ دیں یا آئی ایس پی آر کا ڈان لیک کے متعلق کیا ہوا مشہورِ زمانہ ٹویٹ واپس لیں، جس پر آرمی چیف نے عقل و فراست سے کام لیتے ہوئے میجر جنرل آصف غفور کو ٹویٹ واپس لینے کا فون پر حکم دیا جس سے پاکستان کی مسلح افواج میں ہی اپنی اعلیٰ قیادت کے خلاف جذبات بھڑکنے لگے اور شاید اس کو بھی درگزر کر دیا جاتا کہ وزیراعظم نوازشریف نے چیف آف آرمی سٹاف سے پوچھ لیا کہ کیوں نہ ان پانچ جرنیلوں کو فوج سے برطرف کر دیاجائے جن کی سرگرمیاں حکومت کے خلاف مشکوک ہیں۔ جس کے جواب میں جنرل قمر جاوید باجوہ نے وزیراعظم کو جواب دیا کہ فوج میں پہلے ہی ڈان لیک کے مسئلے پر اضطراب پایا جاتا ہے اور یہ نہ ہو کہ افسران کو فارغ کرنے والی غیر مقبول حرکت سے ملک کے اندر خانہ جنگی شروع ہو جائے کیونکہ جنرل باجوہ جانتے تھے کہ جنرل راحیل شریف کے ساتھ کام کرنے والے تمام افسران کو پہلے ہی کُھڈے لائن لگایا جا چکا ہے۔ اس دوران پاکستان کی معزز عدلیہ نے موجودہ حکمرانوں کے خلاف کرپشن کیسز کی غیرجانبدارانہ تحقیقات کا حکم دے دیا تھا جس سے حالات آج کی اس ڈگر پر پہنچ چکے ہیں جس سے کچھ مفاد پرستوں کا دن کا چین اور راتوں کی نیندیں اجیرن ہو چکی ہیں۔ ابھی تک وزارتوں اور مشاورتوں سے چمٹے لوگ ان کے رفقاء اور عزیز پیروں،مریدوں کی چوکھٹ پر سررگڑتے نظر آتے ہیں۔ کچھ حکومتی احباب تعویذ اورچِلے بھی کروا رکھے ہیں اور کچھ صاحبِ دانش نے اس دوران اپنا مال غنیمت اِدھر اُدھر کرنے کے جتن شروع کر دیئے ہیں اور پسندیدہ جگہیں مثلاً سوئٹزرلینڈ، برطانیہ، کینیڈا، امریکہ کے علاوہ ورجن آئی لینڈ کے جزیروں تک روابط قائم کر لیے ہیں۔ سیاسی طوائف الملوکی کا یہ عالم ہے کہ سیاسی گِدھیں ایک مُردار کو نوچ کر دوسرے سیاسی مُردار کو نوچنے کے لیے رال ٹپکاتی نظر آتی ہیں۔ گذشتہ ستر سال قومی اقتدارِ اعلیٰ پر قابض خانوادے کے سرِ بازار رسوا ہوتے ہی سیاسی افراتفری کا یہ عالم ہے کہ ماں بیٹے کو اور باپ بیٹی کو اس قیامتِ صغریٰ میں پہچاننے سے انکار کر رہے ہیں۔ ہر سیاسی و غیر سیاسی ذی النفس کسی نہ کسی طرح اقتدار کی سجی سجائی گاڑی پر چڑھ جانے کو تیار نظر آتا ہے ۔ گذشتہ چند روز میں مجھ جیسے ادنیٰ سیاسی طالب علم سے رابطے کیے گئے اور اقتدار کی مسند تک پہنچنے کے لیے دعا اور دوا کا راستہ اور طریقہ دریافت کرنے کی کوشش کی گئی چونکہ وزیراعظم ہائوس کا کچن بند کیا جا چکا ہے اس لیے کچھ وظیفہ خوار صحافی نئی آنے والی سرکار کے حضور قصیدہ پڑھنے کے لیے الفاظی اور تعلقاتی رابطوں کی تلاش میں ہیں۔ مریم بی بی کا میڈیا سیل تقریباً غیر فعال ہو چکا ہے اور وزیراعظم ہائوس کو ایسے مصاحبین سے یہ کہہ کر خالی کروا لیا گیا ہے کہ یہاں سے خبریں باہر لیک ہوتی ہیں۔ اسی فرسٹریشن میں ایک صحافی نے شیخ رشید صاحب کے متعلق اپنے کالم میں لکھ دیا کہ وہ سیاست دانوں کی بواسیر ہیں۔ میں ان محترم کو قلمی طوائف کے نام سے یاد کرتا ہوں جبکہ جاوید چوہدری، طلعت حسین، مجیب الرحمن شامی، حبیب اکرم اور اس خانوادے کے دوسرے صاحبِ طرز قلم فروشوں کاا ب کہاں ٹھکانہ ہوگا۔ قارئین ! گذشتہ روز جے آئی ٹی رپورٹ شائع ہوئی تو ایک نقطہ یہ بھی سامنے آیا کہ مریم بی بی نے کچھ ثبوت ایسے جمع کروائے ہیں جو ’’کیلبری فونٹ‘‘ رسم الخط میں ٹائپ کیے گئے جن تاریخوں میں ان کو دکھایا گیا ان تاریخوں میں کیلبری فونٹ ابھی مارکیٹ میں دستیاب ہی نہیں تھا۔ کہتے ہیں نقل کے لیے بھی عقل کی ضرورت ہوتی ہے۔ ہمارے حافظ آباد کے مشہور ایم این اے اور بھٹی خاندان کے سربراہ جب ایم این اے منتخب ہوئے تو ان کے خلاف انتخابی عذر داری کا کیس اور جعلی ڈگری کا کیس تھا۔ موصوف کے وکیل نے انہیں بتا دیا تھا کہ عدالت میں آپ سے اے بی سی پوچھی جا سکتی ہے اور یہ کہ اے بی سی کو کیپٹل اور سمال لیٹرز میں لکھی جاتی اور یہی ہوا دورانِ سماعت جج صاحب نے بھٹی صاحب سے کہا کہ آپ کو اے بی سی آتی ہے تو بھٹی صاحب بولے جناب بڑی والی کہ چھوٹی والی؟قارئین! عدالتِ عظمیٰ جے آئی ٹی کی رپورٹ پر سماعت شروع کر چکی ہے اور کچھ بعید نہیں کہ چند دنوں تک سپریم کورٹ کا حتمی فیصلہ آ جائے مگر اس دوران بائیس کروڑ عوام کرب کی اس بھٹی سے گزر رہے ہیں جیسے گنا بیلنے سے گزرتا ہے مگر چند اقتدار کے بھوکے مشیر اور وزراء نے اس موقع پر وزیراعظم کو پازیٹو سٹیپ لینے سے روک رکھا ہے۔ وزیراعظم اور ان کے رفقاء کی حرکات بتاتی ہیں کہ وہ پیاز کھائیںگے اور۔۔۔ قارئین! بدلتے ہوئے سیاسی موسم اور عوامی جذبات کا احترام نہ کرنے والے رومانیہ کے چائوسسکو اور لیبیا کے معمر قذافی کی طرح سڑکوں پر عوام سے ٹھڈے کھاتے ہیں۔ہمارے حکمران خاندان کو انقلاب کی دستک دروازے پر یقینا سنائی دے رہی ہے مگر لالچ اور ہوسِ اقتدار کا جن انہیں باعزت پویلین واپس جانے سے روک رہا ہے۔ جھورا جہاز کہہ رہا تھا کہ میاں صاحب اگر مثبت سوچیں تو ستر سالہ زندگی میں انہوں نے پینتیس سال بھرپور سیاسی زندگی گزاری ہے جس میں دو مرتبہ وزیراعلیٰ اور تین مرتبہ وزیراعظم بھی بنے۔ اب بقیہ چند سال تسبیح کے سہارے زندہ رہا جا سکتا ہے۔قارئین!کتنے شرم کی بات کہ مافیا اور گاڈفادر کے خوف سے جے آئی ٹی کے اراکین کو اپنی فیملی اور بچے بیرون ملک اور پاکستان میں سیف ہائوسز میں منتقل کرنا پڑ گئے ہیں۔ 18جولائی 2017ء
Column Name
Search
Select Year
2026
2025
2024
2023
2022
2021
2020
2019
2018
2017
2016
2015
2014
2013
2012
2011
Select Month
January
February
March
April
May
June
July
August
September
October
November
December
Search
Next
Home
Back
Copyright 2025 All Right Reserved By IRSHADCOMTECH --
Build Your Website withus